عالم اسلام کی عظیم روحانی شخصیت شہنشاہ قلندران ، سلطان الاولیاء، سفیر محبت، امیر محبت، رہبر محبت، پیکر محبت،بانی محبت مشن پیر سید مستوار قلندر فرماتے ہیں

’’محبت ہمارا مشن ہے‘‘

سوچوں کی انتہا سے بھی پہلے اس کائنات میں ایک نور موجود تھا۔ اس نور نے اپنے نور کے فیض سے ایک نور پیدا کیا۔ایک نور کہتا لاالہ الا اﷲ تو دوسرا نور کہتا محمد رسول اﷲ یعنی ایک نور دوسرے نور کی وحدانیت کا اقرار کرتا، اسے اﷲ ھو احد کہتا، اسے ہی حقیقی مالک اور سچا معبود مانتا اور دوسرا جواباً اس کی رسالت بیان کرتا، محمدﷺ اﷲ کا رسول ہے یعنی میں اﷲ ہوں اور تو میرا رسول ہے، یعنی میں ہی نہیں تو بھی میرے ساتھ ہے۔

ایک طالب تھا تو دوسرا مطلوب، ایک خالق تھا دوسرا مخلوق، ایک مصور تھا دوسرا تصویر، ایک محب تھا دوسرا محبوب، ایک حق تھا دوسرا سچ، ایک اﷲ تھا تو دوسرا رسول حضرت محمدﷺ۔ جن کا اسم مبارک ازل سے لوح قلم پر لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد اﷲ لم یزل نے جو چیز بنائی وہ تھی ’’محبت‘‘ جس کے بارے میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں خدا جب لفظ تشکیل دینے لگا تو سب سے پہلا لفظ محبت تشکیل دیا۔ خالق کائنات نے ارادہ فرمایا کہ کوئی ایسا نظام ہستی ہو جہاں میں اپنے محبوب کو محبت سے مزین کرکے بھیجوں۔ اس طرح یہ دنیا وجود میں آئی۔ اول حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اکرام کا سلسلہ چلا۔ آخر میں رب کائنات نے اپنے اس محبوب حضرت محمدﷺ کو مہمان خصوصی کے طور پر آخری نبی بنا کر بھیجا اور ہمیشہ کے لئے نبوت کا دروازہ بند کردیا۔ ثابت ہوا کہ پروردگار عالم نے یہ دنیا محبت کی خاطر بنائی۔ محب نے اپنے محبوب کے ساتھ اپنی محبت کا اس طرح ثبوت دیا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام میں سے واحد اپنے اس محبوب کو عرش معلیٰ پر اپنا مہمان بنایا اور محب نے اسی شب مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کرام کی امامت کرواکے امام الانبیاء بنادیا۔ محب نے اپنے اس مکی مدنی محبوب کو کسی خاص علاقے کے لئے ہی مختص نہ کیا بلکہ عرب و عجم کی سرداری دے کر تمام انسانیت کے لئے خیر البشر بنادیا۔ ساری دنیا اور تمام مخلوقات کے لئے رحمت للعالمین بنادیا۔ انسان تو انسان بے زبان بھی اسے اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے۔

محب کی طرف سے ملی محبت کی خونے اسے اتنا رؤف الرحیم بنادیا کہ جس نے صلہ رحمی، حسن سلوک اور عفو ودرگزرکی وہ اعلیٰ ترین مثالیں قائم کیں، جن کی مثل پوری روئے زمین پر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ طائف والوں سے پتھر کھا کر بھی بددعا نہ کی۔ خود پر کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کی خبر گیری ہی نہ کی بلکہ اس کی زندگی کو کفروشرک سے پاک کرکے اس کے نصیب کو بھی سنوار دیا اور اپنے حقیقی چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبانے والی ایک عورت ہندہ کو بھی معاف فرمادیا یعنی عفوودرگزر کی انتہا کردی۔ اس خیر البشر نے امت سے محبت کی خاطر امت کی بخشش کے لئے اتنی گریہ زاری کی کہ رب العالمین نے اس شافع محشر کی ہر سفارش کوقبول کیا۔ کیا اتنی محبت، صلہ رحمی، حسن سلوک اور عفوودرگزر کی توقع کسی عام بشر سے کی جاسکتی ہے، یقیناًنہیں۔ ہاں اس قسم کی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کوئی رؤف الرحیم ہی کرسکتا ہے۔ کوئی صاحبِ جودوکرم ہی کرسکتا ہے، کوئی خیر البشر ہی کرسکتا ہے، کوئی رحمت اللعالمین ہی کرسکتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کوئی نور من نور اﷲ ہی کرسکتا ہے۔ یہ تھا محبت کا سودا ’’معاہدہ محبت‘‘ جو ایک محب اور محبوب کے درمیان طے پایا اور محبوب نے اس وعدے کی ہر شق پوری کرکے دکھا دی۔ اﷲ کے لاڈلے نبی حضرت محمدﷺ کے بعد اہل بیت اطہار خلفائے راشدین اور اصحاب کرام اجمعین اس سلسلۂ محبت کو بخوبی نبھاتے رہے ہیں۔

ان کے بعد بزرگان دین اس سلسلۂ محبت کو چلاتے نظر آتے ہیں جنہوں نے اطاعت خداوندی کے ہاتھوں جنگلوں میں چلہ کشی کی، مجاہدے کئے، انتھک محنتیں کیں، جب سخت ترین مجاہدوں سے یار کو منالیا تو یار کی منشاء کے مطابق جس علاقے میں جانے کا حکم ملا، بلاچوں وچراں اس علاقے کو اپنا مسکن بنالیا۔ بلا سروکار وہ علاقہ معروف تھا یا غیر معروف، صحرا تھا یا شاداب، پھر زمانہ دیکھتا رہ گیا، لمحوں میں جنگل منگل بن گئے، صحرا شاداب ہوگئے اور وہی علاقے جن کا نام کوئی جانتا تک نہ تھا، اتنے مشہور ہوئے کہ پوری دنیا میں ان کا نام گونجنے لگا، بے شمار شہروں کی مثال موجود ہے، جو یاران طریقت نے آباد کئے، کچھ کے نام یہ ہیں۔

میاں چنوں، عبدالحکیم، قاسم آباد، نور شاہ، پاکپتن شریف، لاہور، ملتان، کرامانوالے، سخی سرور، سیون شریف، چورہ شریف، چوئے سیدن شاہ، موہڑہ شریف، نورپور شاہاں، گولڑہ شریف، حق باہو، اجمیر شریف، اوچ شریف، تونسہ شریف اور مخدوم پور شریف۔

ان برگزیدہ ہستیوں کے نام واسطہ یا بلاواسطہ ان شہروں کی پہچان بن گئے۔ ان ہستیوں کے دم قدم سے ہی یہ علاقے روحانیت کا مرکز بنے صاحب اسرار لوگوں نے فیوض و برکات کی اتنی دولت بانٹی کہ لوگ دامن پھیلائے جوق در جوق ان علاقوں کا رخ کرنے لگے۔ تھوڑے ہی عرصے میں یہ آستانے مرجع خلائق بن گئے۔ ان ہستیوں نے محبت کے ہتھیار سے ہی لاکھوں لوگوں کو مسخر کیا، ہزارہا لوگوں کو بدی کی راہ سے ہٹا کر صراط مستقیم پر گامزن کیا، وہ کونسی طاقت تھی جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پھول سی گردن پر چھری چلانے پر آمادہ کیا۔ کس نے ابوالانبیاء کو اپنی زوجہ محترمہ اور شیرخوار بچے کو سنسان پہاڑی علاقے میں بے یارومددگار چھوڑنے پر آمادہ کیا؟ کس نے نبی کریم حضرت محمدﷺ کو فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کرنے پر آمادہ کیا؟ کس نے حضرت مولا علی شیر خدا کو نبی کریمﷺ کے بستر پر لیٹ کر جانثاری کا حق ادا کرنے پر آمادہ کیا؟ کس نے یارغار کو یاری نبھانے پر آمادہ کیا؟ کس نے سیدنا بلال حبشی رضی اﷲ عنہ کو گرم جلتی ریت پر احد احد کی دھوم مچانے پر آمادہ کیا؟ کس نے امام عالی مقام حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کو کربلا میں سب کچھ لٹانے پر آمادہ کیا؟ کس نے نواسۂ ساقی کوثر کوفرات کنارے پیاسا تڑپنے پر آمادہ کیا؟ کس نے فضہ جیسی اہل بیت کی لونڈی کو رسوائے زمانہ ظالم یزید کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہونے پر آمادہ کیا؟ کس نے جنید بغدادی کو اپنے سے کئی گنا کمزور حریف سے ہارنے پر مجبور کیا؟ کس نے داتا گنج بخش کو ایران سے لاہور، خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو بغداد سے اجمیر شریف، نور عالم رحمتہ اﷲ علیہ کو بغداد سے کلر کہار، بہاؤ الدین ذکریا ملتانی رحمتہ اﷲ علیہ کو بغداد سے ملتان، شاہ حبیب رحمتہ اﷲ علیہ کو عراق سے عبدالحکیم، شہباز قلندر کو سیون شریف، بابا فرید شکر گنج رحمتہ اﷲ علیہ کو پاکپتن، محبوب العالم مخدوم حمزہ رحمتہ اﷲ علیہ کو کشمیر اور بے شمار بزرگان دین کو اپنے آباء کی سرزمین چھوڑ کر ناواقف علاقوں میں آنے پر آمادہ کیا؟ اور کس طاقت نے جناب سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اﷲ علیہ کو کشمیر جیسا سرسبز و شاداب علاقہ چھوڑ کر چکوال جیسے ریتیلے علاقے میں آنے پر آمادہ کیا؟ یہ طاقت اطاعت تھی، مگر ذہن نشین رہے کسی بھی جگہ اطاعت تنہا نہیں ہوتی، ہر جگہ محبت ساتھ ہوتی ہے، لہذا یہاں بھی محبت ساتھ تھی جو ہدایات دے رہی تھی۔ دیکھو یار کو ناراض نہیں کرنا، ہر صورت یار کو منانا ہے، اس پل صراط پر قدم جما کر چلنا ہے اور پھر حق کے متلاشیوں نے ثابت کردیا کہ اطاعت اسی کی کی جاتی ہے جس کے ساتھ محبت ہو اور محبت اسی وقت کی جاتی ہے جب کوئی محبوب ہو، یار ہو دلدار ہو ثابت ہوا جہاں اطاعت ہوتی ہے وہاں محبت ہوتی ہے، جہاں محبت ہوتی ہے وہاں محبوبیت ہوتی ہے، جہاں محبوبیت ہوتی ہے وہاں قبولیت ہوتی ہے اور جب قبولیت ہوجائے تو اﷲ کی رحمت نازل ہوتی ہے جو دین و دنیا سنوار دیتی ہے۔ طاعت اور محبت ہی وہ راستہ ہے جو قرب الٰہی تک لے جاتا ہے۔ آج بھی ہر دل میں محبت کا یہ چراغ موجود ہے مگر اس وادی گمراہ کی تندوتیز ہواؤں نے اسے بجھادیا ہے۔ اسے روشن کرنے کے لئے تھوڑی سی آنچ کی ضرورت ہے۔ محبتوں کے سفیر اسی حسنی حسینی خاندان کا ایک چشم و چراغ پیر سید مستوار قلندر مدظلہ سجادہ نشین دربار عالیہ جناب سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اﷲ علیہ مخدوم پور شریف چکوال، محبت اورعشق مصطفیﷺ کو اپنا مقصد حیات بنا کر محبت مشن کے نام سے ایک شمع روشن کئے چاروں طرف روشنی پھیلا رہا ہے، اس شمع کو مسحور کن روشنی سے متاثر ہوکر لاکھوں پروانے جوق درجوق اس شمع کے گرد جمع ہورہے ہیں اور اس شمع روشن کی خیرہ کن روشنی سے اپنے دل کے اندھیرے دور کررہے ہیں۔ محبتوں کی آماج گاہ جناب سید رسول شاہ خاکی رحمتہ اﷲ علیہ کے اس پاک گھرانے کا ہر فرد اتنا سراپا محبت نظر آتا ہے جسے دیکھ کر اس ماں کا خیال آتا ہے جو باہر سے روتے ہوئے بچے کوآتا دیکھ کر سب کام چھوڑ دیتی ہے اور فورا روتے ہوئے بچے کو اپنی آغوش محبت میں چھپالیتی ہے اور وہ روتا ہوا بچہ محبت کی اس پناہ گاہ میں ہر قسم کے ڈر، خوف اور مصائب سے خود کو محفوظ سمجھ کر مسکرانے لگتا ہے۔