چار انسانوں کا ’’ بے گناہ‘‘ قاتل

in Articles, Tahaffuz, April 2011, ا د ا ر یے, ظہیر اختر

ریمنڈ ڈیوس کے کئی نام ہیں، کئی کام ہیں، کئی ذمے داریاں ہیں، لیکن اس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ امریکی ہے۔ اور ایک امریکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہے، جہاں چاہے قتل کرسکتا ہے۔ یہ کسی ڈپلومیٹ کا حق نہیں کیونکہ عام طور پر کسی بھی ملک کے سفارت کار، کسی ملک میں بلاکسی وجہ کے کسی کو قتل نہیں کرتے لیکن ایک امریکی کسی بھی ملک میں جس کو چاہے قتل کرسکتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے بھی اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے لاہور میں دو افراد کو ایسے جدید اسلہے سے قتل کردیا جو غیر قانونی اسلحہ تھا، جس وقت ریمنڈ ان بے گناہ لوگوں پر گولیاں برسا رہا تھا، اس وقت غالباً اس کو یہ یقین تھا کہ اس کی حکومت اسے کسی نہ کسی حوالے سے بچالے گی۔ سو امریکی حکومت اعلیٰ ترین سطح پر حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ وہ بلاتاخیر ریمنڈ ڈیوس کو اس کے حوالے کردے اور یہ کہ ایک سفارت کار کی حیثیت سے ریمنڈ کو ویانا کنونشن کے تحت جو تحفظ حاصل ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس پر مقدمہ نہ چلایا جائے۔ پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس کے خلاف ہر حلقے میں ہر سطح پر احتجاج جاری ہے۔ اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ حکومت نے امریکی دباؤکو قبول نہ کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے اور عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ داخل کردیا ہے۔ پاکستان کے عوام اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد مطالبہ کررہے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق مقدمہ چلایا جائے اور سزا دی جائے۔ اسی حوالے سے عوامی دباؤ اتنا شدید ہے کہ اگر حکومت چاہے بھی تو وہ اب ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالے نہیں کرسکتی۔

ریمنڈ ڈیوس کی گولیوں سے اگرچہ دو افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن ڈیوس اصل میں چار افراد کا قاتل ہے۔ اس کی گولیوں سے دو افراد قتل ہوئے، اس کے ساتھ سفر کرنے والی گاڑی نے جان بوجھ کر ایک شخص کو کچل دیا اور اس کی گولیوں سے قتل ہونے والے ایک شخص کی بیوہ نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زہریلی گولیاں کھالیں اور جان دے دی۔ یوں اس پر چار افراد کے قتل کا الزام ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ویانا کنونشن کی منظوری دینے والوں کے ذہنوں میں کیا حقائق تھے، لیکن اگر اس کنونشن سے کسی ملک کے سفارتی عملے کو بے گناہ عوام کے قتل کا لائسنس مل جاتا ہے تو یہ سفارتی مراعات نہیں بلکہ سفارتی جرم ہے اور اس قسم کے سنگین جرائم کو تحفظ دینے کا مطلب سفارتی عملے کو قتل و غارت اور دوسری غیر قانونی سرگرمیوں کے لئے کھلی چھوٹ دینا ہے۔ موجودہ ترقی یافتہ مہذب دنیا میں اس قسم کے سفارتی تحفظات کا مطلب جنگل کے قانون کو سفارت کاروں کے ہاتھ میں دینا ہے۔

اس قسم کا آئینی تحفظ پاکستان کے آئین نے صدر مملکت کو بھی عطا کیا ہے کہ دوران صدارت وہ کیسے ہی دیوانی اور فوج داری جرائم کا ارتکاب کرے، کوئی عدالت اس قسم کے جرائم کے خلاف صدر مملکت پر مقدمہ چلا سکتی ہے نہ اسے عدالت میں طلب کرسکتی ہے۔ این آر او کے حوالے سے اس آئینی تحفظ کے خلاف عدالتی لڑائی جاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے جرائم سے سفارت کاروں یا صدر کو تحفظ دینے کا مطلب جنگل کے قانون کو رواج دینا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں امریکی حکومت کے موقف بدلتے رہے ہیں۔ کبھی اسے سفارت خانے کا ایک ملازم کہا گیا اور کبھی اسے سفارتی عملے میں شامل کرکے ویانا کنونشن میں موجود مراعات دلانے کی کوشش کی گئی۔

امریکا دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور انسانی حقوق میں سب سے بڑا حق انسان کے لئے زندہ رہنے کا حق ہے۔ اگر امریکا ویانا کنونشن کی آڑ میں کسی شہری سے اس کے زندہ رہنے کے حق کو چھین لینا چاہتا ہے تو نہ صرف یہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے بلکہ اس قسم کی کھلی دھاندلیوں سے امریکا کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کے قبضے سے کچھ اہم تصاویر اور نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں جس سے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ریمنڈ پاکستان میں امریکی جاسوس کا کردار بھی ادا کررہا تھا۔ جاسوسی ایک ایسا سنگین جرم ہے جس کو کوئی کنونشن تحفظ نہیں دے سکتا۔

امریکا ایک طویل عرصے سے عراق اور افغانستان میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کو قتل کررہا ہے اور ان امریکی قاتلوں کو تو ویانا کنونشن کا تحفظ بھی حاصل نہیں۔ عراق اور افغانستان میں امریکا دفاعی جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ان ملکوں خصوصا افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کررہا ہے۔ آج کے دور میں دہشت گردی بلاشبہ ایک وحشیانہ جرم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جنگ میں کیا صرف دہشت گرد ہی امریکی گولیوں اور میزائلوں کا نشانہ بن رہے ہیں یا بے گناہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی امریکی گولیوں کا نشانہ بن رہی ہے؟ خاص طور پر ڈرون حملوں میں جو بے گناہ شہری مارے جارہے ہیں، کیا امریکا کے پاس اس قتل عام کا کوئی منطقی جواز ہے؟ کیا ان بے گناہ انسانوں کا قتل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا ان جرائم پر معذرت کا پردہ ڈالا جاسکتا ہے؟

ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں شرکت کرنے والے ’’سرکاری دانشور‘‘ بڑے شاطرانہ انداز میں ریمنڈ ڈیوس کو امریکی سفارت خانے کا اہلکار ثابت کرکے اسے سفارتی مراعات کا حق دار ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ عوام کو یہ خوف بھی دلا رہے ہیں کہ اگر ریمنڈ کو رہا نہ کیا گیاتو امریکا پاکستان پر ایسی اقتصادی پابندیاں لگائے گا کہ پاکستان کا زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے اپنے طبقاتی مفادات اور لوٹ مار کی آزادی کے بدلے پاکستان کو امریکا کا غلام بنا کر رکھ دیا ہے اور پاکستانی معیشت امریکا کی حکومت اور امریکا کی سرپرستی میں کام کرنے والے عالمی مالیاتی اداروں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر زندہ رہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقتصادی پابندیوں کے خوف سے پاکستان اپنے قانون اور انصاف کی دیواروں کو پھلانگ کر ریمنڈ ڈیوس کے کئے ہوئے چار قتل کو معاف کردے؟

امریکا اپنی فوجی طاقت، اقتصادی برتری اور سیاسی دھونس کی بنیاد پر ہر اس ملک کے خلاف سیاسی اور اقتصادی جارحیت کا ارتکاب کرتا رہتا ہے جو اس کے حکم پر چلنے، اس کی سیاسی اطاعت سے انکار کرتا ہے۔ اس حوالے سے ایران ایک طویل عرصے سے امریکا کے اقتصادی عتاب کا شکار ہے جس کی وجہ سے اسے بلاشبہ بہت ساری اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے لیکن ایران کی حکومت امریکی پابندیوں کا بے جگری سے مقابلہ کررہی ہے اور وہ اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے پر اس لئے آمادہ نہیں کہ اس حوالے سے اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا ریمنڈ ڈیوس کے مسئلہ پر پاکستان سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے رہا ہے لیکن پاکستان کے عوام کے شدید دباؤ کی وجہ سے پاکستان کی حکومت ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالے کرنے سے معذرت کا اظہار کررہی ہے۔ دنیا میں قانون اور انصاف کے سب سے بڑے علمبردار امریکا کی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو محض ایک امریکی فوجی پر حملہ کرنے کے بوگس جرم پر 86 سال قید کی سزا دے چکی ہے۔ عافیہ کی سزا اور ریمنڈ ڈیوس جیسے چار افراد کے قاتل کی رہائی کا مطالبہ امریکی حکمران طبقے کے منہ پر کالج کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن چونکہ موجودہ امریکی صدر کا تعلق کالی نسل سے ہے لہذا ان کے چہرے پر عافیہ اور ریمنڈ کی کالک دکھائی نہیں دے گی۔ اس حوالے سے اہم مسئلہ وہ عالمی یا علاقائی قوانین ہیں جو ڈاکوؤں، لٹیروں اور قاتلوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مجرموں کو قرار واقعی سزائیں دلوانے کے لئے ایسے امتیازی قوانین میں تبدیلی ضروری ہے۔