اسرائیل کا جوہری پروگرام اور ایٹمی تابکاریاں

in Articles, Tahaffuz, April 2011, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

عرب صحافتی ذرائع نے دنیا کو یہ خبر سنا کر چونکا دیا تھا کہ اسرائیل کا ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر خود ایک جوہری بم کی شکل اختیار کرچکا ہے جس نے تمام شرق الاوسط کو امکانی سطح پر بڑی تباہی کے دہانے پر لے لیاہے اس مسئلہ پر نہ تو مغربی دنیا میں تشویش کی لہردوڑی اور نہ ہی بین الاقوامی ایٹمی کمیشن کو خطرات محسوس ہوئے اس انداز تغافل نے تمام شرق الاوسط کو تابکاری کے پھیلاؤ کی زد میں لے لیا۔ اس بات کا انکشاف کئی برس پہلے اسرائیل کے منحرف ایٹمی ٹیکنیشن موردخائی فانونو نے کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس وقت اسرائیل کے پاس دو سو سے تین سو تک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ ان ہتھیاروں کی پیداوار کے سلسلے میں اسرائیل کے ایٹمی مراکز اپنی تکنیکی عمریں گزار چکے ہیں۔ عسکری زبان میں انہیں خطرناک مراکز کہا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کا یہ جوہری خطرہ ایک دم پیدا نہیں ہوا بلکہ اسے اس مرحلے تک پہنچنے میں کئی برس لگے ہیں۔ صحرائے نقب میں واقع اسرائیل کے ایٹمی ری ایکٹر ڈیمونہ کو بنے ہوئے چالیس برس سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اسرائیل ایٹمی ماہر مورد خائی فانونو کے مطابق یہ ری ایکٹر اپنی طبعی عمر پوری کرکے اب خطرے کی سرخ لکیر پار کرچکا ہے۔ ان تمام نشاندہیوں کے باوجود عالمی ایٹمی کمیشن نے کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا بلکہ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دور میں مجرمانہ خاموشی طاری کئے رکھی۔

اسرائیل میں قید ایٹمی ماہر مورد خائی فانونو نے برطانوی صحافتی ذرائع کو سب سے پہلے اس خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا اور اب یہ ری ایکٹر تابکاری کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اسے 1963ء میں قائم کیاگیا تھا اور اب یہ ری ایکٹر تابکاری کے اخراج کا سبب بن کر تمام شرق الاوسط کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اسرائیل کا یہ ایٹمی ری ایکٹر دوسرا چرنوبل ثابت ہوگا جس کی تباہی تاحال سابقہ سوویت ریاست یوکرائن میں اپنے اثرات دکھا رہی ہے۔ چربونل کے سوویت ایٹمی ری ایکٹر میں1986ء میں دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد یہاں تابکاری کا اخراج شروع ہوگیا جس سے تقریبا تیس لاکھ مقامی باشندے متاثر ہوئے تھے۔ اسرائیلی جوہری ماہر موردخائی فانونو نے اس وقت حکومت اردن سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ علاقوں کے قریب رہائش پذیر اردنی باشندوں کو تابکاری سے بچاؤ کے سلسلے میں مخصوص ادویات فراہم کی جائیں مگر افسوس امریکی صیہونی نرغے میں جکڑی ہوئی اردنی انتظامیہ نے اس سلسلہ میں لب کشائی کی بھی زحمت گوارا نہ کی۔

موردخائی فانونو نے اسرائیل کے جوہری خدشات کے حوالے سے جن باتوں کو منکشف کیا تھا۔ بعد کی اسرائیلی سیاسی صورتحال نے اسے ثابت بھی کردیا۔ اسرائیل کی وزارت صحت نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ صحرائے نقب میں واقع جوہری ری ایکٹر کے اردگرد کے علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کو سرطان کا مرض لاحق ہوچکا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لئے 439 اسٹور بنائے گئے ہیں جسے 182 مختلف اشکال میں رکھا جاتا ہے مگر جنگ کے دوران اور کسی ملک دشمن کارروائی کے دوران اسے محفوظ بنانے کا کوئی منصوبہ وضع نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں پورا علاقہ زبردست تباہی کی زد میں آسکتا ہے۔

اس سلسلے میں اسرائیل کی بن گوریان یونیورسٹی نے انسٹی ٹیوٹ آف ایٹامک سینٹر کے ساتھ مل کر وادی سیوریک میں تحقیقات کیں جس کے نتائج کا خلاصہ یہ تھا کہ نقب اور عربہ کے مقام پر ایٹمی ری ایکٹر ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے زیر زمین پانی کے ذخائر بھی جوہری شعائیں سے متاثر ہوچکے ہیں۔اس رپورٹ کے فوا بعد صیہونی حکومت نے یہاں کے رہنے والوں کے لئے تابکاری اثرات سے بچانے والی دوائی ’’لوگول‘‘ بڑی تعداد میں تقسیم کرنا شروع کردی۔ اس کے فورا بعد اسرائیل کے سیکنڈ ٹی وی چینل نے انکشاف کیا کہ اسرائیل جوہری تنصیبات میں کام کرنے والے سینکڑوں ایٹمی ٹیکنیشن اور انجینئر تابکاری کی وجہ سے سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان خبروں کے افشاء ہونے پر اسرائیلی حکومت اور جوہری پلانٹ کی انتظامیہ نے متاثرین تک عام آدمی خصوصا ذرائع ابلاغ کے افراد کو روکنے کے لئے سخت انتظامات کئے۔ اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کے ٹی وی چینل کو ایک بیان دیتے ہوئے ایک اسرائیلی جوہری انجینئر جو سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر اسرائیل کے ایک فوجی اسپتال میں زیر علاج تھا،نے انکشاف کیا کہ ’’ڈیمونہ کے ایٹمی ری ایکٹر کے اندر کے حصوں میں آگ لگ جانا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے خطرناک ایٹمی مواد بخارات کی شکل میں خارج ہوجاتا ہے، میں خود اس قسم کے زہریلے مواد کا متعدد بار شکار ہوچکا ہوں‘‘

جب معاملہ خطرناک حد تک پہنچ گیا تو فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ فلسطینیوں کو ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر سے خارج ہونے والی تابکاری کے اثرات سے بچایا جائے، فلسطینی اتھارٹی کے وزیر صحت ڈاکٹر جواد الطیبی نے صحت کی عالمی تنظیم اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے رابطہ کرکے اپیل کی کہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اس کی ایٹمی تنصیبات سے خارج ہونے والی تابکاری سے متعلق مکمل معلومات حاصل کی جائیں۔ ڈاکٹر الطیبی نے اپنی اس اپیل کے ساتھ اس بات کابھی ثبوت مہیا کیا ہے کہ اسرائیل نے تابکاری اثرات بچاؤ کے لئے مخصوص قسم کی طبی گولیاں بھی تقسیم کی ہیں۔ ڈاکٹر جواد الطیبی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کرکے اسرائیل کی جوہری تابکاری کے اخراج کو روکنے کا بندوبست کرے تاکہ فلسطینیوں کو اس تباہی سے محفوظ رکھا جاسکے۔

ڈیمونہ کا ایٹمی ری ایکٹر دسمبر 1963ء میں فرانس کی مدد سے لگایا گیا تھا۔ اس وقت یہ 26 میگا واٹ کا ری ایکٹر تھا جس میں آٹھ کلوگرام کے قریب پلاٹینیم پیدا ہوتی تھی۔ یہ مقدار بیس کلوٹن کے ایک ایٹم بم کی تیاری کے لئے کافی تصور کی جاتی ہے۔ 1970ء میں اس ری ایکٹر کی طاقت کو بڑھاکر 70 میگاواٹ تک پہنچا دیا گیا یعنی اس ری ایکٹر میں گنجائش سے 44 فیصد زیادہ طاقتور بنا کر کام لینے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا، اب عرب ذرائع سے خبر ملی ہے کہ اسرائیل ڈیمونہ ری ایکٹر کی استعداد سو فیصد تک بڑھانا چاہتا ہے۔

اسرائیل کی صیہونی ریاست کا شمار دنیا کی پانچویں ایٹمی قوت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کو فضا سے بھی پھینکا جاسکتا ہے اور اریحاء میزائل کے ذریعے1500 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت اسرائیل کے پاس 200 کے قریب ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ اتنی مقدار میں یورینیم اور پلاٹینیم موجود ہے کہ اس سے سو ایٹمی ہتھیار مزید بنائے جاسکتے ہیں۔ان تمام معاملات کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہیں کئے ہیں جبکہ تمام عرب ممالک کی قیادتوں نے اس معاہدے پر دستخط کردیئے تھے اس طرح اسرائیل جیسے دہشت گرد ملک کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ جبکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کو اس کی جوہری تنصیبات کو پڑتال کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ عالمی صیہونیت کے ایجنٹ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کے چیئرمین محمد البرادعی جولائی 2004ء کو اسرائیل کے دورے پر آیا تو اسے ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر کا معائنہ جہاز کے ذریعے فضا سے کرایا گیا۔

اس خطرناک ایٹمی ری ایکٹر میں دس برس تک کام کرنے والے منحرف جوہری انجینئر موردخائی فانونو کو 1986ء میں روم سے موساد کے ایجنٹوں نے اغوا کرکے واپس اسرائیل پہنچا دیا تھا جہاں اسے اسرائیل کے جوہری رازوں کے بارے میں مغربی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو کی پاداش میں 18 برس قید کی سزا سنائی گئی۔

ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والا خام پلاٹینیم سبز رنگ کے ترش پاؤڈر کی شکل میں ہوتا ہے جو انتہائی اعلیٰ درجہ پر گرم کیا جاتا ہے، بعد میں سیال مادے کی شکل اختیار کرکے 130 گرام تک محدود ہوجاتا ہے، موردخائی کے انکشافات کے مطابق اسرائیل اس قسم کی مقدار ہفتے میں نو مرتبہ حاصل کرتا ہے۔ اس حساب سے ڈیمونہ کاری ایکٹر سالانہ چالیس کلوگرام پلاٹینیم حاصل کرتا ہے، جو یعنی سال دس سے بارہ ایٹم بم تیار کرنے کے لئے کافی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق اسرائیل کا ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر چالیس برسوں میں 1400 ٹن خطرناک ایٹمی فضلہ تیار کرچکا ہے جس کو ٹھکانے لگانے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔

بیت اللحم کے فلسطینی اسپتال نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ’’ہر سال 500 کے قریب ایسے مریض لائے جاتے ہیں جو عجیب و غریب بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ان کی زیادہ تر جلدی بیماریاں ہوتی ہیں۔ اس دوران بے شمار فلسطینی بچے معذور بھی پیدا ہوئے ہیں۔ فلسطینی میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود سعادہ کے مطابق انہوں نے تابکاری کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے اردن کے شہر الکرک کے رہائشیوں کا جائزہ لیا جہاں پر سرطان کے امراض کی شرح کسی بھی دوسرے علاقے سے زیادہ ہے۔ یہ علاقہ مقبوضہ فلسطین سے ملحقہ ہے اور صحرائے نقب کے قریب واقع ہے اس علاقے میں تابکاری کے اثرات کی وجہ سے بہت سے بچے پیدائشی طور پر معذور ہیں۔ یہی صورتحال مقبوضہ فلسطین کے تاریخ شہر الخلیل کے مضافاتی دیہاتوں کی ہے جہاں معذور پیدائشی بچوں کا تناسب62 فیصد تک جاپہنچا۔ منقب کے ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر کے علاقے سے قریب ایک فلسطینی قصبے عرعرہ کے قریب بلدیہ کے نمائندے صقر ابو صعلوک کے مطابق اس علاقے میں سب سے زیادہ اموات سرطان سے ہوئیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی فوج النقب کے ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے ایٹمی فضلے کو عرعرہ قصبے سے پچیس کلومیٹر دور دفن کررہی ہے۔

اسرائیل کی ایٹمی تابکاری کے سب سے زیادہ اثرات جن دو ملکوں پر زیادہ پڑسکتے ہیں وہ اردن اور مصر ہیں مگر امریکی اثرات کے حوالے سے جکڑی ان دونوں ملکوں کی حکومتی انتظامیہ نے اس جانب کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا، ڈیمونہ ایٹمی ری ایکٹر سے خارج ہونے والی تابکاری کے حوالے سے موقف اختیار کیا تھا کہ ’’اسرائیل کی جانب سے جوہری تابکاری کے کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکے ہیں، حکومتی ترجمان اسمی خضر کے مطابق اس مسئلہ کو سیاسی بنا کر پیش کرنا مناسب نہیں اور مملکت کو اس قسم کے تابکاری کے اثرات کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔۔۔! حکومت اردن کے اس موقف کے بعد پارلیمانی ارکان نے حکومت پر زور دینا شروع کردیا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے جس پر حکومت کو مجبور بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کو درخواست کی کہ وہ ایسے جوہری ماہرین ارسال کریں جو اردن اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تابکاری کے اثرات کا جائزہ لے سکے۔ اردن کے ایٹمی کمیشن کے ذرائع کے مطابق اردنی وزارت خارجہ کمیشن سے ایک ایسی رپورٹ طلب کی جس سے اندازہ کیا جاسکے کہ گزشتہ دنوں ان مخصوص علاقوں سرطان کے مرض میں مبتلا ہوکر کتنے افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں یا اس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

اردنی اخبار ’’الرامی‘‘ اپنی 29 اگست کی اشاعت میں جنوبی اردن کے علاقے الطفیلہ سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمنٹ کا ایک بیان نقل کیا تھا جس کے مطابق ’’الطفیلہ کے علاقہ جو اسرائیلی ایٹمی ری ایکٹر ڈیمونہ سے صرف پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، یہاں کے لوگ اندھے پن کا شکار ہورہے ہیں‘‘

اردن کے بعد مصری پارلیمنٹ میں بھی اس بات پر سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا کہ اسرائیل کے تابکاری اثرات سے بچاؤ کے لئے حکومت نے کیا انتظامات کئے کیونکہ ڈیمونہ کے اسرائیلی ری ایکٹر سے خارج ہونے والا پانی صحرائے سینا میں بھی چھوڑا جاتا ہے جو قابل زراعت رقبے کو بری طرح متاثر کرتا ہے مگر حکومت مصر نے تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے۔ مصری اور اردنی حکومت کی اس سنگین مسئلہ پر مجرمانہ خاموشی نے دونوں ملکوں کی پارلیمنٹ میں اچھی خاصی بحث کا آغاز کردیا ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی جانب سے حکومتی سطح پر اسرائیل کے خلاف اس سلسلے میں کسی قسم کی سفارتی اور رسمی کارروائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔ اردن کے رکن پارلیمنٹ اور حزب جبہتہ العمل الاسلامی کے نائب سیکریٹری جنرل انجینئر جمیل ابوبکر نے کہا کہ ’’سابق اسرائیل ایٹمی سائنسدان موردخائی فانونو کے بیانات کے بعد ہی عالم عرب میں سفارتی اور حکومتی سطح پر عالمی برادری کو چوکنا کرنے کا کام عمل میں آنا چاہئے تھا مگر اس سلسلے میں عرب حکومتوں نے اپنی سیاسی مصلحتوں کے تحت خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ہم نے اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے حکومت کو پہلے بھی اسرائیلی جوہری پلانٹ ڈیمونہ سے خارج ہونے والی خطرناک تابکاری کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور ان اثرات سے بچنے کے لئے اردن کے جنوبی علاقوں میں مناسب ادویات کی تقسیم کو ممکن بنایا جائے‘‘

مصری پارلیمنٹ میں اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے ارکان کے نمائندے انجینئر صابر عبدالصادق نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ’’اسرائیل ڈیمونہ کے بعد اب ایک اور ایٹمی ری ایکٹر اسی علاقے میں قائم کررہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کسی بین الاقوامی قانون کی پرواہ نہیں کررہا‘‘

اس کے علاوہ دیگر 15مصری ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کو تحریر طورپر بیان دیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین سے متصل مصری علاقے صحرائے سینا میں ڈیمونہ جوہری پلانٹ کے پانی کی وجہ سے تابکاری کے اثرات اس علاقے میں موجود زیر زمین پانی کے ذخائر میں داخل ہوچکا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی زراعت تیزی کے ساتھ تباہ ہورہی ہے۔ مصری پارلیمنٹ نے وزیراعظم کی توجہ ہنگامی سطح پر اس مسئلہ کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اب بھی اسرائیل کی جانب سے پھیلائی جانے والی تابکاری کے اثرات سے نمٹنے کے لئے مناسب انتظام نہ کیا گیا تو تمام عالم عرب تباہی کے دہانے پر آجائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری عرب حکمرانوں پر ہوگی۔ اس لئے صحرائے سینا کے علاقے کے پانی کو مزید تابکاری اثرات سے بچانے کے لئے طبی اور سائنسی سطح پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں ایک طرف عرب حکومتوں کی جانب سے خاموشی طاری ہے تو دوسری طرف خطرے کو بھانپتے ہوئے اسرائیلی حکومت نے خاموشی سے تابکاری کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے انتظامات شروع کردیئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ایجنسیوں نے کچھ عرصہ قبل ایک چھوٹی سی خبر جاری کی تھی کہ اسرائیل نے صحرائے النقب میں واقع ری ایکٹر کے قرب و جوار میں رہائش پذیر اسرائیلیوں پر خاموشی سے تابکاری کے اثرات سے بچنے کے لئے مخصوص قسم کی گولیاں تقسیم کیں، ڈیمونہ ری ایکٹر کی آٹھ منزلیں زیر زمین ہیں۔ اس ری ایکٹر میں سب سے پہلے تابکاری کا اخراج 1966ء میں ہوا تھا جس کی وجہ سے اسرائیل نے یہاں سے اسرائیلی آبادی کو دوسری جگہ منتقل کردیا تھا حالانکہ ری ایکٹر کے قیام سے پہلے یہ ایک ویران جگہ تھی جس کو آباد کرنے کے لئے اور عرب مجاہدین کے حملوں سے بچانے کے لئے اسرائیل نے یہاں یہودیوں کی بڑی تعداد آباد کی تھی۔ امریکی صدر کینیڈی کے بار بار استفسار پر اس ایٹمی ری ایکٹر کو کپڑے کی فیکٹری ظاہر کیا گیا تھا۔ اسی اعتراض کے بعد ہی صدر کینیڈی کو سازش کے ذریعے ہلاک کرادیا گیا تھا اور اس بارے میں اسرائیلی موردکائی فانونو کھلے عام عالمی میڈیا میں یہ بیان دے چکا ہے کہ صدر کینیڈی کو اسرائیلی موساد نے قتل کروایا تھا۔ 1966ء کے تابکاری اخراج کے بعد یہاں سے اسرائیل نے یہودیوں کو خاموشی سے نکال کر دوسری جگہ آباد کردیا تھا۔ ایک خبررساں ایجنسی ے بقول ستمبر کے وسط سے اسرائیلی فوج کی میڈیکل یونٹ کا ایک دستہ خاصا متحرک ہے جبکہ اسرائیلیوں کی بڑی تعداد کو اب مصری سرحد کے قریب سے ہٹا کر اندرون اسرائیل آباد کیا جارہاہے۔ ایک اسرائیلی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو اسرائیلی انجینئروں نے حکومت کو درخواست کی تھی کہ ری ایکٹر میں کام کرنے کی وجہ سے وہ سرطان جیسے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اس لئے ان کے علاج کا مناسب انتظام کیا جائے۔ اس کے علاوہ اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) کے اس علاقے سے یورپ کی جانب ہجرت کرنے والے بے شمار پرندوں پر تابکاری کے اثرات پائے گئے ہیں جن میں سے بہت سے پرندے مردہ حالت میں بھی پائے گئے۔ اس بات کا اعتراف اسرائیلی صیہونی کمیشن کے ایک ذمہ دار آفیسر پیٹر رابن نے بھی کیا کہ ان پرندوں نے شاید تابکاری سے متاثر علاقے کے چشموں سے پانی پیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے پرندے ہلاک ہوئے اور بہت سے بے حس و حرکت ہوچکے ہیں اس قسم کی تشویشناک خبروں کے بعد مصری ایٹمی توانائی کمیشن نے 16 اگست 2004ء کو ایک وفد مقبوضہ فلسطین سے متصل مصری علاقے سینا میں سروے کے لئے روانہ کیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ علاقے میں ایسی کوئی خطرناک صورتحال نہیں جس کی وجہ سے یہاں زندگیوں کوکوئی خطرہ لاحق ہو۔ مصری کمیٹی کی اس یکطرفہ رپورٹ کے بعد پارلیمنٹ میں حزب اختلاف نے اسے مسترد کردیا جبکہ حکومتی نمائندے اخبارات کو ایسی خبریں مہیا کرتے رہے جس سے ظاہر کیا جاسکے کہ یہ سب کچھ پراپیگنڈے کی حد تک ہے۔ لیکن دوسری جانب بہت سے مصری ماہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر علاقے میں تابکاری کے اثرات نہیں ہیں تو اسرائیل اپنے علاقے میں تابکاری سے بچانے والی ادویات کیوں تقسیم کررہا ہے۔۔۔؟ مصر کے بعض غیر سرکاری ذرائع کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تابکاری کا یہ اخراج پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کی سنگین نوعیت کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے مگر نہ تو اس وقت اس خطرے کی جانب اشارہ کیا گیا تھا اور نہ ہی اب اس سلسلے میں اب کوئی اعلان کیا جارہاہے۔ مصری ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق سربراہ فوزی حماد نے اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ڈیمونہ ری ایکٹر سے تابکاری کے اثرات کے اخراج کی خبر میں یقیناًصداقت ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات ظہور پذیر ہوچکے ہیں۔ اب یہ اس طرح بھی ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیل متاثرہ علاقوں میں اپنے عوام میں تابکاری کے اثرات سے بچاؤ کی ادویات تقسیم کرتا رہا ہے۔ مصر میں ایٹمی تابکاری کے پھیلاؤ کی پڑتال کرنے کے لئے 80 کے قریب مراکز قائم کئے ہیں۔ فوزی حماد کے مطابق ابھی شاید تابکاری کے اثرات خطرناک حد تک صحرائے سینا کے علاقے تک براہ راست نہ پہنچے ہوں مگر یہ بات طے ہے کہ اسرائیلی علاقے اس سے متاثر ہورہے ہیں‘‘

لیکن دوسری جانب مصر کے ایک بڑے اخبار ’’الاسبوع‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں فوزی حماد کا ایک بیان نقل کیا جس میں برملا اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی ایٹمی تابکاری کی اطلاعات انتہائی باوثوق ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔ اس بیان میں کہاگیا تھا کہ اسرائیلی جوہری انجینئر ڈیمونہ کے ایٹمی ری ایکٹر کے بعض حصوں کی تجدید کے سلسلے میں مصروف تھے کہ تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے تابکاری کا اخراج شروع ہوگیا جس کا اسرائیلیوں کو بھی بہت بعد میں جاکر معلوم ہوسکا۔ اسرائیلی حکومت نے اس سلسلے میں اعلان کیا تھا کہ ڈیمونہ ایٹمی پلانٹ کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے اسے تجدید نو کے مرحلے سے گزارا جارہا ہے۔ اس عمل کے دوران ہی تکنیکی غلطیوں سے صورتحال انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرگئی۔

عرب صحافتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کے انتہاپسند وزیراعظم شیرون نے اعلان کیا تھا کہ ’’اسرائیل کی موجودہ جوہری صلاحیت 2005ء تک کی مدت کے لئے تو کافی ہے مگر اس کے بعد پڑوسی عرب ممالک کی عسکری صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کی تجدید کے لئے بھی اس قسم کی اضافی صلاحیت اسرائیل کے لئے ضروری امر ہے‘‘ اسرائیل کے نزدیک ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اسرائیل کے لئے 2005ء سے لے کر 2010ء کا دورانیہ انتہائی کم ہے اس کے علاوہ دیگر عرب ممالک بھی جوہری توانائی کے حصول کی خواہش رکھتے ہیں۔ان معاملات نے اسرائیل کو اپنی ایٹمی تنصیبات کی اپ گریڈنگ کی جانب مائل کیا مگر یہ کوششیں تجدید کی بجائے ناکامی کا سبب بن چکی ہیں جس سے نہ صرف مقامی سطح پر رہائش پذیر اسرائیلی خطرے میں آچکا ہے بلکہ پڑوسی عرب ممالک میں بڑی ہلاکتوں کا خطرہ ہے۔

اسرائیل کا جوہری پروگرام کبھی کوئی راز نہیں رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی انجینئر موردخائی فانونو کے انکشافات ہیں جس کی وجہ سے فانونوکو روم سے موساد کے ایجنٹوں نے اغوا کرکے اسرائیل پہنچا دیا تھا جہاں اس پر مقدمہ چلا کر اسے 18 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی مگر اسے اچانک امریکی صدر، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ محمد البرادعی کی اپیل پر رہا کردیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل پر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ وہ اپنے ایٹمی تلف کردے (ان ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد تین سو کے قریب بتائی جاتی ہے) اسی قسم کا مطالعہ پہلے شمالی کوریا، ایران اور لیبیا سے کیا گیا ہے۔ رہائی کے بعد مورد خائی فانونو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو اسرائیل کے جوہری عزائم کے بارے میں سب سے پہلے اسی نے 5 اکتوبر 1986ء کو آگاہ کیا تھا‘‘ فانونو نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا کھل کر معائنہ کیا جائے کہ وہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں لب کشائی کرتا رہے گا کیونکہ اس سے نہ صرف تمام شرق الاوسط بلکہ خود اسرائیل کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ موردخائی نے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی صدر بش، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، روسی صدر پوٹن اور جرمن صدر شروڈر بھی لب کشائی کریں‘‘

موردخائی فانونو اسرائیل کے ایٹمی پروگرام سے دس برس تک منسلک رہا۔ اس کے بعد بعض پالیسیوں سے اختلاف کو فانونو خفیہ طور پر اسرائیل سے آسٹریلیا فرار ہوگیا تھا۔ جہاں اس نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کے صحافی سے روابط پیدا کرکے اسے اسرائیل کے ایٹمی راز مہیا کرنے کی پیشکش کی۔ برطانوی صحافی نے اسے خاموشی کے ساتھ برطانیہ آنے کی دعوت دی۔ فانونو برطانیہ میں اپنی قیام گاہ سے خفیہ طور پر کار کی ڈکی میں چھپ کر سنڈے ٹائمز کے دفتر پہنچا تھا کیونکہ دنیا بھر میں اسرائیلی موساد کے نیٹ ورک میں یہ بات پہنچا دی گئی تھی کہ فانونو اسرائیل سے فرار ہوچکا ہے۔ سنڈے ٹائمز میں فانونو کے انکشافات نے تمام مغربی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا اور اسرائیل کے جوہری راز طشت از بام ہوچکے تھے جس کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ اور برطانیہ کو خاصی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ آنے کے بعد موردخائی فانونو نے یہودیت ترک کرکے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کردیا تھا جس سے صیہونی مزید برانگیختہ ہوگئے۔ اس کے لئے موساد نے اپنا پرانا اور موثر ہتھیار عورت کو استعمال کرنے کا پروگرام بنایا۔ ایک اٹالین حسینہ کو موردخائی کے پیچھے لگادیا گیا جو اصل میں روم میں موساد اسٹیشن کی رکن تھی۔ موردخائی نے اس حسینہ سے شادی کرلی۔ اس شادی کے بعد موردخائی ہنی مون منانے کے لئے روم آگیا جہاں سے اسے اغوا کرکے ایک بکس میں بند کرکے تل ابیب پہنچا دیا گیا۔

اب جبکہ اسرائیل کی جوہری تابکاری نے تمام شرق الاوسط کو ایک بڑے خطرے سے دوچار کردیا۔ عربوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ عالمی سطح پر دنیا کو آنے والی اس ہولناک تباہی سے آگاہ کرکے اسرائیل کی جوہری تنصیبات کو بند کرانے کے لئے واویلا کریں۔ کیونکہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے حوالے سے 2005ء میں عالمی کانفرنس کے انعقاد کے دوران اس مسئلہ کو اچھے انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکتا تھا۔ ذرائع کے مطابق جولائی 2004ء میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ محمد البرادعی کے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلیوں نے ان کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا کہ اگر بین الاقوامی ایٹمی کلب اسرائیل کو جوہری طاقت تسلیم کرلے تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کردے گا مگر مصریوں کے نزدیک اس قسم کے خفیہ معاہدے کا اس لئے احتمال نہیں ہے کیونکہ محمد البرادعی کے پاس ایسی کوئی اتھارٹی نہیں۔

اسرائیل میں ایٹمی تابکاری کے پھیلاؤ کی خبروں نے خود اسرائیلیوں کو بھی خوفزدہ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کا دولت مند طبقہ نے جو پہلے ہی حماس کی کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل چھوڑنے کا منصوبہ بنایا تھا، اب تابکاری کے اثراتنے باقی ماندہ کو بھی اسرائیل سے فرار ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ دولت مند طبقہ یورپی ممالک منتقل ہورہا ہے۔