واسمٰعیل، ربنا تقبل منا، انک انت السمیع العلیم O

۱۲۸۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک و من ذریتنآ امۃ مسلمۃ لک، وارنا مناسکنا وتب علینا، انک انت التواب الرحیمO

۱۲۹۔ ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم ایٰتک ویعلمہم الکتٰب والحکمۃ ویزکیہم، انک انت العزیز الحکیم O

اور اسماعیل ۔ کہ اے ہمارے پروردگار قبول فرمالے ہم سے، بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے

اے ہمارے پروردگار اور کردے ہم کو نیازمند اپنا اور ہماری نسل سے ایک جماعت نیازمند تیری۔ اور سامنے رکھ دے ہماری عبادت کے طریقوں کو اور توجہ رکھ ہم پر۔ بے شک تو ہی توبہ قبول فرمانے والا ، بخشنے والا ہے۔

اے ہمارے پروردگار اور بھیج دے ان میں ایسا رسول ، ان میں سے، کہ تلاوت کرے ان پر تیری آیتیں اور سکھائے انہیں کتاب اور حکمت، اور پاک صاف فرمادے ان کو۔ بے شک تو ہی غلبہ والا حکمت والا ہے۔

…(اور) ان کے ساتھ حضرت (اسمٰعیل) بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ اور ان کی زبان پر یہ دعا جاری ہے کہ (اے ہمارے پروردگار) ہماری ان خدمتوں کو، تو (قبول فرمالے ہم سے بے شک) (توہی) ہماری دعائوں کا (سننے والا) اور ہماری حالتوں کا (جاننے والا ہے)

(اے ہمارے پروردگار) ہماری ہر فریاد کو سن لے (اور کردے ہم) نیاز مندوں (کو) اور زیادہ دوامی (نیازمنداپنا) تیری نیازمندی سے ہمارا جی نہیں بھرتا (اور) یہ دولت نسل میں بھی عطا ہوتی رہے، کہ (ہماری نسل سے ایک جماعت) ہمیشہ (نیازمندی تیری) رہے اور مسلمان بنی رہے۔ (اور) صاف صاف تعلیم کرکے، بالکل چشم دید کی طرح، (سامنے رکھ دے ہماری عبادت کے طریقوں کو) جن کو تو اپنی عبادت قرار دے، اور جس جس طریقہ کو تو پسند فرمالے۔ کیونکہ عبادت کیا ہے؟ کس طرح ہوتی ہے؟ تو کس سے راضی ہے؟ یہ تیرے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا (اور) اے میرے پروردگار تو تو اپنی (توجہ رکھ ہم) سب پر، اور ہماری توبہ قبول کیا کر (بے شک) ایک (توہی) ہے جو (توبہ) کا (قبول فرمانے والا)، مسلمانوںکو قیامت کے دن (بخشنے والا ہے)

(اے ہمارے پروردگار) ان سب باتوں کے ساتھ (اور) یہ بھی کر،کہ بھیج دے ان ہم دونوں کی اولاد (میں) ایک عظیم الشان (ایسا رسول) جو (ان) ہم دونوں کی اولاد سے ہو، بنی اسماعیل سے ہو، کہ یہی نسل وہ ہے، جو نسل ابراہیمی بھی ہے اور نسل اسماعیل بھی ہے۔ اس رسول پاک کی شان یہ ہو (کہ تلاوت) کیا (کرے ان) سب (پر تیری آیتیں) اس رسول کے پاس تیری ایسی کتاب ہو جس کی ، بلا کسی تحریف کے، تلاوت کی جایا کرے (اور) وہ رسول (سکھائے انہیں کتاب) نقطہ نقطہ، حرف حرف یاد کرادے، اور ہر ہر آیت کے مضمون کو سمجھا کر مطمئن کردے (اور) دانش مندی و (حکمت) کہ حقیقت نمایاں ہو، احد و اسرار کھل جائیں۔ اپنے قول و عمل سے سوچنے اور حق تک پہنچنے کے ڈھنگ سکھا دے (اور) ہر زنگ سے (پاک صاف) آئینہ کی طرح مجلیٰ (فرمادے ان) کے دلوں (کو)۔ ایسے عزت و غلبہ والے، حکمت والے، رسول کیلئے تجھ سے ہماری دعا اس لئے ہے کہ (بے شک) صرف (توہی غلبہ والا) غلبہ عطا فرمانے والا، (حکمت والا)، حکمت کی تعلیم دینے والا (ہے)