قانون ناموس رسالت 295-C پر ایک نظر

in Articles, Tahaffuz, April 2011, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

جنرل مشرف کی نگراں کابینہ کے وفاقی وزیر و گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل پر مغربی افکار کے علمبرداروں، روشن خیالوں نے ایک لاحاصل بحث چھیڑ رکھی ہے جس کا مقصد 295-C کے قانون میں ترامیم اور پاکستانی ریاست کا مذہب سے علیحدگی ہے۔ وہ اپنی ان کوششوں میں ہمیشہ ناکام رہے۔ موجودہ واقعہ تسلسل ہے آسیہ بی بی نامی خاتون سے متعلق انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق جون 2009ء میں توہین رسالت کا واقعہ پیش آیا۔ ایس پی سطح کے اعلیٰ افسر نے 27 گواہوں اور ملزمہ کی جانب سے 5 گواہوں سے تفتیش کے بعد مقدمہ سیشن عدالت میں دائر کیا گیا۔ تقریبا 17 ماہ تک کیس چلتا رہا۔ 8 نومبر 2010ء کو سیشن عدالت نے 295-C کے تحت توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر آسیہ بی بی کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ گورنر پنجاب مقتول سلمان تاثیر نے تمام ریاستی ذمہ داریوں و تقاضوں سے بالاتر ہوکر 22 نومبر 2010ء کو جیل پہنچ کر ملزمہ آسیہ بی بی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانون ناموس رسالت کو نہیں مانتے، یہ کالا قانون ہے۔ مقتول گورنر کے ان الفاظوں سے مسلمانان پاکستان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور ملک میں ایک شورش و ہنگامہ مچا، مگر گورنر، ایوان صدر و حکومتی ذمہ دار میں سے کسی نے بھی عوامی ردعمل و عاشقان مصطفیﷺ کے جذبات کو خاطر میں نہ لائے اور وہ وقت آپہنچا، 4 جنوری 2011ء جب پاکستان کے آئین و قانون سے وفاداری کا حلف اٹھانے والے پولیس سپاہی اور گورنر کے محافظین میں شامل ممتاز حسین قادری نے جذبہ ایمانی سے سرشار ہوکر گورنر پنجاب کو ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے کے جرم میں قتل کردیا۔ مغربی و سیکولر سوچ کے علم برداروں نے اس قتل کو پاکستانی ریاست کی ناکامی و مذہبی جنونیت سے جوڑ کر بے مقصد بحث و مباحثے میں قوم کو الجھانے کی دانستہ کوشش کی۔ پاکستان ایک اسلامی و فلاحی ریاست ہے، جس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ اس پر علیحدہ سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ قانون توہین رسالت 295-C منتخب پارلیمنٹ کا متفقہ قانون ہے، یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں 14 سو سالوں سے چلا آرہا ہی۔ براعظم پاک و ہند میں قانون ناموس رسالتﷺ مغلیہ عہد حکومت کے خاتمے اور 1857ء کی جنگ میں شکست امام حریت علامہ فضل حق خیر آبادی، مفتی کفایت علی کافی، مولانا احمد اﷲ مدراسی سمیت 25 ہزار علماء، مشائخ اور اہل علم کی شہادتوں اور ہزاروں کی جلا وطنی و گرفتاریوں کے بعد 1860ء میں برطانوی عہد تسلط میں قانون رسالتﷺ کو ختم کردیا جاتا ہے، اس کے پس پردہ برطانوی حکمرانوں کے عزائم کچھ اور تھے، جسے مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی نے بے نقاب کیا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب حسام الحرمین، 1923ء میں شان رسالتﷺ کے خلاف ایک کتاب لکھی گئی جسے راجپال نامی ہندو نے شائع کی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ زبردست احتجاج اور اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ راجپال کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ سیشن جج نے راجپال کو مجرم قرار دے کر سزا سنائی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے سزا کے خلاف اپیل میں مجرم کو اس بنیاد پر رہا کردیا کہ اس وقت توہین مذہب اور گستاخی پیغمبرکا کوئی قانون نہیں تھا۔ مسلمانوں نے اس فیصلے کے خلاف ناموس رسالت کی تحریک کا آغاز کیا۔ اسی دوران لاہور میں ایک نوجوان غازی علم الدین 6 ستمبر 1929ء کو بازار سے ایک چھری خرید کر راجپال کی دکان پہنچا۔ راجپال اس وقت دکان پر موجود نہیں تھا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد راجپال جونہی دکان میں داخل ہوتا ہے، غازی علم الدین اس چھری سے حملہ کرکے اس بدبخت گستاخ کو ہلاک کردیتا ہے۔ راجپال کی ہلاکت کے بعد غازی علم الدین کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی درخواست پر تحریک ناموس رسالت کے عظیم مجاہد کے مقدمے کی پیروی کی۔ غازی علم الدین کو قائداعظم محمد علی جناح نے پیغام بھجوایا کہ وہ کہہ دیں کہ اس نے قتل نہیں کیا۔ غازی علم الدین نے جواباً کہا کہ میں کس طرح کہہ دوں کہ گستاخ رسولﷺ کو میں نے قتل نہیں کیا؟ یہ تو میرے لئے فخر اور آخرت میں بخشش و مغفرت کا ذریعہ ہے۔ 31 اکتوبر 1929ء کو عظمت رسولﷺ کے پاسبان غازی علم الدین کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ پھانسی گھاٹ پر غازی علم الدین نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں گواہ رہنا میں نے گستاخ رسول کو قتل کیا ہے، جس نے عظمت مصطفیﷺ پر حملہ کیا تھا۔ غازی علم الدین کی شہادت سے ایسے حالات پیدا ہوگئے جس پر برطانوی حکومت نے مجبورا قانون توہین رسالت 295 بنایا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ قانون تعزیرات پاکستان میں تبدیل ہوگیا۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی اسلام دشمن قوتوں اور کانگریس نواز اشرافیہ نے پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ دشمن یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمانان پاکستان عشق رسولﷺ کی زنجیر میں بندھے ہوئے ہیں، جب تک ان کے دلوں میں عظمت مصطفیﷺ باقی ہے، وہ اپنے مکروہ مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ معروف صحافی انصار عباسی اپنے کالم میں لکھتے ہیں (مفہوم) ایم راج نامی ایک کمیونسٹ ایڈووکیٹ نے 1983ء میں ایک کتاب آفاقی اشمالیت مسلک کے تعلیم یافتہ طبقوں میں مفت تقسیم کی۔ اس کتاب میں نہ صرف اﷲ تعالیٰ و مذہب ادیان کا مذاق اڑایا گیا، بلکہ مذہبی پیشواؤں کومذہبی شیطان کہاگیا اور انتہا یہ کہ حضور اکرمﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی گئی۔ محترم اسماعیل قریشی جن کی بڑی کاوشیں ہیں کہ اس قانون ناموس رسالتﷺ کو موثر بنانے میں انہوں نے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورٹس کا اجلاس بلایا جس میں علماء امت کا متفقہ فتویٰ تھا کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ اس کتاب آفاقی اشمالیت پر پابندی لگائیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مسلمانان پاکستان کے اس مطالبے کا نوٹس لیا اور شیخ غیاث محمد سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پرحکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ توہین رسالت اور ارتداد کی سزا سزائے موت مقرر کی جائے۔ حکومت وقت (ضیائی حکومت) روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ اس حساس و نازک مسئلہ کی جانب توجہ نہ دی لہذا محترم اسماعیل قریشی صاحب وفاقی شرعی عدالت میں جنرل ضیاء الحق (صدر پاکستان) اور صوبائی گورنروں کے خلاف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203 کے تحت 1984ء میں تمام مکاتب فکر کے علماء سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان، سابق وزراء قانون اور شہری نمائندوں کو شامل کرکے شریعت پٹیشن 1984 L/A دائر کی۔ چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اس پٹیشن کی حمایت میں دلائل پیش کئے۔ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے خود حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے اور اس موقف سے اتفاق کیا کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے۔ ساتھ ہی قانونی اعتراض اٹھایا کہ وفاقی شرعی عدالت کو اس کی سماعت کا اختیار ہی نہیں۔ اسی دوران ایک واقعہ رونما ہوا۔ جولائی 1984ء میں ایک بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار قادیانی نے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور اکرمﷺ کی شان میں گستاخانہ جملے ادا کئے جو سامعین کی دل آزاری کا باعث تھے جس پر سیمینار میں ہنگامہ ہوگیا۔ اخبارات میں خبریں شائع ہونے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا۔ خاتون رکن قومی اسمبلی آپا فاطمہ صاحبہ نے اس قابل اعتراض تقریر کا نوٹس لیا اور قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان 295 میں ایک مزید دفعہ کا بل پیش کیا جس کی رو سے گستاخ رسول کی سزا صرف موت تجویز کی گئی۔ اس قومی اسمبلی میں موجود شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفی الزہری، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری، حاجی محمد حنیف طیب، مولانا محمد علی رضوی، محمد عثمان خان نوری، میر نواز خان مروت اور آپا قمر النساء قمر صاحبہ و دیگر نے کلیدی کردار ادا کیا جبکہ موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، موجودہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار، جاوید ہاشمی، چوہدری شجاعت اور کئی نامور سیاست دانوں نے بحیثیت ممبر قومی اسمبلی اس بل پر دستخط کئے۔ فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ نمبر 1986/3 کی شکل میں منظور کرکے تعزیرات پاکستان 295-C کی صورت میں نافذ ہوا۔ جس کے مطابق کوئی عملا زبانی، اشاراتاً یا کنایتاً حضرت محمد مصطفیﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت یا عمر قید کا موجب ہوگا۔ علماء مشائخ اور عوام اس قانون سے مطمئن نہیں ہوئے، اس لئے دوبارہ وفاقی شرعی عدالت میں 295-C کو چیلنج کیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر رہے اور حد کی سزا میں کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اس مقدمے کی سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی اور 30 اکتوبر 1990ء کو 295-C میں ترمیم کرکے عمر قید کے الفاظ حذف کردیئے گئے یعنی گستاخ رسول کی سزا سزائے موت ہوگی۔ اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی مگر عوامی ردعمل اور اس وقت کی قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو کی مخالفت کی وجہ سے اپیل واپس لے لی گئی۔ محترمہ سے متعلق اس قانون کی حمایت کا ذکر یوسف رضا گیلانی نے اپنی خودنوشت میں کیا ہے۔ وہ لوگ جو اس قانون کو ایک فرد کا بنایا ہوا قانون کہہ کر قوم و ملت کو گمراہ اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں، ان تاریخی حوالہ جات سے عوام کو بے خبر رکھ کر اور بقیہ مسلم ممالک میں رائج قوانین سے 295-C کا موازنہ کرکے قوم کو گمراہ کرتے ہیں۔ ان کے لئے عرض ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین فطرت ہے۔ اس کے قوانین ہر خطے اور ہر زمانے کے لئے مشعل راہ ہے۔ اگر پوری دنیا میں کہیں بھی اسلامی حکومتیں نہیں ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قوانین اسلام کی کوشش بھی نہ کی جائیں۔ اسلامی قوانین تو امن، سکون و سلامتی کو پروان چڑھاتے ہیں۔ جہاں تک اس قانون کے غلط استعمال کا تعلق ہے، اسلامی قوانین تعزیر میں کسی جرم کی جتنی سخت سزا مقرر ہے، اس قدر سخت شرائط اس کے ثبوت کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک خفیہ رپورٹ حالیہ دنوں منظر پر آئی جس کے مطابق 2001ء میں اس اسلامی نظریاتی کونسل کے مفتی اعظم، مفتی منیب رحمن، مفتی رفیع عثمانی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علماء کی مشاورت سے قانون ناموس رسالت 295-C کے غلط استعمال روکنے کے لئے سفارشات پارلیمنٹ کو بھجوائی تھی جس کے مطابق وفاقی شرعی عدالت ان مقدمات کی سماعت کریں جو بھی اس قانون کو غلط استعمال کرے، اسے بھی سزائے موت دی جائے۔ یاد رہے کہ 2001ء میں روشن خیالوں کے علمبردار جنرل مشرف پاکستان کے اختیارات کل کے مالک تھے مگر انہوں نے بھی اس اہم معاملے میں کوئی دلچسپی نہ لی اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لئے ان سفارشات نہیں پیش کیا۔ اس رپورٹ سے بھی قوم کو آگاہی ہونی چاہئے کہ 1986ء سے 2009ء تک 295-C کے تحت 964 مقدمات زیر سماعت ہوئے جن میں 479 کا تعلق مسلمانوں سے، 340 کا قادیانیوں ، 119 کا عیسائیوں، 14 کا ہندوؤں سے اور 2 افراد دیگر مذاہب نظریات سے وابستہ افراد تھے۔ ان تمام مقدمات میں کسی ایک کو بھی سزائے موت نہیں ہوئی۔