از: العالم، الفاضل راجہ تنویر حسین (کوٹلی آزاد کشمیر)

موبائل فون دور حاضر کی ایک ایسی ایجاد اور اﷲ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا وہ شاہکار ہے جس نے ہر طبقہ اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے انسان کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے اور بڑی برق رفتاری سے ہماری خلوت و جلوت میں داخل ہوگیا ہے۔ اس ایجاد نے زمینی فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ گہرے سمندروں اور فلک بوس پہاڑوں نے جزیروں اور براعظوں میں پھیلے ہوئے انسانوں کے درمیان جو دیواریں کھڑی کر رکھی تھیں، انسانی ذہن کی اس کوشش نے انہیں منہدم کردیا ہے۔ مہینوں اور سالوں کی مسافتوں کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ ہر نمودار ہونے والی صبح کے ساتھ موبائل فون کی نئی سہولتیں متعارف ہورہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تمام اخلاقی قدروں سے آزاد اور تہذیبی قیود سے ماوریٰ اس اہم انسانی ایجاد کا استعمال یونہی بے احتیاطی سے جاری رہا تو وہ کون سے گھاؤ ہوں گے جو انسان کواپنے اخلاق اور کردار کے تن بدن پر سہنے پڑیں گے، اس لئے اس موقع پر یہ فیصلہ از حد لازمی ہے کہ وہ کیا اخلاقی حدود اور ضوابط ہوسکتے ہیں جو دور حاضر کی اس نعمت کے درست استعمال کے لئے ہمیں ملحوظ خاطر رکھنے ہوں گے۔ اسلام مادی ترقی کا مخالف نہیں ہے بلکہ وہ ہر نئی ایجاد کا خیر مقدم اور اس چیز کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان کی مادی اور روحانی ترقی کے لئے ممدومعاون ثابت ہو۔

جو چیز سب سے اہم ہے وہ اس نعمت کے متعلق تصور ہے اسی تصور کی بنیاد پر اس کے استعمال کے جائز و ناجائز حدود کا تعین ہوسکے گا۔ اگر کوئی محض انسانی ایجاد یا اپنی قوت بازو کا کرشمہ تصور کرنے لگے تو یہ بعید نہیں کہ اس کے استعمال میں کسی احتیاط، اخلاقی پابندی یا قانونی حدود کا روادار ہو۔ موبائل فون ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس پر بات کرتے ہوئے اسے کبھی بے جان آلہ مت سمجھئے۔ یہ پورا آئینہ ہے جو آپ کا عکس دوسری جانب پہنچا رہا ہے۔ ہمیشہ دوسری گھنٹی کے بعد اٹھائیں Hello کے بجائے السلام علیکم کہیں۔ اپنا تعارف کرائیں، Call کا مقصد اور مطلوبہ فرد بتائیں اگر کسی اجنبی سے بات کرنی ہو تو پہلے سوچ لیں کہ کیا بات کرنی ہے۔ ہمیشہ گفتگو میں اعتدال سے کام لیں، غیر ضروری گفتگو سے اجتناب کریں۔ جو کام آسانی سے بفس نفیس چل کر کیا جاسکتا ہے اس کے لئے موبائل استعمال نہ کریں۔ کچھ لوگوں کو تو فون کا مالیخولیا ہوجاتا ہے۔ اپنے فون میں محفوظ نمبرز کو بار بار دیکھ کر تلاش کرتے رہتے ہیں کہ وہ کون ہوسکتا ہے جس کو اس وقت فون کیا جاسکتا ہے۔ اکثر فون کرنے والا اپنے مخاطب سے دریافت کرتا ہے کہ مجھے پہچانا؟ اگر دوسری طرف سے جواب نفی میں ہو تو ملامت شروع کردیتا ہے۔ آپ نے مجھے بھلا لیا ہے۔ آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔ میرا موبائل نمبر آپ کے پاس محفوظ نہیں۔ بسا اوقات تو ہم اپنے مخاطب کی حیثیت قدرومنزلت اور عزت نفس تک کو فراموش کردیتے ہیں۔ اسی طرح آرام کے اوقات میں فون کرنے سے گریز کریں۔ بہت صبح سویرے، رات گئے تک، سخت دوپہر میں جب آرام کا وقت ہو، احتیاط برتیں۔ جب بھی فون پر گفتگو کریں تو نرمی سے کریں۔ مسکراتے ہوئے میٹھے لہجے میں بات کریں، نہ بہت آہستہ اور نہ چلا کر۔ مسجد میں داخل ہونے سے قبل اپنا موبائل بند کردیں یا کم از کم اس کی گھنٹی کو بند کردیں تاکہ آپ نمازیوں کی یکسوئی میں خلل اور خشوع میں انقطاع کا باعث نہ بنیں۔ بعض حضرات کو فون آنے کے باوجود اسے بند نہیں کرتے۔ اس وجہ سے جہاں خشوع و خضوع میں خلل پیدا ہوتا ہے وہاں گانوں کے ردھم بلکہ گانوں کی آواز پر مشتمل گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں۔ کس قدر افسوس اور محرومی کی بات ہے جس گھنٹی کو رسول عربیﷺ نے شیطان کا آلہ فرمایا ہے اس کا آزادانہ استعمال ہمارے اطراف بلکہ مساجد کے اندر ہونے لگا ہے۔ اس لئے اپنے اور اﷲ کے گھروں کو ان گھنٹیوں سے پاک رکھیں۔ یونہی علمی محافل اور گفتگو کے دوران بھی موبائل فون کے استعمال سے گریز کریں تاکہ مجلس کا وقار متاثر اور لوگوں کے استفادے میں رکاوٹ نہ ہو۔ بعض لوگ فون پر گفتگو کے دوران دوسری طرف سے آنے والی آواز کو اپنے موبائل میں ریکارڈ کرلیتے ہیں جسے بعد میں مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں یا وہاں پر موجود لوگوں کو آواز سنوانے کے لئے لاؤڈ اسپیکر کھول دیتے ہیں۔ ایک سنجیدہ انسان کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ باہمی گفتگو کو دوسروں تک پہنچا کر خیانت کرے۔ یونہی موبائل فون پر تصویر کشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ شادی بیاہ، دیگر خوشیوں کے لمحات میں اپنے اہل خانہ اور رشتہ داروں خصوصا خواتین کی تصاویر بنانا ور اسے موبائل سیٹ میں محفوظ رکھنا ایک وباء کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ چونکہ تصاویر میں ترمیم اور اضافہ کرنے اور انہیں بگاڑنے والے سوفٹ ویئرز مارکیٹ میں دستیاب ہیں، اگر یہ تصویریں کسی ناخدا ترس آدمی کے ہاتھ لگ گئیں تو ان کے ساتھ نہ جانے کس طرح کا سلوک کرے، موبائل فون کے ذریعہ براہ راست گفتگو کرنے کے بعد دوسری سب سے اہم سہولت پیغامات کی ترسیل ہے۔ اس لئے ایک عقلمند شخص کے لئے لازمی ہے کہ وہ پیغامات کی ترسیل میں اسلامی آداب مراسلت کو پیش نظر رکھے۔ خوشی کے لمحات اور اہم قومی اور مذہبی تہواروں پر ایسے پیغامات کی ترسیل جو اپنے مضمون اور پیغام کے اعتبار سے آپ کے حسن ذوق اور وقار و سنجیدگی کا مظہر ہوں ایک مستحسن عمل ہے۔ اقوال زریں، مواعظ، نصائح اور سلجھے ہوئے اشعار آپ کے پسندیدہ پیغامات ہونے چاہئے۔ علاوہ ازیں قدرت کی اس نعمت کو دعوت و تبلیغ تذکیر واصلاح کا ذریعہ بھی بنائیں۔ البتہ اس بات کا دھیان رہے کہ بسا اوقات مختلف لوگوں کی طرف سے کسی مضمون کو قرآن و حدیث کی عبارت ظاہر کرکے پیغامات کی شکل میں بھیج دیا جاتا ہے اور ساتھ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ثواب کی غرض سے بھیجنے کی تلقین بھی کردی جاتی ہے۔ ایسے عبارات یا خبروں کی صحت کا جب تک کامل یقین نہ ہو، اسے آگے منتقل نہیں کرنا چاہئے۔ نبی پاکﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے منتقل کردے۔ پیغام ارسال کرنے سے قبل اطمینان کرلیں کہ جس نمبر پر آپ پیغام بھیج رہے ہیں، وہ واقعتاً آپ کا نمبر ہے۔ یونہی کسی کی اجازت کے بغیر اس کے موبائل میں موجود تصاویر، آڈیو، ویڈیو، پیغامات اور فون نمبرز دیکھنا خیانت اور بدگمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا کرنے سے بچیں اور موبائل کا ہمیشہ مثبت استعمال کریں لیکن آج کل موبائل فون کا بہت غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ماضی میں گھر کے سرپرست کے لئے بچوں اور گھر کے دیگر افراد پر نظر رکھنا انتہائی آسان تھا۔ لیکن اب چونکہ بچہ بچہ موبائل استعمال کررہا ہے تو سربراہان خاندان کا فرض بنتا ہے کہ نئی نسل کو اس کے غلط استعمال سے باز رہنے کی نصیحت اور اس کے برے انجام سے خبردار کریں۔ بعض لوگ اپنے موبائل کو لوگوں کی توجہ کے حصول اور خودنمائی کا ذریعہ بناتے ہیں اور بار بار بلاوجہ فون پر مصروف گفتگو رہ کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایک اہم اور مصروف شخصیت ہیں جو ہر وقت مصروف اور لوگوں میں مطلوب رہتے ہیں، اس سے بھی گریز کریں۔

آخر میں تمام نوجوانان اسلام سے میری التماس ہے کہ موبائل فون رب ذوالجلال کی قدرت کاملہ کا ایک عظیم شاہکار ہے لہذا ہمیشہ ہمیشہ اس کا مثبت استعمال کریں۔