نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم

اما بعد!

برصغیر پاک و ہند کی سرزمین بھی وہ مقدس دھرتی ہے جس نے کائنات کی بڑی برگزیدہ ہستیوں کو جنم دیا، انہی نفوس قدسیہ کے سبب اس کو عظمت و رفعت حاصل ہوئی۔ ہندمیں اگر خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی علیہ الرحمہ بے تاج بادشاہ ہیں تو دوسری طرف پاک میں بابا فرید الدین گنج شکر علیہ الرحمہ مرجع خلائق ہیں، اگر ہند میں خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ آسمان ولایت کے مہتاب ہیں تو دوسری جانب پاک میں داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ آسمان ولایت کے آفتاب ہیں۔ ہند میں اگر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کا فیض عام ہے تو پاک میں لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ کا فیض جاری ہے۔

الغرض بارگاہ ایزدی میں ان کی وہ قدرومنزلت ہے کہ سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود بھی مخلوق ان کی آخری آرام گاہوں کی طرف کھنچی آرہی ہے۔ رب قدوس جل مجدہ نے ان کے سروں پر لاخوف علیہم ولاہم یحزنون کا سہرا سجایا ہے اور ان کے اعداء سے فقد اذنتہ بالحرب کا وعدہ فرمایا ہے۔

بنگلہ دیش بھی اسی خطہ زمین کا ایک حصہ تھا جو 1971ء میں پاکستان سے جدا ہوا، بنگلہ دیش کی زمین نے بھی کبار اولیائے کرام کے قدموں کو چوما ہے اور قیامت تک کے لئے انہیں اپنے بطن میں جگہ دی ہے۔ راقم الحروف کا چند ماہ قبل بنگلہ دیش کا 3 ماہ کا سفر ہوا، وہاں کے لوگوں سے اس دھرتی کے اولیائے کاملین کے حالات سنے تو چاہا کہ وہ قارئین کی نظر کردوں تاکہ رب کائنات جل مجدہ کے پیاروں کی محبت مزید قلوب میں جاگزین ہو۔

بنگلہ دیش کے وہ مشہور و معروف اولیائے کرام جو بنگلہ دیش کی سرزمین پر جانے پہچانے جاتے ہیں اور ان کی کرامات سے عوام بھی بخوبی واقف ہیں۔ ان میں سے چند کے اسمائے گرامی یہ ہیں

* شاہ جلال یمنی علیہ الرحمہ

* شاہ علی بغدادی علیہ الرحمہ

* شاہ امانت علیہ الرحمہ

* حضرت بدر شاہ علیہ الرحمہ

* شاہ محسن علیہ الرحمہ

* پیر نصیر الدین سپہ سالار

* حضرت غریب اﷲ علیہ الرحمہ

* شاہ مصطفی علیہ الرحمہ

* شاہ سافران علیہ الرحمہ

حضرت پیر نصیر الدین علیہ الرحمہ ان کا لقب سپہ سالار ہے، یمن سے تبلیغ دین کے لئے ہجرت فرما کر بنگلہ دیش پہنچے اور اپنا حلقہ ارادت قائم فرمایا ان کی ایک مشہور اور زندہ کرامت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے انتقال سے قبل مریدین و معتقدین کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ انتقال کے بعد میری قبر مشرق سے مغرب کی طرف بنانا، اس طرح نہ بنانا جس طرح عموما (یعنی شمال سے جنوب کی طرف) بنائی جاتی ہے کیونکہ یہاں سے جنوب کی جانب میرے پیرومرشد کا مزار ہے۔ اگر قبر شمال سے جنوب کی طرف بنادی گئی تو پیرومرشد کی بے ادبی کی وجہ سے میری روح کو تکلیف ہوگی۔ چنانچہ حضرت کے انتقال کے بعد مریدین نے باہم مشاورت کی۔ اسلامی طریقہ کو کس طرح چھوڑدیں لہذا انہوں نے معروف طریقہ پر قبر بنادی۔ تدفین کی۔ صبح جب دیکھا تو حضرت کی کرامت تھی کہ قبر شریف شمال سے گھوم کر مشرق و مغرب کی سمت ہوگئی۔ آج بھی حضرت پیر نصیر الدین سپہ سالار کی قبر انور اسی ہیئت پر بنگلہ دیش کے صوبہ سلہٹ کے معروف شہر حبیب گنج کے نواح میں موجود ہے۔ حبیب گنج سے مزار شریف کا فاصلہ گاڑی میں 30 منٹ کا ہے الحمدﷲ عزوجل! راقم الحروف کو اس مزار کی حاضری نصیب ہوئی ہے اور حضرت کی زندگی کرامت کا نظارہ اپنی آنکھوں سے کیا ہے۔

لگے ہاتھوں بنگلہ دیش کے صوبہ سلہٹ کی وجہ تسمیہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ یہ نام ہی ایک ولی کی کرامت کا صدقہ ہے۔ شاہ جلال یمنی علیہ الرحمہ جو یمن سے ہجرت فرما کر کئی اولیائے کرام کے قافلے کے ساتھ بنگلہ دیش تشریف لائے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کا مزار شریف سلہٹ شہر میں مرجع خاص و عام ہے۔ جس وقت آپ رحمتہ اﷲ علیہ بنگلہ دیش تشریف لائے اس وقت یہاں کا جادو بہت مشہور تھا۔ جادوگروں کے ساتھ ساتھ جنات نے بھی مسلمانوں کو تنگ کررکھا تھا۔ ان کا ٹھکانہ وہاں ایک سات منزلہ عمارت تھی۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے خیر خواہی مسلمین اور رفع خیر و شیاطین کی خاطر 7 اذانیں دیں۔ ہر اذان کے بعد فرماتے۔ ’’سل ہٹ‘‘ اور ایک منزل کی چھت گر جاتی، یوں سات بار اذان اور ’’سل ہٹ‘‘ کہنے پر ساتوں منزلیں گر گئیں اور یوں مسلمانوں کو ان جادوگروں اور جنات سے نجات ملی۔

آپ رحمتہ اﷲ علیہ کے سل ہٹ فرمانے کی وجہ سے ہی اس صوبہ کا نام ہی سلہٹ پڑگیا۔ ان کے ٹھکانے کو تباہ کرنے کے بعدآپ رحمتہ اﷲ علیہ نے نجات تامہ کے لئے ان جنات کو مچھلیاں بنادیا۔ آج بھی حضرت کے مزار کے قریب ایک تالاب میں ان مچھلیوں کی نسل موجود ہے۔ زائرین حاضری مزار کے بعد اس تالاب پر آکر ان مچھلیوں کو مختلف غذائیں کھلاتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے ایئرپورٹ کا سابقہ نام ضیاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھا۔ موجودہ حکومت نے اس کا نام بدل کر حضرت علیہ الرحمہ کے نام مبارک پر شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھ دیا ہے۔

جب شاہ جلال یمنی علیہ الرحمہ سے بنگلہ دیش تشریف لائے تو ان کے ساتھ شاہ سافران، شاہ مصطفی اور شاہ کلا رحمہم اﷲ بھی تھے۔ اس وقت ایک ہندو بادشاہ یہاں حکومت کرتا تھا اور مسلمانوں پر خوب ظلم و ستم کرتا۔ یہ بزرگان دین اس سے جنگ کرنے کے لئے چل پڑے۔ جب اس ہندو بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو باوجود مسلح افواج ہونے کے قوت ایمانی سے ڈر کر اس نے محل کے چاروں طرف گندم کے ڈھیر لگادیئے۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ اسے معلوم تھا کہ مسلمان رزق کا بے حد احترام کرتے ہیں لہذا وہ اس کو روند کر ہرگز عبور نہ کریں گے پھر بھی اس نے سینکڑوں عورتوں کو برہنہ کرکے گندم کے پار کھڑا کردیا کہ اگر انہوں نے گندم کو عبور بھی کیاتو وہ برہنہ عورتوں کو دیکھ کر خود ہی واپس ہوجائیں گے۔ شاہ جلال یمنی علیہ الرحمہ نے گندم دیکھ کر اپنے کبوتروں کو حکم دیا تو ان کبوتروں نے گندم کھا کر اس ڈھیر کو صاف کردیا۔ آگے چلے تو عورتیں نظر آئیں جو برہنہ تھیں۔ شاہ کلا رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی جان کی قربانی دی وہ اس طرح کہ اپنا سر قلم کرکے اپنے بائیں ہاتھ میں لے لیا اور سیدھے ہاتھ سے گھوڑے کی لگام تھام کر عورتوں کی طرف بھاگنے لگے۔ تمام عورتیں یہ وحشت ناک منظر دیکھ کر بھاگ کھڑی ہوئیں۔ اس طرح مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔

یہ شاہ کلا علیہ الرحمہ کی کرامت تھی کہ سر قلم کرکے ہاتھ میں لے لیا اور دوسرے ہاتھ سے گھوڑے کی لگام تھامے جارہے تھے۔ وہ گھوڑا ایک دریا کے قریب رکا۔ سر مبارک پانی میں تیرتا ہوا ایک گاؤں کے قریب پہنچا۔ یہ ہندوؤں کا گاؤں تھا۔ ان کا کاروبار صرف مچھلیوں کو پکڑ کر اس کو فروخت کرنا تھا۔ صبح صبح ایک ہندو مچھلی پکڑنے آیا۔ جال پانی سے جوں ہی نکلا، دیکھا کہ اس میں آپ علیہ الرحمہ کا سرمبارک ہے۔ آپ کے لب مبارک کو جنبش ہوئی۔ آواز آئی، کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجا۔

ایک انسانی سر کو دیکھنا اور اس میں اس طرح کی آواز آنا عجیب ترین تھا۔ وہ ہندو ڈر کر بھاگ گیا اور سب گاؤں والوں کو یہ واقعہ بتایا۔ دوسرے اور تیسرے روز بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ پھر گاؤں کے تمام لوگ جمع ہوکر گئے، جب سر مبارک سے آواز آئی تو وہ تمام کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ تو ان لوگوں نے عرض کی، عالی جاہ! اب ہم کیا کریں۔ فرمایا۔۔۔ فلاں مقام پر جاؤ، وہاں تمہیں اسلام کی تعلیم دی جائے گی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے سر مبارک نکال کر وہیں ایک اونچے مقام پر دفنا دیا۔ اسی وجہ سے آپ رحمتہ اﷲ علیہ کا مزار 2 جگہ پر ہوا۔ اوکھاڑا میں سر مبارک اور منشی گنج میں دھڑ مبارک کو دفن کیا گیا۔

بنگلہ دیش کے شہر فتح اﷲ گنج میں ایک بزرگ رحمتہ اﷲ علیہ رہتے تھے (ان کا نام میں بھول گیا ہوں) وہ ایک بار ذکر اﷲ میں مصروف تھے کہ ایک ہندو راجہ نے اچانک پیچھے سے آکر ان کا سر قلم کردیا۔ ان کی زندہ کرامت یہ تھی کہ سر مبارک دھڑ سے جدا ہونے کے باوجود دھڑ اسی طرح ذکر اﷲ میں مشغول تھا۔ ہندوؤں نے ہٹانے کی بڑی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ چند مسلمانوں کو بلایا گیا۔ انہوں نے ہٹایا تو ہٹ گئے، وہیں ان کا مزار شریف بنا۔

اس کے بعد اسی جگہ حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ کے سگے پوتے وہاں تبلیغ کرنے تشریف لائے وہ جگہ دریا پار تھی۔ دریا عبور کرنے کے لئے حضرت ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ایک مگرمچھ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، عرض کی! حضور میری پیٹھ پر تشریف لے آیئے۔ پھر آپ نے اس کی پیٹھ کر بیٹھ کر دریا عبور کیا۔ مگرمچھ کی عرض پر آپ نے مگرمچھوں کو بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔ ہندو بادشاہ کو جب آپ کی آمد اور مقصد تبلیغ کی خبر پہنچی تو اپنی فوج کو گھوڑوں پر سوار کرکے آپ کی رکاوٹ کے لئے کھڑا کردیا۔ آپ رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنا جوتا مبارک اتار کر ان کی طرف پھینکا تو وہ تمام فوج زمین میں دھنس گئی۔

سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کا مزار اگرچہ بنگلہ دیش میں نہیں ہے مگر حضرت کی ابھی تک وہاں زندہ کرامت موجود ہے۔ حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ ایک بار بنگلہ دیش تشریف لائے تھے جس جگہ آپ کی آمد ہوئی وہاں جنات کا بسیرا تھا جو مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے۔

حضرت بایزید بسطامی قدس سرہ السامی نے ان کو اپنی کرامت سے کیچھوابنادیا۔ آج تک ان کیچھوؤں کی نسل چل رہی ہے۔ وہ اتنے بڑے کیچھوے ہیں جو شاید اتنے بڑے کیچھوے دیکھنے میں نہ آتے ہوں۔ ہمارے دوست محمد نعیم عطاری نے ان کو دیکھا ہے وہ موبائل میں ان کی ریکارڈنگ بھی کرکے لائے اسی ریکارڈنگ کو موبائل میں، میں نے دیکھا ہے۔ لوگ ان کو پراٹھے وغیرہ کھلاتے ہیں۔ یہ کیچھوے آج بھی بنگلہ دیش کے صوبہ چاٹ گام میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ شاہ مصطفی رحمتہ اﷲ علیہ کا مزار صوبہ سلہٹ کے شہر مولوی بازار میں ہے۔ راقم الحروف کی وہاں پر حاضری ہوئی اور شاہ علی بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ کا مزار بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقہ میرپور نمبر 1 میں ہے۔ میں وہاں اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حاضری کے لئے گیا۔ یقین جانئے مزار کی حدود سے باہر گرمی اور ٹریفک کا خوب شور تھا مگر جیسے ہم مزار شریف کے صدردروازے سے اندر داخل ہوئے، الحمدﷲ! وہ گرمی ٹھنڈک اور شور راحت میں بدل گیا۔ یہ صاحب مزار کی کرامت تھی۔ فقیر نے حاضری و دعا کے بعد وہیں قدموں میں بیٹھ کر استغاثہ پر مشتمل 11 اشعار کا ایک کلام لکھا جس کے چند اشعار یہ ہیں۔

شاہ علی بغدادی ہو ہم پر نظر

ساری دنیا میں پھر ہیں کیوں دربدر

آیا ہے دربار میں تیرے گدا

ہوجائے پھر رحمتوں کی اک نظر

میری خالی جھولی کو بھر دیجئے

ہوجائیں نورانی پھر شام و سحر

دوجہاں کی بھیک لینے کے لئے

آیا ہے بدکار تیرے روضہ پر

آخر میں ایک کرامت لکھتا ہوں۔ اگرچہ ہے تو وہ صدرالافاضل حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ کی مگر اس کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ بنگلہ دیش کے صوبہ چاٹ گام کے شہر رانگونیہ کے مولانا نور الصفا نعیمی علیہ الرحمہ بنگلہ دیش سے تعلیم دین کے لئے ہند میں صدر الافاضل کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ بڑے غبی تھے اس لئے 5,4 سال پڑھنے کے بعد بھی کچھ نہ آیا۔ آبدیدہ ہوکر جانے لگے تو استاد محترم نے فرمایا۔۔۔ اچھا! ذرا دورہ حدیث میں بخاری تو پڑھاتے جاؤ۔ عرض کی مجھے تو اپنا سبق نہیں آتا۔ بخاری کے کیسے پڑھاؤں؟ استاد صاحب کے اصرار پر پڑھانے گئے، استاد صاحب نے اپنی کرامت سے علم کا خزانہ عطا فرمادیا اور وہ بخاری پڑھانے لگے۔ حتی شیخ الحدیث بن گئے۔ ان کا مزار رانگونیہ میں ہے۔