شہادت اعداء بر نورانیت حبیب خداﷺ

in Articles, Tahaffuz, April 2011, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

ضابطہ اور اصول یہ ہے کہ مدعی اپنے دعویٰ کو دلیل و تلبیہ سے ثابت کرے اور سائل مدمقابل مخالف مدعی کے پیش کردہ دلائل کا ردوابطال کرے۔ اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی کا عقیدہ و دعویٰ ہے کہ سرکار اقدس ﷺ بفضلہ تعالیٰ صورت کے اعتبار سے بے مثل بشر اور حقیقت کے اعتبار سے نور ہیں، یعنی نور حسی نور معنوی ’’نور من نور اﷲ‘‘ ہیں اور نورانیت و بشریت میں منافات نہیں ہے، اہل سنت و جماعت جب اس دعویٰ پر بطور دلیل متعدد آیات قرآنیہ، احادیث صحیحہ، جلیل القدر مفسرین و محدثین کرام، ائمہ دین متین کی تصریحات اور گرانقدر ارشادات و فرمودات پیش کرتے ہیں تو منکرین نورانیت مصطفی علیہ التحیتہ والثناء وہابیہ بہر نوع بہرصورت ان دلائل و شواہد کے ردوابطال کی کوشش کرتے ہیں اور خداداد شان نورانیت کو مٹانے کی مذموم سعی کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اکابر وہابیہ دیابنہ کا اپنی متعدد کتب و رسائل میں ہمارے دلائل و شواہد ضبط تحریر میں لاکر سرکار اقدسﷺ کے لئے نورانیت مقدسہ ثابت کرنا مذہب مہذب اہلسنت و جماعت کی حقانیت و صداقت اور عقیدہ و دعویٰ کے مضبوط و مستحکم ہونے اور وہابیہ دیابنہ کے ساکت و عاجز ہونے اور اصول و ضوابط سے عاری ہونے کی بیّن دلیل ہے۔ وہابیہ دیابنہ کی مستند و معتبر کتب سے چند حوالہ جات ہدیہ قارئین ہیں۔ والفضل ماشہدت بہ الاعداء

* مولوی رشید احمد گنگوہی قدجاء کم من اﷲ نور و کتاب مبین کا ترجمہ لکھتے ہیں ’’تحقیق آئے ہیں تمہارے پاس اﷲ کی جانب سے نور اور کتاب مبین‘‘ نور سے مراد حضور نبی کریمﷺ کی ذات پاک ہے۔۔۔ حق تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو نور فرمایا اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ حضورﷺ سایہ نہیں رکھتے تھے اور یہ واضح ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں ۔۔۔ (امداد السلوک ص 156)

* نیز لکھتے ہیں ’’حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ نے مجھے اپنے نور سے پیدا کیا اور مومنوں کو میرے نور سے‘‘ (امداد السلوک ص 157)

* نیز لکھتے ہیں ’’آپ کی ذات اگرچہ اولاد آدم میں سے ہے لیکن آپ نے اپنی ذات کو اس طرح مطہر فرمایا کہ اب آپ سراپا نور ہوگئے‘‘ (امداد السلوک ص 85)

* مولوی اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں ’’(آیت مقدسہ میں) نور سے مراد حضورﷺ ہیں۔ اس تفسیر کی ترجیح کی وجہ یہ ہے کہ مراد اوپر بھی قد جاء کم رسولنا فرمایا ہے تو یہ قرینہ ہے کہ اس پر کہ دونوں جگہ جاء کم کا فاعل ایک ہو‘‘ (رسالۃ النور ص 31)

* مولوی عبدالماجد دریا آبادی لکھتے ہیں ’’نور سے اشارہ ہے رسالت محمدی کی جانب اور کتاب مبین سے قرآن کی جانب‘‘ (تفسیر ماجدی جلد اول ص244)

*ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی لکھتے ہیں ’’بے شک اﷲ کی طرف سے تمہارے پاس نور آچکا (یعنی نبی آخرالزمان) اور کتاب روشن (یعنی قرآن پاک) تفسیر فیوض القرآن ،صفحہ 239)

*مولوی رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں ’’شیخ عبدالحق (محدث دہلوی) رحمتہ اﷲ نے اول ما خلق اﷲ نوری کو نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی کچھ اصل ہے‘‘ (فتاویٰ رشیدیہ ص 373)

*مولوی حسین احمد ٹانڈوی نے بھی یہی حدیث نقل کی ہے (الشہاب الثاقب ص 47)

* مولوی اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں ’’جیسے کہ روایت ’’اول ماخلق اﷲ نوری‘‘ اس پر دلالت کرتی ہے‘‘ (یک روزہ ص 11)

* مولوی اشرف علی تھانوی نے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت بحوالہ امام عبدالرزاق رحمتہ اﷲ تعالیٰ نقل کی اور اس پر اعتماد کیا (نشر الطیب ص 6)

نہ صرف سرکار اقدسﷺ بلکہ اپنے علماء و مشائخ کے لئے بھی نورانیت ثابت کرنا دیوبندی کتب و رسائل سے ثابت ہے (العیاذ باﷲ تعالیٰ)

* مولوی رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں ’’حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اﷲ علیہ کو نوری اس لئے کہتے ہیں کہ آپ سے کئی بار نور دیکھا گیا ’’(امداد السلوک ص 157)

* مولوی محمود الحسن دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی کو نور مجسم اور قبر کو تربت انور قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

چھپائے جامۂ فانوس کیونکر شمع روش کو

تھی اس نور مجسم کے کفن میں وہ ہی عریانی

تمہاری تربت انور کو دے کر طور سے تشبیہ

کہو ہوں بار بار ’’ارنی‘‘ میری دیکھی بھی نادانی

(مرثیہ گنگوہی ص 12)

* مولوی عاشق الٰہی میرٹھی لکھتے ہیں ’’پس بے نظیر شیخ وقت اور بے عدیل قطب زماں کی سوانح کوئی لکھے تو کیا لکھے بھلا جس مجسم نور اور سرتاپا کمال کا عضو عضو اور رواں رواں ایسا حسین ہو کہ عمر بھر ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے بھی سیری نہ ہوسکے۔ اس کے کوئی محاسن بیان کرے تو کیا کرے‘‘ (تذکرۃ الرشید پہلا حصہ ص 3)

* مولوی سرفراز گکھڑوی حضرت شیر ربانی علیہ الرحمہ کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’دیوبند میں چار نوری وجود ہیں۔ ان میں سے ایک (انور) شاہ صاحب ہیں‘‘ (عبارات اکابر ص 37)

* معروف دیوبندی رسالہ میں لکھا ہے ’’مولانا احمد علی صاحب اﷲ تعالیٰ کے انوار میں سے ایک نور تھے‘‘ (رسالہ خدام الدین لاہور 24 مئی1992ء)

* نیز اسی میں لکھا ہے ’’علامہ (شمس الحق) افغانی نے دریافت فرمایا حضرت (مخاطب مولوی احمد علی ہیں) کیا وجہ ہے کہ سید (احمد) صاحب کی قبر پرانوار مولانا (اسماعیل) کی بہ نسبت کم معلوم ہوتے ہیں‘‘ (رسالہ خدام الدین 22 فروری 1963)

* مولوی حسین احمد ٹانڈوی کے بارے میں معروف دیوبندی اخبار میں لکھا ہے ’’اور اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ (یعنی ٹانڈوی صاحب) عالم نور میں رہتے ہیں، ان کی آنکھوں میں بھی نور ہے۔ ان کے دائیں بھی نور ہے،ان کے بائیں بھی نور ہے، ان کے چاروں طرف نور ہی نور ہے وہ خود نور ہوگئے ہیں‘‘ (روزنامہ الجمعیت دہلی شیخ الاسلام نمبر ص 12، 1958)

* مولوی رفیع الدین دیوبندی لکھتے ہیں ’’وہ شخص (یعنی قاسم نانوتوی) ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر کیاگیا ‘‘ (حکایات اولیاء یعنی ارواح ثلاثہ ص 259، سوانح قاسمی جلد اول ص 130)

معاذ اﷲ اس عبارت میں بھی نانوتوی کو نور کہا گیا ہے کیونکہ روایت ہے خلقت الملائکۃ من نور یعنی فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے (مسلم شریف جلد دوم ص 413)

* مولوی ثناء اﷲ امرتسری پیشوائے غیر مقلدین وہابیہ نے قد جاء کم ۔۔۔ الخ آیت مقدسہ کا ترجمہ یوں کیا ’’تمہارے پاس اﷲ کا نور محمدﷺ اور روشن کتاب قرآن شریف آئی‘‘ (تفسیر ثنائی جلد اول ص 362)

* نیز لکھتے ہیں ’’ہمارے عقیدے کی تشریح یہ ہے کہ رسول خدا، خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے نورہیں‘‘ (فتاویٰ ثنائیہ جلد دوم ص 93)

* مولوی وحید الزمان غیر مقلد وہابی لکھتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور محمدی کو پیدا کیا، پھر پانی، پھر پانی کے اوپر عرش کو پیدا کیا، پھر ہوا، پھر قلم اور دوات اور لوح پھر عقل کو پیدا کیا، پس نور محمدی آسمانوں اور زمین اور ان میں پائی جانے والی مخلوق کے لئے مادہ اولیہ ہے‘‘ نیز حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ قلم اور عقل کی اولیت اضافی ہے۔ (ہدیۃ المہدی ص 56)

* مولوی صدیق حسن بھوپالی لکھتے ہیں ’’نور النبی تجلی رحمۃ‘‘ یعنی نور نبی تجلی رحمت ہے (نفح الطیب ص 60)

* مولوی حافظ محمد لکھوی لکھتے ہیں ’’نور نبی دا آپے دیندا لوکاں نوں روشنائی‘‘ (تفسیر محمدی 4 ص 201)

* مولوی پروفیسر ابوبکر غزنوی غیر مقلد تقریظ میں لکھتے ہیں ’’قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ بشر بھی تھے اور نور بھی تھے۔۔۔ اور صحیح مسلک یہی ہے کہ وہ بشر ہوتے ہوئے از فرق تا بقدم نور کا سراپا تھے‘‘ (تحریر 14 دسمبر 1971، تقریظ رسالہ بشریت و رسالت ص 17)