سورۃ الماعون مکہ میں نازل ہوئی اور اس میں سات آیات ہیں۔
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
’’اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘
’’بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے، پھر وہ وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا، تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں، وہ جو دکھاوا کرتے ہیں اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے‘‘
(کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ)

ربط و مناسبت

سورۃ القریش میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی بندگی کرنے کا حکم دیا تھا، اس سورت میں ان برائیوں کا ذکر ہے جو رب تعالیٰ کی بندگی میں رکاوٹ ہیں۔ ان برائیوں میں دو نشانیاں کافر کی ہیں۔ یتیم کو دھکے دینا اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہ دینا اور تین نشانیاں منافق کی ہیں۔ نماز سے غفلت، اعمال میں دکھاوا اور استعمال کی عام چیز کسی کے مانگنے پر نہ دینا۔
پچھلی سورت میں قریش پر انعامات کا ذکر ہوا۔ اور ان میں سے اکثر قیامت اور جزاوسزا پر ایمان نہ رکھتے تھے جبکہ اس سورت میں جزا و سزا کے منکروں کو رب تعالیٰ نے اپنے عذاب سے ڈرایا ہے۔
سابقہ سورت میں رب تعالیٰ کی عبادت کاحکم دیا گیا تھا، اس سورت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو نماز پڑھنے میں سستی اور غفلت کا ارتکاب کرتے ہیں۔
سابقہ سورت میںقریش کو بھوک میں کھانا دینے کا ذکر تھا، یہاں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔

شان نزول

ابوجہل مردود کی عادت تھی کہ جب کوئی مالدار بیمار ہوتا تو وہ اس کے پاس آکر بیٹھتا اور کہتا، تم اپنے یتیموں کو میرے سپرد کردو اور ان کے حصے کا مال میرے پاس امانت رکھ دو۔ میںان کی خبر گیری اور خدمت گزاری بخوبی کروںگا اور دوسرے وارث ان پر زیادتی نہیں کرسکیں گے۔ پھر جب ان کا مال اپنے قبضے میں لے لیتا تو ان یتیموں کو دھتکار دیتا اور وہ بے چارے دربدر بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتے۔
اسی طرح ایک دن ایک یتیم نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور اس ملعون کی شکایت کی۔ آپ اس ملعون کے پاس تشریف لے گئے اور اسے قیامت کے حساب و عذاب سے ڈرایا۔ اس نے آپ کی ایک نہ سنی بلکہ قیامت کو جھٹلایا۔ آپ رنجیدہ ہوکر وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی (تفسیر عزیزی)
ارء یت الذی
ارشاد ہوا ’’بھلا دیکھو تو جو دین کو جھٹلاتا ہے‘‘ (کنزالایمان)
’’ارء یت‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ ’’کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن کو جھٹلانے والا کون ہے؟‘‘ اگرچہ الفاظ سوالیہ انداز میں ہیں لیکن ان کا مقصد انتہا درجے کا تعجب ہے۔ یعنی اگر تم نہیں جانتے تو جان لو کہ ’’وہ، وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے، اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا‘‘
قرآنی اصطلاح میں ’’الدین‘‘ سے مراد دین اسلام بھی ہے اور قیامت میں جزاوسزا بھی۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے پہلا معنی مراد لیا ہے۔ گویا مذکورہ برے اعمال ان لوگوں کے ہیں جو دین اسلام ہی کے منکر ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قیامت اور جزاوسزا کا انکار درحقیقت دین ہی کا انکار ہے۔
بعض نے کہا، یہ خطاب رسول معظمﷺ سے ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ خطاب ہر عقلمند انسان کے لئے ہے۔ یعنی اے عقل والو! کیا تم اسے جانتے ہو جو روشن دلائل اور واضح براہین کے باوجود قیامت کو جھٹلاتا ہے اور عقلمند ہونے کا دعویدار بھی ہے؟
کسی عقلمند کے شایان شان نہیں کہ وہ دنیاوی لالچ کے بدلے خود کو آخرت کے عذاب میں مبتلا کرے اور یہ بھی عقل کے لائق نہیں کہ چند روزہ فانی زندگی کے بدلے میں آخرت کی ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کو قربان کردیا جائے۔
اس آیت کے شان نزول کے حوالے سے اگرچہ بعض کافروں کا ذکر آیا ہے لیکن امام رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہر اس شخص کے متعلق نازل ہوئی جو قیامت کو جھٹلاتا ہے۔ کیونکہ انسان کا رب تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور برے اعمال سے بچنا دراصل ثواب کے شوق اور عذاب کے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بندہ قیامت کا منکر ہوگا تو وہ خواہشات نفس اور دنیاوی لذتوں کو ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ ثابت ہوا کہ قیامت کا انکار ہر قسم کے کفر اور تمام گناہوں کی جڑ ہے (تفسیر کبیر)

الذی یدع الیتیم

اﷲ تعالیٰ نے دین کی تکذیب کرنے والے کے دو برے کام بیان فرمائے۔ ایک کا تعلق ’’کرنے‘‘ سے ہے یعنی ’’وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے‘‘ اور دوسرے کا تعلق ’’نہ کرنے‘‘ سے ہے یعنی ’’وہ مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا‘‘
’’فذٰلک‘‘ میں ’فا‘‘ سب کے لئے ہے یعنی ان برے کاموں کا سبب اس کا کفر ہے۔ خدا کے بندوں پر ظلم کرنا اسی شخص کا معمول ہوسکتا ہے جس کا آخرت اور جزاوسزا پر یقین نہ ہو۔ ’’یدع‘‘ میں ’’عین‘‘ پر تشدید سے واضح ہوتا ہے کہ یتیم کو دھکے دینا ان کا معمول ہے۔ بلاشبہ دین کے منکر ہی گناہوں پر اڑے رہتے ہیں۔
یہاں یہ دو کام مثال کے طور پر بیان ہوئے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ قیامت کا منکر صرف انہی دو کاموں پر اکتفا نہیں کرتا۔ ان دو برائیوں کے پیچھے منکرین جزا وسزا کی گمراہ سوچ اور پورا شیطانی طرز زندگی چھپا ہے۔ یہ برائیاں اس لئے ذکر کی گئیں کہ یہ شریعت کے علاوہ انسانی مروت کے لحاظ سے بھی قابل نفرت ہیں اور ان کاموں کو وہی کرتا ہے جس کے رگ و پے میں مال کی شدید محبت رچی بسی ہوئی ہو، اسی لئے وہ یتیم کا مال کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے، اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو، اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو‘‘ (الفجر ۱۷۔۲۰، کنزالایمان)
جان کائنات رحمت عالمﷺ نے فرمایا۔ جس نے مسلمانوں میں سے کسی یتیم کو اپنے پاس رکھا اور اسے اپنے کھانے پینے میں شامل کیا، اﷲ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، سوائے اس کے کہ اس کا کوئی گناہ قابل مغفرت نہ ہو (ترمذی)

ولا یحض علی…

مسکین وہ ہوتا ہے جو کھانے اور پہننے کے لئے مانگنے کا محتاج ہو۔ رب تعالیٰ نے کھانے کی نسبت مسکین کی طرف فرمائی تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ کھانا اس مسکین کا حق ہے اور اسے کھانا دینے والا کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ اسی کا حق اس کو دیتا ہے۔
’’اور ان کے مالوں میں حق ہے منگتا اور بے نصیب کا (الذٰریٰت 19) (کنزالایمان)
منگتا وہ ہے جو اپنی حاجت کے لئے مانگے اور محروم وہ ہے جو حاجت مند ہو مگر حیا کے باعث سوال نہ کرے۔ تو جو شخص مالدار ہونے کے باوجود مسکین کو اس کا حق نہیں دیتا اور نہ ہی دوسروں کو اس کی ترغیب دیتا ہے، اس کا طرز عمل اس کے بخیل، سنگ دل اور کمینہ ہونے کی علامت ہے۔
اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ ’’وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا‘‘ بلکہ ارشاد ہوا ’’وہ مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہیں دیتا‘‘ جب وہ دوسرے کے مال میں بخل سے کام لے رہا ہے کہ وہ اپنامال مسکین کے لئے خرچ نہ کریں تو وہ خود اپنے مال سے مسکین کو کیونکر کھلائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخرت کا منکر ہے۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں