از قلم: ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی، انچارج شعبہ افتاء جامعہ اکبریہ، میانوالی

آنحضورﷺ نے سفر معراج پر تشریف لے جانے کے بارے میں علماء محققین اور ائمہ مفسرین و محدثین رحمہم اﷲ کی آراء کی روشنی میں اصل تحقیق کیا ہے؟ آیا یہ سفر جسمانی تھا یا محض خواب کی حالت میں روحانی تھا اور پھر یہ کتنی دیر میں کرایا گیا؟

بینوا بالکتاب توجروا عندالماب

احمد شاہد، اٹک سٹی (پنجاب)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک المنعام الوہاب

اللھم ہدایۃ الحق والصواب

آنحضور پرنورﷺ کے خصائص سے معراج ہے، کہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے ساتویں آسمان اور کرسی و عرش تک ، بلکہ بالائے عرش رات کے ایک خفیف حصہ میں مع جسم تشریف لے گئے اور وہ قرب خاص حاصل ہوا کہ کسی بشروملک کو کبھی نہ حاصل ہوا نہ ہو اور جمال الٰہی بچشم سر دیکھا اور کلام الٰہی بالواسطہ سنا اور تمام ملکوت السموٰت والارض کو بالتفصیل ذرہ ذرہ ملاحظہ فرمایا۔

چنانچہ ارشاد رب العزت:

سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی برکنا حولہ لنریہ من اٰیٰتنا، انہ ہو السمیع البصیرO (پ 15، بنی اسرائیل)

ترجمہ کنزالایمان: پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سنتا دیکھتا ہے، (از اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اﷲ عنہ المولیٰ المقوی / کنزالایمان فی ترجمہ القرآن)

اس کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں صدر الافاضل سید محمدنعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ یوں رقم طراز ہیں۔ ’’معراج شریف‘‘ نبی کریمﷺ کا ایک جلیل معجزہ اور اﷲ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حضورﷺ کا وہ کمال قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوق الٰہی میں آپ کے سوا کسی کو میسر نہیں۔ اعلان نبوت کے بعد بارہویں سال سید عالمﷺ معراج سے نوازے گئے۔ مہینے میں اختلاف ہے مگر اشہر (مشہور ترین) یہ ہے کہ ستائیسویں رجب کو معراج ہوئی۔ مکہ مکرمہ سے حضورﷺ کا بیت المقدس تک شب کے چھوٹے حصہ میں تشریف لے جانا نقش قرآنی سے ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے اور آسمانوں کی سیر اور منازل قرب میں پہنچنا احادیث صحیحہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حد تواتر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ اس کا منکر گمراہ ہے۔ یاد رہے کہ معراج شریف بحالت بیداری جسم و روح دونوں کے ساتھ واقع ہوئی، یہی جمہور اہل اسلام کا عقیدہ ہے اور اصحاب رسولﷺ کی کثیر جماعتیں اور حضورﷺ کے اجلہ اصحاب اسی کے معتقد ہیں۔ نصوص آیات و احادیث سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے۔ تیرہ رماغان فلسفہ کے اوہام فاسدہ محض باطل ہیں۔ قدرت الٰہی کے معتقد کے سامنے وہ تمام شبہات محض بے حقیقت ہیں۔ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کا براق لے کر حاضر ہوتا، سید عالمﷺ کو غایت احترام و اکرام کے ساتھ سوار کرکے لے جانا اور بیت المقدس میں امام الانبیائﷺ کا انبیاء کی امامت فرمانا، پھر وہاں سے سیر سمٰوٰت کی طرف متوجہ ہونا، جبرائیل امین علیہ السلام کو ہر آسمان کے دروازے کھلوانا، ہر ہر آسمان پر وہاں کے صاحب مقام انبیاء علیہم السلام کا شرف زیارت سے مشرف ہونا اور سرکارﷺ کی تکریم کرنا احترام بجالانا تشریف آوری کی مبارکبادیں دینا، حضور پرنورﷺ کا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف سیر فرمانا وہاں کے عجائب دیکھنا اور تمام مقربین کی نہایت منازل سدرۃ المنتہیٰ کو پہنچنا جہاں سے آگے بڑھنے کی کسی ملک مقرب کو بھی مجال نہیں ہے۔ جبرئیل امین علیہ السلام کا وہاں معذرت کرکے رہ جانا پھر مقام قرب خاص میں حضورﷺ کا ترقیاں فرمانا اور اس قرب اعلیٰ میں پہنچنا کہ جس کے تصور تک تمام خلق کے اوہام و افکار پرواز سے عاجز ہیں۔ وہاں مورد رحمت و کرم ہونا اور انعامات الٰہیہ اور خصائص نعیم سے سرفراز فرمایا جانا اور ملکوت سمٰوٰت و ارض اور ان سے افضل و برتر علوم پانا اور امت کے لئے نمازیں فرض ہونا، حضورﷺ کی شفاعت فرمانا جنت و دوزخ کی سیریں اور پھر اپنی جگہ واپس تشریف لانا اور اس واقعہ کی خبریں دینا کفار کا اس پر شور شیس مچانا اور بیت المقدس کی عمارت کا حال اور ملک شام جانے والے قافلوں کی کیفیتیں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے دریافت کرنا حضورﷺ کا سب کچھ بتانا اور قافلوں کے جو احوال حضورﷺ نے بتائے، قافلوں کے آنے پر ان کی تصدیق ہونا یہ تمام صحاح کی معتبر احادیث سے ثابت ہے اور کثرت احادیث کریمہ ان تمام امور کے بیان اور ان کی تفاصیل سے بھری پڑی ہیں۔ (خزائن العرفان فی تفسیر القرآن ص 408، مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)

امیر المومنین فی الحدیث سیدنا امام محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ اﷲ الباری نقل کرتے ہیں۔

عن شریف ابن عبداﷲ انہ قال سمعت ابن مالک یقول لیلۃ اسری برسول اﷲﷺ من مسجد الکعبۃ، ثم عرج بہ السماء الدنیا، ثم عرج بہ الی السماء الثانیۃ، ثم عرج بہ الی السماء الثلثۃ، ثم عرج بہ الی السماء الرابعۃ، ثم عرج بہ الی السماء اغرا الخامسۃ، ثم عرج بہ الی السماء السادستہ ثم عرج یعالی السماء السابقہ م علابہ فوق ذالک یما لا لیلمۃ الا الدما حتی ہاد سدرۃ المنتہیٰ ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین او ادنیٰ خارجی اﷲ فیما اوحیٰ، ملتقطاً من صحیح البخاری، کتاب التوحید مطبوعہ قدیمہ کتب خان کراچی)

اس مذکور حدیث کی مثل صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔ صحیحین کی دیگر روایات بھی اس کی تائید کرتی ہیں اور صحیحین کی اس طرح کی روایات کو سبحن الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً الایتہ کے تحت اور ’’والنجم اذا ہویٰ‘‘ کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آپ کے مطالبے پر علماء مفسرین و محدثین کی چند عبارات درج کردی جاتی ہیں۔

امام المفسرین سید محمود آلوسی بغدادی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں۔

قال جعفر الصادق رضی اﷲ عنہ ہو النبیﷺ وہویہ نزولہ من السماء لیلۃ المعراج وجوز علی ہذا ان یراد بہویۃ صعودہ وعروجہ علیہ السلام الی منقطع الاین (روح المعانی پ 28، ص 38)

یعنی امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ نے النجم سے مراد ذات مصطفےﷺ اور ہویٰ سے مراد معراج مصطفیﷺ سے اترنا لیا ہے اس طور پرحضورﷺ کا اوپر چڑھنا اور لامکاں تک پہنچنا مراد ہے۔

سید طائفۃ المفسرین این جریر طبری علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں۔

واﷲ مانزل عن البراق حتی رأی الجنۃ والنار وما اعد اﷲ وفی الاخرۃ اجمع

بخدا مصطفیٰﷺ براق سے نہیں اترے، یہاں تک کہ حضورﷺ نے جنت و دوزخ کو دیکھ لیا اور اس سب کچھ کو دیکھ لیا جو ان کے لئے خدائے بزرگ و برتر نے تیار رکھا تھا (ابن جریر پ 15، ص 12)

رئیس المفسرین علامہ محمود احمد بغوی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

وقال جعفر الصادق یعنی محمداًﷺ اذا نزل من السمآء الی الارض لیلۃ المعراج

امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں ’’النجم‘‘ سے مراد ذات پاک مصطفیٰﷺ کا سفر معراج سے واپسی کا نزول فرمانا ہے (تفسیر معالم التنزیل المعروف بغوی)

امام العاشقین شیخ احمد صاوی مالکی مصری علیہ الرحمہ رقم طرازہیں:

قولہ (بصیدہ) ای بروحہ و جسمہ علی الصحیح (حاشیہ الصاوی علی الجلالین)

یعنی صحیح تحقیق یہ ہے کہ معراج جسمانی تھی روح سے الجسم کو سیر کرائی گئی۔

امام المحدثین علامہ جلال الدین سیوطی شافعی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

’’لیلا‘‘ نصب علی الظرف والاسراء سیر اللیل وفائدۃ ذکر الاشارہ، بتنکیرہ الی تقلیل مدتہ

یعنی لیلاً کو بطور ظرف منسوب پڑھا گیا اور اسراء رات کی سیر کو کہتے ہیں اس کے بعد لیلاً نکرہ اس لئے ذکر کیا تاکہ رات کے قلیل وقت میں سفر معراج کی طرف اشارہ ہوجائے۔

(جلالین ص 228، مطبوعہ المیزان و قدیمی ، کتب خان آرام باغ، کراچی)

شیخ المحدثین شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

ومعراجہﷺ فی الیقظۃ بشخصہ الی السمآء ثم الی ماشآء اﷲ تعالیٰ حق

امتحان ایمان در تصدیق قضیہ معراج است کہ در ساعت لطیف در بیداری بجسد شرف تا آسماں و عرش عظیم بلکہ بالائے عرش تاحد لامکاں بآن حکایات وخصوصیات مذکورہ کہ در احادیث صحیحہ واقع شدہ۔ (تکمیل الایمان ص 128)

یعنی عالم بیداری میں جسم اطہر کا آسمانوں کی سیر کرنا پھر وہاں سے جہاں تک خدا نے چاہا یہ سب حق ہے، اس معراج کے واقعہ میں ایمان کا امتحان ہے کہ مختصر سی گھڑی میں بیداری کے اندر جسم اطہر کے ساتھ آسمانوں، عرش عظیم بلکہ بالائے عرش لامکان تک سیر کرنا یہ حکایات و خصوصیات جو ذکر کی گئی ہیں احادیث صحیحہ میں واقع ہوئی ہیں۔

سلطان المشائخ، محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین والدین علیہ الرحمہ کا ’’فوائد الفواد‘‘ میں ارشاد مبارک موجود ہے۔ اس کا اردو ترجمہ یوں ہے۔

مسجد حرام سے بیت المقدس تک اسراء ہے اور وہاں سے آسمانوں تک کی سیر معراج کہلاتی ہے اور آسمانوں سے مقام قاب قوسین تک اعراج ہے۔

الحاصل جمہور ائمۃ دین مفسرین و محدثین علیہم الرحمہ کی تحقیقات کی روشنی میں حضور جان عالمﷺ کا رات کے مختصر حصے میں حرم اقدس سے بیت المقدس آسمان دنیا سے سدرۃ المنتہیٰ اور وہاں سے قاب قوسین اور قرب خاص میں پہنچ کر چشمان سر سے دیدار خدا کرنا ثابت ہے اور یہ جسمانی معراج تھی۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں البتہ شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی تحقیق پر حضور پرنورﷺ کی اس جسمانی معراج کے ماسوا تینتیس مرتبہ یہ روحانی معراج بھی نصیب ہوئی ہے اور خواب میں تو حضورﷺ کے امتی بھی دیدار الٰہی کرسکتے ہیں اور یہ ثابت ہے۔ نیز جنت میں ہر مومن دیدار خداوندی کریگا۔

یاد رہے کہ سفر معراج کے اول حصہ مسجد حرم سے اقصیٰ تک کا انکار کفر ہے کیونکہ اس کاثبوت نقص قطعی سے ہے۔ اقصیٰ سے آسمان دنیا، آسمان دنیا سے سبع سمٰوٰت، بیت المعمور و سدرۃ المنتہیٰ تک احادیث مشہورہ سے ثابت ہے اس کا انکار کھلی گمراہی ہے اس کے بعد لامکاں میں عالم قرب کی سیر اخبار احادیث سے ثابت ہے اس کا انکار بدعت ہے، یہی تحقیق ہے۔