حضرت بابا فرید گنج شکر علیہ الرحمہ

in Articles, Tahaffuz, April 2011, د ر خشا ں ستا ر ے, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

گزشتہ سے پیوستہ

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا ’’ملہم نامی ایک فرشتہ ہے۔ جب وہ نقش دل میں لکھتا ہے تو الہام ہوتا ہے‘‘

’’شاید یہ کاغذ بھی وہی فرشتہ تحریرکرتا ہے‘‘ مرید نے عرض کیا۔

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’ملہم کے تین کام ہیں۔ ایک یہ کہ دل میں کسی بات کا خیال لاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہاتف غیب سے آواز دیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ کاغذ پر لکھ کر ظاہر کرتا ہے۔ اولیاء صرف نقش کو دیکھتے ہیں، نقاش کو نہیں۔۔۔ مگر انبیائے کرام نقش کو بھی دیکھتے ہیں اور نقاش کو بھی جس وقت نقش ظاہر ہو اور دل میں نور پیدا ہو تو وہ رحمانی ہے جسے فرشتے نے تحریر کیاہے۔ اگر تاریکی پیدا ہو تو شیطانی ہے کیونکہ شیطان بھی دل میں القا کرتا ہے‘‘ یہ کہہ کر حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ خاموش ہوگئے۔

پھر ایک مختصر سے وقفہ سکوت کے بعد فرمایا۔

’’یہاں پر فرشتے کا کیا کام اور شیطان کی کیا مجال کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے اسی کی طرف سے ہوتا ہے‘‘

*۔۔۔*۔۔۔*

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ مریدوں اور خدمت گاروں کے درمیان تشریف فرما تھے۔ آپ کے رعب و جلال کا یہ عالم ہوتا کہ لوگ دو زانو اور دست بستہ بیٹھے رہتے تھے۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوتی تھیں اور کبھی کبھی اس قدر سکوت ہوتا تھا کہ حاضرین مجلس کی سانسوں کی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی۔ ایک دن ایک قلندر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی بارگاہ جلال میں حاضر ہوا۔ اس وقت بھی حاضرین کی یہی کیفیت تھی۔ اگر نیا آنے والا یہ منظر دیکھتا تو یہی تاثر قبول کرتا کہ وہ کسی باجبروت شہنشاہ کے دربار میں داخل ہوگیا ہے۔

قلندر نے خانقاہ میں داخل ہوتے ہی حاضرین پر ایک نظر ڈالی اور نہایت گستاخانہ لہجے میں حضرت شیخ سے مخاطب ہوا ’’فرید! یہ کیا تماشا ہے؟‘‘

اگرچہ قلندر کی آواز نہایت کرخت تھی لیکن حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی روایتی شیریں کلامی کے ساتھ فرمایا ’’مہمان! تم کس تماشے کی بات کررہے ہو؟‘‘

’’یہی کہ تونے اپنے آپ کو بت بناڈالا ہے اور لوگوں سے اپنی پرستش کراتا ہے‘‘ اس بار بھی قلندر کے لہجے میں گستاخی کا وہی رنگ نمایاں تھا۔

’’میں تو ایک بندہ عاجز ہوں۔ جو کچھ بنایا ہے، خدا نے بنایا ہے‘‘ قلندر کے سوال کے جواب میں حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا۔

’’نہیں! تونے خود اپنے آپ کو بت بنایا ہے‘‘ قلندر کے لہجے کی کرختگی کا وہی عالم تھا۔

’’ہرگز نہیں۔۔۔‘‘ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے کمال انکسار کے ساتھ فرمایا ’’دنیا کا کوئی شخص اپنے آپ کو کچھ نہیں بناسکتا مگر حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے سرفراز کردیتا ہے‘‘

قلندر نے ایک نظر حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا۔ کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر باآواز بلند کہنے لگا ’’شیخ! آپ کے صبروتحمل پر ہزار آفرین۔ جب تک دنیا باقی ہے، یہ تحمل باعزت رہے‘‘ یہ کہہ کر وہ قلندر چلا گیا۔

اہل نظر کا خیال ہے کہ وہ قلندر مردان غیب میں سے تھا۔ آٹھ صدیاں گزر گئیں مگر وہ تحمل آج بھی باعزت ہے اور اس عزت میں قیامت تک اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے دنیا داروں کے ہاتھوں سخت اذیتیں برداشت کیں اور کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لائے۔۔۔ مگر جب کسی نے بزرگ کے طریقے کی خلاف ورزی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے۔ حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کے مریدو خلیفہ تھے۔ اس رشتے سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ کو برادر محترم کہا کرتے تھے جب بھی حضرت شیخ سے ملاقات ہوتی تو آپ بڑے والہانہ انداز میں فرماتے۔

’’میرے پیرومرشد کی نشانی! میرے شیخ کی یادگار‘‘

حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ کے وصال کے بعد حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کچھ دن بانسی میں مقیم رہے تھے اور پھر اجودھن تشریف لے آئے تھے۔ حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ دہلی میں تھے۔ اس لئے مرکز نگاہ بن گئے۔ حکومت کا ایک اعلیٰ عہدیدار ملک نظام الدین خریطہ وار حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ کے عقیدت مندوں میں تھا۔ اس نے شیخ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایک عالی شان خانقاہ تعمیر کرائی اور پھر حضرت بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ سے عرض کیا۔

’’کسی شکستہ مکان یا جھونپڑی میں بیٹھنا آپ جیسے بزرگوں کے شایان شان نہیں۔ اس خانقاہ میں جلوہ افروز ہوکر مخلوق خدا کو مستفیض فرمایئے‘‘

حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ نے ملک نظام الدین کی تعمیر کردہ خانقاہ دیکھی تو نفس کے فریب میں آگئے۔ عمارت کے دلکش نقش و نگار، خوبصورت حجرے اور طویل و عریض لنگر خانے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر آرام و آسائش کے سارے اسباب۔۔۔ حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ اس اظہار عقیدت سے بہت خوش ہوئے اور ملک نظام الدین کی بہت تعریف کی۔

ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ملک نظام الدین حکومت کے زیر عتاب آگیا اور اس سے حساب طلب کرلیا گیا۔ شاہی خزانے کی ایک بڑی رقم نظام الدین کے ذمے نکلتی تھی پھر جب حکومت نے اپنی تفتیش کا دائرہ وسیع کیا تو حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ کو بھی یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ معاملہ خانقاہ کی تعمیر سے گزر کر کہیں ان کی ذات تک نہ پہنچ جائے۔ اسی خطرے کے پیش نظر حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اﷲ علیہ کو ایک خطر تحریر کیا۔

’’میرے بزرگ دوست! واضح ہو کہ ملک نظام الدین عدالت کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے ہے اور اس فقیر سے عقیدت رکھتا ہے۔ اسی شخص نے میرے لئے خانقاہ کی تعمیر کرائی اور درویشوں کی خدمت کے لئے نعمت و دعوت کے سامان فراہم کئے۔ اب اچانک ملک نظام الدین سے حساب طلب کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے میری طبیعت سخت پریشان ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ تمہاری پوری زندگی ایک کرامت ہے۔ اس لئے تم سے درخواست گزار ہوں کہ ملک نظام الدین کی رہائی کے لئے دعا فرمائیں تاکہ درویشوں کا کاروبار درست رہے۔ مجھے امید ہے کہ جناب اس سلسلے میں فوری توجہ فرمائیں گے۔ والسلام‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنے پیربھائی اور بزرگ دوست کے خط کو کئی بارپڑھا۔ ہر مرتبہ آپ کے چہرے پر اداسی کا رنگ نمایاں ہوجاتا تھا پھرآپ نے خط کے جواب میں لکھا۔

’’عزیز الوجود کا رقعہ ملا جسے پڑھ کر خوشی ہوئی اور افسوس بھی۔ خوشی اس لئے کہ ایک مدت دراز کے بعد میرے پیرومرشد کی نشانی نے مجھے یاد کیا۔۔۔ اور افسوس اس لئے کہ میرا بزرگ دوست اس وقت پریشانی کے دور سے گزر رہا ہے۔ تمہارے ساتھ جو کچھ پیش آیا ہے، وہ خلاف توقع نہیں ہے جو لوگ اپنے بزرگوں کے طریقہ کار پر کاربند نہیں ہوتے، انہیں ایسی ہی پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ تم ہی بتاؤ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کون ایسا تھا جس نے اپنے لئے ایک محل نما خانقاہ تعمیر کرائی ہو اور اس میں شان سے جلوہ افروز ہوا ہو۔‘‘

حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کا اشارہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اﷲ علیہ کی طرف تھا۔ شاہان وقت ان دونوں بزرگوں کے عقیدت مند تھے۔ اگر حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت قطب رحمتہ اﷲ علیہ ہلکا سا اشارہ بھی کردیتے تو سلطان قطب الدین ایبک اور سلطان شمس الدین التمش ایسی خانقاہیں تعمیر کرادیتے کہ ان کے آگے قصر شاہی کی رونق و دلکشی بھی ہیچ ہوتی۔ حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی اپنے بزرگوں کی اسی روش پر قائم رہے اور جب حضرت شیخ بدر الدین غزنوی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنا راستہ تبدیل کیا تو آپ نے کسی رعایت کے بغیر کہہ دیا کہ بزرگوں کے طریقے سے انحراف کرنے والے ہمیشہ اسی قسم کی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔

*۔۔۔*۔۔۔*

یہی وہ صفات عالیہ تھیں کہ جن کے اثر سے حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ کی ایک ایک سانس نے کرامت کا رنگ اختیار کرلیا تھا۔ اولیائے کرام کے بارے میں خود باری تعالیٰ کا ارشاد مقدس ہے کہ ۔۔۔’’اس دن اﷲ کے دوستوں کو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کسی غم میں مبتلا ہوں گے‘‘

کرامت کے منکرین کہہ سکتے ہیں کہ اﷲ کا یہ وعدہ آخرت کے لئے ہے مگر یاد رہے کہ خالق کائنات نے اس مادی دنیا میں بھی اپنے دوستوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑ دیا ہے۔

ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر تم ہی غالب رہوگے۔

اور ایک مقام پر فرمایا کہ ہم بندہ مومن کی آنکھ بن جاتے ہیں۔ اس کا ہاتھ بن جاتے ہیں۔

علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں اسی آیت مقدسہ کی تفسیر پیش کی۔

دست ہے اﷲ کا بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب وکار آفریں کارکشا کارساز

علامہ اقبال نے اپنے ایک اور شعر میں بندۂ مومن کے اعلیٰ مقام کی طرف اشارہ کیا ہے

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا

تو کرلیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا

بے شک! حضرت بابا فرید رحمتہ اﷲ علیہ بھی یقین کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔۔۔ اور اسی یقین نے آپ کے ہر حوالے اور تعلق کو سربلندی بخشی تھی۔

حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ’’میں ایک دن پیرومرشد کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ کی ریش مبارک سے ایک بال گرگیا۔ میں فورا اپنی جگہ سے اٹھا اور عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو اسے تعویذ بنالوں؟‘‘

جواباً حضرت شیخ نے فرمایا ’’مولانا نظام الدین! تمہارے لئے مناسب ہوگا‘‘

میں نے پیرومرشد کی اس نشانی کو کاغذ میں لپیٹ کر اپنی دستار میں محفوظ کرلیا پھر جب میں اجودھن سے دہلی پہنچا تو میرا یہ دستور تھا کہ جب بھی کوئی بیمار شخص طبیبوں اور حکیموں سے مایوس ہوکر میرے پاس دعا کرانے کے لئے آتا تو میں اسے یہ تعویذ دے دیتا اور ساتھ ہی ہدایت کردیتا کہ جب وہ صحت یاب ہوجائے تو تعویذ مجھے واپس کردے۔ بفضل خدا اس تعویذ کی برکت سے بے شمار لوگ شفایاب ہوئے۔ ان میں بہت سے مریض ایسے بھی تھے جن کی زندگی کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی۔

باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں