ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’قوم کی زندگی اس وقت تک اچھی نہیں ہوتی جب تک وہ (اﷲ کی راہ میں سفر کے لئے) اپنا وطن نہ چھوڑ دے اور راتیں تلاوت قرآن میں بسر نہ کرے‘ اسی لئے نیک لوگ اپنی راتیں اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام کرتے ہوئے گزارتے ہیں‘‘

ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’یہ غفلت کیسی؟ حالانکہ تمہیں کئی مرتبہ سمجھایا جاچکا ہے… یہ حیرت کیسی؟ تمہیں تو مہلت دی جاچکی ہے… یہ بے ہوشی کیوں ہے؟ حالانکہ تم چیختے چلاتے ہو… یہ سکون کیوں ہے؟ تم سے تو حساب لیا جائے گا… یہ دل لگی کیوں؟ تم نے تو کوچ کرجانا ہے… کیا سونے والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ وہ بیدار ہوجائیں‘‘

ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم! گناہوں سے ڈرنے والے کامیاب ہوگئے اور پرہیزگار جہنم کے عذاب سے محفوظ ہوگئے جبکہ تو جرم اور گناہ کمانے میں لگا ہوا ہے‘‘

ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’دنیا سے اسی طرح بے رغبتی اختیار کرلو جس طرح صالحین (اﷲ والوں) نے اس سے بے رغبتی اختیار کی اور سفر آخرت کے لئے توشہ تیار کیا، تمہارے لئے بھی ایسا کرنا نہایت ضروری ہے اور تم گزرنے ولاے ماہ وسال سے عبرت حاصل کرو‘‘

ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’خدا کے واسطے ذرا مجھے یہ تو بتائو کہ اس سے برا حال کس کا ہوگا جسے اس کی خواہشات نے (فکر آخرت سے) سے دور کردیا ہو‘‘

ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’کیا تم اپنے اردگرد موت کی تلواروں کو چمکتے ہوئے نہیں دیکھتے حالانکہ موت کی آہٹیں تمہارے درمیان واقع ہوتی رہتی ہیں اور اس کی نگاہیں تم پر جمی ہوئی ہیں‘‘

مزید ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’ہائے افسوس! اے غافل! کب تک سوتا رہے گا؟ کیا گزرنے والے دن اور راتیں تجھے نہیں جگائیں گی؟ محلات اور خیموں کے مکین کہاں گئے؟ خدا کی قسم! موت کا پیالہ ان پر گھوم گیا اور موت نے انہیں اس طرح اٹھالیا جس طرح کبوتر گندم کا دانہ اٹھاتا ہے، مخلوق کو دنیا میں دوام نہیں۔ صحیفے لپیٹ دیئے گئے اور قلم خشک ہوگئے‘‘