پیر طریقت علامہ پیر سیف الرحمن علیہ الرحمہ ایک عہد ساز شخصیت

in Articles, Tahaffuz, July 2011, شخصیات, علامہ سید احمد علی سیفی

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد

اولیائے کرام امت مسلمہ کا وہ طبقہ ہیں جن کے دم سے اسلام کا پیغام سرمدی دنیا کے کونے کونے تک پہنچا۔ حضور خاتم المرسلمینﷺ کے بعد صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین اور پھر یہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنے کردار و عمل و اخلاص سے مخلوق خدا کی رہنمائی فرماکر تشنگان ہدایت کو اپنے چشمہ فیض سے سیراب فرمایا۔ یہ وہ نفوس قدسیہ ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ یاد خدا عزوجل اور عشق خیر الوریٰﷺ اور مخلوق خدا کی بھلائی میں گزرتا ہے۔ ایسے ہی لوگ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں یاد رہتے ہیں جن کے نفس ایمانی کی حرارت سے بولہبی شرارے سرد پڑجاتے ہیں اور شیطانی قوتیں مل کر راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ ایسی ہستیاں مثل سورج کے ہوتی ہیں جن کی روشنی سے ظلمت کدے میں اجالے بکھرتے ہیں۔ ان کی توجہ اور صحبت میں حق کے طلب گاروں کو تزکیہ نفس، اطمینان قلب اور وہ روحانی بالیدگی و ترقی اور کمالات حاصل ہوتے ہیں جو طالبان حق محسوس تو کرتے ہیں مگر ان کو بیان کرنے کے لئے انسانی لغت میں الفاظ کی نہایت قلت پائی جاتی ہے۔ انہی باکمال و باجمال ہستیوں میں ایک چمکتا ہوا ستارہ اور مینارہ نور،شیخ العرب و العجم، منبع علم و حکمت، قطب التوکین و الارشاد، فائز مقام عبدیت و صدیقیت، واقف رموز حقیقت عالم باعمل، پیر طریقت، رہبر شریعت، حضرت اخندزادہ سیف الرحمن پیرا رچی خراسانی المعروف بہ مبارک صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کی مبارک ہستی بھی ہے جن کی پوری زندگی خوف خدا، عشق مصطفی علیہ السلام اور مخلوق خدا کی خدمت سے بھرپور تھی۔ اپنی خداداد صلاحیت اور توجہ خاص سے لاکھوں دلوں کو ذکر الٰہی کی لازوال لذتوں سے آشنا کیا اور عشق مصطفی علیہ السلام کی بے مثال سوغات سے مالا مال کیا۔ اب نگاہیں ایسی اولوالعزم شخصیت کو تلاش کریں گی۔ بقول شاعر:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

حضرت اخندزادہ سیف الرحمن مبارک صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کے والد گرامی پیر طریقت رہبر شریعت حضرت قاری سرفراز خان قادری رحمتہ اﷲ علیہ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے ایک عظیم بزرگ تھے۔ حضرت مباک رحمتہ اﷲ علیہ کی ولادت باسعادت 1349ھ کوٹ بابا کلے صوبہ ننگر ہار افغانستان میں ہوئی۔ دنیا کو کیا خبر تھی کہ اس دور افتادہ گائوں میں جس روح نے جلوہ گری فرمائی ہے وہ دنیا میں کفر و شرک و بدمذہبیت کے اندھیروں کو اپنی نورانی کرنوں سے جگمگائے گی۔ آٹھ سال کی عمر میں والدہ محترمہ کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا۔ آپ نے افغانستان و ہندوستان کے مختلف شہروں میں سفر کرکے علوم کی تحصیل فرمائی۔ آپ نے اپنے وقت کے شیخ المشائخ ولی کامل مکمل حضرت مولانا شاہ رسول طالقانی رحمتہ اﷲ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت فرمائی۔ مرشد کریم کے وصال کے بعد ان کے خلیفہ اعظم حضرت مولانا محمد ہاشم سمنگانی رحمتہ اﷲ علیہ کے ہاتھ پر بیعت فرما کر ان کی زیر تربیت رہے۔ مرشد کامل نے آپ کی تربیت فرما کر خلافت مطلقہ عنایت فرمائی۔ آپ کے مرشد گرامی آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور گاہے بگاہے اپنی والہانہ محبت کا اظہار بھی فرماتے تھے۔ حضرت مولانا محمد ہاشم سمنگانی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق فرمایا کہ ’’اخندزادہ مثل سورج کے ہیں جس طرف بھی جائیں گے، تاریکی کو ختم کریں گے‘‘ اور الحمدﷲ دنیا نے اس کا نظارہ خوب دیکھا اور خوب دیکھا۔ حضرت مرشد کامل مکمل نے خلافت عنایت فرمائی تو خلافت نامہ پر لکھا ’’جو (اخندزادہ مبارک رحمتہ اﷲ علیہ) کا مقبول ہے وہ میرا بھی مقبول ہے اور جو ان کا مردود ہے وہ میرا بھی مردود ہے‘‘

حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ ہمیشہ باطل کے ساتھ برسر پیکار رہے اور باطل کے سامنے ہمیشہ سینہ سپر رہے۔ افغانستان میں روس کی کفریہ طاقت کے خلاف جس شخصیت نے سب سے پہلے علم جہاد بلند فرمایا وہ حضرت مبارک صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کی ہستی تھی۔ آپ کی کاوشوں سے دوسرے اہل علم، مشائخ اور عوام میں بھی اس بیداری کی لہر دوڑی اور وہ روس کے خلاف جہاد میں مصروف ہوئے۔ یہاں تک کہ روس کی کفریہ طاقت کا گھمنڈ خاک میں مل گیا اور دین اسلام اور مسلک حق اہل سنت و جماعت کا بول بالا ہوا۔ اس کارنامہ کا سہرا بلا مبالغہ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کی ذات عالیہ کو جاتا ہے۔ جب افغانستان میں خانہ جنگی کی لہر دوڑی تو پھرآپ نے اقتدار کی رسہ کشی سے منہ موڑ کر مخلوق خدا کی ظاہری و باطنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے اور سنت نبویﷺ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پاکستان جو اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ ہے، کی طرف ہجرت فرمائی۔ برصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں مختلف ادوار میں اولوالعزم ہستیاں تشریف لاتی رہیں جنہوں نے اس زمین بتاں کو توحید کے نور سے روشن کیا اور کیوں نہ ہو کہ سید دوعالم محبوب خالق دوجہاںﷺ نے ہند کے بارے میں بشارت عنایت فرمائی ہوئی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں گستاخی رسالت و تنقیص شان الوہبیت کی تحریکیں چلتی رہیں مگر اپنے باطلانہ عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہوسکیں کیونکہ غلامان مصطفی ﷺ علماء و مشائخ نے ہمیشہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شانِ الوہیت و رسالت کی پاسداری کا خوب حق ادا کیا۔ ہر باطل تحریک کے پس پردہ صیہونی ذہن کارفرما رہا ہے، چاہے وہ امریکہ ہو یا برطانیہ، روس ہو یا اسرائیل اور تحریک باطل چاہے فتنہ نجد کی صورت میں ہو یا فتنہ انکار حدیث، فرقہ جبریہ تبلیغی جماعت ہو یا فتنہ قادیانیت و مرزائیت کی صورت میں ہو۔ ان کا قلع قمع وارثان مصطفیﷺ نے ہمیشہ جوانمردی سے کرکے انہیں شکست سے دوچار کیا ہے۔ خاص طور پر حضرت قندیل نورانی، واقف مستشابہات قرآنی حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ، اور ان کے احباب و خاندان نے ہر دور میں ان فتنوں کے خلاف ڈٹ کر مجاہدانہ کردار ادا کیا ہے۔ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ نے پاکستان ہجرت فرما کر پہلے علاقہ پیر سباق پھر نوشہرہ اور پھر باڑہ خیبر ایجنسی میں تشریف لے گئے جوکہ فتنوں کا گڑھ تھا۔ جس کے باشندے خارجیت ورافضیت کا مزاج رکھتے تھے، اس پرخار وادی میں حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ نے نور الٰہی اور نور نبوی کی شمع کو اس طرح فروزاں کیا کہ قبائلیوں کی نسلی دشمنی کو آپ نے اپنی مخلصانہ کوششوں سے دوستی میں تبدیل کردیا۔ منشیات فروش پارسا بن گئے۔ آپ کی نگاہ کیمیا اثر نے بے دین، گمراہ، بدعقیدہ اور گمراہوں کی زندگیوں کو بدل کر انہیںں مرد کامل، اور انسان باضمیر بنادیا اور وہ سرحدی علاقے جہاں حضور نبی آخر الزماںﷺ کا ذکر خیر کرنا اور یارسول اﷲﷺ پکارنا انتہائی درجہ کی گمراہی یعنی کفر و شرک و بدعت سمجھا جاتا تھا، وہاں اس نعرہ پرفضا اور ذکر راحت دوعالمﷺ کو اس والہانہ، عاشقانہ اور مجاہدانہ انداز سے فروغ دیا کہ ان علاقوں کی فضائیں درود و سلام کی مہک سے مہکنے لگیں اور درود و سلام کی نورانی کرنوں نے وہاں سایہ کر رکھا تھا جبکہ مخالفین حق انگشت بدنداں تھے کہ اس امن کے سفیر نے کس طرح علاقہ غیر میں ’’یارسول اﷲ‘‘ کی نورانیت کو بکھیرا مگر فساد نام کی کوئی چیز بھی نہ پیدا ہوئی اور وہ وقت بھی تھا کہ کراچی سے اکیلا شخص باڑہ خیبر ایجنسی دربار گہربار حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ بلاخوف و خطر آتا جاتا تھا۔ جس طرح رسول اﷲﷺ اور صحابہ واہلبیت رضی اﷲ عنہم کے خلاف منافقین اپنی ریشہ دوانیاں کرنے سے باز نہ آتے تھے، اسی طرح یہ وارث کمالات نبوت بھی علاقہ غیر کے منافقین میں کانٹے کی طرح چھبتے تھے اور وہ اپنے مکروفریب کے جال بچھانے میں لگے رہتے تھے۔ جب ان منافقین (جن کا رئیس اور سرغنہ منیر شاکر (گستاخ رسول) تھا، نے یارسول اﷲ کے نعرہ کو کفروبدعت و شرک کہا، گستاخی رسول اور صحابہ کرام اور اہلبیت کرام کی تو حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ نے ان کے خلاف باقاعدہ محاذ بناکر جہاد کیا حتی کہ کئی سالکین راہ وفا نے جام شہادت ناموس مصطفیﷺ کی خاطر نوش کیا پھر حکومت وقت کی مداخلت سے ان کے فیصلے کو حکمت کے تحت مانتے ہوئے باڑہ خیبر ایجنسی سے لاہور (داتا کی نگری) میں ہجرت فرمائی۔ جب سے حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کے قدوم میمنت لزوم سے باڑہ کی سرزمین محروم ہوئی ہے ،وہی 32 سالہ پرانی خانہ جنگی و دشمنی پھر سے شروع ہوگئی جو ایک مرد کامل حق آگاہ کی نگاہ پراثر سے ختم ہوگئی تھی۔ آج علاقہ باڑہ اس عظیم شخصیت کی جدائی میں خون کے آنسو رو رہا ہے اور امن کو برباد کرنے والوں کا ماتم کررہا ہے۔ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کا یہ روشن کردار ہمارے اسلاف کرام اور روشن ماضی کی یاد تازہ کرتا ہے اور یہ سبق دیتا ہے کہ پیغمبر امن و سلامتیﷺ کے سچے غلام اور پیروکار امن وسلامتی کے متوالے اور اس کو پھیلانے والے ہوتے ہیں مگر جب جان دوعالم علیہ السلام کی ناموس و عظمت پر حرف آئے تو وہ بپھرے ہوئے شیر اور چمکتی ہوئی ہندی تلوار کی مانند ہوتے ہیں جو اپنے آقا کی ناموس و عظمت کی خاطر تن من دھن کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے یہاں تک کہ باطل سرنگوں ہوجائے یا وہ عاشقان مصطفیﷺ جام شہادت نوش کرلیں۔ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کاطرۂ امتیاز شریعت و طریقت پر کامل عمل کرنا ہے۔آپ اتباع نبویﷺ پر مضبوطی اور پورے اخلاص کے ساتھ قائم تھے اور اپنے خاندان و مریدین کو بھی اسی بات کی پرزور تلقین و تاکید کرتے تھے اور اتباع نبوی (علیہ السلام) کو ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ گردانتے تھے جیسا کہ تمام اولیائے امت اور علماء ملت اس کے مویدین تھے اور خود قرآن کریم نے بھی اسی کی طرف دعوت دی ہے ’’قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی … الخ‘‘ یعنی اے محبوبﷺ ان سے فرما دیجئے کہ اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔

حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ اتباع نبوی علیہ السلام کی بدولت تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ آپ کے زہد و تقویٰ اور اس پر استقامت کو دیکھ کر بڑے بڑے کمال والے بھی انگشت بدنداں تھے۔ آپ ظاہر و باطن میں خوف خدا رکھنے والے تھے۔ متشابہات سے بچتے تھے۔ غیبت سے پرہیز فرماتے تھے، نہ خود غیبت کرتے اور نہ ہی سنتے تھے۔ لوگوں کے حقوق کی خوب پاسداری فرماتے تھے۔ پیری مریدی سے کبھی بھی مال کی لالچ نہیں رکھی بلکہ ہمیشہ اﷲ کی رضا اور اس کے حبیبﷺ کی رضا اور اتباع ہی پیش نظر رہتی تھی۔ آپ مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کے کئی مریدین مختلف علاقوں اور ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ اگر آپ چاہتے تو مال کمانے کے لئے ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتے مگر آپ نے کبھی کیا نہ ایسا سوچا بلکہ ﷲ فی اﷲ ذکر و فکر کی محافل کو سرگرم رکھا اور تبلیغ دین کی عظیم خدمت میں مشغول رہے۔ تقویٰ کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی خدا کے مقرر کئے ہوئے قواعد و ضوابط کے تحت گزارے اور دل کی گہرائیوں سے اس بات پر یقین رکھے کہ اﷲ کی مقرر کردہ حدوں کو توڑنے سے اس کی ناراضگی لازم آتی ہے اور وہ عذاب الم بھی دیتا ہے اور اس کی پکڑ بھی سخت ہے۔ اسی وجہ سے حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ نے رہبانیت اختیار نہیں فرمائی کیونکہ رہبانیت کا تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ رہبانیت کا تو اسلام سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔ آپ مبارک رحمتہ اﷲ علیہ ہمیشہ نماز پابندی وقت کے ساتھ باجماعت مسجد میں ادا فرماتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں سنت نبوی کی رعایت فرماتے تھے۔ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کے تقویٰ کا مشاہدہ متواتراً منقول ہے۔ کسی موقع پر بھی مجال ہے کہ پائوں لرز جائیں یا کبھی قول و فعل میں تضاد ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ آپ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا ’’جو اپنے آقا علیہ السلام کے طریقوں کو چھوڑ دے تو اﷲ بھی اس سے نظر رحمت اٹھا لیتا ہے‘‘

حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ بہادر، نڈر اور بے غرض شخصیت کے مالک تھے، حق کے معاملے میں کسی کی رعایت نہ فرماتے، چاہے وہ ان کا محبوب خلیفہ ہو یا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ بڑے بڑے علماء کو ان کی بارگاہ میں کانپتے ہوئے دیکھا گیا اور جب کبھی علمائسے لاپرواہی ہوجاتی تو آپ ان کی اصلاح سے صرف نظر بالکل نہ فرماتے بلکہ وہیں اسے تنبیہ فرما کر درست کروا دیتے تھے۔ گویاکہ شرعی معاملے میں حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے صحیح جانشین تھے۔ تقویٰ پر عمل پیرا ہونے کی بدولت انہیں استقامت حاصل تھی۔ آپ ظاہراً باطناً صاحب استقامت ولی اﷲ تھے اور یہ استقامت کئی کرامات سے بہتر ہے جیسا کہ محققین کا قول ہے: الاستقامۃ فوق الکرامۃ یعنی استقامت، کرامت سے افضل ہے۔

حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ حقوق اﷲ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی نہایت پختگی کے ساتھ عمل پیرا تھے اور خدمت خلق میں تندہی کے ساتھ مشغول رہتے تھے نہ صرف خود بلکہ اپنے صاحبزادگان کو بھی اس کی عملی تربیت سے نوازا تھا کہ آپ کے صاحبزادے باوجود علمی وجاہت و روحانی کمال کے اپنے ہاتھوں سے مہمانوںکے ہاتھ دھلواتے انہیں کھانا پیش کرتے اور دیگر لوازمات سرانجام دینے میں کوئی شرم وعار محسوس نہ کرتے تھے کہ خود سیددوعالمﷺ کی سنت مبارکہ بھی دوسروں کی خدمت کرنا تھی۔

 طریقت بجز خدمت خلق نیست

حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ عاجزی و انکساری کے پیکر تھے۔ غرور و تکبر نام کی شے نہ تھی۔ ہمیشہ متواضع رہتے اور اپنے آپ کو ذوقاً سب مخلوق سے کمتر سمجھتے تھے، تواضع و انکساری کی بدولت آپ کو اﷲ تعالیٰ نے بے شمار کمالات و ترقیات عنایت فرمائے تھے کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے: من تواضع ﷲ رفعہ اﷲ… یعنی جس نے اﷲ کے لئے تواضع اختیار کی، اﷲ اسے بلند فرماتا ہے۔ جس قدر تواضع ہوگی، اسی قدر درجات و کمالات میں بلندی عطا ہوگی۔ بقول شاعر:

جو عالی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں

صراحی سرنگوں ہوکر بھرا کرتی ہے پیمانے

اسی تقویٰ و تواضع ﷲ، خدمت خلق، خوف خدا، عشق و اتباع مصطفیﷺ پر نہایت استقامت و خلوص سے عمل پیرا ہونے سے اﷲ نے آپ کو سلطنت ولایت کی بادشاہت عنایت فرمائی تھی۔ آپ بلاشبہ سرخیل اولیاء ہیں اور انما العلماء ورثہ الانبیاء (الحدیث) کے کامل مصداق اور وارث کامل ہیں ۔جو درجات سبعہ وراثت نبویﷺ حضرت امام لاثانی، حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے مکتوبات شریفہ میں بیان فرمائے ہیں۔ ان سے کامل طور پر متصف ہیں۔ باوجود اس علو مرتبت کے آپ مبارک فرماتے ہیں ’’کہ بحمدﷲ میں اﷲ کا عاجز بندہ ہوں کہ تمام سرزمین پر اپنے آپ سے بااعتبار ذوق کوئی مجھے ادنیٰ ترین نظر نہیں آتا اور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اﷲﷺ کا امتی ہوں اور حضور اکرمﷺ کی ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہوں اور فروع و فقہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کوفی رحمتہ اﷲ علیہ کا مقلد ہوں اور اصول و عقائد میں اہل سنت و جماعت کے عظیم پیشوا حضرت امام ابو منصور ماتریدی رحمتہ اﷲ علیہ کا تابع ہوں اور تصوف و طریقت میں حضرت خواجہ بزرگ محمد بہاء الدین شاہ نقشبند رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ، اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ کی تعلیمات کا تابع اور انہی بزرگان دین کا بالواسطہ مرید ہوں‘‘

حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ حضرت امام ربانی رحمتہ اﷲ علیہ کے کمالات ظاہری و باطنی کے امین ہیں اور تصوف میں مجتہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ نے سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج و اشاعت حضرت امام ربانی رحمتہ اﷲ علیہ کی طرح تجدیدی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فرمائی اور سلسلہ عالیہ کے  فیوضات کو لوگوں کے سینوں تک پہنچایا۔ اور شریعت و طریقت کا حسین امتزاج قائم فرما کر اس مغالطے کو علمی و عملی اعتبار سے غلط ثابت کر دکھایا کہ شریعت و طریقت باہم متضاد ہیں۔ حالانکہ نفس الامر  میں شریعت اور طریقت ایک دوسرے کی متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی معاون ہیں۔ اﷲ کی بارگاہ تک رسائی حاصل کرنے میں، آپ مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کے مریدین و خلفاء میں اکثر علماء ہیں جو علم و فن کی حقیقتوں سے آگاہ ہیں۔ آپ کے ہزاروں خلفاء کرام اپنی باطنی بصیرت اور ظاہری بصارت کے نور سے آپ کی وراثت کاملہ کے گواہ اور مؤید ہیں اور کمالات نبوت کے فیضان سے فیض یافتہ بھی ہیں۔ الحمدﷲ علی فضلہ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کی تربیت کا انداز بہت نرالا ہے جس میں جلال فاروق رضی اﷲ عنہ اور جمال صدیقی رضی اﷲ عنہ پوری طرح جلوہ گر ہے اور اس انداز میں پدرانہ سطوت اور مادرانہ شفقت واضح طور پر نظر آتی ہیں جس سے تربیت میں کمال پیدا ہوتا ہے۔ جنہوں نے ان کی آغوش محبت میں تربیت پائی وہی اس کی چاشنی محسوس کرسکتے ہیں اور ان کی وضاحت کرنے پر دوسرے لوگ اس تربیت کی آرزو و تمنا کرتے ہیں۔ اس وارث کمال کی نگاہ فیض لاکھوں مردہ دلوں کو ابدی حیات عطا کی۔ لاکھوں مایوسیوں کو جینے کا ہنر سکھایا۔ لاکھوں نگاہوں کو در مصطفیﷺ کے شوق دیدار سے ہمکنار کیا۔ لاکھوں لوگوں کو عشق الٰہی و عشق مصطفیﷺ میں تڑپنے اور تڑپانے کا ہنر سکھایا۔ مختصراً یہ کہ اتباع نبویﷺ کو طبیعت ثانیہ بنادیا کہ طبیعت بغیر اتباع نبوی کے سیر ہی نہ ہو۔ بقول شاعر:

طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینوں میں چھائی جاتی ہے

توحید کی مئے پیالوں سے نہیں نظروں سے پلائی جاتی ہے

وطن عزیز پاکستان اﷲ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر دانی ان لوگوں کو ہوگی جنہوں نے اس کے لئے قربانیاں دیں یا جو آزادی کی اہمیت سے واقف ہیں۔ اسی طرح اخندزادہ مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کی پاکستان آمد بھی ایک عظیم نعمت ہے جس سے پاکستان کے اعتقادی، عملی اور روحانی گلشن میں بہار آئی ہے لیکن اس نعمت کی قدر اسے ہوگی جو حضرت رحمتہ اﷲ علیہ کے تربیت یافتہ ہوں یا ان سے اور اولیاء اﷲ سے محبت رکھتے ہوں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اولیاء اﷲ کی محبت اور ان کی برکات عطا فرمائے ۔ آمین

کائنات میں جب لوگ اﷲ کی ہدایت وتوحید کو ترک کرکے ضلالت و گمراہی و شرک میں پڑجاتے ہیں اور دنیا فسق و فجور میں ڈوب جاتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنے کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے کہ لوگ ہدایت حاصل کریں اور نبی کی وساطت سے اﷲ کی اطاعت کرتے ہوئے ابدی کامیابی حاصل کریں اور ابدی عذاب سے نجات حاصل کریں۔ حضور ختمی مرتبتﷺ چونکہ اﷲ کے آخری نبی ہیں اور آپ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گابقول تعالیٰ: ماکان محمد ابا احمد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین… اور بقول علیہ السلام انما انا خاتم النبین لانبی بعدی…

لہذا حضور علیہ السلام کے ظاہری وصال کے بعد لوگوں کی ہدایت کے لئے آپ کے خلفاء کا سلسلہ چلا جن کی بدولت شریعت محمدیہ کی روشنی سے لوگ فیض و روشنی پاتے رہیں۔ اس کے لئے اﷲ تعالیٰ ہر صدی کے سرے پر ایک ایسا شخص مبعوث فرماتا ہے کہ دین کی صحیح تشریح کرکے اس میں پیدا شدہ بگاڑ کو ختم کرتا ہے۔ سنت کو بدعت سے ممتاز کرتا ہے اور علوم نبویﷺ کا پرچار کرتا ہے۔ حدیث نبوی ہے کہ : ان اﷲ یبعث لہذہ الامۃ علی رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا امر دینہا (ابو دائود)

بے شک اﷲ تعالیٰ اس امت کے اندر صدی کے سرے پر ایک شخص پیدا کرے گا جو دین کی تجدید (واحیائ) کا فریضہ سرانجام دے گا۔ اس حدیث کے متعلق مجدد نویں صدی ہجری امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔ ابو عبداﷲ الحاکم رحمتہ اﷲ علیہ نے مستدرک میں امام بیہقی نے مدخل میں اس حدیث کی صحت پر جزم کیا ہے اور ایسا ہی بعد والوں میں سے حافظ ابن حجر رحمتہ اﷲ علیہ نے اس کی صحت پر جرح کیا ہے یعنی اسے صحیح قرار دیا ہے ’’سراج منیر‘‘ میں ہے کہ ’’تجدید کا مطلب کتاب و سنت کا زندہ کرناہے، جو مٹتا جارہا ہو اور کتاب و سنت کے مطابق حکم جاری کرنا‘‘ علامہ مناوی رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’ای بین السنۃ من البدعۃ ویذل اہلھا‘‘ یعنی مجدد سنت کو بدعت سے علیحدہ کرتا ہے اور اہل بدعت کو ذلیل کرتا ہے۔ آئمہ مجتہدین و اکابرین امت کی تشریحات سے معلوم ہوا کہ:

مجدد اپنی پوری صدی گزار کر فوت ہوگا۔ وہ سنت و اہل سنت کا حامی و ناصرہوگا۔ وہ علم ظاہر و باطن کا حامل ہوگا۔ اہل بدعت کو ذلیل و رسوا کرنے والاہوگا۔ اپنی حیات مبارکہ میں ہی خاص (اولیاء اﷲ) اور عام (صحیح العقیدہ و غیر متعصب) میں مشہور اور ان کا مرجع ہوگا۔ اور قرآن و سنت کے علم کو (خود) عام کرنے والا ہوگا۔ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ کی زندگی پر نظردوڑائی جائے اور ان کے کردار و عمل و تعلیمات کو عقل سلیم کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جائے تو واضح طور پر اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ اس پندرہویں صدی کے مجدد بلاشبہ حضرت اخندزادہ مبارک ہیں۔ مجدد کی ایک نشانی یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس زمانے میں جن لوگوں کو فیوض و برکات (عملی، علمی، اعتقادی) پہنچیں گے وہ مجدد کے طفیل اور واسطے سے ہی پہنچیں گے، خواہ کوئی اس مجدد کو جانے یا نہ جانے۔

الحمدﷲ! اس دور میں مبارک صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کی فکر صحیح، عقیدہ صحیح، اور عقائد اہلسنت اور اصلی تصوف کی طرف رہنمائی، ان کی حقانیت اور بدعت و اہل بدعت کا ذلیل و رسوا ہونا، کا عکس ہے جو علماء و مشائخ و عوام محسوس کررہے ہیں۔ حضرت مبارک رحمتہ اﷲ علیہ نے ہمیشہ ناموس مصطفیﷺ کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دی ہے لیکن ناموس رسالت پر آنچ نہیںآنے دی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مبارک صاحب رحمتہ اﷲ علیہ ایک عظیم شخصیت تھے جو عشق الٰہی و عشق مصطفیﷺکے پیکر اتم تھے اور اسی مشن کے داعی اور کامل وارث النبی  تھے۔ یہ عشق و وفا کے پیکر تقریبا ایک سال قبل 27 جون 2010ء کو ہزاروں باکمال خلفاء اور باکمال اولاد کو سوگوار چھوڑ کر دارالفتاء سے دارالفناء کو منتقل ہوگئے۔ اﷲ تعالیٰ انہیں تمام مسلم امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے فیوض و برکات سے مستفیذ فرمائے اور ان کے مشن عشق مصطفی اور ناموس مصطفیﷺ کو آگے بڑھانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریمﷺ