مفتی سید اکبر الحق شاہ رضوی سے گفتگو

in Articles, Tahaffuz, April 2011, انٹرویوز

سوال: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

جواب: میری پیدائش کراچی میں ہوئی اور 3 جنوری 1972ء تاریخ پیدائش ہے۔

سوال: آپ کے والد کا کیا نام ہے؟

جواب: میرے والد گرامی کا نام سید ظہور احمد ہے۔

سوال: آپ کا نام کس نے رکھا؟

جواب: میرا نام ابتداً محمد اکبر علی رکھا گیا جوکہ میرے پردادا سید محمد اکبر حسین کے مناسبت سے تھا مگر اس میں میرے بعض اعزاء گرامی نے تبدیلی کردی۔

سوال: ابتدائی دنیاوی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

جواب: ابتدائی دنیاوی تعلیم پرائمری تک کراچی ڈے ہائی اسکول نرسری کراچی سے حاصل کی۔

سوال: دینی تعلیم کہاں سے شروع کی اور کہاں مکمل کی؟

جواب: دینی تعلیم کی ابتدا اور انتہا دارالعلوم قادریہ رضویہ سعود آباد ملیرکراچی سے ہے مگر درمیان میں یہ فقیر مختلف مدارس میں پڑھنے کے لئے گیا۔

سوال: دورۂ حدیث کہاں سے اور کن اساتذہ سے کیا؟

جواب: دورہ حدیث پاک حضرت علامہ مفتی اہلسنت ابو الظفر غلام یٰسین امجدی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت علامہ غلام جیلانی دامت برکاتہم العالیہ اور حضرت علامہ سید مبارک حسین شاہ صاحب بخاری دامت برکاتہم العالیہ سے ناچیز نے کیا۔

سوال: آپ کے اساتذہ کے نام کیا ہیں؟

جواب: ہم نے کثیر اساتذہ کرام سے اکتساب فیض کیا جن میں سے بعض ہستیاں یہ ہیں۔

حضرت علامہ مفتی اہلسنت قبلہ عطاء المصطفیٰ اعظمی صاحب، حضرت علامہ مناظر اہلسنت استاذ العلماء صاحب زادہ عبدالحمید چشتی صاحب اور شیخ الحدیث و تفسیر جامع المنقول والمعقول بقیۃ السلف و عمدۃ الخلف مفتی اہلسنت، مفتی اعظم پنجاب حضرت علامہ محمد اشفاق احمد قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ اور حضرت مفتی اعظم پنجاب ہی سے ہم نے فتویٰ نویسی کی تعلیم لی

سوال: آپ کا سلسلہ نسب کتنے واسطوں سے مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ سے ملتا ہے؟

جواب: ہمارا سلسلۂ نسب بقول ہماری دادی اماں اکتالیس واسطوں سے مولائے کائنات علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اﷲ عنہ سے جاملتا ہے۔

سوال: جب آپ فارغ التحصیل ہوئے تو اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟

جواب: ہمارے فارغ التحصیل ہونے کے وقت ہماری عمر چوبیس یا پچیس برس تھی۔

سوال: آپ کس ہستی سے شرف بیعت ہیں؟

جواب: حضرت علامہ صاحب زادہ ضیاء الحسن جیلانی شاہ صاحب سے شرف بیعت حاصل کی۔

سوال: بیعت ہونے کے کیا اسباب بنے؟

جواب: روحانی تسکین اور تعلیم طریقت کے حصول کے لئے سلاسل طریقت کو اپنایا۔

سوال: آپ کے کتنے صاحبزادے اور صاحبزادیاں ہیں؟

جواب: ہماری کوئی اولاد نرینہ نہیں تاہم اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور بوسیلہ نعلین مصطفیﷺ ہمیں پانچ بیٹیاں عطا فرمائیں۔

سوال: فتویٰ نویسی کس عمر اور کس سن میں شروع کی؟

جواب: جب ہماری عمر ستائیس یا اٹھائیس برس ہوئی تو ہم نے فتویٰ نویسی کا آغاز کیا جبکہ اس وقت 1999ء تھا۔

سوال: اب تک کتنے فتوے لکھ چکے ہیں؟

جواب: 1999ء سے لے کر اب تک ایک دو دن میں ایک فتویٰ لکھا جاتا ہے۔

سوال: آپ کتنی کتابوں کے مصنف ہیں؟

جواب: اب تک تو کوئی ضخیم کتاب تحریر نہیں کرسکے مگر کوئی 15-10 کے قریب کتابچے تحریر کرچکا ہوں۔

سوال: آپ کی لکھی ہوئی کتابوں میں سے آپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے؟

جواب: اب تک ہم نے جس قدر کتابیں لکھیں ان میں سب سے زیادہ دلچسپ روضہ پاکﷺ سے نام ’’محمد‘‘ﷺ کیوں ’’ہٹایا‘‘ کتاب ہے۔ کیونکہ اس کتاب کی تحریر کا امر مدینہ طیبہ سے دوران اعتکاف مفتی اعظم پنجاب نے فرمایا تھا۔ نیز مسئلہ شان رسالت مآبﷺ کا تھا سو یہ امر آخر ہماری دلچسپی کا باعث بنا۔

سوال: آپ کا بھی کوئی مدرسہ ہے؟ اس کی صورتحال سے آگاہ فرمائیں؟

جواب: الحمدﷲ بصدقہ سیدنا غوث الوریٰ ایک مدرسہ بنام ’’جامعہ نعمانیہ رضویہ‘‘ سعودیہ کالونی کھوکھرا پار ملیر کراچی تعمیر کرنے کا شرف حاصل کیا جس میں سب سے پہلے ایک مسجد تعمیر کی گئی جس کا نام بغداد سے تشریف لائے ہوئے شہزادہ غوث الوریٰ سیدنا ہاشم الدین الگیلانی دامت برکاتہم العالیہ نے جامع مسجد الجیلانی رکھا۔ پھر مدرسہ کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا جس کا گراؤنڈ فلور مکمل ہوچکا ہے مگر آرائش و زیبائش باقی ہے جبکہ پہلی منزل کا اسٹریکچر مکمل ہوچکا ہے اور انشاء اﷲ تبارک و تعالیٰ اپنے اکابرین کی دعاؤں کے صدقے جلد ہی وہ بھی تکمیل کے مراحل سے گزر جائے گا۔

سوال: سنا ہے کہ آپ نے ملیر سطح پر تمام ائمہ مساجد اور خطباء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ اس کی تفصیلات اور فوائد سے آگاہ فرمائیں؟

جواب: اپنے اکابرین کی راہ پر چل کر سنیّت، حنفیت اور رضویت کو اپناتے ہوئے دینی، ملی اور مسلکی مقاصد کوپانے کے لئے ملیر سطح کے آئمہ مساجد اور خطباء سے رابطہ رکھا جاتا ہے۔ تاکہ بوقت ضرورت ان سے استفادہ کیا جاسکے اور انتشار اور گروہ بندی کے الزام سے نجات حاصل ہو۔

سوال: موجودہ نازک صورتحال میں علماء کرام کو کن کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

جواب: اگرہمارے برادران گرامی علماء حقہ ایک دوسرے کی اعانت فرماتے رہے، چاہیں وہ دینی، شرعی، روحانی، مسلکی ہو یا دنیاوی تو جلد ہی موجودہ دور کے فتنے فسادات فرقہ پرستی و گروہ بندی سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

سوال: موجودہ نازک صورتحال میں عوام اہلسنت کاکیا کردار ہونا چاہئے؟

جواب: موجودہ نازک صورتحال میں عوام اہلسنت پر لازم ہے کہ وہ اپنے اکابرین کی راہ کو مضبوطی سے اختیار کریں۔ اور پیارے نبیﷺ کے دامن کو تھام کے رکھیں اوران کی محبت کے تقاضے بھرپور ادا کریں جس کے لئے انہیں علماء کرام اور پیران عظام کی تعلیمات سے وابستہ ہونا پڑے گا۔

سوال: عوام اہلسنت میں دینی علم حاصل کرنے کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے، اس کا کیا وبال ہوگا؟

جواب: دینی علم سے دوری موت سے کم نہیں۔

سوال: موجودہ ملکی حالات کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

جواب: معاشرے کا ہر فرد جب سچا پکا فرض شناس اور مستعد سپاہی بن جائے تو حالات عروج کی طرف چل پڑتے ہیں ورنہ ناگفتہ حالات ہی رہیں گے۔

سوال: عالم اسلام کو درپیش مشکلات کی کیا وجوہات ہیں؟

جواب: عالم اسلام کو درپیش مشکلات اندرون خانہ تو یہ کہ اعتماد کا فقدان اور بیرون خانہ یہ کہ مستشرقین کے افکار کی یلغار سروں کو بوجھل کرتی ہے۔

سوال: اہلسنت کے مرکزی دارالافتاء کے قیام کو آپ ضروری سمجھتے ہیں؟

جواب: اہلسنت کا مرکزی دارالافتاء جب تک قائم نہیں ہوگا اس وقت تک اعتماد اور اپنائیت کا رجحان پورا نہیں ہوگا۔

سوال: اہلسنت کا سیاسی میدان بالکل خالی ہے، کیا سیاست وقت کی ضرورت نہیں؟

جواب: اہلسنت ایک آفاقی نظریہ ہے اگر وہ سیاسی افکار سے خالی ہو تو یہ ممکن نہیں۔

سوال: فرقہ واریت کو روکنے کے لئے حکومت کو کیا اقدامات کرنے چاہئے؟

جواب: نئے نئے نظریات جو قرآن و حدیث سے متصادم ہیں، حکومت ان کی مذمت کرے، خاص طور پر وہ نظریات جن سے مسلمہ شخصیات کی شان مجروح ہو۔

سوال: میڈیا پر بدعقیدگی کی یلغار کو کس طرح روکا جاسکتا ہے؟

جواب: جب میڈیا پر بدعقیدگی کی یلغار ہو تو ہر مبلغ ہر مسلم ہر خطیب ہر واعظ اور ہر پیر دلائل سے بدعقیدگی کی قلعی کھولے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہو۔

سوال: ماہنامہ ’’تحفظ‘‘ آپ کو کیسا لگا؟ آپ اس کے ذریعہ عوام اہلسنت کوکیا پیغام دیں گے؟

جواب: ماہنامہ تحفظ کی کارکردگی بے پناہ ستائش کے لائق ہے۔ ہم اس کے ذریعے عوام اہلسنت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے بڑوں سے ہر مسئلہ کی تصدیق کرائیں اور صرف مصدقہ اور تائید یافتہ مسائل ہی اختیار کریں اور آگے بڑھائیں۔ باقی کسی آیت کا ترجمہ یا کسی حدیث پاک کا ترجمہ وغیرہ ہرگز آگے نہ بڑھائیں۔ اﷲ پاک آپ کا اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔والسلام علیکم و رحمتہ اﷲ وبرکاتہ