نعت گو شاعر: شیخ القرآن پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید عمر دراز شاہ مشہدی مدظلہ

ہر اک آغاز سے پہلے لکھوں اسم علم تیرا

سہارا چاہتا ہے اے خدا میرا قلم تیرا

احد توہے صمد توہے تو قادر ہے ہر اک شے پر

نہیں بے آسرا جس کو سہارا ہے بہم تیرا

ہوالاول ہو الآخر ہو الباطن ہوالظاہر

ترے اوصاف عالی ہیں بقا تیری قِدَم تیرا

ترے محکوم ہیں سارے تری ساری خدائی ہے

دو عالم کا تو خالق ہے عرب تیرا عجم تیرا

تو اپنی ذات میں واحد ہر اک ذرہ ترا شاہد

عیاں ہے وسعت آفاق میں نور اتم تیرا

نہیں ہے ابتدا تیری نہ کوئی انتہا تیری

تری ہر شان یکتا ہے نمایاں ہے کرم تیرا

مری اوقات کیا ہے میں کروں حمدوثناء تیری

مجھے توفیق دے تو وصف ہو کوئی رقم تیرا

میں کیسے شکر کرسکتا ہوں تیری مہربانی کا

لئے رہتا ہے گھیرے میں مجھے فضل و کرم تیرا

طلاطم خیز موجیں لے گئیں مجھ کو سرِ ساحل

سفینے پر جو دیکھا نام نامی مرتسم تیرا

ہیں جتنے حادثات زندگی دم توڑ دیتے ہیں

مجھے سینے لگاتا ہے جہاں لطف و کرم تیرا

مصائب ہٹتے جاتے ہیں مجھے تسکین ہوتی ہے

کیا کرتا ہوں ذکر وفکر جب میں دم بدم تیرا

اسے ویران کرسکتا ہے کوئی کس میں ہمت ہے

کہ جس گلشن کو دے شادا بیاں ابر کرم تیرا

توئی سلطانِ عادل ہے تری ساری خدائی ہے

مکاں ولامکان تیرے یہ موجود و عدم تیرا

خدایا کنت کنزاً مخفیاً سے صاف ظاہر ہے

مظاہر میں ظہور و نور ہے سب دم بدم تیرا

تمنا کررہا ہے مصطفی کے نور کا صدقہ

خدایا دیکھ لے اب مشہدیؔ جاکر حرم تیرا

مرا ورد نعت رسولﷺ ہو

مرا ورد نعت رسول ہو، مرا قلب قلبِ حضور ہو

مرے ہر نفس میں درود ہو، مرے گھر میں بارش نور ہو

میں پڑھوں کلام خدا اگر مجھے آئے روئے نبی نظر

پڑھے ان کے حسن پہ جب نظر تو جمال حق کا ظہور ہو

کھلے دل کی آنکھ اگر نہاں تو یہ راز تجھ پہ بھی ہو عیاں

وہی دیکھتا ہے تجلیاں جسے دیکھنے کاشعور ہو

کروں ان کے حسن کی گفتگو رہوں ان کے سامنے روبرو

نہ مجھے ہو خلد کی آرزو، نہ خیال حوروقصور ہو

مرے لب پہ تیرا ہی نام ہو، مری مستیوں کو دوام ہو

جو کسی طرح نہ تمام ہو وہ عطا مجھے بھی سرور ہو

میں رہ عمل میں فقیر ہوں میں غریب کب ہوں امیر ہوں

ترے گیسوؤں کا اسیر ہوں مجھے کیوں نہ اس پر غرور ہو

تیری رحمتوں کے محیط میں ہے محاط وسعت دوسرا

کوئی ایسی شے ہی نہیں شہا جو تری نگاہ سے دور ہو

تری آستاں پہ مری جبیں ہے ندامتوں سے جھکی ہوئی

تو شفیع روز حساب ہے مرا دور جرم و قصور ہو

یہی آرزو شہ زمن نہ اجڑ سکے مری انجمن

جہاں تیرے ذکر کا ہو چمن وہاں مشہدیؔ بھی ضرور ہو