عالم اسلام زخموں سے چور چور

in Articles, Tahaffuz, July 2011, علامہ محمد کمال الدین رضوی

روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو

خود مسلمان سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

بتائوں تجھ کو مسلمان کی زندگی کیا ہے

یہ ہے نہایت اندیشہ و کمال جنوں

حقائق ابدی ہر اساس ہے اس کی

یہ زندگی ہے نہیں ہے طلسم افلاطون

عناصر اس کے ہیں روح القدس کا ذوق جمال

عجم کا حسن طبیعت عرب کا سوز دروں

ہم ان عظیم فرزندان توحید کی اولاد ہیں جو اخلاق و کردار میں بے مثال تھے جو قول و فعل اور ذات غرض ہر اعتبار سے مسلمان تھے۔

ہر مسلماں رگ باطل کے لئے نشتر تھا

اس کے آئینہ ہستی میں عمل جوہر تھا

اور آج ہمارا حال دنیا پر واضح ہے کہ ہم مسلمان گھر سے لے کر مملکت تک اور مملکت سے لے کر عالم اسلام تک صرف نام کے مسلمان رہ گئے۔ عمل سے اسلام نہیں جھلکتا۔ آپ پورے عالم اسلام کو دیکھیں اور دوسری طرف عالم کفر کو دیکھیں تو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ ان کا کردار و عمل افلاک کو چھو رہا ہے اور ہمارا کردار و عمل زمین کی تہہ کو چیر رہا ہے۔ خانہ داری کے معاملات دیکھیں تو اخلاقیات سے عاری نظر آتے ہیں جس کے سبب گھر برباد ہونا شروع ہوجاتا ہے اور معاشرتی معاملات دیکھیں تو الامان والحفیظ تو لگتا ہی نہیں کہ ہمارا آپس میں کوئی مقدس رشتہ بھی ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ لوٹ مار کا ایک بازار گرم ہے۔ ہر کوئی اپنے مفادات کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اگرچہ دوسرا پسا جائے، برباد ہوجائے، مگر اسے کوئی فکر نہیں اور اب تو ہم مسلمان گھر کی چار دیواری میں بھی محفوظ نہ رہے۔ ہمہ وقت جان، مال، عزت، آبرو کی فکر لاحق رہتی ہے کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کون ہمیں مار رہا ہے، کون ہمیں ڈرا رہا ہے۔

افسوس صد افسوس! ہم پر کسی غیر نے حملہ نہیں کیا ہے بلکہ سنتے ہیں کہ مارنے والا مسلمان کہلاتا ہے۔ اﷲ رسول عزوجل ﷺ کو مانتا ہے ان کا کلمہ پڑھتا ہے۔ اب میں سوچتا ہوں، یہ کیسا مسلمان ہے جو مسلمان ہونے کا بھی دعویدار  ہے اور دوسروں کی جان لینے میں بھی فخر محسوس کرتا ہے۔

جی ہاں! مارنے والا بھی مسلمان اور مرنے والا بھی مسلمان… مارنے والے کو نہیں پتہ کیوں مار رہا ہے؟ اور مرنے والے کو نہیں پتہ کیوں مارا گیا؟ کیا قصور تھا؟ یہ ہمارے اُن شہروں کے حالات ہیں جہاں کسی دوسرے نے حملہ نہیں کیا بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو مار رہے ہیں اور مار کر ہمیشہ رہنے کے لئے خوشیاں منا رہے ہیں۔ باقی رہے اسلامی ممالک تو وہاںہم آزاد ہوکر بھی آزاد نہ رہے، غیروں کو اپنے مفادات خطرے میں نظر آئیں تو لاکھوں مسلمانوں کو کشت و خون میں نہلا دیتے ہیں اور کسی مسلمان کی مجال نہیں ہوتی کہ ان سے کم از کم یہ پوچھ لے کہ ہمارا قصور کیا تھا؟

آج آپ پوری دنیا میں دیکھ لیں کون ہے جو ہر جگہ ذلیل ہورہا ہے؟ کون ہے جو اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہورہا ہے؟ کون ہے جسے جابجا سیکورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے؟ کون ہے جسے مارنے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی؟ کون ہے جس کا خون چیونٹی کی جان سے زیادہ سستا ہے؟ کون ہے جسے دنیا کے سامنے ذلت آمیز سزائیں دینے پر بھی کہیں سے ہمدردی کی  آواز سنائی نہیں دیتی؟

ہاں… ہاں… جی ہاں! یہ مسلمان ہی ہے جس کو کوئی پوچھنے والا نہیں جو خود موقع ملے تو اپنوں کو بے دردی سے قتل کردیتا ہے۔ آہ! کا افتاد آپڑی ہے کہ خود ظالم بھی اور مظلوم بھی۔

عہد نو برق ہے آتش زن ہر خرِمن ہے

ایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہے

اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے

ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے

پوری دنیا میں مسلمان ہی پریشان ہے اور بے سروسامان ہے جبکہ ہمارے آبائو اجداد کے نام آج بھی تاریخ میں زندہ ہیں اور دنیائے کفر ان ناموں سے آج لرزاں ہے۔

اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی

نقش ہے صفحہ ہستی پہ صداقت ان کی

خودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خود دار

تم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پر نثار

لیکن ان تمام تر مصائب وآلام کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان کوشش کریں اور محنت کریں اور اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول پاکﷺ کے بتائے ہوئے راستوں کو اپنالیں تو انشاء اﷲ ہمیں اپنا کھویا ہوا مقام ضرور واپس ملے گا۔

آج بھی ہو گر براہیم سا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے انجامِ گلستان پیدا

اﷲ تعالیٰ نے اہل اسلام کو ایک ایسے رشتے میں پرویا ہے کہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہی وہ رشتہ تھا جس کی بنیاد پر مسلمانوں نے دنیا میں بے مثال حکومتیں قائم کیں۔ آج تک ان کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا کی ترقی اور خوشحالی کے ہر شعبے میں مسلمان آگے رہے۔ اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ اس رشتے کو پھر سے کیسے مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کی کیا اہمیت ہے؟ نیز اس کے کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

رشتہ اسلام

اﷲ جل مجدہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے

(ترجمہ) بے شک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں (جب کبھی نزاع ہو) صلح کرو اور اﷲ سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو (سورۂ حم، 10/26)

اس آیت مبارکہ میں اﷲ تعالیٰ نے اسلامی بھائی چارگی کی اہمیت پر زور دیا ہے کہ اس رشتے کو ایسا مضبوط کرو کہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے اور اگر کبھی آپس میں چپقلش ہوجائے تو اس کو زیادہ دیر تک نہ چلنے دو بلکہ جتنی جلدی ہوسکے، صلح کرلو کیونکہ جب تک متفق رہو گے اور آپس میں بھائی بن کر رہو گے تو تم پر میری رحمت ہوگی۔

رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے دشمنوں کے حوالے کرتا ہے۔ جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت کو دور کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے اس کی قیامت کی مصیبت دور فرمائے گا اور جو کوئی کسی مسلمان بھائی کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے؟ اﷲ تعالیٰ بروز قیامت اس کے عیب پرپردہ ڈالے گا (بخاری و مسلم شریف)

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتا ہے۔ نہ اس کو جھٹلاتا ہے، نہ ہی اس کو رسوا کرتا ہے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت، دولت اور خون حرام ہے۔ تقوی (یعنی خوف خدا) یہاں (یعنی دل میں) ہے۔ آدمی کے بدترین ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے (ترمذی شریف)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔

مسلمان مسلمان کے لئے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا بعض حصہ دوسرے بعض حصے کو مضبوط کرتا ہے پھر حضورﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں داخل فرمایا (یعنی تشبیک فرمائی) حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرور کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان آپس کی محبت، رحم دلی اور نرمی کرنے میں ایک جسم کی مانند ہے جب جسم کے ایک عضو کو درد ہوتا ہے تو سارا جسم جاگتا رہتا ہے اور بخار میں مشغول ہوجاتا ہے (بخاری و مسلم شریف)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے (بخاری و مسلم)

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک صحابی رضی اﷲ عنہ نے پوچھا یارسول اﷲﷺ اگروہ مظلوم ہو تومیں اس کی مدد کروں گا مگر آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ ظالم ہو تو میں اس کی کیسے مدد کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا تو اس کو ظلم کرنے سے روک دے، یہ اس کی مدد ہے (بخاری شریف)

محترم قارئین!

آپ نے دیکھا کہ ان تمام احادیث مبارکہ میں آقاﷺ نے اسلامی اخوت پر کس قدر زور دیا ہے اور اس کی اہمیت کو بھی اجاگر فرمایا۔ الغرض ان احادیث مبارکہ سے بہت سی مفید باتیں معلوم ہوئی ہیں۔ ان میں سے خاص کر اسلامی بھائی چارگی ہے یہ وہ اہم نکتہ ہے کہ اگر سمجھ میں آجائے تو مسلمانوں کے مصائب و آلام کے انسداد کا راستہ مل جائے اور مسلمانوں کو مل بیٹھ کر معاملات کو دیکھنے کا بہترین سنہری موقع میسر آسکتا ہے اور کھوئے ہوئے مقام و مرتبہ کو حاصل کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ بلکہ اس کو فلاح وظفر کی جانب پہلا قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ (جاری ہے)