حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Articles, Tahaffuz, July 2011, شخصیات

گزشتہ سے پیوستہ

’’کہاں ہے وہ سکہ؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ، مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ آپ کے لہجے سے ناگواری کا رنگ نمایاں تھا۔

مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ اٹھے اور اپنے پیرہن کی جیب سے سکہ نکال کر پیرومرشد کی خدمت میں پیش کردیا۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ چند لمحوں تک اس سکے کو دیکھتے رہے اور پھر اسے دور پھینکتے ہوئے فرمایا ’’یہی دھات کا ٹکڑا بندے اور اﷲ کے درمیان حائل ہوگیا تھا‘‘ تمام حاضرین پر سکتہ سا طاری تھا۔ پھر شیخ بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اور مولاناآپ کو کیا ہوگیا تھا؟ درویش ہوکر مادی اسباب پر بھروسہ کرتے ہو؟ اس کی رزاقی پر یقین نہیں ہے؟ عمر گزری جاری ہے اور اب تک توکل کا مفہوم نہیں سمجھ سکے‘‘

مولانا بدر الدین اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ کا برا حال تھا۔ شرم و ندامت سے سر جھکا ہوا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

مولانا اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے ’’پوری زندگی میں  وہ رات مجھ پر سب سے بھاری گزری ہے۔ شدت غم کا یہ عالم تھا کہ میں کئی راتیں سو نہ سکا۔ بار بار ذہن میں ایک ہی ازیت ناک خیال ابھرتا تھا کہ کاش! میں اپنے ہاتھ کو آلودہ نہ کرتا‘‘

٭…٭…٭

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت ہے کہ دہلی میں ایتم نامی ایک مالدار بزرگ تھے۔ انہوں نے ایک مسجد تعمیر کرائی اور اس کی امامت حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چھوٹے بھائی حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ کے سپرد کی۔ پھر کچھ دن بعد ان ہی بزرگ نے اپنی بیٹی کی شادی بہت دھوم دھام سے کی۔ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ کو بزرگ کے اس عمل پر بڑی حیرت ہوئی ایک طرف شریعت کا دعویٰ اور دوسری طرف دنیاداری کا یہ مظاہرہ؟ آخر شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ خاموش نہ رہ سکے۔ اور شیخ ایتم سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔

’’آخر اس میں کیامضائقہ ہے؟‘‘ شیخ ایتم نے جواب دیتے ہوئے کہا ’’میں نے کسی کے حقوق تو غصب نہیں کئے۔ میرا اپنا مال تھا جسے میں نے اپنی بیٹی پر خرچ کردیا پھر تمہیں اعتراض کیوں ہے؟‘‘

’’شیخ! آپ کو یہ بات زیب نہیں دیتی؟‘‘ حضرت نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’اگر کوئی دنیادار شخص اس طرح اپنی دولت کی نمائش کرتا تو یہ کہہ کر نظر انداز کیا جاسکتا تھا کہ وہ آداب شریعت سے واقف نہیں مگر آپ تو جانتے ہیں کہ اسلام میں اصراف بے جاکی گنجائش نہیں‘‘

شیخ ایتم کے چہرے پر ناگواری کا رنگ ابھر آیا ’’آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ نے ہوا کا رخ پہچان لیا تھا مگر آپ حق بات کہنے سے باز نہ رہ سکے۔ ’’شیخ! آپ مومن کامل کی تلاش میں رہتے ہیں اور اکثر اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں، تو آج بغور سن لیجئے کہ مومن کامل وہ ہوتا ہے جس کے دل میں حق تعالیٰ کی محبت اولاد کی محبت پر غالب ہو۔ اگر آپ اﷲ کی راہ میں اس سے دوگنا خرچ کریں جتنا آپ نے اپنی بیٹی کی شادی پر صرف کیا ہے، تو آپ مومن کامل ہوسکتے ہیں‘‘

شیخ ایتم حضرت نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ کی حق گوئی کو برداشت نہ کرسکے اور آپ کو اپنی مسجد کی امامت سے علیحدہ کردیا۔

پھر جب حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اﷲ علیہ اجودھن تشریف لائے اور حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے جواب میں قرآن کریم کی یہ آیت مقدسہ تلاوت کی۔

’’ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم سے کم ویسی ہی‘‘

اس کے بعد ارشاد فرمایا ’’تم تو متوکل ہو، میرے بھائی! پھر کیوں کسی بات کا غم کرتے ہو؟ اگر ’’ایتم‘‘ گیا ہے تو ’’ایتگری‘‘ آجائے گا‘‘

پھر ایسا ہی ہوا۔ کچھ دن بعد ایتگر نامی ایک امیروکبیرشخص ہندوستان آیا اور اس نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے خانوادے کی بہت خدمت انجام دی۔

٭…٭…٭

ایک بار گدڑی درویشوں کی ایک جماعت حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے حسب روایت مہمانوں کی تواضع کی اور کچھ دیر آرام کرنے کے لئے کہا۔ پھر جب وہ درویش آرام کرچکے تو دوبارہ حاضر خدمت ہوئے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ان کے حالات دریافت کئے۔

جواب میں درویشوں نے کہا ’’ہم لوگ مسافر ہیں اور ہمارے پاس سفر خرچ کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں ہے‘‘

درویشوں کو اطمینان ہوگیا اور انہوں نے ایک رات خانقاہ میں گزار دی۔ پھر دوسرے دن وہ گدڑی پوش حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ سے رخصت کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ ’’شیخ! اب ہم جاتے ہیں‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے ان کی سلامتی کے لئے دعائیں کیں پھر اپنے سامنے رکھی ہوئی کھجور کی گٹھلیاں اٹھائیں اور ایک ایک ہر درویش کو دیئے گئے ’’یہی تمہارا زاد راہ ہے‘‘

درویشوں کو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے اس عمل پر بڑی حیرت ہوئی۔ ہر گدڑی پوش اپنے دل میں سوچ رہا تھا ’’یہ کیسا سامان سفر ہے؟‘‘ ان کے چہروں پر ناخوشگواری کا رنگ نمایاں تھا مگر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے احترام کے پیش نظر زبانیں خاموش تھیں۔

پھر وہ تمام گدڑی پوش خانقاہ سے باہر نکلے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے ’’بابا نے ہمارے ساتھ یہ کیسا مذاق کیا ہے؟ کہیں کھجور کی ایک گٹھلی بھی سامان سفر ہوسکتی ہے؟‘‘ یہ کہہ کر ان لوگوں نے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے عطا کردہ زاد راہ کو زمین پر پھینک دینا چاہا مگر دوسرے ہی لمحے ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ ہر گدڑی پوش کے ہاتھ میں کھجور کی گٹھلی کے بجائے سونے کی ایک ڈلی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر گدڑی پوشوں نے نعرہ مستانہ بلند کیا۔

’’بے شک! یہ بہترین سامان سفر ہے اور بابا صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کا عارفانہ مقام ہمارے فہم و ادراک سے بالاتر ہے‘‘

٭…٭…٭

گدڑی پوش درویشوں کی طرح ایک ہندو جوگی بھی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ہمیشہ کے لئے اسی در کا غلام ہوکر رہ گیا تھا۔ دراصل واقعہ یہ تھا کہ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی شہرت عام ہوتی جارہی تھی اور آپ کے عارفانہ کمالات نے اہل ہنود پر ایسی ہیبت طاری کردی تھی کہ بے شمار بت پرست اپنے آبائو اجداد کا مذہب چھوڑ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ اس نظریاتی انقلاب پر برہمنوں کو بڑی تشویش تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی تسخیر کا یہی عالم رہا تو بہت سے صنم خانے ویران ہوجائیں گے۔ آخر ایک ایسے جوگی کا انتخاب کیا گیا جو اپنے فن میں درجہ کمال رکھتا تھا۔ برہمنوں کی طرف سے جوگی کو بڑی رقم کا لالچ دیا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ جوگی حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے سامنے ایسے کمالات کا مظاہرہ کرے گا جس سے ہندو دھرم کی برتری ثابت ہوجائے۔

الغرض ہندوستان کا سب سے بڑا شعبدہ باز حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے سب سے پہلے اپنی مذہبی رسم کے مطابق ڈنڈوت کیا (دونوں ہاتھ جوڑ دیئے) پھر زمین پر سر رکھ دیا۔ حاضرین مجلس انتظار میں تھے کہ جوگی چند لمحوں بعد سر اٹھائے گا اور پھر اپنا مدعا بیان کرے گا… مگر انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی چلی گئیں۔ آخر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔

’’مہمان سر اٹھائو اور اپنی آمد کا مقصد بیان کرو‘‘

جوگی بدستور سجدے کی حالت میں پڑا رہا۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے کئی بار اٹھنے کے لئے کہا مگر جوگی اپنے جسم کو ہلکی سی جنبش بھی نہ دے سکا۔

حاضرین مجلس حیران تھے کہ جوگی کو کیا ہوگیا ہے؟آخر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ اپنی نشست سے اٹھے اور دست مبارک کا سہارا دے کر جوگی کو کھڑا کیا پھر اس شعبدہ باز سے فرمایا۔

’’جو نیت لے کر یہاں آئے تھے اس پر بے خوف وخطر عمل کرو۔ تمہیں یہاں روکنے والا کوئی نہیں‘‘

جوگی نے لرزتے جسم اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف دیکھا۔ پھر گڑگڑانے لگا ’’آپ کے سامنے جو سر نہیں اٹھا سکتا، وہ اپنے ارادوں پر عمل کیا کرے گا؟‘‘ پھر دوبارہ زمین پر سر رکھ کر رونے لگا ’’بابا! میرا تو سارا سرمایہ لٹ گیا۔ اب تو میں ایک بھکاری کی مانند ہوں، جس کے ہاتھ بھی خالی ہیں اور دامن بھی‘‘

’’پھر کیا چاہتا ہے؟‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے شفقت آمیز لہجے میں کہا۔

’’بھکاری ہی رہنا چاہتا ہوں… مگر آپ کے در کا بھکاری‘‘ جوگی کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوئوں میں تیزی آگئی تھی۔

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اسے کلمہ طیبہ کی تلقین کی اور وہ حلقہ اسلام میں داخل ہوگیا۔

پھر جوگی یہ کہہ کر چلاگیا۔ ’’بابا! میں بہت جلد واپس آئوں گا۔ میرے ذمے کسی کا قرض باقی ہے اس بوجھ کو اتار دوں‘‘

جب وہ جوگی چلا گیا تو حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے حاضرین مجلس کو مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’اس شخص کو اہل ہنود نے میرے مقابلے کیلئے بھیجا تھا۔ پھر جیسے ہی اس نے زمین پر سر رکھا میں نے حق تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ سر اٹھنے نہ پائے اور ہمیشہ اس کی بارگاہ میں جھکا رہے۔ اﷲ جل شانہ نے اس عاجز کی دعا سن لی اور ایک گم کردہ راہ کو منزل نجانے کا راستہ دکھا دیا‘‘

خانقاہ سے نکل کر وہ جوگی برہمنوں کے پاس پہنچا اور ان کی دی ہوئی رقم واپس کردی۔

برہمن حیرت زدہ تھے ’’کیاتو بھی اس فقیر سے مات کھا گیا؟‘‘

’’میرا اور بابا کا مقابلہ ہی کیا؟‘‘ جوگی بڑے والہانہ انداز میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی تعریف کررہا تھا۔ ’’بس ایک نادان دیا (چراغ‘‘ تھا جو سورج کے مقابل چلا گیا اور اپنی روشنی کھو بیٹھا‘‘

یہ برہمنوں کے ترکش کا آخری تیر تھا اسے رائیگاں جاتے دیکھ کر کہنے لگے ’’بس ایک بار اس مسلمان فقیر کو شکست دے دے، ہم تیرے قدموں میں دولت کے انبار لگا دیں گے‘‘

اگر تم ساری دنیا کے خزانے بھی میرے قدموں میں ڈھیر کردو تو بھی میں بابا رحمتہ اﷲ علیہ کی غلامی نہیں چھوڑوں گا۔ ان ہی کے صدقے میں مجھے اس کائنات کی سب سے بڑی دولت حاصل ہوئی ہے۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں