بچے کی غیبت کرنا کیسا؟

ابو داؤد بیہقی نے عبداﷲ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں : رسول اﷲﷺ ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے۔ میری ماں نے مجھے بلایا کہ آؤ تمہیں دوں گی۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیاچیز دینے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کھجھور دوں گی۔ ارشاد فرمایا ’’اگر تو کچھ نہیں دیتی تو یہ تیرے ذمے جھوٹ لکھا جاتا‘‘ (سنن ابو داؤد، جلد 4، ص 384، حدیث 4991)

دیکھا آپ نے! بچوں کے ساتھ بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں، افسوس! آج کل بچوں کو بہلانے کے لئے اکثر لوگ جھوٹ موٹ اس طرح کہہ دیا کرتے ہیں کہ تمہارے لئے کھلونے لائیں گے، ہوائی جہاز لاکر دیں گے وغیرہ۔ اسی طرح ڈرانے کے لئے اکثر مائیں بھی جھوٹ بول دیا کرتی ہیں کہ وہ بلی آئی، کتا آیا وغیرہ۔ جن لوگوں نے ایسا کیا ان کو چاہئے کہ سچی توبہ کریں۔

جس طرح بچے کے ساتھ جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں، اسی طرح اس کی غیبت کی بھی ممانعت ہے۔ خواہ ایک ہی دن کا بچہ ہو، بلا مصلحت شرعی اس کی بھی برائی بیان نہ کی جائے۔ ماں باپ اور گھر کے دیگر افراد کے لئے لمحہ فکریہ ہے، ان کو چاہئے کہ بلا ضرورت اپنے بچوں کو پیچھے سے (اور منہ پر بھی) ضدی، شرارتی، ماں باپ کا نافرمان وغیرہ نہ کہا کریں۔

حضرت علامہ عبدالحئی لکھنوی علیہ رحمہ اﷲ القوی فرماتے ہیں: حضرت علامہ سیدنا ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی نے امام ابن حجر علیہ رحمتہ اﷲ الاکبر سے نقل کیا ہے ’’ جس طرح بالغ کی غیبت حرام ہے اسی طرح نابالغ اور مجنون (یعنی پاگل) کی غیبت بھی حرام ہے‘‘ (ردالمحتار ج 6 ص 686) لیکن راقم الحروف (یعنی مولانا عبدالحئی صاحب) کے نزدیک تفصیل بہتر ہے

(1) ایسا نابالغ بچہ جو فی الجملہ (یعنی تھوڑی بہت) سمجھ رکھتا ہو کہ اپنی تعریف پر خوش اور برائی سے ناخوش ہوتا ہو جیسا کہ معتوہ (یعنی آدھا پاگل بھی اپنی تعریف اور مذمت کی سمجھ رکھتاہے) تو ایسے نابالغ (بچے) کی غیبت جائز نہیں۔ اسی طرح نیم پاگل کی بھی ناجائز ہے۔

(2) ایسے ناسمجھ بچے (مثلا دودھ پیتے بچے) اور پاگل کی بھی غیبت جائز نہیں جن کا کوئی والی وارث ہے، بے شک وہ بچہ یا پاگل اپنی تعریف یا برائی سمجھنے کی تمیز نہیں رکھتا تاہم ان کے عیب بیان کرنے سے ان کے ماں باپ وغیرہ کو برا لگے گا۔

(3) ایسا لاوارث بوہ یا لاوارث پاگل جو اپنی تعریف و غیبت سے خوش اور ناخوش ہونے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس کی غیبت جائز ہے، مگر زبان کو ایسوں کی غیبت سے بھی روکنا ہی بہتر ہے (کیونکہ بعض فقہائے کرام رحمہم اﷲ السلام نے مطلقاً یعنی ایک دن کے بچے اور مکمل پاگل کی غیبت کو بھی حرام قرار دیا ہے (ماخوذ از: غیبت کیا ہے ص 21-20(

بہرحال پاگل ہو یا سمجھدار، بالغ ہو یا نابالغ، بوڑھا ہو یا دودھ پیتا بچہ، ہر ایک کی غیبت سے بچنا چاہئے، بچوں کی غیبتوں کی بے شمار مثالیں ہوسکتی ہین۔ کیونکہ ان کی غیبت کے گناہ ہونے کی طرف بہت کم لوگوں کی توجہ ہے جو منہ میں آیا بول دیا جاتا ہے۔ یہاں نمونتاً صرف 17 مثالیں پیش کی جاتی ہیں جوکئی صورتوں میں غیبت میں داخل ہوسکتی ہیں۔

* بستر گندا کردیتا ہے

* اتنا بڑا ہوگیا مگر تمیز نہیں آئی

* اس کو جھوٹ کی عادت پڑگئی ہے

* چھوٹی بہن کو نوچتا ہے

* چھوٹے منے کو گود میں لو تو بڑا منا حسد کرتا ہے

* دونوں منے ایک دوسرے کی چغلیاں کھاتے رہتے ہیں

* چھوٹا پڑھائی میں بہت ذہین ہے مگر بڑا 8 سال کا ہوا، ابھی تک کند ذہن ہے

* ماں کو بہت تنگ کرتا ہے

* منی رات کو بہت چیختی ہے نہ سوتی ہے نہ کسی کو سونے دیتی ہے

* منے نے غصے میں لات مار کرپانی کا کولر الٹ دیا

* بہت چڑچڑا ہوگیا ہے

* بات بات پر روٹھ جاتا ہے

* روزانہ کھانے کے وقت جھگڑتا ہے

* پڑھنے میں کمزور ہے

* بڑی بچی نے چھوٹی والی کو بال کھینچ کر گرادیا

* بس لڑتا ہی رہتا ہے

* صبح اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں مگر جواب نہیں دیتا وغیرہ

عموما بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور دیگر گھر والوں کو اپنی تتلی زبان میں یا اشاروں سے غیبتیں کرتے رہتے ہیں اور گھر والے ہنس ہنس کر داد دیتے ہیں، کبھی کسی کو لنگڑاتا دیکھ لیتے ہیں تو خود بھی اس کی نقل اتارتے ہوئے لنگڑا کر چلتے ہیں اور گھر والوں سے داد وصول کرتے ہیں حالانکہ کسی معین و معلوم معذور کی اس طرح کی نقالی بھی غیبت ہےﷺ باپ جب کام کاج سے شام کو لوٹتا ہے تو عام طور پر بچہ یا بچی دن بھر کی ’’کارکردگی‘‘ سناتے ہیں، اس سے لطف تو بہت آتا ہے مگر اس کارکردگی میں غیبتوں کی بھی اچھی خاصی بھرمار ہوتی ہے۔ بچوں کو تو گناہ نہیں ہوتا مگر اولاد کی صحیح تربیت کرنا چونکہ والدین کی ذمے داری ہے اور یوں بچوں کی زبانی غیبتیں سننے سے اولاد کی غلط تربیت ہوتی ہے لہذا اولاد کی غلط تربیت کا وبال ماں باپ کے سر آجاتا ہے۔ یقیناًبچوں کے غیبت کرنے پر ہنس پڑنے سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ گویا اس طرح غیبت کی تربیت حاصل کرتے رہتے اور بے چارے بالغ ہونے کے بعد اکثر غیبت کے گناہ میں پکے ہوچکے ہوتے ہیں۔ لہذا جب بھی بچہ غیبت کرے، چغلی کھائے یا جھوٹ بولے تو اس کی تتلی زبان سے محفوظ یعنی لطف اندوز ہوتے ہوئے شیطان کے بہکاوے میں آکر ہنسا مت کیجئے، ایسے مواقع پر ایک دم سنجیدہ ہوجایئے اس بات پر اس کی حوصلہ شکنی کیجئے اور مناسب انداز میں اس کو سمجھایئے، جب بار بار اس کو سمجھاتے رہیں گے اور اس کو گھر کا کوئی بھی فرد غیبت وغیرہ پر اسے داد نہیں دے گا تو انشاء اﷲ عزوجل خود بھی غیبت وغیرہ سننے کی آفتوں گناہوں سے بچے رہیں گے اور منا بھی بڑا ہوکر انشاء اﷲ عزوجل نیک بندہ بنے گا اور غیبت وغیرہ سے نفرت رکھے گا۔

ہاں اگر منا محض بولنے کی خاطر بول نہیں رہا بلکہ آپ سے فریاد کرکے انصاف طلب کررہا ہے تو بے شک اس کی فریاد سنئے اور انصاف کیجئے۔ مثلا منا کہنے لگا کہ منی نے میرا کھلونا چھین کر کہیں چھپا دیا ہے تو یہ غیبت نہیں، کیونکہ منا ماں باپ سے فریاد نہیں کرے گا تو کس سے کرے گا، لہذا آپ منی سے اس کا کھلونا لادیجئے۔ اب اگر کھلونا مل جانے کے بعد منا اسی بات کو منی کی غیر موجودگی میں مثلا اپنی امی سے ذکر کرتا ہے کہ ’’منی نے میرا کھلونا چھین کر چھپا دیا تھا تو ابو نے منی کو ڈانٹ پلائی اور مجھے میرا کھلونا واپس دلادیا‘‘ تو یہ بہرحال غیبت ہے اگرچہ بچوں کو اس کا گناہ نہ ہو، عموما بچے جن لوگوں سے مانوس ہوتے ہیں ان کو فریاد کرتے رہتے ہیں تو اگر کسی نے مذکورہ مثال کی مانند فریاد کی اور وہ فریاد رسی یعنی امداد نہیں کرسکتا تو اب غیبت پر مبنی فریاد نہ سنے بلکہ حتی الامکان اچھے انداز میں بچے کو ٹال دے۔

بچوں سے صادر ہونے والی غیبت کی 22مثالیں

* میرا کھلونا توڑ دیا ہے * میری ٹافی چھین کر کھالی * میری آئسکریم گرادی * مجھے پیچھے سے ’’ہاؤ‘‘ کرکے ڈرا دیتا ہے، شریر کہیں کا * مجھ پر بلی کا بچہ ڈال دیا * مجھے ’’گندا بچہ‘‘ کہہ کر چڑاتا ہے * میری نوٹ بک پھاڑ دی * مجھے دھکا دے کر گرادیا * میرے کپڑے گندے کردیئے * اپنی بابا سائیکل میری پاؤں پر چڑھادی * اپنے کپڑے گندے کردیتا ہے * وہ گندا بچہ ہے * امی کے پاس میری چغلیاں لگاتا ہے * جھوٹ بول کر استاد سے مجھے مار کھلائی تھی * امی مدرسے کا بولتی ہے تو روتا ہے * منی امی کو مارتی ہے * استاد نے اس کو کل ’’مرغا‘‘ بنایا تھا * اتنا بڑا ہوگیا مگر نپل چوستا ہے * ہر وقت اس کی ناک بہتی رہتی ہے * روز روز پنسل گھما دیتا ہے * اس دن ابو کی جیب سے پیسے چرا لئے تھے * اس دن امی نے اس کی خوب پٹائی لگائی تھی

مدنی منوں کی غیبتوں سے خود کو بچانے اور ان کا بھی غیبتوں سے بچنے کا ذہن بنانے کے لئے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے ہردم وابستہ رہے۔ مدنی قافلوں کے مسافر بنئے، سنتوں بھرے اجتماعات میں پابندی سے شرکت کیجئے۔ مدنی انعامات کے مطابق اپنی زندگی گزاریئے۔