کرکٹ کھیلنے، دیکھنے اور سننے کا شرعی حکم

in Articles, Tahaffuz, May 2011, مو لا نا شہز ا د قا د ری تر ا بی

کرکٹ

کرکٹ ہمارے ملک کا مقبول کھیل ہے اس کھیل میں وقت اور مال کا اسراف ہوتا ہے۔  اس کے اخراجات بھی بے انتہا ہیں۔ اس کھیل کی دو صورتیں ہیں ٹیسٹ میچ اور ون ڈے میچ

ٹیسٹ میچ

ایک ٹیسٹ میچ بالعمول پانچ دن کا ہوتا ہے جو اکثر وبیشتر ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوجاتا ہے۔ ٹیسٹ میچ میں دن بھر کی تھکن اور محنت سے برا حال ہوجاتا ہے۔ کھلاڑی دن بھر کی محنت مشقت کے بعد میدان میں واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف لوٹتے ہیں تو تھکن کے مارے اس قابل نہیں ہوتے کہ دین ودنیا کے اہم امور انجام دے سکیں۔ نہ جانے اس بے مقصد تھکن کو کھیل کا نام کس نے دیا ہے؟

ون ڈے میچ

جب سے کرکٹ میں ’’ون ڈے‘‘ (ایک روزہ) میچوں کا رواج پڑا ہے پورا پورا دن لوگ اس کے پیچھے خوار نظر آتے ہیں۔ نہ نماز کی پرواہ نہ جماعت کی پرواہ ہوتی ہے صرف اور صرف میچ کی فکر ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ون ڈے میچ جمعتہ المبارک کو بھی کھیلا جاتا ہے۔ عین جمعہ کی نماز کے وقت کھیل جاری رہتا ہے نہ صرف کھلاڑی بلکہ ہزاروں لوگ (تماشائی) ہلڑ بازی اور ناچنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ہزاروں تماشائی جمعہ کی نماز چھوڑ کر اس کا گناہ اپنے سر لیتے ہیں یوں پورا دن یاد الٰہی سے غفلت میں گزرتا ہے۔

مفتی اعظم پاکستان کا فتویٰ

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدو قار الدین رضوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مومن کی زندگی لہو لعب کے لئے نہیں ہے لہذا تندرستی کے لئے ٹہلنا یا ورزش کے لئے تھوڑا کھیلنا تو جائز ہے مگر کرکٹ، ہاکی، فٹبال وغیرہ جس طرح کھیلے جاتے ہیں اس میں کوئی مقصد صحیح نہیں ہے بلکہ قوم اور ملک کا بہت بڑا نقصان ہے۔ کروڑوں روپے اسٹیڈیم بنانے اور ٹیم تیار کرنے پر خرچ کئے جاتے ہیں پھر جب ملک یا بیرون ملک پانچ روزہ، تین روزہ، اور ایک روزہ جو میچز ہوتے ہیں، آفس میں بیٹھے ہوئے ملازمین کام کے بجائے ریڈیو (موبائل فون) یا ٹی وی سے کمنٹری سننے اور میچ دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس میں قوم کے مال کی بربادی اور وقت کو ضائع کرنا ہے اور دین کے نقصان کا تو عالم یہ ہے کہ ہزاروں افراد اسٹیڈیم میں بیٹھے دن بھر کھیل دیکھتے رہتے ہیں نہ نماز کی پرواہ (نہ جماعت کی) نہ اپنا وقت ضائع ہونے کی پرواہ بہرصورت یہ سب کھیل (کرکٹ، فٹبال، ہاکی وغیرہ) کھیلنا ناجائز و حرام ہے اور ان کو دیکھنے اور سننے میں وقت ضائع کرنا بھی ناجائز ہے۔

ہندوستان کے ممتاز عالم دین علامہ مفتی محمد شبیر قادری رضوی صاحب فرماتے ہیں کہ کرکٹ ٹورنامنٹ میں تضیع اوقات یعنی وقت کو ضائع کرنا ہے جو درست نہیں ہے اور اگر یہ نماز سے غافل کردے جیسا کہ آج کل بکثرت کرکٹ ٹورنامنٹ میں دیکھا جارہا ہے کہ لوگ نماز سے غافل ہوکر اس میں شامل ہوتے ہیں تو یہ حرام ہے۔

توجہ فرمائیں

جس طرح فی زمانہ کرکٹ کھیلی جاتی ہے اس طرح کھیلنے کی اجازت کوئی عالم یا مفتی نہیں دے گا اور جو علماء کرکٹ کھیلنا جائز قرار دیتے ہیں تو مطلقا نہیں بلکہ چند شرائط کا لحاظ رکھیں تو کرکٹ کھیلنا جائز ورنہ ناجائز اور حرام ہے۔

شرائط یہ ہیں

1: کبھی کبھار ہو عادتا نہ ہو، یعنی کبھی کبھی کھیلے جیسے ہفتے میں ایک دو مرتبہ وہ بھی آدھا پونہ گھنٹہ اس کی عادت نہ بنالے ورنہ بہت سے حرام کاموں میں پڑجائے گا۔

2: ہرگز ہرگز نماز قضا نہ ہو سب نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کرے

3: شرط لگا کر کرکٹ نہ کھیلے، جوا، سٹہ وغیرہ ہرگز نہ ہو اور نہ کھیل کے دوران لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، یا فحش کلامی ہو

4: نائٹ پینٹ یا ایسا لباس پہن کر نہ کھیلے جس سے ستر عورت یعنی ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں سمیت جسم کا کوئی حصہ چمکے کیونکہ ایسا لباس پہننا جس سے ران یا ستر کا کوئی حصہ چمکتا ہو حرام ہے اور دبیز یعنی موٹا کپڑا جس سے بدن کا رنگ تو نہیں چمکتا مگر بدن سے ایسا چپکا ہوا ہو کہ دیکھنے سے عضو کی ہیئت معلوم ہوتی ہو، ایسا لباس لوگوں کے سامنے پہننا منع ہے اور اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں۔

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض ان تمام شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے اگر کوئی کرکٹ کھیلتا بھی ہے تو اس کو حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے مثلا اس طرح گلیوں اور سڑکوں پر نہ کھیلے کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچے کیونکہ اکثر کرکٹ کھیلنے والے گلیوں میں جب کھیلتے ہیں تو کرکٹ کی گیند اطراف کے گھروں میں بارہا جاگرتی ہے جس سے کھڑکی کے شیشے وغیرہ ٹوٹ جاتے ہیں گھر والوں کو بھی لگے تو چوٹ آجاتی ہے لہذا ان باتوں کا بھی خیال رکھا جائے۔