دیوبند فرقہ تاریخ کے مشکل دور میں

in Tahaffuz, February 2015, ا د ا ر یے, سید رفیق شاہ

دیوبند مسلک سے وابستہ تنظیمیں و گروپ تاریخ کے مشکل ترین دور میں داخل ہوچکے ہیں۔جنرل ضیاء کے مارشل لاء اور افغان جہاد کے ذریعے غیر معمولی شہرت، طاقت ووسائل حاصل کرنے والے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد مشکلات سے دوچار ہے۔ جنرل ضیاء کے اپنے مارشل لائی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے معروف دینی شخصیات و جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے کی ناکام کوشش کے بعد جماعت اسلامی اور دیوبند مسلک سے وابستہ افراد و جماعتوں کو اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب رہا۔ حافظ تقی شہید مجلس شوری، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے رکن و صوبائی وزیر رہے ہیں، نجی محافل میںجنرل ضیاء کے شاطر پن سے متعلق بتاتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ اس بات کا ذکر کیا کہ 1979ء میںملتان سنی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے بعد جنرل ضیاء نے مولانا شاہ احمد نورانی سے مارشل لائی ایجنڈے میں تعاون کی درخواست کی جسے مولانا نے مسترد کردیا۔ اس کے بعد ضیاء صاحب نے اہلسنت کے مقابلے میں دیوبندی و وہابی مسلک کو پروان چڑھایا اور افغان جنگ میں شمولیت سے انہیں عسکری قوت حاصل ہوگئی۔ گزشتہ 35 سالوں سے دیوبندی پاکستان میں مذہبی طور پر سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے نصاب میں تبدیلی اور نعرہ رسالت و نعرہ حیدری کو ختم کروانے میں مفتی رفیع عثمانی، مفتی تقی عثمانی اور میاں طفیل (جماعت اسلامی) کا کردار پوشیدہ نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سوات آپریشن اور ضرب عضب نے دیوبندیوں کی کمر توڑ دی ہے۔ کالعدم تنظیمیں آپریشن کے نتیجے میں تتر بتر ہوچکی ہے۔ بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ میں (جولائی سے نومبر) افواج پاکستان 1200 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک 200 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کرکے ہزاروں ٹن بارود، سینکڑوں بموں، خودکش جیکٹس، میزائل، راکٹ اور دیگر اسلحہ تلف کرچکی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کی دوسرے درجے کی قیادت اور ان سے منسلک شدت پسندوں کو ختم کردیا گیا ہے۔
افغانستان میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی نے ماضی کے برعکس پاکستان سے برادرانہ تعلقات کی بحالی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ 14 نومبر کو پاکستان کا دورہ کیا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات اور جی ایچ کیو راولپنڈی کا بھی دورہ کیا۔ اس سے قبل پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف افغانستان کا دورہ کرچکے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حائل رکاوٹوں، افغانستان سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں اور پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی افغانستان میں پناہ پر گفتگو ہوئی جس سے یقینا دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ عالمی سطح پر جہاد کے نام پر دہشت گردوں کو ملنے والی امداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی میں ملوث 83 تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ان تنظیموں میں پانچ کا تعلق پاکستان سے ہے جس میں تحریک طالبان، جیش محمد، مشرقی ترکستان موومنٹ، حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ (جماعۃ الدعوہ) شامل ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے اپنے دورہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کہا کہ ضرب عضب کا مقصد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ شدت پسندوں کو بلا امتیاز ہدف بنایا جارہا ہے۔ وہ حقانی نیٹ ورک ہو، کالعدم تحریک طالبان یا کوئی اور دہشت گردوں نے ہمارے فوجیوں کو شہید کیا، ان کے سروں کو فٹ بال بناکر کھیلا، یہ وحشی اور جنگلی ہیں۔ پاکستان، افغانستان پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دیں گے۔ ضرب عضب سیاسی حکومت سے مشاورت کے بعد پورے عزم اور سنجیدگی سے شروع کیا گیا ہے اور اسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔ ضرب عضب ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک دہشت گردی کو پوری طرح سے شکست دینے کا تصور ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گا۔ انسداد دہشت گردی کی مہم صرف وزیرستان اور خیبر ایجنسی تک محدود نہیںبلکہ یہ پورے ملک تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان حالات میں دیوبند مسلک سے وابستہ افراد نے سرجوڑ لئے ہیں۔ 18 نومبر 2014ء کو اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا جس کی تیاریاں کئی دنوں سے جاری تھی، جس میں سپاہ صحابہ، مجلس احرار کے عطاء اﷲ شاہ بخاری (کانگریسی) کے صاحبزادے عطاء المومن بخاری، وفاق المدارس کے حنیف جالندھری اور جے یو آئی کے حافظ حسین و دیگر سرگرم تھے۔ دیوبند فرقے سے وابستہ گیارہ جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی۔ اجلاس سے متعلق عوامی تاثر یہ دیا گیا کہ تحفظ ناموس رسالت، اسلامی اقدار اور امتناع قادیانیت ایکٹ کا تحفظ سمیت آٹھ نکات پر جامعہ بنوری کراچی کے مہتمم عبدالرزاق اسکندر کی سربراہی میں دیوبند سپریم کونسل قائم کی گئی ہے۔ یہ کونسل دیوبند فرقے کا غیر سیاسی اتحاد ہے جس کا بنیادی مقصد دیوبند فرقے کا تحفظ اور فروغ ہے۔ کوئٹہ میں فضل الرحمن پر خودکش حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ 16 نومبر کو جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ گفتگو میں سوال کے جواب میں اپنے اوپر ہونے والے خودکش حملے میں قومی اداروں کے کردار کی جانب اشارہ کیا۔ سلیم صافی نے وضاحت چاہی تو جوابا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ سب کچھ مجھ سے بلوانا چاہتے ہیں۔
29 نومبر کو JUI کے شدت پسند مقرر ڈاکٹر خالد محمود کا سکھر میں قتل ہوا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق پرانی دشمنی کی بناء پر قتل ہوا۔ قتل کی مذمت میں فضل الرحمن نے کہا کہ اس قتل کو طالبان کی جانب موڑ دیا جائے گا جوکہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ دیوبند فرقے کی ایک مشکل خیبر پختونخوا اور بلوچستان حکومتوں سے محرومی ہے۔ ماضی میں دونوں صوبوں کی مخلوط حکومتوں JUI شامل رہتی اور خاص طور پر زکوٰۃ وعشر کے محکمے ان کے پاس ہوتے جس سے مدارس و طالبان کی پرورش کی جاتی رہی ہے۔
پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں یقینا خوشحال روشن پاکستان ایک بار پھر دنیا کی امیدوں کا مرکز بنے گی۔ دوسری جانب سعودی عرب اور پاکستان کے شریف حکمران پاکستان میں وہابیت کے فروغ کے لئے جماعۃ الدعوہ کی فلاح انسانیت فائونڈیشن کے نام پر غیر مشروط مالی امداد کررہے ہیں جو مستقبل میں طالبان اور داعش سے کم خطرناک نہ ہوں گے۔ اس ملک کی غالب اکثریت اہلسنت کب جاگے گی؟
مجھے اس کا انتظار ہے…!!!