حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (گزشتہ سے پیوستہ)

in Tahaffuz, February 2015, خان آصف, شخصیات

حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی مجلس درس آراستہ تھی۔ آپ ’’گناہ اور توبہ‘‘ کے موضوع پر تقریر کررہے تھے۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’پرہیز گار اور گناہوں سے توبہ کرنے والا، دونوں برابر ہیں‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے اس ارشاد گرامی پر اہل مجلس کو حیرت ہوئی۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ’’اس حدیث مقدسہ کے مطابق دونوں برابر ہیں‘‘
’’گناہوں سے توبہ کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے اس نے گناہ ہی نہیں کیا‘‘ (حدیث شریف)
مزید ارشاد فرمایا کہ جس نے گناہ کیا اور گناہ سے لذت حاصل کی تو پھر تائب ہونے کی صورت میں جب وہ نیک عمل کرے گا تو عبادت سے بھی اسے ذوق حاصل ہوگا۔ ممکن ہے کہ عبادت سے حاصل ہونے والی راحت کا ایک ذرہ گناہوں کے کھلیانوں کو جلاکر راکھ کر ڈالے۔
اس کے بعد حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ اﷲ والوں نے اپنی ذات کو ہمیشہ پوشیدہ رکھا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے کمالات کو ظاہر فرمایا ہے۔
حضرت خواجہ ابو الحسن نوری علیہ الرحمہ پابندی کے ساتھ یہ دعا کیا کرتے تھے۔ ’’یاالٰہی‘‘ تو اپنے شہروں میں مجھے اپنے بندوں کی نگاہ سے پوشیدہ رکھ‘‘
ہاتف غیبی نے انہیں آواز دی ’’اے ابو الحسن! حق کو کوئی شے نہیں چھپا سکتی اور حق کبھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا‘‘
پھر اس سلسلے میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے ناگور کے علاقے میں رہنے والے ایک بزرگ خواجہ حمید الدین سوالی علیہ الرحمہ کا واقعہ سنایا۔ خواجہ سوالی علیہ الرحمہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی علیہ الرحمہ کے خلیفہ تھے۔ حضرت خواجہ حمید الدین سوالی علیہ الرحمہ سے ایک مجلس میں پوچھا گیا ’’یہ کیا راز ہے کہ بعض مشائخ دنیا سے گزر جانے کے بعد اس طرح بے نشان ہوجاتے ہیں، کہ کوئی شخص ان کا نام تک نہیں لیتا… اور بعض بزرگ ایسے ہوتے ہیںکہ اپنی زندگی میں گمنام رہتے ہیں… مگر انتقال کے بعد ان کی کرامت کا شور سارے عالم میں سنائی دیتا ہے‘‘
حضرت خواجہ حمید الدین سوالی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’جو شخص اپنی زندگی میں شہرت کا خواہاں رہتا ہے، مرنے کے بعد اس کی یہی خواہش گمنامی کا سبب بن جاتی ہے اور جن لوگوں نے زندگی میں اپنے حال کو چھپانے کی کوشش کی ہے، مرنے کے بعد اﷲ نے انہیں شہرت دوام بخشی ہے‘‘
پھر اسی نمائش ذات کے حوالے سے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ ایک عقیدت مند نے حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی خانقاہ مبارک کے دروازے پر ایک شخص کو پڑے ہوئے دیکھا جس کے ہاتھ پائوں ٹوٹے ہوئے تھے پھر جب وہ عقیدت مند خدمت شیخ میں حاضر ہوا تو اس نے حضرت غوث اعظم علیہ الرحمہ کو اس شخص کا حال سنایا اور اس کے لئے دعا کی درخواست کی۔
جواب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’اس بے ادب کے سلسلے میں خاموش رہو‘‘
عقیدت مند نے دست بستہ عرض کیا ’’سیدی! اس شخص سے کیا بے ادبی سرزد ہوئی ہے؟‘‘
حضرت سیدنا غوث اعظم علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’یہ شخص جو خانقاہ کے دروازے پر اس شکستہ حالت میں پڑا ہے، چالیس ابدالوں میں سے ایک ابدال ہے کل یہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ ہوا میں اڑتا ہوا ادھر سے گزرا جب یہ تینوں خانقاہ کے قریب پہنچے تو ایک ابدال نے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے دائیں جانب کا رخ کیا… پھر اسی طرح دوسرا ابدال بھی بائیں طرف چلا گیا… مگر اس بے ادب نے خانقاہ کے اوپر سے گزر جانا چاہا۔ پھر جیسے ہی یہ گستاخ خانقاہ کے مقابل آیا، زمین پر گر پڑا اور اپنے ہاتھ پائوں کھو بیٹھا‘‘
٭…٭…٭
گزرتے ہوئے ہر لمحے کے ساتھ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ہردلعزیزی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ہزاروں بندگان خدا آستانہ عالیہ پر جمع رہتے تھے۔بے شمار بھوکے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے لنگر سے کھانا کھاتے اور لاتعداد ضرورت مند اس طرح فیض یاب ہوتے کہ پھر ان کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔ جسے بھی دنیا کے رنج والم ستاتے، وہ حضرت نظام الدین کی خانقاہ کا رخ کرتا کوئی اس پریشاں حال شخص سے پوچھتا کہ کہاں جارہا ہے، تو وہ بے اختیار پکار اٹھتا۔
’’شہنشاہ کے دربار میں جارہا ہوں، اپنے دکھ بیان کرنے کے لئے‘‘
سننے والا اس سے دوسرا سوال کرتا ’’اے شخص! تو سلطان علاؤ الدین خلجی کے دربار میں جارہا ہے؟‘‘
کہنے والا کہتا ’’میں کسی سلطان علائو الدین خلجی کو نہیں جانتا۔ میرے شہنشاہ تو حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی علیہ الرحمہ ہیں ان ہی کے دربار پر جارہا ہوں‘‘
یہ آوازیں اتنی شدت اور کثرت سے سنائی دے رہی تھیں کہ عوامی حلقوں میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو ہندوستان کا ’’بے تاج بادشاہ‘‘ کہہ کر پکارا جانے لگا تھا پھر ان صدائوں کی گونج اتنی بڑھی کہ خود علائو الدین خلجی کی سماعت بھی اس شور سے محفوظ نہ رہ سکی۔ فرمانروائے ہند اس بات سے بہت خوش تھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ذات گرامی عوام و خواص کی نگاہوں کا مرکز ہے… مگر بدکردار خوشامدی وزیروں اور بے ضمیر مصاحبوں نے حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی اس شہرت کو غلط رنگ دے کر پیش کیا۔
کہنے والوں نے سلطان علائو الدین خلجی سے سرگوشیوں میں کہا ’’حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے بھی وہی انداز ہیں جو کبھی سیدی مولہ علیہ الرحمہ کے تھے۔ آج جس طرح حضرت محبوب الٰہی کے در سے ہزاروں افراد فیضیاب ہوتے ہیں، اسی طرح کبھی سیدی مولہ علیہ الرحمہ بھی دہلی کے لوگوں پر انصاف و کرم کی بارش کرتے تھے ‘‘ یہ ایک اشارہ تھا کہ کہیں نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی بڑھتی ہوئی محبوبیت، حکومت وقت کے لئے کوئی سنگین مسئلہ نہ بن جائے۔
بعض حاسدین جو اپنی فطرت بد کے تقاضوں سے مجبور تھے۔ واضح الفاظ میں سلطان کو تنبیہ کرنے لگے۔ ’’عوام کے ساتھ آپ کے بہت سے درباری بھی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے حلقہ اثر میں داخل ہوچکے ہیں۔ لوگوں کے دل و دماغ پر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی یہ گرفت کہیں کسی سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ نہ ہو‘‘
کچھ ضمیر فروش اور دریدہ دین افراد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ اپنے عقیدت مندوں کالشکر جمع کررہے ہیں اور یہی لشکر ایک دن سلطان کے اقتدار کے خلاف بغاوت کرے گا اور پھر ہندوستان کا تاج ایک گوشہ نشیں درویش کے سر کی زینت بن جائے گا۔
چاپلوسوں اور خوشامدیوں کی اس حاشیہ برداری نے کچھ دیر کے لئے سلطان علاء الدین خلجی کے ذہن کو منتشر کردیا اور وہ پریشان سا نظر آنے لگا۔ سیاہ کردار رکھنے والے مصاحبوں نے کچھ اس تسلسل کے ساتھ والی ہندوستان کے کان بھرے تھے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی طرف سے اس کے دل و دماغ پر شکوک وشبہات کا غبار چھانے لگا۔ سیدی مولہ علیہ الرحمہ کے حوالے نے اس سخت اضطراب میں مبتلا کردیا تھا… اور سب سے اہم بات یہ کہ سلطان علاؤ الدین خلجی خود بھی اپنے حقیقی چچا جلال الدین خلجی کو قتل کرکے منصب اقتدار تک پہنچا تھا۔ اس لئے وہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی محبوبیت سے خوفزدہ ہوگیا پھر بھی اس نے ضبط و ہوش کا دامن نہیں چھوڑا۔
سلطان کئی دن تک تنہائی میں اس صورتحال کے متعلق سوچتا رہا۔ بار بار اس کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا تھا کہ آخر ایسی کون سی تدبیر اختیار کی جائے جس سے پتا چل سکے کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ سیاسی اقتدار کی خواہش رکھتے ہیں یا وہ اس قسم کے جذبات سے بالکل بے نیاز ہیں؟
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)