خطیب اعظم علامہ مولانا محمد شفیع اوکاڑوی علیہ الرحمہ

in Articles, Tahaffuz, July 2011, د ر خشا ں ستا ر ے, علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی

 بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم   والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم

انسان کا ’’ میلاد ‘‘ قرآنِ کریم میں بیان ہُوا اور حدیث شریف میں ہے کہ ’’ شکمِ مادر میں نطفے پر جب چار ماہ کا عرصہ گزر جاتا ہے تو اللّٰہ تعالی اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجتا ہے کہ وہ اس میں جان ڈالتا ہے ، اور چار چیزیں لکھنے کا اسے حکم دیا جاتا ہے ، یعنی رزق ، عمر ، عمل اور یہ کہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ ( صحیح مسلم شریف ، ص ۲۳۲ / ۲ )۔ لیکن تذکروں میں درج ’’ واقعات ‘‘ بتاتے ہیں کہ کتنے ہی ایسے خوش بخت اس دنیا میں آئے کہ ان کی آمد سے مدتوں قبل ان کی سعادت و مرتبت کی بشارت سنائی دی گئی اور بشارت کے مطابق وقوع و ظہور بھی ہُوا۔ اس کے دو ہی مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ بشارت سنانے والے ، اللّٰہ تعالی کی عطا سے صاحبانِ بصیرت تھے ، انہوں نے لوحِ محفوظ میں درج ، دیکھا پڑھا بیان کردیا ، یا یہ کہیں گے کہ ہونے والی بات کا انہیں چشم بصیرت سے مشاہدہ کروادیا گیا تو انہوں نے اسے بیان کردیا یعنی ان کی زبانِ حق ترجمان سے اس کی خبر نشر ہوگئی ۔

میرے دادا جان حضرت الحاج میاں شیخ کرم الہی ابن شیخ میاں اللّٰہ دتّا علیہ الرحمہ ، مشرقی پنجاب کے علاقے ’’ کھیم کرن ‘‘ میں اپنے چچا محترم کے پاس رہتے تھے ۔ باپ کے سایۂ عاطفت سے وہ کم سِنی ہی میں محروم ہوگئے تھے ۔ بہت مشقت میں ابتدائی عمر گزری کیوں کہ چچا محترم کا سلوک کچھ نامہربانی کا رہا لیکن دادا جان نے فرماں برداری اور صبر و رضا ہی کو اپنی خُو بنایا ۔ انہیں پابندی سے باجماعت نماز ادا کرنا اور اہل اللّٰہ کی مجلس میں بیٹھنا بہت مرغوب تھا ۔ ان کے والد گرامی ( میرے پر دادا) ایسے صاحب ِ حال تھے کہ ان کے قلب ِ جاری کی آواز سے ان کا ہم نشین بھی اسمِ الہی کی صدا سن لیا کرتا اور یہ بات وہاں زباں زد عام ہوگئی تھی ۔ دادا جان کی عمر سترہ اٹھارہ برس کے لگ بھگ ہوگئی تھی ۔ پنج وقتہ نماز کی ادائی کے لئے وہ بمبلاں والی مسجد میں جایا کرتے ۔ کھیم کرن کی اس مسجد میں حضرت حافظ کرم الہی صاحب سے اس علاقے میں بیش تر افراد نے قرآنِ کریم پڑھنے اور یاد کرنے کی سعادت حاصل کی۔ یہ حافظ صاحب ظاہری بصارت سے محروم تھے لیکن ان کی بصیرت کے واقعات آج بھی مشہور ہیں۔ مکتب میں پڑھنے والے متعدد بچوں میں جو تلاوت روک دیتا یا آواز کم کردیتا ، اسی کا نام لے کر پکارتے کہ تمہاری آواز نہیں آرہی ۔ فجر کے نمازیوں کے وضو کے لئے رات بھر وہ کنویں سے ’’ ڈول ‘‘ کے ذریعے پانی کا ٹینک بھردیتے اور اس دوران بھی ان کے لب وِرد کلامُ اللّٰہ سے متحرک ہوتے ، دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ مسجد میں بستر پر دراز ہوتے لیکن تلاوت جاری رہتی ۔ تفسیم ہند کے بعد حافظ صاحب ہجرت کرکے قصور شہر آبسے تھے اور وہیں وصال فرمایا ۔

حافظ کرم الہی صاحب میرے دادا جان قبلہ کے مشفق استاد بھی تھے اور دوست بھی ۔ حافظ صاحب کی زبانی دادا جان نے بارہا طریقت کے سلسلۂ عالیہ نقش بندیہ مجددیہ کے شیخ کامل شیرِ ربّانی حضرت قبلہ میاں شیر محمد صاحب شرق پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ کا ذکر سُنا ۔ ان کے کشف و کرامات اور ان کے زہد و تقوی کی باتیں روز ہی وہ سنا کرتے ۔ دادا جان کا حضرت میاں صاحب سے عقیدت کا رشتہ قائم ہوگیا تھا ۔ وہ اپنے خیالوں میں انہیں سوچنے اور دیکھنے لگے ۔ دادا جان کے ان دنوں ایک ہی دوست تھے، مسجد و مدرسہ کے ساتھی جناب حاجی محمد علی ( یہ نورانی چہرہ بزرگ آخر عمر میں راول پنڈی قیام پذیر رہے اوروہیں وصال ہُوا ) ۔ دونوں کے مزاج اور ذوق کی ہم آہنگی نے انہیں مسجد و مدرسہ کے بعد بھی دوستی میں باندھے رکھا ۔

حضرت میاں صاحب سے ملنے اور انہیں دیکھنے کی للک حاجی محمد علی صاحب کو بھی تھی ۔ شوق فزوں ہُوا تو ارادے میں پختگی آگئی ، اب انتظار کی تاب نہ رہی اور 1925ء کی ایک صبح یہ دونوں کھیم کرن سے شرق پور شریف کے لئے چل پڑے ۔ کھیم کرن سے قصور کی مسافت پانچ میل کی تھی اور وہاں سے لاہور کا فاصلہ تقریباً تیس میل تھا لیکن سواریاں عام نہیں تھیں اور لاہور سے شرق پور کے راستے میں دریائے راوی پڑتا تھا ۔ کچھ سفر سواری پر اور کچھ پاپیادہ طے کرکے شرق پور شریف کے قصبے تک پہنچتے رات ہوگئی ۔ عشاء کی نماز کے بعد لوگ گھروں میں بند ہوچکے تھے ۔ رات کا سناٹا چھا چکا تھا ۔ ایسے میں کوئی راہ گیر بھی نہیں کہ کچھ پوچھیں ۔ انہیں ’’ مسجد ‘‘ ہی کی سوجھی ۔ حضرت میاں صاحب کی مسجد میں خادم بھی سوچکا تھا ۔ عشاء کی نماز ادا کرکے مسجد کے صحن میں بیٹھے ان نوجوانوں کو تھکن سے زیادہ بھوک کی شدت پریشان کررہی تھی ۔ گھر سے دُور ایسی جگہ آئے تھے جہاں کسی سے شناسائی بھی نہیں تھی ۔ ان کی کسی آہٹ سے مسجد کا خادم بے دار ہوگیا اور پوچھا کہ یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟ بتایا کہ حضرت میاں صاحب سے ملنے آئے ہیں ۔ خادم نے کہا حضرت میاں صاحب سے صبح فجر کے بعد ملاقات ہوسکے گی تم نے اگر رات یہیں گزارنی ہے تو مسجد کے تہہ خانے ( بھورے ) میں سو  رَہو۔

مسجد کے کنارے زیریں حصہ تھا ، خادم کے کہنے پر وہاں جاکے لیٹ رہے مگر بھوک کا اثر تھا یا نئی جگہ کا ، کچھ گھبراہٹ سی ہورہی تھی اور نیند کا تو دُور تک پتا نہیں تھا ۔ خادم نے پوچھا تک نہیں تھا کہ کہاںسے آئے ہو ؟ کھانا کھایا ہے یا نہیں ؟ حضرت میاں صاحب سے تو فجر سے کے بعد ملاقات ہوگی ، رات کیسے گزرے گی ؟ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ مسجد کے دروازے سے کسی نے بآواز بلند صدا لگائی کہ ’’ کھیم کرن سے جو دو نوجوان آئے ہیں انہیں حضرت میاں صاحب نے بلایا ہے ۔ ‘‘ دادا جان جب بھی یہ رُوداد سناتے پہلے ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی اور پھر ان کی آنکھیں بھیگ جایا کرتیں ۔ وہ کہتے اس روز ہمیں حضرت میاں صاحب کے کشف و بصیرت کا جیتا جاگتا مشاہدہ ہُوا ۔ صدا سُن کر یہ دونوں فوراً لپکے ، قریب ہی گلی میں حضرت کی ’’ بیٹھک‘‘ تھی ۔ اس کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے وہ ہستی تشریف فرما تھی جسے ملنے یہ لوگ گئے تھے اور وہیں ان کے قریب دستر خوان بچھا تھا جس پر تازہ کھانا رکھا تھا ۔ انہوں نے سلام کیا تو سلام کا جواب دے کر حضرت نے فرمایا : تم نے کھانا بھی نہیں کھایا اور بھورے میں تمہیں گھبراہٹ بھی ہور ہی تھی ! آؤ پہلے ہاتھ دھوکر کھانا کھالو پھر بات کریں گے ۔ حضرت نے مسنون طریقے سے بیٹھنا تعلیم فرمایا اور خود کھانا پیش فرمایا ۔ طعام کے بعد ان سے فرمایا ، کہو کیسے آنا ہُوا ؟ انہوں نے عرض کی کہ بیعت کے ارادے سے آئے ہیں ۔ حضرت نے دریافت فرمایا ، کیا نام ہے ؟ دادا جان نے کہا : ’’ کرم الہی ‘‘ ۔ دادا جان فرماتے تھے کہ بس میرے نام بتانے کی دیر تھی ، بے ساختہ حضرت میاں صاحب نے فرمایا : ’’ کرمِ الہی دِیاں نہراں وگِیاں ، کرم الہی ! نور دیاں نہراں چلن گِیاں‘‘۔ ( اللّٰہ تعالی کے کرم کی نہریں چلیں ، نور کی نہریں رواں ہوں گی ) یہ جملے جوش سے تین مرتبہ فرمائے ۔ پھر حاجی محمد علی صاحب سے ان کا نام سن کر دو مرتبہ اس نام کو دُہرایا اور فرمایا دونوں کا فیض پاؤ گے ۔ ہم دونوں کو حضرت نے اپنے دائیں بائیں باہوں میں بھرلیا اور دعائیں دیں ۔ فرمایا ، ابھی آرام کرو ، ان شاء اللّٰہ صبح فجر کے بعد بیعت کریں گے ۔ دادا جان کہتے تھے کہ اس رات دیر تک انہوں نے خوشی کی سرشاری میں نیند ہی نہیں کی ۔ اب تک انہوں نے دوسروں سے سُنا تھا ، اس روز تو سب کچھ وہ خود دیکھ رہے تھے ۔ حضرت میاں صاحب نے کشف و بصیرت سے ملاحظہ فرمالیا کہ دو نوجوان آئے ہیں ، کھیم کرن سے آئے ہیں ، صبح سے ابھی تک انہوں نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔ کرم تو حضرت کا یہ بھی بہت ہوتا کہ کسی کو کھانا دے کر بھجوادیتے ۔ حضرت نے تو خود اسی وقت بلاکر زیارت کا شرف بھی عطا فرمایا اور اپنی بیٹھک میں خود کھانا بھی کھلایا اور اس قدر شفقت فرمائی اور اتنا نوازا کہ روح جھوم اٹھی ۔ یہ دونوں دیر تک یہی باتیں کرتے رہے۔ میرے دادا جان فرماتے تھے کہ حضرت میاں صاحب کے فرمائے ہوئے ان دو جملوں کا واضح مفہوم اس وقت مجھے سمجھ میں نہیں آیا ۔ بہت بعد اپنے فرزند کو دینِ مصطفی (ﷺ) کا مثالی مبلّغ دیکھ کر واضح ہُوا کہ حضرت میاں صاحب کیا اور کہاں تک دیکھ رہے تھے ۔ فجر کے بعد حضرت قبلہ میاں صاحب نے انہیں بیعت میں داخل فرمایا ، مختصر وظائف تعلیم فرمائے اور بشارت کے وہی جملے پھر دُہرائے ۔ حضرت قبلہ سے اجازت پاکر شاداں و فرحاں یہ دونوں وہاں سے کھیم کرن واپس آئے ۔ رُوحانی کیف و سرور نے مادّی مشکلات اور مشقتوں کا ہر ملال بھلادیا تھا ۔ حافظ کرم الہی صاحب سے تمام ماجرا کہہ سنایا ۔ حافظ صاحب نے بہت مبارک باد دی اور ان جملوں کو بشارت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اللّٰہ تعالی ایسی اولاد دے گا جس سے دِین کی روشنی پھیلے گی ۔ میرے دادا جان کی شادی کا مرحلہ آیا تو حضرت میاں صاحب قبلہ سے دعاؤں کی درخواست کرنے پھر شرق پور شریف کا سفر کیا ، حضرت قبلہ نے پھر وہی بشارت دُہرائی اور بہت دعائیں دیں اور فرمایا کہ کھیم کرن والوں سے کہہ دینا کہ شرق پور شریف تک کی مسافت طے کرنے کی بجائے حافظ کرم الہی صاحب ہی سے مل لیا کریں ۔ شادی کے بعد دادا جان ایک مرتبہ پھر اپنے پیر و مرشد حضرت میاں صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی زیارت و عیادت کے لئے شرق پور شریف گئے تو حضرت نے بشارت کے وہ جملے پھر بار بار ارشاد فرمائے ۔

حضرت شیرِ ربّانی میاں شیر محمد صاحب شرق پوری علیہ الرحمہ کی اس بشارت کے علاوہ میرے دادا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے یہ خواب بھی دیکھا کہ پورا روشن چاند ان کی گود میں اتر آیا اور اس کی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی سمتوں میں پھیل رہی ہے اس کی تعبیر انہیں یہ بتائی گئی کہ اللّٰہ تعالی انہیں ایسا فرزند عطا فرمائے گا جس سے دِینِ متین کی روشنی پھیلے گی ۔

دو ( ۲ ) رمضان المبارک ۱۳۴۸ ہجری کے دن میرے دادا جان عصر کی اذان ہوتے ہی نماز ادا کرنے مسجد پہنچے ۔ باجماعت نمازِ عصر سے نمازیوں نے ابھی سلام پھیرا تھا کہ مسجد کے دروازے پر کسی نے آواز بلند کی اور میاں شیخ کرم الہی کے ہاں بیٹے کی ولادت کی خوش خبری سنائی ۔ تکبیر و رسالت کے نعروں سے اس خوش خبری کی پذیرائی ہوئی ۔ حافظ کرم الہی صاحب نے نومولود کے کانوں میں دُرود شریف سناکر اذان و اقامت کہی۔ میرے دادا جان نے پہلے سے نام سوچ رکھا تھا ۔ اپنے پہلے بیٹے (میرے ابّا جان قبلہ ) کا انہوں نے نام ’’ محمد شفیع ‘‘ رکھا ۔ حافظ کرم الہی صاحب ہی سے میرے دادا جان نے بسم اللّٰہ کروائی اور قرآن کریم یاد کروانے کا سلسلہ تعلیم شروع ہُوا ۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ حضرت پیر سید علی حسین شاہ اشرفی میاں کچھوچھوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کسی تقریب میں شرکت کے لئے کھیم کرن تشریف لائے ۔ میرے والد گرامی کو دیکھا تو انہوں نے بھی ان کے علوِ مرتبت کی بشارت دی ۔ اللّٰہ کریم جل شانہ نے خوش الحانی سے خوب نوازا تھا ، نعت خوانی کا آغاز کم سِنی ہی میں ہوگیا اور اس کا خوب شہرہ بھی ہُوا اور یوں اعلی حضرت امام اہلِ سنّت مجددِ دِین و ملت مولانا شاہ احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا نام اور کلام ان کے لبوں پر آنے لگا ۔

شرق پور شریف کا تذکرہ گھر میں روز ہی ہوتا ، ابا جان قبلہ علیہ الرحمہ کو حضرت میاں صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی باتیں ان کے استاد حافظ کرم الہی صاحب ، حاجی محمد علی صاحب او ردوسرے بھی سُناتے۔ ان کے لئے یہ ذکر کس قدر مرغوب و محبوب ہوگا ؟ اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ 1927ء میں حضرت میاں صاحب قبلہ علیہ الرحمہ وصال فرماگئے تھے ۔ میرے دادا جان قبلہ ہر سال عرس شریف میں تشریف لے جاتے ۔ صفر کا مہینا 29 کا شمار کرکے 3 ربیع الاول کو ختم شریف ہوتا ۔ ابا جان قبلہ کوشرق پور شریف جانے کا شوق کب سے اور کتنا ہوگا ، مگر سفر کی کٹھنائیوں کی وجہ سے دادا جان قبلہ انہیں سات برس کی عمر ہونے سے پہلے نہیں لے گئے ۔

حضرت شیرِ ربّانی میاں شیر محمد شرق پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے جانشین ان کے برادر اصغر حضرت میاں غلام اللّٰہ شرق پوری ہوئے جنہیں حضرت ثانی صاحب قبلہ (رحمۃ اللّٰہ علیہ ) پکارا جاتا ہے ۔ یوں کہوں کہ وہ تو میرے ابا جان قبلہ کے منتظر تھے ۔ شرق پور شریف میں ابا جان قبلہ کی جو پذیرائی انہوں نے فرمائی ، ابا جان قبلہ سے جب کبھی وہ رُوداد سننی چاہی ، وہ بیان شروع تو کردیتے مگر مکمل نہ کرپاتے ، اپنے شیخِ کریم سے پہلی اور آخری ملاقات کا احوال سناتے ہوئے ان کی ہچکیاں بندھ جاتیں ، بلاشبہ اپنے مرشد ِ گرامی سے انہیں عشق تھا ۔ قیامِ پاکستان سے قبل شرق پور شریف میں حضرت میاں صاحب علیہ الرحمہ کے سالانہ عرس کے اجتماع میں جو مشائخ وعلمائے کرام تشریف لاتے ، اس فہرست کو دیکھوں تو اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ سے سبھی کا بلاواسط نہ سہی ، بالواسطہ کوئی تعلق ضرور رہا ، حالاں کہ حضرت قبلہ میاں صاحب شرق پوری کا سنِ وصال 1927ء ہے اور اعلی حضرت مجدد بریلوی کا سنِ وصال 1921ء ہے ۔ دنیا میں ان دونوں ہستیوں کی مدت حیات کا عرصہ بھی 65 برس ہی شمار ہُوا ۔ حضرت میاں صاحب قبلہ نے بذاتِ خود سفر کرکے اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ سے ملاقات بھی فرمائی ، اس ملاقات کی تفصیل تذکروں میں درج نہیں ۔ اکیس برس پہلے جب مجھے حضرت میاں صاحب شرق پوری رحمۃ اللّٰہ کے کچھ خطوط حاصل کرنے میں کام یابی ہوئی تو میرے لیے یہ امر نہایت مسرت کا باعث ہُوا کہ ان خطوط میں اعلی حضرت مجدد بریلوی کے نام حضرت میاں صاحب شرق پوری نے سلام تحریر فرمایا ہے ۔ (ان مکتوبات میں سے ایک مکتوب شریف کا عکس میں نے 1984ء میں اپنے والد گرامی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے چہلم شریف کے موقع پر شائع کیے جانے والے رسالے میں شامل کیا تھا ۔ اس مکتوب کا عکس حکیم محمد موسی صاحب امرت سری علیہ الرحمہ نے بھی مجھ سے لیا تھا ۔ )

ان دونوں ہستیوں میں ربط و تعلق تو واضح ہے گو کہ اس کا تفصیلی تذکرہ ( تاحال ) بیان نہیں ہُوا۔ نیو جرسی ( امریکا ) میں مقیم ممتاز سائنس دان اور عالم دین حضرت مولانا غفران علی صاحب صدیقی (تلمیذ رشید حضرت محدث اعظم مولانا سردار احمد صاحب حامدی علیہ الرحمہ آف فیصل آباد ) نے بھی میرے رُو بہ رُو یہ بات دُہرائی کہ ’’ خواص ‘‘ میں یہ مشہور ہے کہ اعلی حضرت مجدد بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بعد ( پاکستان میں ) ان کے بیش تر وابستگان کے نزدیک حضرت شیر ربّانی میاں صاحب شرق پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ روحانی فیوضات کا مرکز ہوئے ۔ اسی لئے حضرت محدث اعظم اور دیگر علمائے کرام وہاں باقاعدگی سے جایا کرتے تھے ۔

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے حضرت میاں صاحب شرق پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے سالانہ عرس شریف میں شرکت کی تو تادمِ وِصال ہر سال اس پر مداومت فرمائی ۔ وہ خود فرماتے تھے کہ مسلسل 47 برس تک شرق پور شریف جاتا رہا ہوں اور 45 سال سالانہ عرس شریف میں شرکت کی ہے ۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں ابتداء ہی سے ان علماء سے ملنے اور انہیں سننے کا موقع ملا کہ جو علمی اعتقادی گفتگو میں کسی طور بھی اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کا ذکر ضرور کرتے ہوں گے ۔ علاوہ ازیں نعت خوانی کے حوالے سے اس وقت دینی محافل میں کلام اعلی حضرت بریلوی علیہ الرحمہ کس قدر پڑھا جاتا ہوگا ۔

قیامِ پاکستان سے قبل ہی ابا جان قبلہ علیہ الرحمہ بالخصوص دینی حلقوں میں پہچانے جاتے تھے اور تحریک ِ پاکستان ہی میں ان کی شعلہ نوائی کا چرچا ہوگیا تھا تاہم بھرپور انداز میں ان کی خطابت کا شُہرہ 1949ء میں ہُوا ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ہجرت کرکے اوکاڑا آگئے تھے ۔ یہاں درسی نصابی علوم کی تکمیل انہوں نے حضرت شیخ الاسلام والمسلمین شیخ القرآن الحاج مولانا غلام علی اشرفی اوکاڑوی سے کی ، یوں اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ سے تعارف ہی نہیں ، تعلق بھی اور پختہ اور زیادہ ہوگیا ۔ حضرت شیخ القرآن کو حضرت مولانا سید محمدنعیم الدین مراد آبادی اور شیخ المحدثین حضرت ابوالبرکات سید احمد الوری رحمۃ اللّٰہ علیہما سے مدتوں اکتساب ِ علوم و فیوض کا شرف رہا ۔

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے ’’ برلا ہائی اسکول ، اوکاڑا ‘‘ میں شعبۂ دینیات کے انچارج اور معلم ہونے کے ساتھ ساتھ منٹگمری کی جامع مسجد مہاجرین میں جمعہ کی خطابت کا سلسلہ رکھا اور ساتھ ہی پنجاب کے چھوٹے بڑے علاقوں میں روزانہ جلسوں سے خطاب ان کا معمول رہا ۔ میرے پاس متعدد بڑے جلسوں کے کچھ اشتہارات اب بھی محفوظ ہیں جن میں ان کا نام عقیدت و محبت سے لکھا گیا ہے ۔ اس دَور کی ان کی کچھ ’’ نوٹ بکس ‘‘ بھی میرے پاس ہیں ۔ ان کاپیوں میں وہ اپنی تحقیق اور حاصل مطالعہ اہم باتیں تحریر کیا کرتے تھے ۔ مجھے ان کے مطالعے میں اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کی تصانیف کے حوالے بھی دیکھنے میں آئے ۔ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس دور کی تقاریر میں بھی وہ تاج دارِ بریلی کا تذکرہ ضرور کرتے ہوں گے ۔ ابتدا میں کبھی وہ اپنی تقریر پہلے لکھا بھی کرتے تھے ، لیکن یہ شغل بہت کم رہا ، البتہ ہر موضوع پر انہوں نے اپنے مطالعہ سے خاصے حوالے ضرور جمع کیے ہوئے تھے اور تقریر کا انداز کچھ یوں تھا کہ وہ خطبۂ مسنونہ کے بعد ایک نعت شریف پڑھا کرتے پھر جو آیت قرآنی تلاوت کی ہوتی اس کی تفسیر میں گھنٹوں پورے جوش و جذبے سے بے تکان گفتگو فرماتے اور اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کے انداز میں یہ التزام رکھا تھا کہ ہر بات کا حوالہ ضرور پیش کرنا ہے ، یوں ان کا خطاب مفصل ہی نہیں ، نہایت مدلل ، جامع اور تحقیقی و علمی ہوتا ۔ اپنے موضوع پر رہتے اور دلائل کا انبار لگادیتے اور آسان الفاظ میں اس طرح بیان کرتے کہ سننے والے کو بات یاد ہوجاتی ۔ موضوع کی مناسبت سے وہ اشعار بھی ترنم سے سناتے اور بیش تر اشعار ، کلامِ اعلی حضرت بریلوی علیہ الرحمہ سے ہوتے ۔

اوکاڑا شہر سے لاہور کی جانب تین میل کے فاصلے پر برلب ِ سڑک ایک خانقاہ ہے ’’ حضرت کرماں والا ‘‘ ۔ گنجِ کرم حضرت قبلہ پیر سید محمد اسمعیل شاہ بخاری المعروف حضرت کرماں والے رحمۃ اللّٰہ علیہ نے اسے آباد کیا ۔ حضرت گنجِ کرم علیہ الرحمہ ، حضرت شیرِ ربّانی میاں صاحب شرق پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ وہ متبحر عالم و فقیہ اور باکمال ولی اللّٰہ تھے ۔ تقریباً دس برس کا عرصہ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے حضرت گنجِ کرم علیہ الرحمہ کی خدمت و صحبت میں گزارا ۔ حضرت گنجِ کرم علیہ الرحمہ میرے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ سے کچھ نعتیں بطور خاص سُنا کرتے ۔  ’’ سی حرفی ‘‘ ایک صنفِ سخن ہے ۔ نبی پاک  ﷺ کا حلیہ شریف ، پنجابی زبان میں کسی صوفی بزرگ کا کہا ہُوا ، انہیں بہت پسند تھا ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ سے بطور خاص اس کا سُننا مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ابّا جان قبلہ کی کتاب ’’ ذکر جمیل ‘‘ کی تحریک تھا ۔ اوکاڑا ہی کے قیام میں ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے اعلی حضرت تاج دارِ بریلوی علیہ الرحمہ کے کہے ہوئے سلام ’’ مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کے اشعار سے انتخاب فرمایا اور نبی کریم  ﷺ کا حلیہ شریف لکھنا شروع کیا ۔ تحصیلِ علم کے بعد ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ صرف تاج دارِ بریلی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے نام ہی سے نہیں ان کے علمی مقام اور نبی پاک  ﷺ سے ان کے ہمہ جہت والہانہ انتساب سے بھی خوب واقف ہوچکے تھے ، اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ نے حقائق و معانی کا وہ دریا جسے لفظوں کے پیمانوں میں بیان کرنے کی سعادت اپنے کہے ہوئے سلام میں حاصل کی تھی ، ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے اس دریا کی کچھ موجیں جھلکائیں اور ’’ ذکر جمیل ‘‘ ان کی شاہ کار کتاب ہوگئی ۔ یہ کتاب فکر رضا کا گلشنِ سدا بہار ہے۔

علامہ شمس بریلوی نے مجھ سے کئی مرتبہ کہا کہ انہیں یہ کتاب بہت پسند ہے ، وہ ’’ ذکر جمیل ‘‘ پر مجھے بہترین تبصرہ لکھ کر دیں گے ، وہ جب ملتے اس ارادے کا ذکر کرتے ، میرے پاس تو ان کا فون نمبر بھی نہیں تھا ، اسے میری کوتاہی کے سوا کیا کہا جائے کہ مَیں نے ان سے رابطہ ہی نہیں کیا ۔ پیرزادہ سید محمد عارف شاہ صاحب اویسی نے یہ خواب گزشتہ برس ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کے سالانہ عرس شریف کی محفل میں سُنایا کہ رسولِ پاک  ﷺ نے ذکر جمیل کتاب کے لئے فرمایا کہ انہیں بہت پسند ہے ۔ 1954ء سے اب تک یہ کتاب پاکستان ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ طبع ہوچکی ہے ۔

1952-53ء میں تحریک ِ تحفظ ِ ختمِ نبوت میں ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کو ضلع منٹگمری کا امیر مقرر کیا گیا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ پہلی بڑی تحریک تھی ، اس کی تمام تفصیل لکھوں تو پورا کتابچہ ہوجائے ۔ حکمرانوں نے اس تحریک کو دبانے کے لئے پوری قوت استعمال کی ، مسلمان کہلانے والے ہی مسلمانوں پر اس مملکت میں ٹوٹ پڑے جو اسلام ہی کے نام پر حاصل کی گئی ۔ حکمرانوں نے اس تحریک کی قیادت کو گرفتار کرنا شروع کیا تاکہ یہ تحریک دم توڑ جائے ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ بھی قید بلکہ نظر بند کردیئے گئے ۔ تحذیر الناس کتاب اور اس کے مصنف کے کتنے حامی اور فتاوٰی ثنائیہ کے کتنے مبلّغ معافیاں چاہ کے رہا ہوگئے ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے معافی نامے پر دستخط سے انکار کیا تو انہیں مزید صعوبتیں سہنی پڑیں ۔ اسیری میں بھی ان کا وقت تعلیم و تحقیق اور تصنیف میں گزرا ۔ ان دنوں کتابوں پر لگائے ان کے حوالے  اور حاشیے دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں وقت اور دین سے اپنے پیمان کی کتنی قدر تھی ۔ دس دن کی مختصر مدت میں میرے دو بڑے بھائی یکے بعد دیگرے وفات پاگئے ۔ اس وقت ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی اولاد یہی دو بیٹے تھے ۔ اس سخت امتحان ، اس سانحے کی شدت کے باوجود ان کے استقلال میں فرق نہ آیا۔ حضرت ثانی صاحب قبلہ شرق پوری کے وہ مکاتیب جو اُن دنوں انہوں نے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کولکھے تھے وہ بھی میرے پاس محفوظ ہیں ۔ حضرت ثانی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ خود بھی ملاقات کو تشریف لائے تھے ۔ دس ماہ کے بعد ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کو رہائی ملی تو منٹگمری سے اوکاڑا تک جشن منایا گیا

پنجاب کے شہروں ، قصبوں ، دیہاتوں میں ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کا مثالی شہرہ تھا ۔ ان کا ہر خطاب صحیح عقائد و اعمال کی تبلیغ و ترویج کے لئے اہم اور مؤثر ہوتا رہا ، اور یہ بھی ہُوا کہ عوام کی بہت بڑی تعداد کو اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کے نام اور کام سے بہت عمدگی سے واقفیت ہوئی ۔

حضرت والد صاحب قبلہ علیہ الرحمہ بہت عام فہم لب و لہجہ میں سامعین کو بخوبی باور کرادیتے تھے کہ مخالفین ( بدعقیدہ لوگ ) کس طرح سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں ، وہ اپنے سامعین کو صحیح عقائد سمجھاتے اور ان کی پابندی سکھاتے ، اللّٰہ کریم جلّ شانہ نے انہیں علوم و  معارف اور فہم و فراست کے ساتھ ساتھ پُرکشش صورت ، سیرت ، وجاہت ، تکلم ، ترنم ، تبسم ، آواز و انداز اور جانے کتنی خوبیوںسے بہت نوازا تھا ، وہ بلاشبہ مثالی خطیب تھے اور صدق و اخلاص کے ساتھ ہمہ دم ہمہ جاں ، مسلسل و پیہم اپنے نصب العین کے لئے کام کرتے رہے ۔

انہوں نے بچیوں اور عورتوں کے لئے بھی دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا ۔ ’’ اسلامی چارٹ ‘‘ کے عنوان سے بالترتیب ہر ماہ پوسٹر تیار کیے جو ہر علاقے اور محلے میں تعلیم و تبلیغ کے لئے بہت مؤثر ثابت ہوئے ۔بچیوں کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ کو فکرِ رضا کی تبلیغ کے لئے انہوں نے لائحہ عمل اور نصاب مرتّب کرکے دیا ۔ کلام اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ انہوں نے اسکول اور مدرسے کے بچوں کو اس عمدگی سے پڑھنا سکھایا کہ سننے والے جھوم جھوم جاتے ۔ بالخصوص یہ نعت شریف ’’ سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ‘‘ ( ﷺ ) ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کے سکھائے ہوئے انداز ہی میں ہر شخص گنگناتا نظر آتا ۔

اوکاڑا میں کسی غیر مقلد نے ’’ یارسول اللّٰہ ‘‘ ( صلی اللّٰہ علیک وسلم ) کی ’’ ندا ‘‘ پر شدید الفاظ میں اعتراض کرتے ہوئے لوگوں کو بہکانے کی کوشش کی ۔ ماحول میں کشیدگی ہونے لگی ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے ’’ جمالِ مصطفی ‘‘ ( ﷺ ) کے عنوان سے بلاتاخیر ایک رسالہ تحریر کیا اور مخالفین کو علمی تحقیقی جواب دیا ، اس کتابچے کی اشاعت سے مخالفین مبہوت ہوگئے ، ان سے کوئی جواب نہ ہوسکا ، اس کتابچے میں بھی اعلی حضرت مجدد بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تحریروں سے اقتباس لئے گئے تھے ۔ بعد میں اضافے کے ساتھ یہ کتاب ’’ راہِ حق ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی اور لاجواب رہی ۔

1954ء میں جی ٹی روڈ اوکاڑا کے ساتھ ہی زمین کے ایک رقبے پر ’’ جامعہ حنفیہ دارالعلوم اشرف المدارس ‘‘ کی بنیاد رکھی گئی ۔ حضرت شیخ القرآن مولانا غلام علی صاحب اشرفی نے 1955ء میں ماہِ صیام کا آخری عشرہ کراچی شہر گزارنے کا پروگرام بنایا ۔ وہ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کو اپنے ساتھ لائے ۔ کراچی شہر میں ابّا جان قبلہ کی یہ پہلی آمد تھی ۔ علاقے کا نام ’’ رام باغ ‘‘ پکارا جاتا تھا ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے اسے ’’ آرام باغ ‘‘ کہا اور یہی منظور ہوگیا ۔ اس علاقے ہی کے نام سے جامع مسجد میں شبانِ قدر کے اجتماع ہُوا کرتے تھے ۔ 21 ویں شب میں کراچی والوں نے پہلی مرتبہ میرے والد صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کا خطاب سُنا ، اور سچ کہوں کہ اس پہلے خطاب ہی سے ابّا جان قبلہ نے کراچی کو فتح کرلیا ۔ بغیر ناغے کے روزانہ خطاب ہوئے حالاں کہ پہلے صرف طاق راتوں میں کسی قدر اجتماع ہوتا تھا ، اس سال کچھ منظر یہی تھا کہ سارا شہر وہیں جمع ہونے لگا ۔ کلام اعلی حضرت بریلوی اس طرح کسی خطیب سے یہاں پہلے نہیں سُنا گیا ۔ صرف کلام ہی نہیں اس کی شرح ہورہی تھی ، لفظ لفظ آئینہ ہورہا تھا ۔ جمعۃ الوداع سے پہلے واپسی کا ارادہ تھا لیکن لوگوں نے 29 ویں کی صبح سے پہلے جانے نہ دیا ۔ کراچی شہر کی آبادی اس وقت آج کی آبادی سے بہت کم تھی ۔ جس قدر تھی اس میں ’’ مخالفین ‘‘ ہی نے اپنی دُھند گہری کی ہوئی تھی۔ ماہِ صیام کے بعد کراچی والوں نے مسلسل رابطہ رکھا ۔ ابّا جان قبلہ نے ان کا اصرار دیکھتے ہوئے ماہِ محرّم میں اہلِ سنّت و جماعت کی طرف سے عشرۂ محرم کی مجالس کا پروگرام ترتیب دیا ۔ ان مجالس کے بعد بھی دو ہفتے روزانہ ان کے جلسے ہوئے ۔ تین ہفتے کے اس قیام ہی سے وہ ’’ دُھند ‘‘ چھٹنے لگی جس کو مخالفین نے برسوں میں گہرا کیا تھا ۔ کراچی والوں کو کھرے کھوٹے میں تمیز ہونے لگی ۔ قدرت نے ان پر مزید مہربانی فرمانی تھی ، اس کے اسباب ظاہر ہوئے ۔ نیو میمن مسجد نزدبولٹن مارکیٹ ، بندر روڈ ( ایم اے جناح روڈ ) کی تعمیر انہی دنوں مکمل ہوئی تھی ۔ مسجد کی انتظامیہ نے خطیب و امام کے لئے ابّا جان قبلہ کا انتخاب کیا۔ اس تقرری کا مبارک واقعہ میں اس کتابچے میں لکھ چکا ہوں جو حضرت صاحب زادہ پیر سید غضنفر علی شاہ بخاری المعروف پیر جی سرکار کرماں والے رحمۃ اللّٰہ علیہ کے چہلم کی فاتحہ پر شائع ہُوا تھا ۔ اسی کتاب سے یہاں نقل کرتا ہوں ،بیانیہ میرے والد گرامی علیہ الرحمہ کا ہے ، ملاحظہ ہو :

’’ برلا ہائی اسکول اوکاڑا میں دینیات پڑھانے کی اضافی ڈیوٹی مَیں نے قبول کرلی تھی ۔ مسجد مہاجرین ( منٹگمری) میں جمعہ پڑھاتا تھا ۔ راتوں کو مختلف علاقوں میں جلسے ہوتے تھے ۔ ہیڈ ماسٹر صاحب بہت خوش تھے کہ جب سے مَیں نے تدریس شروع کی تھی ، طلبہ کے نتیجے اچھے تھے ۔ انسپکشن کے لئے انسپکٹر کے آنے کی خبر آئی ۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا کہ : ’’ مدرس کی تقرری کی شرائط  میں ہے کہ وہ بی اے ، ( بی ٹی ) بی ایڈ ہو اور آپ کے پاس صرف دینی تعلیم کی اسناد ہیں ۔ اگر انسپکٹر آف اسکولز معترض ہُوا تو مشکل ہوجائے گی اور مَیں نہیں چاہتا کہ آپ کو اسکول سے بے دخل کیا جائے ، کیوں کہ آپ کی وجہ سے طلبہ میں دینیات کا شوق فزوں ہورہا ہے اور نتیجہ نہایت عمدہ ہے ۔ مَیں کوشش کروں گا کہ وہ آپ کے بارے میں سوال نہ کرے تاہم اگر وہ آپ سے کچھ پوچھے تو توجہ سے جواب دیجئے گا ، اللّٰہ کرے کہ وہ آپ کے بارے میں اچھی رپورٹ لکھے ۔ ‘‘ ہیڈ ماسٹر صاحب فکر مند تھے ۔ مَیں شام کو حضرت شاہ صاحب کرماں والے کی خدمت میں حاضر ہُوا ۔ خاموش بیٹھا تھا ۔ حضرت نے فرمایا : ’’ حافظ جی ! آج آپ چُپ کیوں ہیں ؟ ‘‘ عرض کی کہ اسکول میں صبح انسپکٹر نے آنا ہے ۔ فرمایا : ’’ وہ کیا ہوتا ہے ؟ ‘‘ اور انسپکٹر کے لفظ کو تین ٹکڑوں میں دُہرایا : ’’ انس ۔ پک ۔ ٹر ‘‘ ۔ فرمایا : ’’ وہ کیا کرے گا آکر ؟ ‘‘ عرض کی کہ وہ رپورٹ لکھے گا ۔ فرمایا : ’’ رپورٹ کیا ہوتی ہے ؟ ‘‘ عرض کی کہ وہ اگر گڈ ( Good) لکھ دے گا تو نوکری بھی پکّی رہے گی اور تنخواہ بھی بڑھ جائے گی ۔ فرمایا : ’’ گڈ کیا ہوتا ہے ؟ آپ تو بہت اچھے ہیں ۔ ‘‘ پھر فرمایا: ’’ کتنی تنخواہ بڑھ جائے گی؟ ‘‘ عرض کی پانچ یا دس روپے۔ پوچھا : ’’ آپ کی تنخواہ کتنی ہے ؟ ‘‘ عرض کی ۸۰ روپے ماہانہ ۔ فرمایا : ’’ حافظ جی آپ کی تنخواہ چار سو روپیہ ہے ‘‘ ۔ مَیں نے عرض کی کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی بھی تنخواہ اتنی نہیں ہے ۔ فرمایا : ’’ آپ کی تنخواہ چار سو روپیہ ۔ ‘‘ جانتا تھا کہ یہ ولی اللّٰہ ہیں اور مقربِ الہی ہیں ، جو فرمارہے ہیں وہ ہی ہوگا ۔ اگلی صبح انسپکٹر آیا ، طلبہ سے جس قدر سوال کیے سب کا جواب صحیح اور عمدہ پایا تو بہت خوش ہُوا ، مجھے بلایا ، مجھ سے چند سوال کیے اورجواب پاکر نہایت متاثر ہُوا اور کئی جملے میری تعریف میں لکھے ۔ ہیڈ ماسٹر حیران تھے کہ یہ سب کیسے ہُوا ؟ مَیں نے بتایا کہ حضرت گنجِ کرم کا فیض و اثر ہے ۔

میرے ا ستاد محترم شیخ القرآن حضرت مولانا غلام علی صاحب نے فرمایا کہ اہلِ کراچی ماہِ رمضان میں زکوۃ کی رقم سے دینی مدارس کی امداد کرتے ہیں تو اس سال آخری عشرہ کراچی گزارنا ہے ۔ پہلی مرتبہ کراچی آیا ، آرام باغ کی مسجد میں شبانِ قدر کے مرکزی اجتماع ہوتے تھے ۔ پہلی شب مختصر تقریر کی اور چند اشعار پڑھے تو کراچی والے دیوانے ہوگئے ۔ اتنے متاثر ہوئے کہ طاق راتوں کے علاوہ بھی تقاریر ہوئیں اور جامعہ حنفیہ اشرف المدارس اوکاڑا کے لئے چندہ بھی خوب ہُوا ۔ ارادہ تھا کہ جمعۃ الوداع اوکاڑا پہنچ کر ادا کریں گے لیکن کراچی والوں ( گویا ) نے چاند رات تک جانے نہ دیا ۔ عید کی صبح اوکاڑا پہنچا ۔ اس کے بعد محرم کے پہلے عشرے میں اہلِ سنّت کی طرف سے مجالس کے لئے پروگرام بنا اور دس روز مسلسل جلسے ہوئے تو گویا پوری کراچی میں دھوم مچ گئی ۔ محرم شریف کا پورا مہینا گزار کر اوکاڑا چلا گیا تو بولٹن مارکیٹ کے قریب ایم اے جناح روڈ پر کراچی کی سب سے بڑی میمن مسجد کی خطابت و امامت کے لئے مسلسل اصرار کیا جانے لگا ۔ مَیں اکیلا اعزہ و اقربا سے اتنی دُور آنے پر راضی نہیں تھا ۔ ادھر کراچی والے اظہار عقیدت و محبت میں دیوانگی تک پہنچ رہے تھے ۔ مسجد کے ٹرسٹیوں کی طرف سے جو خط ملا تھا س میں اقامت وغیرہ کے علاوہ ماہانہ تنخواہ چار سو روپیہ تحریر تھی ۔ طے پایا کہ حضرت صاحب قبلہ کرماں والے سے پوچھا جائے ، جیسے آپ فرمائیں گے ویسا ہی کیا جائے گا ۔ ابھی حاضر ہو کر سلام ہی کیا تھا کہ حضرت صاحب قبلہ کرماں والے نے فرمایا : ’’ حافظ جی آپ سے کہا تھا نا کہ آپ کی تنخواہ چار سو روپے ہے ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا : ’’ حافظ جی ! کراچی ، مدینہ منورہ کا دروازہ ہے ۔ اللّٰہ کریم کثرتِ مال بھی دے گا اور کثرتِ اولاد بھی ، اللّٰہ کریم اتنی برکتیں دے گا کہ کبھی ختم نہیں ہوں گی ۔ ‘‘ کچھ باتیں تعلیم فرمائیں ۔ ڈیوٹی لگ گئی تھی ، مَیں کراچی چلا آیا ۔ اب روزانہ حضرت صاحب قبلہ کی زیارت و ملاقات میسر نہیں تھی مگر فیضان جاری تھا اور نظر کرم ہر دم شاملِ حال تھی ۔ ‘‘ ( ص ۸ تا ۱۰ )

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے نیو میمن مسجد میں روزانہ درسِ قرآن و حدیث کا سلسلہ بھی رکھا ، وہ خود بھی اس شہر میں سُنّی انقلاب بپا کرنے کا عزم لے کر آئے تھے اور انہیں اللّٰہ کریم کی عطا سے غوثِ زماں ہستی نے اس کے لئے مامور بھی فرمایا تھا ۔ اللّٰہ کریم جلّ شانہ نے انہیں صدق و اخلاص اور عزیمت و استقامت کا پیکر بنایا تھا ۔ انہوں نے خداداد صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور صدیوں کی سی محنت مہینوں میں کی ۔ وہ شہر ، جہاں میلادِ مصطفی (ﷺ) کے کھلے عام جلسے نہیں ہوتے تھے ، روز ہی ہونے لگے۔ در در گھر گھر دُرود و سلام سے مہکنے لگے ، مطلع صاف  ہُوا تو اجالا پھیلنے لگا ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی ہر تقریر ، تحریر اور درس میں ’’ ذکرِ رضا ‘‘ ضرور ہوتا ، یوں ہر کوئی اس نام سے واقف ہونے لگا کہ جس نام والے نے اس برِّعظیم میں مسلک ِ حق کی پاس بانی کے لئے وہ کام کیے جو آج بھی ہر سُنّی کا اعتبار و افتخار ہیں ۔ یہ محض عقیدت یا خوش فہمی ہی نہیں ، ایک نالائق بیٹے کا اپنے باکمال والد گرامی کے لئے کوئی ایسا بیان بھی نہیں جسے مبالغہ یا مغالطہ کہا جائے بلکہ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اعلی حضرت مجدد بریلوی کے نام اور فکرِ رضا کو بالخصوص کراچی اور بالعموم پورے وطنِ عزیز اور متعدد شہروں ملکوں میں متعارف کروانے کا سب سے نمایاں کام میرے والدِ گرامی ہی کا حصہ رہا ہے ۔

قطب ِ مدینہ حضرت قبلہ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی ، غزالی دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام علی اشرفی اوکاڑوی ، شارح بخاری شریف حضرت مولانا سید محمود احمد رضوی ، حضرت مولانا مفتی تقدس علی خاں ، حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین رحمۃ اللّٰہ علیہم کے اس حوالے سے اعترافی اور تعریفی کلمات خود میں نے بارہا سُنے ہیں اور ان کی تحریروں میں بھی موجود ہیں ۔ حضرت مولانا محمدحسن صاحب حقانی کے الفاظ تو یہ ہیں کہ : ’’ مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کو مولانا محمد شفیع اوکاڑوی صاحب نے انٹرنیشنل بنادیا ۔ ‘‘ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ : ’’ 1970ء کے ملکی انتخابات میں اہلِ سنّت و جماعت کی نمایاں کام یابی بھی حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کی مرہونِ منّت ہے کہ انہوں نے شبانہ روز تقریروں اور اپنی تحریروں سے مسلک ِ حق کے لاکھوں کارکنان اور وابستگان بنادیئے۔ ‘‘ بحمدہٖ تعالی آج بھی دنیا بھر کے متعدد ممالک میں تقاریر کی ریکارڈنگ سے سب سے زیادہ میرے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی سنی جاتی ہے ، جنوبی افریکا والے برملا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں مسلک ِ حق کی صحیح پہچان میرے والدِ گرامی علیہ الرحمہ سے ہوئی اور عوام کی اکثریت کو اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کا تعارف ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ ہی نے کرایا ۔ برطانیا کے جناب محمد الیاس نے گزشتہ برس مجھے بتایا کہ جس علاقے میں وہ ہیں ، وہاں انہوں نے میرے والد گرامی علیہ الرحمہ کی دو تقریروں کی کیسٹوں ہی سے مسلک ِ حق کی تبلیغ کا سلسلہ پھیلایا اور انہیں اتنی کام یابی ہوئی کہ آج وہ پچاس سے زائد کتب وہاں انگریزی میں اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کی شائع کرچکے ہیں ۔ ادارۂ تحقیقات ِ امام احمد رضا ( رحمۃ اللّٰہ علیہ ) ‘‘ آج ’’ رضویات ‘‘ کے حوالے سے ایک نمایاں نام ہے ۔ اس کے بانی مولانا سید ریاست علی قادری مرحوم و مغفور نے 25 برس قبل ٹی آئی پی کے دفتر میں فرید چیمبرز میں میرے اور مولانا غلام حیدر سعیدی مرحوم کے رُو بہ رُو دیر تک اپنے احوال سنائے کہ ان کی زندگی میں انقلاب کیسے آیا ؟ اور وہ تاج دارِ بریلی علیہ الرحمہ کی محنتوں کو منصۂ شہود پرلانے کے لئے کیوں کمر بستہ ہوئے ؟ انہوں نے واضح اعتراف کیا کہ میرے والدِ گرامی علیہ الرحمہ سے انہیں بے داری کا شعور اور کام کی تحریک ملی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ابنِ اعلی حضرت حضرت مفتی اعظم قبلہ علیہ الرحمہ سے بھی انہوں نے میرے والد گرامی علیہ الرحمہ کی بہت تعریف سُنی ۔ حضرت مفتی اعظم قبلہ علیہ الرحمہ کو مَیں نے ابّا جان قبلہ کی کتاب ’’ تعارف علمائے دیو بند ‘‘ پیش کی تھی ۔ سید ریاست علی صاحب نے بتایا کہ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ نے بطور خاص اس کتاب کا تذکرہ فرماتے تھے ۔

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ ہی کے ایک عقیدت مند الحاج حسین میاں نے ابّا جان قبلہ ہی سے ذکر رضا سُن کر ڈربن میں ’’ رضا اکادمی ‘‘ کے لئے اپنی عمارت ہدیہ کی ۔

شارح صحیح مسلم شریف ، علامہ غلام رسول سعیدی نے کراچی ایئرپورٹ پر میرے رُو بہ رُو واضح اور برملا اعتراف کیا کہ ان کے والدِ گرامی انہیں ساتھ لے کر میرے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کے خطاب کی ایک محفل میں گئے ۔ علامہ سعیدی نے کہا کہ اس دن مَیں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے ایسا ( میرے ابّا جان قبلہ جیسا ) بننا ہے یعنی انہیں علم دین کے حصول کی ترغیب میرے والدِ گرامی علیہ الرحمہ کی بدولت ہوئی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی بدولت کتنے اور کیسے کیسے افراد متأثر ہوئے ۔

فروری 1992ء میں کلیر شریف ( رُڑکی ، بھارت ) کچھ دوستوں کے ساتھ میرا جانا ہُوا ۔ نماز عصر وہاں ادا کرنے کے بعد ایک شخص سے معلوم کیا کہ طعام ( لنگر شریف ) کے لئے ہم کچھ ہدیہ کرنا چاہتے ہیں ، یہاں کوئی انتظام ہو تو بتائیں ۔ اس شخص نے مسجد کے امام صاحب کو بلایا اور کہا کہ وہ ہمیں اس دفتر میں لے جائیں جہاں رقم جمع ہوتی ہے ۔ دفتر کی طرف جاتے ہوئے امام صاحب نے ہم سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہیں ؟ مَیں نے کہا پاکستان کے شہرکراچی سے آئے ہیں ۔ امام صاحب نے سنتے ہی کہا : ’’ کیا آپ مولانا محمد شفیع صاحب اوکاڑوی کو جانتے ہیں ؟ ‘‘ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے مَیں نے ان امام صاحب سے پوچھا کہ آپ انہیں کیسے جانتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ : ’’ وہی تو اہلِ سنّت کے شیر ہیں وہاں ، مَیں نے ان کی ایک دو تقریروں کی ریکارڈنگ سُنی ہے یا پھر ’’ ذکر جمیل ‘‘ دیکھی ہے مگر نام بہت سُنا ہے ۔ ‘‘ جب انہیں بتایا کہ مَیں انہی کا بیٹا ہوں تو وہ دیوانہ وار مجھ سے لپٹ گئے ۔ ابّا جان قبلہ کے وصال کی انہیں خبر دی تو انہیں اتنا مَلال ہُوا کہ وہ آواز سے رونے لگے ۔

موزم بیق ، شکاگو ، لاس اینجلس ، ملاوی اورجانے کہاں کہاں میرے ساتھ کچھ ایسے ہی واقعات پیش آئے ۔ بارگاہِ رسالت مآب  ﷺ میں ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی مقبولیت کے جلوے سمتوں میں نظر آتے ہیں ، الحمد للّٰہ علی احسانہ

مقبولیت کسے کہتے ہیں اس حوالے سے یہ اہم واقعہ بھی ملاحظہ ہو ۔

ابّا جان قبلہ نے ایک سال ماہِ صیام مدینہ منورہ میں گزارا ۔ مدینہ منورہ میں وہ اعلی حضرت فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلیفہ حضرت قطب ِ مدینہ مولانا شاہ ضیاء الدین احمد القادری کے ہاں قیام پذیر تھے ۔ حضرت قطب ِ مدینہ کو 60 مرتبہ فریضہ حج ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ روزانہ ان کے ہاں محفلِ میلاد شریف منعقد ہوتی ۔ وہ بہت متقی اور مشفق بزرگ تھے ۔ وہ اکثر فرمایا کرتے : ’’ اگر کسی نے رسول اللّٰہ  ﷺ کے سچے عاشق اور دیوانے کو دیکھنا ہو تو مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کو دیکھ لے ‘‘ ۔ حضرت قطب ِ مدینہ میرے ابّا جان قبلہ کی تعریف اور مسلک ِ حق کے لیے ان کی اعلی خدمات کا ذکر بہت عمدہ الفاظ میں فرماتے ۔ وہ ان کی مثالی خطابت سے بہت خوش ہوتے ، بہت شوق سے انہیں سنتے اور بہت دعاؤں سے نوازتے ۔

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کا بیان کیا ہوا یہ واقعہ جناب رانا محمد عالم ، مولانا غلام حیدر سعیدی اور صوفی حبیب الرحمن نے اپنی تحریروں میں نقل کیا ہے ۔ خود ابّا جان قبلہ کی زبانی یہ بیان ملاحظہ ہو :

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے مسجد نبوی میں ماہِ صیام کے آخری عشرے میں اعتکاف کی سعادت بھی حاصل کی ۔ وہ فرماتے ہیں : ’’ اعتکاف کے اختتام پر اگلے روز نمازِ عید کے بعد چہرۂ رسول  ﷺ کے سامنے ہاتھ باندھے دُرود  و سلام کا ہدیہ پیش کررہا تھا کہ خود پر قابو نہ رکھ سکا آنسو زار و قطار بہنے لگے اور ہچکیاں بندھ گئیں ، زبان سے بے ساختہ نکلا یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیک وسلم ! آج عید کا دن ہے – رحمتوں برکتوں کا دن ، معاف کرنے کا دن آج کے دن باپ اپنے نالائق سے نالائق بیٹے کو بھی عیدی دے دیتا ہے مَیں اعتراف کرتا ہوں کہ بہت گناہ گار ہوں ، کوئی خوبی مجھ میں نہیں ، مَیں کیسا بھی سہی آپ کا ادنیٰ ترین غلام ہوں – آپ ہزار باپوں سے بڑھ کر اپنی امت پر مہربان ہیں – آج مَیں بھی آپ سے عیدی مانگتا ہوں ، سوالی ہوں اور آپ کسی سائل کو نہیں تو فرماتے ہی نہیں بلکہ اس کی طلب سے بڑھ کر عطا کرتے ہیں اللّٰہ نے آپ کو مالک و مختار بنایا ہے – اپنے خزانوں کی کنجیاں عطا کی ہیں اللّٰہ کی مخلوق میں آپ سب سے بڑھ کر عطا کرنے والے ہیں – آج میری بھی جھولی بھردیجئے – اشک بار آنکھوں سے سنہری جالیوں کے سامنے فریاد کرتا رہا وہاں سے جنت البقیع شریف گیا – رسول اللّٰہ  ﷺ کے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللّٰہ عنہ کی بارگاہ میں جاکر عرض کی کہ آپ حضور  ﷺ کے چچا ہیں اور چچا بجائے باپ کے ہوتا ہے – آپ میری سفارش فرمائیں – شام کو جبلِ احد مزار شریف سیدنا حمزہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ حاضری دی ان سے بھی سفارش کی گزارش کی – مَیں نے سُن رکھا تھا کہ اہلِ مدینہ کا یہ دستور ہے کہ جب کوئی مرحلہ درپیش ہو تو وہ بارگاہِ رسالت مآب میں فریادی ہوتے ہیں پھر حضورِ اکرم  ﷺ کے چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت سیدنا حمزہ رضی اللّٰہ عنہ سے سفارش کرواتے ہیں اور شاد کام ہوتے ہیں –

اس روز بعد عشاء جب مسجد ِ نبوی کے دروازے بند ہوگئے ، مَیں حضرت قطب ِ مدینہ کی مسہری کے قریب قالین پر بچھے ہوئے اپنے بستر پر لیٹ گیا مدینہ منورہ کی معطر و معنبر ہواؤں نے راحت کی نیند سلادیا – مَیں نے خواب دیکھا کہ ایک نہایت سنہری مستطیل نما دلکش تختی زمین و آسمان کے درمیان معلق ہے وہ اُوپر سے ہی آئی ہے – اس پر مشائخ کرام کے نام درج ہیں یکایک وہ نام اوجھل ہوگئے اور اچانک ایک ہاتھ نمودار ہُوا اس نے عربی خط ِ نسخ میں نہایت جلی ایک ایک حرف کرکے ’’ محمد شفیع‘‘ لکھا پھر وہ ہاتھ غائب ہوگیا – مَیں اپنے نام کو اس تختی پر کندہ دیکھ کر خوش ہورہا تھا – میری آنکھ کھلی تو پاس ہی مصلے پر حضرت قطب ِ مدینہ اوراد و و ظائف میں مشغول تھے مَیں قریب جاکے بیٹھ گیا – حضرت نے توجہ فرمائی مَیں نے خواب سنایا – حضرت نے بہت مبارک باد دی اور کندھے پر پیارے ہاتھ رکھ کے پوچھا مولانا ! آج بارگاہِ رسالت میں کچھ عرض کیا تھا ؟ مَیں نے کہا جی ہاں عیدی مانگی تھی – حضرت نے میرا سر اپنے سینے سے لگالیا – سر کو چُوما – فرمایا مولانا آپ کو عیدی مل گئی ہے – حضورِ اکرم  ﷺ فرماتے ہیں اللّٰہ تعالی نے مجھے ایک خاص سنہری لوح عطا کی ہے جس میں اپنے خاص محبّوں ( غلاموں ) کے نام درج کرتا ہوں – آپ کا نام مقربین و محبوبین میں درج ہوگیا ہے- مَیں اسی وقت مسجد ِ نبوی شریف کی جانب ہوگیا – فجر کے بعد لوٹا تو حضرت نے سلسلہ عالیہ قادریہ اور دیگر سلاسل کی خلافت و اجازت عطا فرمائی – مَیں نے عرض کی حضرت مَیں اس کا اہل نہیں ۔ فرمایا : ہم بھی حکم کی تعمیل کررہے ہیں ‘‘ ۔

1956ء میں ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے ’’ جماعت ِ اہلِ سنّت ‘‘ کی بنیاد رکھی ، وہی اس کے بانی اور امیر اوّل تھے ۔ اس جماعت کے تحت لوگوں کے گھروں میں ہراتوار کو عصر تا مغرب ، درس کا سلسلہ ہونے لگا ۔ ہفتہ وار ان اجتماعات نے چند ماہ میں وابستگان کا حلقہ وسیع کرلیا ۔ ملازمت پیشہ افراد (آفیسرز ) کے لئے پانچ ہفتوں کا فقہی معلومات پر مبنی نصاب مرتب کرکے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے خود تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ فتاوٰی رضویہ (قدیم ) کی پہلی تین چار جلدوں اور تکمیل الایمان کتاب سے انہوں نے تین سو مسائل پر مشتمل ایک نصاب کی تدریس ہفتہ وار سلسلے میں ایک برس تک کی ۔ 1962ء میں ان پر ہونے والے شدید قاتلانہ حملے کے بعد یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا ۔ 1960ء سے قبل ہی مشرقی پاکستان میں بھی انہوں نے جماعت ِ اہلِ سنّت قائم کی اور 1976ء میں جنوبی افریکا میں جماعت ِ اہلِ سنّت کی بنیاد رکھی ۔

آج ملک بھر اور بیرونِ ملک مساجد انتظامیہ اور مذہبی اداروں کے ’’ ٹرسٹ ڈیکلریشن ‘‘ کی رجسٹریشن میں عقائد و نظریات کی وضاحت میں یہ جملے درج ہوتے ہیں کہ ’’ اعلی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاںفاضلِ بریلوی اور شیخ محقق حضرت مولانا شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہما کی تحریرات و تعلیمات کے مطابق یہ ادارہ مسلک ِ حق اہلِ سنّت و جماعت کے عقائد و نظریات کا پابند ہوگا ۔ ‘‘ میری معلومات کے مطابق یہ جملے میرے والدِ گرامی علیہ الرحمہ ہی نے یہاں سب سے پہلے لکھے اور سُنّی حلقوں میں لوگوں کو اس طرح لکھنے کی ترغیب دی ۔ 1964ء میں انہوں نے کراچی شہر کے علاقے پی ای سی ایچ سوسائٹی ( پاکستان ایمپلائز کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی ) کے بلاک 2 میں جامع مسجد غوثیہ کی تعمیر کی اور اس علاقے میں مسلک ِ حق کی تبلیغ و ترویج کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے ۔

اعلی حضرت مجدد بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ پر ’’مخالفین ‘‘ نے مسلسل اعتراض کرنا ہی اپنی پالیسی رکھا ۔ ان کی یہ سازش رہی کہ وہ ’’ جارح ‘‘ رہیں تاکہ صحیح العقیدہ اہلِ سنّت و جماعت ( بریلوی ) خود سے دفاع پر مجبور ہوںاور ان ’’ مخالفین ‘‘ کے کفریات اور غلط نظریات کی نقاب کشائی نہ کریں ۔ لوگوں میں یہ مشہور کیا گیا کہ ’’ بریلوی ‘‘ وہ ہیں جو میلاد و گیارہویں شریف مناتے ہیں اور دیوبندی وہابی یہ فعل نہیںکرتے ، بس یہی اختلاف ہے ۔ مخالفین نے ظلم کرتے ہوئے طرح طرح کے الزام بھی اہلِ سنّت و جماعت (بریلوی )  پر لگائے ۔ تحریر کے میدان میں خیانت و بددیانتی تو مخالفین کا مرغوب وتیرہ ہے ۔

عوام تو حقائق سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے اس لئے غلط پروپیگنڈے کی تکرار انہیں ضرور پریشان کردیتی ہے ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے محققانہ بصیرت اور علمی تبحر سے اپنی تقاریر میں عوام کو حقائق سے اتنا آگاہ کیا کہ ان کے بیش تر سامعین مقرر اور مناظر ہوگئے ۔ مراڑیاں شریف کے حضرت مولانا مفتی محمد اشرف القادری اور ان کے علاوہ بھی دیگر علماء نے اپنی تحریر و تقریر میں برملا یہ بات بیان کی کہ مخالفین کے مدارس میں اساتذہ اپنے طلبہ کو اس حلفیہ اقرار پر مجبور کرتے کہ وہ مولانا اوکاڑوی کی تقریر نہیں سنیں گے کیوں کہ مولانا اوکاڑوی کی تقریر سن کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا اور وہ اساتذہ اپنے ان طلبہ کے سامنے لاجواب ہوجاتے جو مولانا اوکاڑوی کے دلائل دُہراتے ۔

مولانا قاری شمس الرحمن ہزاروی کی یہ تحریر شائع ہوچکی کہ ان کے آٹھ ساتھی علماء کے رُوبرو ، راجا بازار ، راول پنڈی کے غلام خاں صاحب ( جنہیں ان کے ماننے والے شیخ القرآن غلام اللّٰہ خاں کہتے ہیں ) نے یہ کہا کہ : ’’ مولانااوکاڑوی جیسا شخص ہمارے پاس ہوتاتو پورے ملک کے عوام ہمارے ہم مسلک ہوجاتے ۔‘‘ ایک شدید مخالف کا یہ اعتراف اس قول کو واضح کرتا ہے کہ بزرگی وہ ہے کہ دشمن بھی اس کی گواہی دے ۔

مسلک ِ حق کے لئے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی تجدیدی و انقلابی کارگزاری سے خائف ہوکر ہی ان مخالفین نے اُن پر شدید قاتلانہ حملہ کروایا لیکن قدرت نے ابّا جان قبلہ سے جو کام کروانا تھا وہ ہوکے رہا اور مخالفین خاسر و ناکام ہوئے ۔

پانچ شدید زخموں کے باوجود ابّا جان قبلہ کو اللّٰہ کریم نے صحت و عافیت سے نوازا ۔ ڈھائی ماہ کا عرصہ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے پہلا خطاب اسی جگہ فرمایا جہاں اُن پر قاتلانہ حملہ ہُوا تھا ، ہر سال اسی علاقے میں گیارہویں شریف کے پانچ روزہ جلسوں سے خطاب فرماتے رہے ۔ وہ نڈر ، بے باک ، غیور مجاہد تھے ، تین مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ہر بار ہمت فزوں ہوئی ۔ کیوں نہ ہوتی ،کیوں کہ انہیں تو نبی پاک  ﷺ نے اپنی معیت کا مژدہ سنادیا تھا ۔ دو مرتبہ انہیں خواب میں رسولِ کریم  ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہُوا ۔ اپنی انگلیوں سے سرکار کی زلفوں میں شانہ کیا تو تعبیر یہی ملی کہ ان کے دین کی وہ ایسی عمدہ خدمت کریں گے کہ زینت ہوگی ۔

قاتلانہ حملے سے صحت یاب ہوکر ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ اوکاڑا گئے ۔ وہاں جلسے میں حضرت صاحب زادہ سید فیض الحسن شاہ صاحب آلومہار شریف والے بھی مدعو تھے ۔ ابّا جان سے مخاطب ہوکر انہوں نے فرمایا : ’’ مولانا آپ کو مبارک ہو ، آپ کا خون بہت اچھا ہے کہ اسے دینِ مصطفی کے لئے منتخب کیا گیا ۔ ‘‘

تاج دارِ بریلی اور اپنے ابّا جان قبلہ میں مجھے یہ خوبی بھی واضح نظر آتی ہے کہ نبی پاک  ﷺ سے والہانہ عشق او رغوث پاک رضی اللّٰہ عنہ سے کمالِ محبت کا وصف دونوں ہستیوں میں نمایاں رہا ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی بیعت تو سلسلہ عالیہ نقش بندیہ میں تھی لیکن ان پر قبضہ سیدنا غوثِ اعظم ث کا رہا ۔

حضرت الحاج پیر شوکت حسن خاں صاحب نوری بریلوی سے کبھی سنیے ، ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی مدح وہ بہت بلیغ فرماتے ہیں ۔ تصلب فی الدین اور مسلک ِ حق پر استقامت کے لئے ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی وہ مثال دیا کرتے ہیں ۔ ان کے الفاظ ہیں کہ مولانا اوکاڑوی صاحب کی ہر تقریر سے  مسلکِ حق اور فکرِ رضا ہی کی تبلیغ و اشاعت ہوئی ہے ۔

کراچی کے ککری گراؤنڈ میں ہر سال اعلی حضرت مجدد بریلوی علیہ الرحمہ کے عرس شریف میں ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کا خصوصی خطاب ہوتا اور مثالی ہوتا ۔ جس کسی علاقے میں کوئی بدعقیدہ ’’ لاف زنی اور بدزبانی‘‘ کرتا ، وہاں کے لوگ ایک ہی شخصیت کے پاس آتے ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ مصلحت و مفاہمت کے خوگر نہیں ، جرأت و ہمت کے پیکر تھے ، لوگوں سے کہتے کہ فوراً جلسے کا انتظام کرو اور اسی جگہ جاکر حقائق بیان کرتے ۔ حق و صداقت کی ترجمانی اور مسلک ِ حق کے باب میں ان کی خدمات آب ِزر سے لکھے جانے کے لائق ہیں ۔

یہ سب کچھ قلم برداشتہ لکھا ہے ، مجھے خیال ہی نہیں رہا کہ اتنا لکھ گیا ہوں ۔ بیان تو ابھی بہت باقی ہے ، عقیدتوں محبتوں کا بیان کہاں پورا ہوتا ہے ۔ ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ نے آخری بیرونِ ملک سفر بھارت کے لئے کیا ، وہ رضا اکادمی ممبئی کے زیر اہتمام ابنِ اعلی حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمہ کے عرس شریف ہی میں مدعو کیے گئے تھے ۔ اس سفر میں پہلی مرتبہ وہ بریلی شریف بھی گئے اور بہت خوش تھے کہ وہ وہاں بھی جاسکے ۔

ابّا جان قبلہ علیہ الرحمہ کی یہ سعادت بھی کیا خوب ہے کہ انہوں نے اس دنیا میں آتے ہی پہلی آواز جو سُنی وہ دُرود و سلام کے کلمات سے مزین تھی اور اس دنیا سے رخصت ہوئے خودان کی آخری آواز جو سُنی گئی وہ بھی درود و سلام کے کلمات سے مزین تھی ۔ درود شریف کی سماعت سے آغاز اور دُرود شریف کی تلاوت پر انجام بھی ان کی مقبولیت کی سند ہوئی اور جب انہیں لحد میں اتارا جارہا تھا توہزاروں کا ہجوم بآواز بلند صلوۃ و سلام ہی پڑھ رہا تھا ۔

یہ واقعہ ۲۲ رجب ۱۴۰۴ ھ 25 اپریل 1984ء کا ہے ۔ مجھے یاد آیا ، ماہِ صفر ۱۳۴۰ ھ ، 1921ء میں بریلی شریف میں بھی پہلی مرتبہ اتنا ہجوم جمع ہوا تھا کہ شاید اس سے پہلے کبھی نہ ہُوا ہوگا ۔ اس دن اس ہجوم کا ہر فرد بھی صدائے دُرود ہی بلند کررہا تھا   ؎

کعبے کے بدر الدجی تم پہ کروڑوں دُرود

٭ ٭ ٭