احناف کی نماز احادیث کی روشنی میں (چوتھی قسط)

in Articles, Tahaffuz, July 2011, ابو الحسنین مفتی محمد عارف محمود خان قادری رضوی, نماز

امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ اپنی مسند میں سند جیّد کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

عن علی رضی اﷲ عنہ قال ان من السنۃ فی الصلوٰۃ وضع الاکف علی الاکف تحت السرۃ

یعنی حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت کریمہ یہ ہے کہ ہتھیلیوں کو ناف کے نیچے رکھا جائے۔

امام دارقطنی یوں رقم طراز ہیں:

عن علی رضی اﷲ عنہ انہ کان یقول ان من سنۃ الصلوٰۃ وضع الیمین علی الشمال تحت السرۃ

یعنی حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت کریمہ یہ ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔

امام ابو دائود یوں رقم طراز ہیں:

عن ابی جحیفۃ ان علی ان علیاً رضی اﷲ عنہ قال من السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلوٰۃ تحت السرۃ

ابو جحیفہ سے مروی ہے کہ حضرت مولائے کائنات رضی اﷲ عنہ نے ارشاد فرمایا۔ سنت کریمہ یہ ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔

ہمارے برصغیر کے ناشرین نے سنن ابی دائود کے نسخوں میں اس حدیث کو متناً شامل نہیں کیا البتہ حاشیہ میں اس حدیث پاک کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ حدیث پاک صرف ابن اعرابی کے نسخہ ابی دائود میں موجود ہے۔ الغرض مذکورہ کتب ثلثہ کی روایت سے واضح معلوم ہوا کہ خلیفہ ارشد مولائے کائنات رضی اﷲ عنہ بھی اس طریقے کو سنت کریمہ قرار دے چکے ہیں۔ اور یہ قطعی بات ہے کہ صحابی رسول کا کس عمل کو سنت قرار دینا اس سے مراد سنت مصطفی ہی ہے اور کس کی سنت ہوگی تابعی ہے تو سمجھ میں آسکتا ہے اس سے مراد سنت صحابی ہو مگر جب صحابی کہہ دیا ہے تو مراد سنت رسول ہے۔

امیر المومنین فی الحدیث امام ابو عبداﷲ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ اپنی ’’صحیح‘‘ کتاب الصلوٰۃ کے ’’باب الیمنی علی الیسریٰ فی الصلوٰۃ‘‘ جلد اول ص 152 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ پر یوں رقم طراز ہیں۔

قال حدثنا عبداﷲ بن مسلمۃ، عن مالک، عن ابی حازم عن سہل بن سعد قال کان الناس یؤمرون ان یضع الرجل الید الیمنی علی ذراعہ الیسریٰ فی الصلوٰۃ قال ابو حازم لا اعلمۃ الا ینمی ذالک الی النبیﷺ قال اسماعیل و ینمیٰ ذالک ولم یقل ینمی

امام بخاری فرماتے ہیں۔ ہمیں عبداﷲ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک از ابی حازم از سہل بن سعد، انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ایک شخص نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھے۔ ابو حازم نے کہا کہ سہل نے اس قول کو صرف نبی کریمﷺ کی طرف منسوب کیا ہے اور اسماعیل نے کہا اس قول کو منسوب کیا جاتا ہے اور یہ نہیں کہا کہ سہل نے اس قول کو منسوب کیا ہے۔

نوٹ: اس حدیث مبارک کے رجال چاروں معتبر اور ثقہ ہیں۔ ان کی ثقاہت پر ناقدین کے تبصرے شاہد ہیں۔ غیر مقلدین اپنی من گھڑت سے ضعف ثابت کریں تو دھوکہ نہ سمجھا جائے۔

اس حدیث بخاری سے واضح ہوگیا کہ قیام میں ہاتھ باندھنا مسنون ہے۔ ابوبکر صدیق، مولا علی، امام ثوری، امام شافعی، امام احمد، اسحق وغیرہم کا مذہب یہی ہے کہ قیام میں ہاتھ باندھے جائیں گے۔ بعض فقہاء مائل ہیں اس بات کے کہ ہاتھ کھلے رکھے جائیں لیکن یہ بات پایہ تحقیق کو نہیں پہنچی۔ ایک قول یہ ہے کہ سینہ پرہاتھ باندھنے میں زیادہ خشوع ہے کیونکہ اس میں نماز میں نور ایمان کی حفاظت ہے۔ لہذا یہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھ کر شرمگاہ کی طرف اشارہ کرنے سے افضل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا تعظیم کے زیادہ قریب ہے اور شرمگاہ کو چھپانے اور تہبند کو پھسل کر گرنے سے محفوظ رکھنے کا سبب ہے اور یہ ایسے ہے جیسے بادشاہوں کے سامنے لوگ ادب سے کھڑے ہوتے ہیں اور سینہ پر ہاتھ باندھنے میں عورتوں سے تشبیہ ہے۔

(عمدۃ القاری ج 5، ص 408,407، شرح ابن بطال)

اب رہا مسئلہ یہ کہ سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایت کی توجیہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے حدیث ملاحظہ کیجئے۔

امام بیہقی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

عن وائل رضی اﷲ عنہ انہ رایٔ النبیﷺ وضع المینہ علی شمالہ ثم وضعھما علی صدرہ

حضرت وائل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ نبی کریمﷺ نے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا پھر دونوں ہاتھ سینے پر رکھے۔

اس حدیث کے تحت علامہ ترکمانی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:

اس حدیث کی سند میں محمد بن حجر ہے ذہبی کہتے ہیں کہ وہ اپنے چچا سعید سے منکر روایات کرتا ہے، اور ایک راوی ام جبار ہے یہ غیر معروف ہے، نیز امام بیہقی نے کہا ہے اس حدیث کو مومل نے بھی یہ روایت کیا ہے صاحب الکمال نے کہا کہ اس مومل کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس نے اپنی کتابیں دفن کردی تھیں اور اپنے حافظہ سے احادیث بیان کرتا تھا۔ اور اس سے بہت خطائیں ہوتی تھیں، اور میزان میں امام بخاری نے کہا یہ منکر الحدیث ہے۔ امام ابو حاتم نے کہا کہ یہ کثیر الخطاء ہے۔

امام ابو ذرعہ نے کہا کہ اس حدیث میں بہت خطا ہے۔ پھر امام بیہقی نے حضرت مولائے کائنات سے سینے پر ہاتھ باندھنے کی روایت کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی سند اور متن میں اضطراب ہے۔ پھر امام بیہقی نے روح بن مسیب کی سند سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے سینے پر ہاتھ باندھے، اس روح کے متعلق ابن عدی نے کہا کہ یہ ثابت اور ہزیدر قاشی سے غیر محفوظ احادیث روایت کرتا ہے۔ ابن حبان نے کہا یہ موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔ اس سے روایت کرنا جائز نہیں۔ ابن عدی عمرو فکری نے کہا کہ یہ ثقافت سے منکر احادیث روایت کرتا ہے اور یہ مسارق الحدیث ہے۔ ابو یعلیٰ موصلی نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ پھر امام بیہقی نے ابو مجلز سے ناف کے اوپر ہاتھ باندھے کو نقل کیا ہے۔ یہ صراحتاً غلط ہے کیونکہ ابو مجلز کا مذہب ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے۔ جیسا کہ ابو عمر نے سند جید کے ساتھ تمہید میں اور امام بخاری کے استاذ الاستاذ امام ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ان کی روایت بیان کی ہے۔ ابن معین نے بھی بیہقی پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے بغیر سند کے ابو مجلز کی طرف سینے پر ہاتھ باندھنے والی بات منسوب کردی ہے۔

ابن حزم نے کہا ہے کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے یہ روایت کیا ہے کہ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ پر ہاتھ رکھے جائیں اور سیدنا انس بن مالک نے کہا ہے کہ تین چیزیں اخلاق نبوت سے ہیں اور وہ یہ ہیں۔

(1) افطار جلدی کرنا، (2) سحری تاخیر سے کرنا، (3) نماز میں بحالت قیام اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا

الحاصل سینے پر ہاتھ باندھنے والی تمام روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں اور ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی احادیث کریمہ میں سے صرف ایک حدیث کی سند کو بیہقی نے ضعیف قرار دیا ہے حالانکہ یہ حدیث متعدد سندوں سے ثابت ہے اس لئے یہ حدیث راجح ہے۔ نیز فقہائے احناف نے دونوں حدیثوں پر عمل کیا ہے۔ اس طرح کہ مردوں کے حق میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی حدیثوں پر عمل کیا ہے کہ طریقہ نبوی یہی رہا ہے اور عورتوں کے حق میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیثوں پر عمل کیا ہے کیونکہ ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہا کا طریقہ یہی رہا ہے، اس میں یہی تطبیق ممکن و بہتر ہے اور دونوں کے حق میں یہی طریقہ ادب و تواضع کے زیادہ قریب ہے اور انسانیت کے زیادہ لائق قرار دیئے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

(جاری ہے)