جماعت اسلامی کا قتال فی سبیل اﷲ

in Tahaffuz, February 2015, آ ئينہ کيو ں نہ دوں, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

جماعت اسلامی کی شہرت ہمیشہ ایک شدت پسند جماعت کی رہی ہے۔ مودودی صاحب نے قرآنی دعوت کی بنیاد پر جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تھی مگر اس کی تشریح توضیح ترجمہ مودودی صاحب نے اپنی سوچ کی بنیاد پر کیا جہاں ان کی علماء اور اہل علم و دانش نے سخت گرفت کی مگر مودودی صاحب اپنے خود ساختہ نظریات پر ہمیشہ ڈٹے رہے اور یہی سوچ آج تک جماعت اسلامی میں قائم ہے۔ اگرچہ جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد شدت پسندانہ خیالات کو پس پشت ڈال کر جماعت اسلامی کو عوامی جماعت بنانے کی کوشش کی جس میں انہیں جزوی کامیابی بھی حاصل ہوئی۔
منور حسن کی قیادت میں جماعت اسلامی اپنے شدت پسندانہ رویئے کی جانب لوٹ گئی۔ منور حسن کے بیانات نے پاکستانی سیاست و معاشرت میں انتشار کا کردار ادا کیا۔ جماعت اسلامی کے اجتماع عام منعقدہ لاہور 22 نومبر 2014ء کو اپنے خطاب میں منور حسن نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل صرف سیاست و جمہوریت میں نہیں بلکہ جہاد و قتال فی سبیل اﷲ کے کلچر کے فروغ دینے میں ہے۔ منور حسن کے اس بیان سے قبل نومبر 2013ء میں سینکڑوں پاکستانی مسلمانوں کو شہید کرنے والے طالبان رہنما حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے بہادر شہید قرار دیا۔ ان کے نزدیک پاک فوج کے جوان شہید نہیں… منور حسن کا بیان دراصل جنرل راحیل کے خلاف تھا جنہوں نے دہشت گردی، طالبان اور اس جیسے دیگر شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا جس نے ان کی کمر توڑ دی۔ جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے میں عشائیہ سے خطاب کے دوران وعدہ کیا کہ دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ جنہوں نے پاکستانی جوانوں کے سروں کو فٹ بال بنایا۔ شدت پسندی کے خلاف جنگ تمام دہشت گرد گروپوں کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ منور حسن کا بیان جماعت اسلامی کی بنیادی پالیسی کے بھی خلاف ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب نے 1948ء میںجہاد کشمیر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہاد کا اعلان کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ منور حسن نے جنگ و قتال کا اعلان کس پالیسی کے تحت کیا۔ یہ تو وہی بتاسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نے منور حسن کا نام لئے بغیر منور حسن کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی تحریکوں کے رہنمائوں کے ہمراہ اجتماع عام کے موقع پر اعلامیہ جاری کیا کہ ہر طرح کے تشدد اور انتہا پسندی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ عالم اسلام میںتبدیلی کا عمل صرف پرامن طریقے سے انتخابات اور ووٹ کی پرچی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جماعت اسلامی گزشتہ 67 سالوں سے جدوجہد کررہی ہے مگر اسے تضادات پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ یہی جماعت اسلامی ہے جن کے رہنمائوں کے گھروں سے القاعدہ کے دہشت گرد اور شدت پسند گرفتار ہوچکے ہیں جس میں امریکہ کو مطلوب نائن الیون میں ملوث شیخ خالد بھی شامل ہے۔ (9/11 امریکہ کا خود پیدا کردہ ہے)
جماعت اسلامی کی قیادت و کارکنان کاقول وعمل میں تضاد اس کی ناکامی کا سبب ہے۔ موسم کی طرح اپنے خیالات و نظریات کو بدلنا جماعت اسلامی والوں کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ جماعت اسلامی کو سمجھنے کیلئے ارشد القادری علیہ الرحمہ کی کتاب’’جماعت اسلامی‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے۔
مطالعہ کا ذوق و شوق رکھنے والے حضرات کتاب بنام ’’جماعت اسلامی صحافت کی نظر میں‘‘ کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔