۱۲۴۔ واذا بتلیٰ ابرٰہیم ربہ بکلمٰت فاتمھن، قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی، قال لا ینال عہدی الظٰلمین O

اور جب کہ جانچا ابراہیم کو ان کے پروردگار نے چند باتوں میں، تو سرانجام دیا انہیں۔ فرمایا کہ بیشک میں کردینے والا ہوں تمہیں لوگوں کیلئے پیشوا۔ عرض کی اور میری نسل سے، فرمایا نہ پہنچے گا میرا مضبوط عہد اندھیر والوں کو

بنی اسرائیل کے واقعات سے اب ذرا یہ دیکھو کہ وہ ابراہیم جو بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل، سب کے مورث اعلیٰ تھے اور جن سے یہودیوں، نصرانیوں، بلکہ مشرکوں کو بھی عقیدت مندی ہے۔ جن کو اپنی اپنی زبان میں کوئی ابراہیم، کوئی ابرہام اورکوئی ’برہما‘‘ کہتا ہے۔ ان کی پیدائش تو مقام ’’سوس‘‘ کی ہے جو سرزمین ’’اہواز‘‘ کی ایک مشہور آبادی ہے۔ ان کے والد انہیں اپنے ہمراہ ’’بابل‘‘ لے گئے تھے جہاں ’’نمرود‘‘ کی حکومت تھی اور وہیں بس گئے۔ ان کے حالات کو سنو اور دیکھو، کہ یہود ونصاریٰ وغیرہ تمام کفاران سے، باوجود عقیدت کے، کس قدردور ہیں۔ اور مسلمان اور مسلمانوں کا ایمان ان سے کتنا قریب ہے، کہ اسلام نے ان ہی باتوں کا حکم دیا ہے۔ (اور جب کہ جانچا) حضرت (ابراہیم کو ان کے پروردگار نے) گنتی کی (چند باتوں میں)، مثلاً نبوت سے پہلے ستاروں اور چاند اور سورج کو دیکھنا، اور یکے بعد دیگرے ہر ایک کی الوہیت کو باطل کردینا۔ اور نبوت کے بعد اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اپنے پروردگار کے حکم سے قربان کرنے کا حکم بجالانا۔ اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ عجمیوں کے انداز سے ممتاز رہنے کے لئے مونچھ کترایا کریں(کم کریں) اور داڑھی لٹکی رکھیں(ایک مٹھی) کہ مردانہ شکل و صورت میں زیبائش پیدا ہو۔ مسواک کریں، کلی کریں، ناک میں پانی ڈال کر صاف کریں، تاکہ منہ اور ناک میں صفائی رہے۔ منہ کی صفائی سے کھانا اپنی لذت دے اور بیماریوں سے حفاظت ہو۔ ناک کی صفائی سے میل دور رہے۔ یہ بھی حکم دیا تھا کہ ناخن ترشوالیں، کہ اس میں انگلیوں کی آرائش ہے۔ ناخن بڑھنے سے میل جمتی ہے اور دیکھنے والے کواس سے گھن لگتی ہے۔ یہ بھی حکم تھا کہ ہاتھ، پاؤں، گھائیوں کو دھولیا کریں، اس میں آرائش بھی ہے اور گندگی سے حفاظت بھی ہے۔ یہ بھی حکم دیا تھا

کہ بغل کے بال صاف کرالیں اور موئے زیر ناف کو بھی دور کرتے رہیں کہ اس سے طبیعت کی پاکیزگی اور احساس کی لطافت ظاہر ہوتی ہے۔ پانی سے استنجا کا حکم ہوا تھا کہ بدن گندگی سے پاک و صاف رہے۔ ختنہ کا حکم دیا گیا تھا کہ وہاں ختنہ نہ ہونے پر جو میل اور گندگی جمع ہوتی ہے، ایسی صورت نہ ہونے پائے اور سر میں مانگ نکالنے کا بھی حکم دیا تھا ، کہ چہرے کی زیبائش بڑھ جائے۔ ان حکموں کو حضرت ابراہیم اس طرح بجالاتے تھے جس طرح فرض کو ادا کرنے کا حق ہے۔ اپنے رب کا حکم پایا (تو سرانجام دیا انہیں) اور پوری تعمیل کرکے دکھادیا۔ اب اے غیر مسلمو! دیکھو کہ حضرت ابراہیم کو تم اپنا کہتے ہو، لیکن جوان کا طریقہ تھا وہ تمہارا طریقہ نہ رہ گیا۔ اور مسلمانوں کو دیکھو کہ ان تمام چیزوں کو انجام دینا اپنے لئے سنت جانتے ہیں اور اپنے دین کوابراہیمی ملت قرار دیتے ہیں۔ انہیں حضرت ابراہیم کا واقعہ ہے کہ ان سے (فرمایا) تھا اﷲ تعالیٰ نے (کہ) اے ابراہیم (بیشک) وشبہ (میں کردینے والا ہوں) اور بنانے والا ہوں (تمہیں) عام (لوگوں کے لئے) ایسا (پیشوا) جس کی اطاعت واجب ہو۔ اور بغیر اس کی پیروی کے نجات آخرت نہ حاصل ہو۔ اس خوشخبری کو سن کر حضرت ابراہیم کو اولاد یاد آئی۔ چنانچہ عرض کی کہ مجھ پر تو بڑا کرم ہوا (اور) جو (میری نسل سے) ہوں گے، ان کا کیا حال ہوگا؟ اﷲ تعالیٰ نے (فرمایا) کہ جو میرا مضبوط عہد تم سے ہے وہ تمہاری خاطر سے تمہاری نسل سے بھی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ (نہ پہنچے گا) یہ (میرا مضبوط عہد) تمہاری نسل میں (اندھیر) مچانے (والوں کو) کہ امامت کافروں کو نہیں مل سکتی۔