کرشن کی جنم اشٹمی، کرسمس اور ماتمی جلسہ

in Articles, Tahaffuz, April 2011, متفرقا ت, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

ہندوؤں کے عقیدہ کے مطابق اصل دیوتا (خدا) تین ہیں، برہما، وشنو، شیو۔ باقی جتنے بھی خدا ہیں وہ سب ان دیوتاؤں کے اوتار (روپ) ہیں۔ ہندوؤں کے مطابق برہما پیدا کرتا ہے، وشنو پالتا ہی اور شیو موت دیتا ہے۔ ان دیوتاؤں میں سے صرف وشنو کئی صورتوں میں دنیا میں آیا اور دنیا کی پرورش وغیرہ کی اور جلد ہی اس کو خدائے مطلق کا درجہ حاصل ہوگیا۔ ہندوؤں کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وشنو دیوتا کتبی مرتبہ دنیا میں پیدا ہوا اور کتنی مرتبہ مرا۔ البتہ ہندوؤں کے سب فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ وشنو کی کم از کم 9 مرتبہ پیدائش اور موت ہوچکی ہے اوران میں سے آٹھویں دفعہ وشنو جب پیدا ہوا تو اس کا نام کرشن جی رکھا گیا۔ ہندوؤں کے دو فرقوں یعنی کوروں اور پانڈوں کے درمیان ایک زبردست طویل جنگ ہوئی تھی جس میں کرشن نے پانڈوؤں کی طرف سے شرکت کی تھی اور ان کو فتح سے ہمکنار کروایا تھا اور یہی جنگ اس کی شہرت کا باعث بنی تھی۔ جس دن کرشن پیدا ہوا تھا، اس دن کو ہندوؤں نے تہوار کا دن قرار دیا اور اس کے جنم دن کے تہوار کو وہ ’’کرشن جی کی جنم اشٹمی‘‘ کے نام سے مناتے ہیں۔

کسی مسلمان کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کرشن کی جنم اشٹمی میں شرکت کرے اور ہندوؤں کے کندھے سے کندھا ملا کر اس تہوار کو منائے، لیکن حیرت ہے ان لوگوں پر جو میلاد مصطفیﷺ کو تو بدعت اور شرک کہہ دیتے ہیں، لیکن کرشن جی کی جنم اشٹمی میں انتہائی عیدت و احترام کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیا اس وجہ سے کہ یہاں دو عالم کے سردارﷺ کی ولادت کا دن ہے اور وہاں شیطان کے چیلے کے جنم کا دن ۔ لاحولہ ولاقوۃ الا باﷲ

ان کو بغض نبی نے ہربند سے آزاد کیا

لاکے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیا

جی ہاں! اہل حدیث فرقہ کے زبردست عالم اور پیشوا شیخ سلیمان منصور پوری نے اس شرکیہ اور ناپاک جنم اشٹمی میں شرکت کی اور ناصرف شرکت کی بلکہ وہاں ایک زبردست خطاب بھی کیا، کیا یہ خطاب ہندو مذہب کے رد پر تھا؟ نہیں بلکہ شیخ سلیمان نے ان کو اس تقریر میں ہندو مذہب کے متعلق وہ معلومات دیں جو بڑے بڑے پنڈتوں کو بھی معلوم نہ تھیں، چنانچہ مشہور و معروف وہابی سیرت نگار محمد اسحاق بھٹی لکھتے ہیں:

ہندو مذہب کے متعلق بھی انہیں (یعنی قاضی محمد سلیمان منصور پوری وہابی کو) بڑی معلومات حاصل تھیں۔ ایک مرتبہ پٹیالہ میں کرشن جی مہاراج کی جنم اشٹمی پر ہندوؤں نے جلسہ کیا، جس میں ریاست پٹیالہ کے ہندو مقرر اور پنڈت بھی شامل تھے اور مختلف علاقوں اور شہروں سے بھی بعض ہندواپیشکوں اور پرچارکوں کو بلایا گیا تھا۔ جلسے کے اصحاب انتظام نے قاضی صاحب کو بھی شرکت و تقریر کی دعوت دی۔ قاضی صاحب نے اس جلسے میں جو تقریر کی، ہندو اس سے بہت متاثر ہوئے، وہ حیران تھے کہ اس موضوع سے متعلق اتنی معلومات انہیں کہاں سے حاصل ہوئیں، وہ تقریر اس دور کے ہندوؤں کے کئی رسائل و جرائد میں شائع ہوئی اور اس کی وساطت سے اس موضوع کی بہت سی نئی باتیں لوگوں کے علم میں آئیں۔ بہت سے تعلیم یافتہ ہندو پوچھتے تھے کہ قاضی صاحب نے یہ نادر معلومات کہاں سے حاصل کیں (سیرت قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 10، مکتبہ سلفیہ شیش محل لاہور)

سیدنا عیسٰی علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام، عیسائیوں کے نزدیک اﷲ کے بیٹے ہیں، ان کے نزدیک 25 دسمبر کو معاذ اﷲ، اﷲ کے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور اس دن میں وہ خوشی کا اظہار رقص و سرور، شراب و کباب، زبردست فحاشی اور عریانی سے کرتے ہیں۔ نہایت تعجب کی بات ہے کہ اہلحدیث فرقہ نہ ماننے پر آئے تو عیدالفطر اور عیدالضحیٰ کے علاوہ کسی دن کو عید ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور 12 ربیع الاول کو عید کہنے پر تو وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ دشمنی نکالتاہے، اور اگر ماننے پر آئے تو کرسمس جیسی ناپاک اور فحش عیسائی مذہبی رسم کو بھی عید ماننے اور اس میں خوشی منانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے، کسی نے ان کے متعلق کیا خوب کہا ہے:

کرسمس میں تم ہو نصاریٰ تو اشٹمی میں ہنود

یہ وہابی ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود

چنانچہ غیر مقلدین کے زبردست مفسر و محدث شیخ وحید الزماں صدیقی نے لکھا:

واما الفرح فی عید کرسمس اعنی یوم ولادۃ سیدنا عیسٰی بن مریم فلافرح یوم ولادۃ نبینا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ بارک وسلم ونحن احق بموسی و عیسٰی وسائر الانبیاء من الکفار

یعنی: رہا کرسمس کی عید یعنی حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے یوم پیدائش پر خوشی کرنا جیسا کہ ہمارے نبیﷺ کے یوم پیدائش پر خوشی کی جاتی ہے تو ہم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰی اور تمام انبیاء علیہم السلام کی خوشی منانے میں کافروں سے زیادہ حقدار ہیں

(ہدیۃ المہدی ص 46، شرجمعیت اہلسنت لاہور)

فرقہ اہلحدیث کے بعض مناظر مجلس میلاد کا سختی سے رد کرتے ہیں اور اس کو بدعت کہنے میں شک و شبہ کو بھی دخل نہیں دیتے چنانچہ ان کے مذہب کے مشہور و معروف مناظر ثناء اﷲ امرتسری نے مجلس میلاد کے بارے میں فتویٰ دیا کہ لکھا:

’’اس کے بدعت ہونے میں کیا شک ہے‘‘

(فتاویٰ ثنائیہ جلد 1ص 115، مطبوعہ مکتبہ ثنائیہ سرگودھا)

ولادت مصطفیﷺ کی مجلس اس فرقہ کے نزدیک بدعت ہوئی تو کسی کی وفات کی مجلس وجلسہ بھی ان کے نزدیک بدعت ہونا چاہئے تھا اور اگر وہ جلسہ ماتمی ہو تو پھر تو اس کے بدعتی ہونے میں کسی قسم کے شک و شبہ کو دخل بھی نہیں ہونا چاہئے تھا، لیکن اس فرقہ کے نزدیک فخر دوعالمﷺ کے ولادت کی مجلس تو بدعت ہے لیکن اپنے مولوی کی وفات کا ماتمی جلسہ بالکل جائز و ثواب ہے، چنانچہ وہابی سیرت نگار محمد اسحاق بھٹی اپنے ہم مسلک مولوی محمد سلیمان منصور پوری کی موت پر اہلحدیث فرقہ کے بڑے مرکز مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ کے طلباء اور اساتذہ کا ماتمی جلسہ کا نقشہ کچھ یوں کھینچتے ہیں:

جمیع طلبائے رحمانیہ کا یہ ماتمی جلسہ مولانا قاضی محمد سلیمان صاحب پٹیالوی کی وفات پر کامل درد وغم کا اظہار کرتا ہوا ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے

(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 401، مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل لاہور)

تعصب چھوڑ، ناداں نجدیت کے آئینہ خانے میں

یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے

فتاویٰ الحدیث میں میلاد شریف کو بدعت ثابت کرنے کے لئے وہابی مولوی ثناء اﷲ نے کئی صفحے کالے کرڈالے، یہاں تک کہ ولادت مبارکہ کے ذکر کو بھی متنازعہ قرار دے کر بدعت کی فہرست میں داخل کرتے ہوئے لکھا کہ ’’واضح رہے کہ مولود متنازعہ یہ ہے‘‘ مجلس میں قرآن خوانی، نعت خوانی، ذکر ولادت الخ‘‘

(فتاویٰ ثنائیہ جلد 1ص 127، مکتبہ ثنائیہ سرگودھا)

لیکن! جب خود اپنے مولوی کے ذکر ولادت کا تذکرہ چھڑتا ہے تو سب کچھ جائز ہوجاتا ہے، جی ہاں! غیر مقلدین کے زبردست مولوی محمد علی لکھوی نے برسر منبر، جمعہ کے خطبہ میں خود اپنے ولادت کا ذکر اس دلکش انداز میں کیا کہ تمام وہابی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، اور سب نے رونا شروع کردیا۔ چنانچہ وہابی سیرت نگار محمد اسحاق بھٹی نے اس بارے میں کچھ اس طرح لکھا:

مولانا محمد علی نے خطبہ جمعہ میں اپنی پیدائش کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا ’’میں مرزا غلام احمد قادیانی کی بددعا کا نتیجہ ہوں، یہ الفاظ انہوں نے کچھ اس انداز سے کہے اور پورا واقعہ اس اسلوب سے ان کی زبان سے ادا ہوا کہ سامعین کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘‘

حضرات محترم! کسی وہابی نے اپنے مولوی کو یہ نہیں کہا کہ جب ہم اپنے نبی کے ولادت کے تذکرہ کو جائز نہیں سمجھتے تو آپ کو بھی اپنے ذکر ولادت کی اجازت نہیں، لیکن کسی وہابی نے اپنے مولوی کو اس سے نہیں روکا، کیا اس وجہ سے کہ وہاں نبی کا معاملہ تھا اور یہاں اپنے گھر کے مولوی کا معاملہ ہے، نعوذ باﷲ تعالیٰ۔

ظالمو! محبوب کا حق تھا یہی

عشق کا بدلے عداوت کیجئے

ہم قارئین کو دعوت انصاف دیتے ہیں کہ وہ لوگ جو میلاد مصطفی کے مقابلہ میں جنم اشٹمی، کرسمس، ماتمی جلسہ کو ترجیح دیتے ہیں کیا وہ حقیقی مسلمان کہلانے کے حق دار و مستحق ہوسکتے ہیں یا نہیں؟