نعت گو شاعر: شیخ القرآن پیر طریقت حضرت علامہ مولانا سید عمر دراز شاہ مشہدی مدظلہ

محمد سراپا رؤف رحیم

محمد سراپا رؤف ورحیم

وسیم و قسیم و شفیع و کریم

ہمیں ناز ان کی شفاعت پہ ہے

چھڑائیں گے وہ روز امیدوبیم

وہی ہیں وہی خاتم الانبیاء

نہیں ان کا کون و مکاں میں سہیم

ہمارے مقدر جگائیں کبھی

وہ دریائے وحدت کے در یتیم

ہے جنت انہیں کے کرم کی ادا

کریں گے وہی سرد نارِ جحیم

انہیں کے کرم کے اجالے ہیں سب

براہیم و عیسٰی و موسیٰ کلیم

اٹھی ان کی انگلی جو سوئے فلک

گرا چاند قدموں میں ہوکر دونیم

چہ خوش گفت سعدیئے فرخندہ فال

قَسیمٌ جَسیمٌ لَسیمٌ وَسیمٌ

امیدوں کا گلشن کھلا مشہدیؔ

جو آئی مدینے سے باد نسیم