غیر مقلدین اور ماتم

in Articles, Tahaffuz, April 2011, دیگر مذاہب

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اﷲ

رافضیوں کے علاوہ تقریبا تمام مکاتب فکر ماتم کے سخت مخالف ہیں، غیر مقلدین بھی اس کو بدعت اور ناجائز کہنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں چنانچہ غیر مقلدین کے شیخ الکل نذیر حسین دہلوی نے فتاویٰ نذیریہ کے صفحہ 256,224 اور 266 پر اور وہابی شیخ وحید الزماں صدیقی نے اپنی کتاب نزل الابرار کے صفحہ 178 پر ماتم کو ناجائز قرار دیا، لیکن سخت تعجب کی بات یہ ہے کہ ماتم کی یہ حرمت ان کے نزدیک صرف یہیں تک محدود نظر آتی ہے، باقی رہا اپنے مولویوں اور مناظرہ کرنے والوں کا معاملہ تو وہ ان کے نزدیک اس سے مستثنیٰ معلوم ہوتے ہیں، چنانچہ جب اہلحدیث فرقہ کے مایہ ناز سیرت نگار قاضی محمد سلیمان کا انتقال ہوا تو فرقہ اہلحدیث کے عظیم مرکز مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی، میں ایک زبردست ماتمی جلسہ منعقد کیا گیا، غیر مقلد تذکرہ نگار محمد اسحاق بھٹی اس ماتمی جلسہ کے احوال اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’قاضی صاحب کی وفات حسرت آیات پر اظہار غم کے لئے 4 جون 1930ء کو دہلی کا دارالحدیث رحمانیہ کے طلباء و مدرسین کا ایک جلسہ تعزیت زیر صدارت مولانا احمد اﷲ صاحب پرتاب گڑھی دہلوی دس بجے منعقد ہوا، جس میں اظہار ملال کیا گیا، مرحوم کے سوانح حیات اور قومی خدمات پر دارالحدیث کے اساتذہ اور طلباء نے تقریریں کیں، تعزیتی نظمیں بھی پڑھی گئیں اور حسب ذیل تجاویز باتفاق رائے پاس ہوئیں:

1۔ جمیع طلبائے رحمانیہ کا یہ ماتمی جلسہ مولانا قاضی محمد سلیمان صاحب پٹیالوی کی وفات پر کامل درد وغم کا اظہار کرتا ہوا ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے

(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 401 مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل لاہور)

قاضی سلیمان کے انتقال پر باقاعدہ ماتم بھی ہوا چنانچہ ایک اور جگہ اسحاق بھٹی صاحب لکھتے ہیں: قاضی صاحب کے سانحہ ارتحال پر سید سلیمان ندوی مرحوم نے انہیں بڑی محبت اور خلوص سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جولائی 1930ء (صفر 1329ھ) کے ’’معارف‘‘ اعظم گڑھ میں حسب ذیل تعزیتی مضمون لکھا تھا ’’وہ مشرقی فاضل جس کی وفات پر آج ہم کو ماتم کرنا ہے، وہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری سابق جج پٹیالہ اور سیرت کی مشہور کتاب ’’رحمتہ للعالمین‘‘ کے مصنف ہیں‘‘

(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 407 مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل لاہور)

غیر مقلدین کے مشہور و معروف مناظر، شیخ ثناء اﷲ امرتسری کا جب انتقال ہوا تو غیر مقلدین ان کی وفات پر بھی ماتم کئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ ان کے مولوی ابوالبشیر محمد حبیب نے لکھا

تھا یہی وہ مرد میداں جس کا ماتم آج ہے

جس کی رحلت سے اسیر غم یہ عالم آج ہے

(سیرت ثنائی ص 492 مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور)

نیز خود ثناء اﷲ امرتسری بھی ماتم پرسی کے مرتکب ہوئے چنانچہ وہابی عالم عبدالمجید سوہدروی لکھتے ہیں : احناف و مقلدین سے اگرچہ آپ کی نوک جھونک ہوا کرتی تھی، لیکن جب ان میں سے کسی کی وفات ہوجاتی تو آپ جنازہ پر تشریف لے جاتے، ماتم پرسی کرتے خود نہ جاسکتے تو اپنے صاحبزادہ یا پوتے کو بھیج دیتے

(سیرت ثنائی ص 174، مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور)

وحید الزماں صدیقی، ہندوستان میں غیر مقلدین کی ایک قد آور شخصیت ہیں، انہوں نے اگرچہ ماتم کو ایک جگہ ناجائز قرار دیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے محرم الحرام کے مہینہ کو مستقل طور پر ماتمی مہینہ ثابت کرنے کی کوشش کی، چنانچہ وہ اپنی کتاب وحید اللغات میں لکھتے ہیں ’’اکثر لوگوں نے سال ہجری کا ’’شروع‘‘ محرم سے رکھا ہے مگر جب سے امام حسین علیہ السلام کی شہادت محرم میں ہوئی یہ مہینہ خوشی کا نہیں رہا، مترجم (وحید الزمان) کہتا ہے اگر سب مسلمان مل کر، سال کا آغاز ماہ شوال سے کرلیں تو بہت مناسب ہوگا اور غزۂ شوال، سال کا پہلا دن ہو، اس دن خوشی کریں کھائیں پئیں، محرم کا مہینہ شہادت کی وجہ سے غم کا مہینہ ہوگیا ہے۔ دوسری قومیں سال کے پہلے دن میں خوشی اور خرمی کرتی ہیں اور مسلمان روتے پیٹتے اور غم کرتے ہیں‘‘

(حیات وحید الزماں ص112 مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی، وحید اللغات مادہ عود)

قارئین غور فرمائیں کہ اہلحدیث، غیر مقلد فرقہ، شرک اور بدعت کے خلاف اپنے آپ کو کس قدر محرک دکھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مذکورہ بالا حوالہ جات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ فرقہ خود بدعتوں اور منکرات کا مجموعہ ہے اس حوالہ سے کسی نے کیا خوب کہا ہے:

اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

***