پروفیسر احمد رضا اعظمی الباروی سے گفتگو

in Articles, Tahaffuz, July 2011, انٹرویوز

سجادہ نشین دربار عالیہ فیضان نیر ہوت والا شریف جمن شاہ ضلع لیہ

چیئرمین یونائیٹڈ گروپ آف کالجز، پرنسپل یونائیٹڈ کالج آف ٹیکنالوجی لیہ،

مہتمم و مفتی جامعہ نیر المدارس (رجسٹرڈ) ہوت والا شریف جمن شاہ ضلع لیہ، پنجاب

 انٹرویو: ثناء شکور (نمائندہ: میاں چنوں، خانیوال)

سوال: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

جواب: میں 25 ستمبر 1965ء کو دربار عالی ہوت والا شریف جمن شاہ ضلع لیہ میں پیدا ہوا۔

سوال: آپ کے والد کا کیا نام ہے؟

جواب: میرے والد گرامی پیر طریقت رہبر شریعت نیر ملت مناظر اہل سنت محقق اعظم اسیر دیار حبیبﷺ حضرت علامہ قبلہ ابو الرضا محمد اﷲ بخش نیر چشتی نقشبندی قادری رضوی بانی انجمن سپاہ مصطفیﷺ پاکستان ہیں۔

سوال: آپ کا نام کس نے رکھا؟

جواب: میرا نام میرے والد گرامی، میرے دادا جان پیر طریقت استاد العلماء حضرت قبلہ خواجہ اﷲ یار چشتی سلیمانی اور پیر طریقت حضرت قبلہ سید گانمن شاہ بخاری نے میرے عقیقہ کے موقع پر مشورہ کرکے رکھا۔

سوال: ابتدائی دنیاوی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

جواب: ابتدائی دنیاوی تعلیم میں نے گورنمنٹ اسکول ہوت والا شریف سے حاصل کی تھی۔

سوال: بقیہ دنیاوی تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟

جواب: چھٹی جماعت سے لے کر دسویں تک میں نے گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول لیہ سے تعلیم حاصل کی۔ ایف ایس سی اور گریجویشن میں نے گورنمنٹ کالج لیہ سے کی اور ایم اے اسلامیات اور ایم فل اسلامیات (ریگولر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیا۔ اس کے علاوہ تاریخ و مطالعہ پاکستان اور ایم اے سرائیکی (پرائیویٹ) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیا۔ بی ایڈ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے کیا اور ایم ایڈ یونیورسٹی آف سرگودھا سے کیا۔

سوال: دینی تعلیم کہاں سے شروع اور کہاں مکمل کی؟

جواب: میں نے درس نظامی کی ابتدائی کتب اور فارسی ادب اپنے دادا جان پیر طریقت استاد العلماء حضرت قبلہ خواجہ اﷲ یار چشتی حیدری رحمتہ اﷲ علیہ اور اپنے والد ماجد حضرت علامہ قبلہ ابو الرضا محمد اﷲ بخش نیر چشتی نقشبندی باروی سعیدی رحمتہ اﷲ علیہ سے جامعہ نیر المدارس ہوت والا شریف جمن شاہ ضلع لیہ میں پڑھیں۔ اس کے بعد جامعہ انوار بارو جمن شاہ ضلع لیہ میں فقیہ العصر مفتی غلام حسن باروی رحمتہ اﷲ علیہ سے کچھ عرصہ پڑھا۔ اس کے بعد جامعہ نعمانیہ رضویہ حامد آباد محلہ شیخانوالہ لیہ میں تنظیم المدارس کے نصاب کے مطابق درجہ ثانیہ (عامہ) درجہ ثانیہ (خاصہ) الشہادۃ العالیہ اور الشہادۃ العالمیہ کا امتحان پاس کیا۔

سوال: دورہ حدیث کہاں سے کیا؟

جواب: میں نے دورہ حدیث جامعہ اسلامیہ انوار العلوم ملتان سے کیا۔ اور دورہ تفسیر القرآن جامعہ غوثیہ نعیمیہ کوہ مری ضلع راولپنڈی اور دوسری مرتبہ دورہ تفسیر القرآن جامعہ اویسیہ رضویہ بہاولپور سے کیا۔

سوال: آپ نے کن اساتذہ سے دینی تعلیم حاصل کی؟

جواب: اپنے دادا جان اور والد گرامی کے علاوہ میں نے جن علماء اور محدثین سے استفادہ کیا۔ان کے نام یہ ہیں۔ فقیہ العصر مفتی غلام حسن باروی رحمتہ اﷲ علیہ، مفتی محمد اقبال مصطفوی، شیخ الحدیث مولانا غلام رسول نوری رضوی سعیدی رحمتہ اﷲ علیہ، سرتاج الفقہاء مفتی امام بخش اعظمی رحمتہ اﷲ علیہ، شیخ القرآن مولانا غلام قادر رحمتہ اﷲ علیہ، غازی تحریک نظام مصطفی شیخ التفسیر مفتی محمد مختار نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ گجراتی، حضرت مولانا مفتی غلام رسول لالہ موسیٰ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد اشرف قادری اڑیاں شریف، سرتاج الفقہاء حضرت قبلہ مفتی غلام مصطفی رضوی سعیدی، شیخ الحدیث التفسیر حضرت قبلہ مولانا محمد مشتاق چشتی گولڑوی، شیخ الحدیث حضرت قبلہ مفتی محمد اقبال سعیدی ملتان، شیخ الحدیث والتفسیر جگر گوشہ غزالی زماں سید ارشد سعید کاظمی، فیض ملت حضرت قبلہ فیض احمد اویسی رضوی رحمتہ اﷲ علیہ

سوال: جب آپ فارغ التحصیل ہوئے تو آپ کی عمر کیا تھی؟

جواب: جب میرے سر پر دستار فضیلت باندھی گئی تو اس وقت میری عمر 24 سال تھی۔

سوال: آپ کس ہستی سے شرف بیعت ہیں؟

جواب: میری بیعت غوث زمان قطب دوران پیر طریقت رہبر شریعت مہتاب ولایت شمس العارفین قدوۃ السالکین شیخ الحدیث والتفسیر استاذ العلماء حضرت خواجہ محمد عبداﷲ بارو کریم نقشبندی مجددی رحمتہ اﷲ علیہ سے ہے۔

سوال: بیعت ہونے کے کیا اسباب تھے؟

جواب: میرے مرشد عظیم حضرت بارو کریم رحمتہ اﷲ علیہ کا ہر عمل شریعت مطہرہ اور سنت مصطفیﷺ کے مطابق تھا۔

سوال: آپ نے اپنے مرشد میں سب سے بڑی چیز کیا دیکھی؟

جواب: میری مرشد کریم مسلک امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے علم بردار اور پاسبان تھے۔ مقام مصطفیﷺ و ناموس رسالتﷺ کا تحفظ اور نظام مصطفیﷺ کا نفاذ ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس کے علاوہ میرے مرشد کے جسم اطہر سے ایسی خوشبو آتی تھی کہ جو کسی عطر و کستوری میں بھی میں نے نہیں پائی۔ مزید میں نے اپنے مرشد کے جسم کے ہر بال سے اﷲ اﷲ کی آواز سنی ہے۔

سوال: آپ کتنے بہن بھائی ہیں؟

جواب: ہم دو بھائی ہیں اور میری پانچ بہنیں ہیں۔

سوال: کیا آپ کے والد بھی عالم دین ہیں؟

جواب: جی ہاں! والد صاحب قبلہ کا تعارف پہلے بیان کرچکا ہوں۔

سوال: بھائیوں میں کوئی آپ کا بھائی عالم دین ہے؟

جواب: جی ہاں! میرے دوسرے بھائی حضرت علامہ مولانا محمد حسن رضا نیری باروی بھی عالم دین ہیں۔

سوال: آپ کی اولاد میں کوئی عالم دین بن رہا ہے؟

جواب: جی ہاں! میرا بیٹا محمد حامد رضا اعظمی عالم دین بن رہا ہے۔

سوال: کیا آپ فتویٰ نویسی کرتے ہیں؟

جواب: جی ہاں! میرے والد گرامی نے آخری عمر میں فتویٰ نویسی کی ذمہ داری مجھے سونپ دی تھی۔

سوال: آپ نے اب تک کتنے فتوے تحریر کئے ہیں؟

جواب: میں اس وقت تک تقریبا پانچ سو فتوے لکھ چکا ہوں۔

سوال: آپ کتنی کتابوں کے مصنف ہیں؟

جواب: میں نے ایم اے کے دوران غزالی زماں رازی دوران سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اﷲ علیہ کی علمی خدمات پر مقالہ لکھا تھا اور ایم فل کے دوران میرے مقالے کا عنوان تھا ’’یہودیت میں منصب نبوت‘‘ اس کے علاوہ میری کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے البتہ مختلف رسائل میں میرے کافی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔

سوال: آپ کا کوئی ادارہ یا مدرسہ ہے؟ اس کی صورت حال سے آگاہ کریں۔

جواب: جی ہاں! جامعہ نیر المدارس (رجسٹرڈ) ہوت والا شریف جمن شاہ ضلع لیہ ہے۔ جس کی بنیاد میرے دادا ان پیر اﷲ یار چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے رکھی تھی۔ ان کے بعد میرے والد گرامی نے اس مدرسے کا اہتمام سنبھالا۔ اب ان کے بعد یہ ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔

سوال: آپ کے مدرسہ سے اب تک کتنے حفاظ یا علماء فارغ ہوچکے ہیں؟

جواب: چونکہ ہمارا ادارہ تھل کے صحرائی علاقہ میں ہے۔ ابتدا میں فارغ التحصیل حفاظ اور علماء کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا تاہم سینکڑوں حفاظ اور کئی علماء یہاں سے فیض یاب ہوچکے ہیں۔

سوال: موجودہ دور میں علماء کو کن کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

جواب: علماء کرام کی بارگاہ میں کچھ عرض کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ علمائے کرام بہتر جانتے ہیں کہ انہیں کون سے اقدام کی کب ضرورت ہے۔ لادینیت، مادیت اور بدعات و خرافات کے اس دور میں امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے مسلک کی ترویج و اشاعت اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

عوام اہلسنت کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اور مسلک امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل سنت کو صرف اہل سنت کے ساتھ ہی روابط، تعلقات، معاملات، مناکحات، خریدوفروخت اور دیگر کاروبار کرنے چاہئیں۔

سوال: عوام اہلسنت میں دینی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔ اس رجحان کو کیسے بحال کیا جائے؟

جواب: علمائے کرام اپنے خطابات اور جمعہ کے خطبات میں عوام  اہل سنت کی توجہ اس طرف مبذول کرائیں کہ یہ دینی مدارس ہمارے مذہبی قلعے ہیں۔ ان میں ہماری دینی فوج تیار ہوتی ہے۔ اگر ہمارے قلعے مضبوط ہوں گے تو ہماری فوج بھی مضبوط ہوگی اور ہمارے مذہب پر کبھی کوئی آنچ نہیں آئے گی۔

سوال: موجودہ ملکی حالات کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

جواب: اس وقت ہمارا ملک بہت خطرناک اور حساس حالات سے گزر رہا ہے۔ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتیں پاکستان اور اسلام کو مٹانے کے لئے سر دھڑ کی بازیاں لگا رہے ہیں اور ملک کے اندر اتنی ریشہ دوانیاں پھیلا چکے ہیںکہ عوام کا اپنی حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ حکمران اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے لادینی قوتوں کے ہر مطالبے کے سامنے سر جوڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب خود حکمرانوں کو پتہ نہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

سوال: عالم اسلام کو درپیش مشکلات کی کیا وجوہات ہیں؟

جواب: عالم اسلام کو درپیش مسائل کی سب سے بڑی وجہ مسلم حکومتوں کا آپس میں انتشار ہے۔ اس وقت 57 اسلامی ممالک کے سربراہان میں سے کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے کہ جس پر امت مسلمہ اعتماد کرسکے۔ او آئی سی بھی ایک مردہ گھوڑا ہے جو غیر مسلم حکمرانوں کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔

سوال: اہلسنت کا سیاسی پلیٹ فارم خالی ہے، کیا سیاست وقت کی ضرورت ہے؟

جواب: یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جس مذہب کو سیاسی سپورٹ نہ ہو، وہ دین اور مذہب پر مٹ جاتا ہے۔ اسی لئے نبی کریمﷺ نے مدینہ میں اسلامی ریاست کو بنیاد رکھی۔ خلفائے راشدین نے بھی اسلام کی سربلندی اور غلبہ کے لئے فتوحات کیں تاکہ دنیا پر اسلام نافذ کرکے خدا کی مخلوق کو بنیادی حقوق اور امن دیا جاسکے۔ اسی لئے خلفائے راشدین کا مقام دیگر صحابہ کرام سے بلند تر ہے۔ اس لئے اہل سنت کو بھی میدان سیاست میں اترنا ضروری ہے جو اس وقت کی ضرورت ہے۔

سوال: موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ کیا تبلیغ کے لئے میڈیا پر آنا وقت کی ضرورت نہیں؟

جواب: اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے میڈیا پر آنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنا پیغام بہتر انداز میں لوگوں تک پہنچا سکیں۔

سوال: فرقہ واریت کو روکنے کے لئے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

جواب: فرقہ واریت یقینا انگریز کا کاشتہ پودا ہے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ممکن ہے کہ حکومت پاکستان صرف انہی مکاتب فکر کو کام کرنے کی اجازت دے جو انگریز کے برصغیر آنے سے پہلے موجود تھے۔

سوال: میڈیا پر بدعقیدگی کی یلغار کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟

جواب: علمائے اہل سنت عقیدہ اہل سنت کو مدلل انداز میں میڈیا پر پیش کریں۔ دیگر بدعقیدہ مذاہب اپنی موت آپ مرجائیں گے۔

سوال: بڑھتی ہوئی بدعقیدگی کو روکنے کے لئے عوام اہلسنت کو کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

جواب: بدعقیدگی کے سیلاب کو روکنے کے لئے عوام اہل سنت کو اپنے دینی مدارس جو ہمارے مذہبی قلعے ہیں، کو مضبوط کریں۔ جہاں ہماری مذہبی فوج تیار ہورہی ہے۔ ہمارے علمائے کرام اپنے خطابات، خصوصا جمعہ کے خطبات میں مسلک امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کی ترجمانی فرمائیں اور جن بدعقیدہ لوگوںسے اعلیٰ حضرت مجدد دین ملت رحمتہ اﷲ علیہ نے اختلاف کیا ہے، ان سے اختلافات کے اسباب اچھے انداز میں پیش فرمائیں اور عوام اہل سنت اس معاملہ اپنی مذہبی غیرت کا ثبوت دیں۔

سوال: ماہنامہ تحفظ آپ کو کیسا لگا؟

جواب: ماہنامہ تحفظ عقیدہ اہل سنت اور مسلک امام احمد رضا رحمتہ اﷲ علیہ کا صحیح ترجمان ہے۔

سوال: ماہنامہ تحفظ کے ذریعے عوام کو کیا پیغام دیں گے؟

جواب: عوام اہل سنت کے لئے یہی پیغام ہے کہ ماہنامہ تحفظ کی ترویج و اشاعت کے لئے کام کریں۔ اس ماہنامہ کو کامیاب کریں۔ اس کے زیادہ سے زیادہ خریدار بنیں تاکہ عوام میں اہل سنت کا پیغام بروقت پہنچ سکے۔

٭٭٭