امام احمد رضا خان پر الزام کہ آپ کو خواجہ سے عقیدت نہ تھی

in Tahaffuz, February 2015, ڈاکٹر کوثر امام قادری, متفرقا ت

بزرگوں کی سیرت و سوانح کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ کوئی بھی بزرگ شخصیت حاسدوں کے حسد سے محفوظ نہیںرہ سکی۔ جو جتنی ہی بلندی پر فائز ہوا، اتنی ہی اس کی مخالفت کرنے والے بھی دنیا میں نظر آئے۔ اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ہمیشہ چھوٹوں نے ہی بڑوں سے حسد کیا۔ کبھی کسی بڑی شخصیت نے کسی چھوٹے سے نہ حسد کیا، نہ ہی ان سے نفرت کی بلکہ ان کا شیوہ چھوٹوں کو نوازتا تھا۔
ان ہی عظیم شخصیت میں سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اﷲ عنہ کی ذات برکات بھی ہے جنہوںنے اپنی پوری زندگی احیائے قرآن و سنت، تجدید دین، ترویج حنفیت اور عظمت مصطفیﷺ کا علم بلند فرمایا۔ اولیائے اسلام کی قدرومنزلت، وقار حرمت کا چراغ لوگوں کے دلوں میں روشن کیا۔ تحقیق مسائل کی راہیں روشن فرمائیں، لیکن سابقہ اشخاص کی طرح آپ کی ذات بھی حاسدوں کے حسد سے محفوظ نہ رہ سکی۔
آپ سے عناد رکھنے والے اور حسد کی آگ میںجلنے والے دو قسم کے افراد ہیں۔ ایک قسم حاسدین کی وہ ہے جو اہل سنت و جماعت کے خلاف عقائد رکھنے والے ہیں۔ مثلا وہابی، دیوبندی، قادیانی، جماعت اسلامی غیر مقلد وغیرہ۔ یہ تمام فرقے آپس میں اگرچہ مختلف نظریات اور متضاد اعتقاد کے پیروکار ہیں تاہم جب مخالفت رضا کی بات آتی ہے تو ’’الکفر ملتہ واحد‘‘ کے تحت متحد و متفق نظر آتے ہیں۔ چونکہ اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ نے تمام گمراہ باطل فرقوں کی تردید فرمائی ہے لہذا ان کی مخالفت ہونا لازمی امر ہے۔
باطل فرقے کا کوئی بھی علمبردار تحقیقات رضا، تحریرات رضا اور تصنیفات رضا کے سامنے آنے کی جرات اور مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا اور حضرت امام کی بے داغ شخصیت و عبقری ہستی میں کہیںکوئی نقص و عیب نہیں پاتا تو لامحالہ الزام تراشی کی راہ اپناتا ہے تاکہ حضرت امام کے فتاویٰ و تصانیف کی وقعت کو کم کیا جاسکے اور انہوں نے جو بدمذہبوں کے خلاف فتاویٰ جاری فرمائے ہیں، انہیں بے اعتبار ثابت کیا جاسکے۔
حاسدین کی دوسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو خیر سے مسلمان ہیں مگر خدمت دین، ترویج سنت، اشاعت مذہب، تحفظ عقائد حقہ اور فروغ علم و عمل پر اپنی ذاتی منفعت اور مصنوعی تقویٰ و طہارت کو ترجیح دیتے ہیں۔ چونکہ حضرت امام نے تجدید دین کا جو زبردست کام کیا، اس کے سبب ہر طرف ان کی عظمت کے چراغ جل اٹھے۔ چہار سو ان ہی کا بول بالا ہونے لگا اور دنیائے علم و حکمت میں ان ہی کا سکہ رائج ہوگیا۔
پھر تو جو لوگ کوئی دینی کام کئے بغیر ’’پدرم سلطان بود‘‘ کا نعرہ لگا کر جھوٹی شہرت اور دولت و ثروت کما رہے تھے۔ انہوں نے اپنے قدموں تلے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس کی۔ مریدوں پر گرفت ڈھیلی پڑنے لگی تو ایسے حالات میں عوام کے دلوں میں اعلیٰ حضرت کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا کرنے اور فکروتحقیق، علم و حکمت کے دھارے سے قوم مسلم کو الگ کرنے کے لئے حضرت امام پر الزام تراشی کرنے لگے اور ان کی اتباع میں ان کے ان پڑھ مریدین بھی وہی راگ الاپنے لگے۔
چنانچہ جس طرح حاسدین کی جماعت دو حصوں میںبٹی ہے، ٹھیک اسی طرح الزامات بھی دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جن کی تشہیر کے لئے کتب و رسائل، اخبار و جرائد اور قرطاس و قلم کا سہارا لیا جاتا ہے اور دوسرے وہ ہیں جن کو پھیلانے کے لئے خفیہ نشستیں، خصوصی مجالس، مخصوص ملاقاتیں اور سرگوشی کے لئے ہلکی اور دبی زبانیں استعمال ہوتی ہیں۔ پہلی قسم کے

الزامات تراشنے والے باطل فرقے کے لوگ ہیں جبکہ دوسری قسم کی الزام تراشی والے اہلسنت ہی کے لوگ ہیں۔

اعلیٰ حضرت پر الزام

اہل سنت و جماعت کے بعض حاسدین سرکار اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کو حضور سیدنا سرکار غریب نواز رضی اﷲ عنہ سے عقیدت نہیں تھی۔ اسی لئے آپ نے کبھی اجمیر شریف کا سفر نہیں فرمایا اور نہ اپنی تصنیفات میں کہیں ان کا ذکر جمیل فرمایا۔
چونکہ بات یہ سرگوشی کے انداز میں کہی جاتی ہے۔ اس لئے اثر انداز ہوتی ہے اور اس سے کہی جاتی ہے جو تصنیفات رضا کے مطالعے سے قاصر ہے لہذا وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ اس الزام کی بنیاد جھوٹ کی زمین پر ہے اور اس کا تعلق حقیقت سے بالکل ہی نہیں ہے۔ کیونکہ متعدد شواہد اس بات کی وضاحت کررہے ہیں کہ اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ نے متعدد بار اجمیر القدس کا سفرفرمایا اور آپ کو حضور غریب نواز سے بے پناہ عقیدت تھی۔

اجمیر شریف میں اعلیٰ حضرت کا خطاب

اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ نے متعدد بار اجمیر شریف القدس کا سفر کیا۔ عرس میں شرکت فرمائی اور بارگاہ غریب نواز میں حاضری کی سعادت سے فیضیاب ہوئے۔ ایام عرس میں سجادہ نشین کی طرف سے ہر سال شاہجہانی مسجد میں جلسہ کا اہتمام ہوتا۔ باہر سے آئے ہوئے خطبائ، مقررین، سلطان الہند کے فضائل و مناقب بیان فرماتے۔
اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ میدان قرطاس و قلم کے شہ سوار تھے۔ فن خطابت و تقریر سے کوئی بہت زیادہ لگائو نہیں تھا لیکن مخصوص مواقع پر علم و حکمت کے دھارے کو فن تقریر کی سمت بھی موڑ دیتے تو ایک بار پھر سامعین یہ کہنے پر مجبورہوجاتے۔

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

لہذا آپ جب بھی اجمیر القدس تشریف لے گئے، سجادہ نشین نے کرسی خطابت پر جلوہ گر ہونے کی درخواست کی اور آپ نے سلطان الہند کی غلامی کا ثبوت دیا۔ گھنٹوں تقریر فرمائی اور حضور غریب نواز کے فضائل و مناقب، سیرت و سوانح پر خصوصی خطاب فرمایا۔علامہ نور احمد قادری پاکستانی لکھتے ہیں۔
’’اعلیٰ حضرت کا اکثر سلطان الہند خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری کی خانقاہ میں عرس غریب نواز کے موقع پر وعظ ہوا کرتا تھا اور اس وعظ کا اہتمام خود خانقاہ شریف کے ’’دیوان‘‘ صاحب کیا کرتے تھے جس میں علمائ، فضلائ، دور دور سے آکر وعظ سننے کے لئے شرکت کرتے،بعض دفعہ دکن حکمران نظام دکن میر محبوب علی خاں اور میر عثمان علی خان بھی اس وعظ میں شریک ہوتے رہے۔ اعلیٰ حضرت کا وعظ سننے کے لئے بے شمار خلقت وہاں ہوا کرتی تھی‘‘ (معارف رضا ص 155)

اجمیر شریف کا سفر اور ایک قابل ذکر ظہور کرامت

علامہ نور احمد قادری فرماتے ہیں:
جب اعلیٰ حضرت بریلی شریف سے اجمیر شریف عرس خواجہ غریب نواز میں حاضری کے لئے جانے لگے تو ان کے ہمراہ دس گیارہ مریدین بھی تھے۔ ان ہی میں راقم الحروف کے استاد حضرت مولانا عبدالرحمن قادری جے پوری جو اعلیٰ حضرت کے شاگرد و خلیفہ تھے۔ دوسرے راقم الحروف کے دادا حاجی عبدالقادر رحمتہ اﷲ علیہ بھی تھے۔ بقیہ دوسرے حضرات تھے۔
دہلی سے اجمیر شریف جانے کے لئے ’’بی بی اینڈ سی آئی آر‘‘ ریل چلا کرتی تھی۔ اعلیٰ حضرت جب اپنے ہمراہیوں کے ساتھ پھلسرہ جنکشن پہنچے تو مغرب کا وقت ہوگیا۔ آپ نے اپنے مریدوں سے فرمایا، نماز مغرب کے لئے پلیٹ فارم ہی پر جماعت کرلی جائے۔ چنانچہ چادریں بچھائی گئیں، لوگوں میں سے جن کا وضو نہیں تھا انہوں تازہ وضو کیا۔ اعلیٰ حضرت باوضو تھے چونکہ ہر وقت باوضو رہنے کی عادت تھی لہذا امامت کے لئے آگے بڑھے اور فرمایا ’’آپ سب لوگ پورے اطمینان کے ساتھ نماز ادا کریں۔ ان شاء اﷲ گاڑی اس وقت تک نہیں جائے گی، جب تک ہم لوگ پوری نماز نہ ادا کرلیں‘‘ یہ فرماکر آپ نے نماز شروع فرمادی۔ جب نماز کی ایک رکعت پوری ہوئی تو اس درمیان گاڑی کا وقت ہوگیا اور گاڑی نے سیٹی دی۔ پلیٹ فارم پر بکھرے ہوئے لوگ ڈبوں میں سوار ہوگئے مگر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے انتہائی سکون و انہماک کے ساتھ ادائیگی نماز میں مصروف رہے۔ اب گاڑی نے پھر دوسری و تیسری سیٹی دی اور ڈرائیور نے گاڑی بڑھانا چاہا مگر گاڑی آگے نہ بڑھ سکی۔ گاڑی چونکہ ’’میل‘‘ تھی ہزار کوشش کے بعد آگے نہ بڑھی تو تمام عملہ پریشان ہونے لگے کہ آخر گاڑی کیوں نہیں بڑھ رہی ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ انجن کو چیک کرنے کے لئے پیچھے بڑھاتا تو گاڑی پیچھے کی سمت چل پڑتی اور جب آگے چلنا ہوتا تو رک جاتی۔ آخر اتنے میں اسٹیشن ماسٹر جو انگریز تھا۔ اپنے کمرے سے باہر نکل کر آیا اور کہا کہ انجن گاڑی سے گاڑی سے کاٹ کر دیکھو چلتا ہے یا نہیں۔ ڈرائیور نے ایسا ہی کیا تو انجن چلنے لگا، اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی مگر پھر جونہی ڈبوں کے ساتھ جوڑا پھر وہی حال۔ اب اور پریشانی بڑھی، اسٹیشن ماسٹر نے گارڈ سے پوچھا (حسن اتفاق سے وہ گارڈ مسلمان تھا اور وہیں کھڑا تھا جہاں نماز ہورہی تھی) گارڈ نے بتایا کہ سمجھ میں یہ آتا ہے کہ یہ بزرگ جو نماز پڑھ رہے ہیں، کوئی بہت بڑے اﷲ کے ولی ہیں، گاڑی ان کی وجہ سے نہیں چل پارہی ہے اور جب تک یہ بزرگ اور ان کی جماعت نماز نہیں ادا کرلیتی ہے یہ گاڑی مشکل ہی ہے کہ چلے۔
اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ نے سلام پھیرا اور باآواز بلند درود شریف پڑھ کر دعا میں مصروف ہوگئے۔ جب دعا سے فارغ ہوئے تو انگریز نے بڑھ کر نہایت ادب سے عرض کیا۔ ذرا جلدی فرمائیں، گاڑی آپ ہی کے انتظار میں کھڑی ہے۔ ارشاد فرمایا۔ ہم لوگ تھوڑی دیر میں نماز سے فارغ ہولیں گے پھر ان شاء اﷲ گاڑی چلے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ نماز کا وقت ہے۔۔
آپ لوگوں نے جب نماز سے فراغت پالی اور آکر گاڑی میں فروکش ہوگئے تو پھر گاڑی چلنے لگی۔ انگریز نے ادب سے سلام کیا پھر آپ لوگ اجمیر القدس کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کرامت کا انگریز کے دل پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ وہ رات بھر سوچتا رہا اور اسلام کی حقانیت اس کے دل میں اپنی جگہ بناتی رہی، بالاخر وہ صبح کو اپنی جگہ دوسرے کو مقرر کرکے اپنے پورے گھر والوں کے ساتھ اجمیر القدس کے لئے چل پڑا تاکہ وہاں خواجہ غریب نواز کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ کے دست مبارک سے اسلام قبول کرے۔ جب وہ اجمیر شریف پہنچا تو اس وقت درگاہ شریف کے شاہجہانی مسجد میں اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ کاخطاب ہورہا تھا۔ وعظ میں شریک ہوا، بیان سنا اور جب وعظ ختم ہوا تو قریب پہنچ کر اعلیٰ حضرت کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ جب سے آپ پھلسرہ اسٹیشن سے ادھرروانہ ہوئے ہیں، اسی وقت سے میں بے چین ہوں، سکون نہیں ملتا، آخر اپنے افراد خانہ کو لے کر یہاں حاضر ہوگیا ہوں اور اب آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کی یہ کرامت دیکھ کر اسلام کی صداقت و حقانیت کا مکمل یقین ہوگیا ہے۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت نے ہزار ہا زائرین عرس کے سامنے اس انگریز کو اور اس کے نو افراد کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل فرمایا نیز اس کو سلسلہ قادریہ میں بیعت بھی فرمایا اور اس کا نام ’’رابرٹ‘‘ سے بدل کر ’’عبدالقادر‘‘ رکھا۔ اور اس کو اسلام کی تعلیمات سے نوازا۔ (معارف رضا ص 157-156)

توجہ دیں

1… اگر اعلیٰ حضرت کو خواجہ غریب نواز سے محبت نہیں ہوتی تو کثرت سے عرس غریب نواز میں شرکت کیوں کرتے بلاشبہ بار بار شرکت کرنا محبت خواجہ کی نشانی ہے۔
2… اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ اجمیر القدس میں جو متعدد تقریریں فرمائیں، وہ آج محفوظ تو نہیں ہیں لیکن بلاشبہ آپ نے سیدنا سرکار غریب نواز کے فضائل و مناقب بیان فرمائے۔ اگر آپ غریب نواز کے مناقب بیان نہیں فرماتے اور آپ کے دل میں ذرہ برابر بھی غریب نواز کے تعلق سے بغض ہوتا تو قطعی طور پر متعدد تقریروں کا موقع ہی نہیں دیا جاتا اور حضرت خواجہ کے چاہنے والے قطعی آپ کی کسی مجلس میں شریک نہیں ہوتے۔ یقینا آپ کی متعدد تقریریں عشق خواجہ کی علامت ہیں۔
3… عرس میں شرکت کے لئے صرف تنہا نہیں جاتے بلکہ اپنے مریدوں اور ماننے والوں کو بھی ساتھ لے جاتے۔ کیا یہ محبت خواجہ کی پہچان نہیں ہے؟

سلسلہ چشتیہ کی سند خلافت

ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
1295ھ میں… اپنے والد ماجد علامہ نقی علی خان قدس سرہ، العزیز سرکار مارہرہ مطہرہ حاضر ہوکر تاجدار مارہرہ سیدنا شاہ آل رسول احمد قدس سرہ العزیز سے شرف بیعت ہوئے۔
اﷲ اکبر! کیسی نظر کیمیا اثر پیرومرشد کی تھی اور کس درجہ قلب صفائی لے کر بیعت ہوئے تھے کہ اس جلسے میں پیرومرشد برحق نے تمام سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرما کر خلیفہ مجاز بنادیا اور تمام طریقوں میں بیعت لینے کی اجازت عامہ تامہ عطا فرمائی (حیات اعلیٰ حضرت جدید اول ص 122)
اعلیٰ حضرت رضی اﷲ عنہ کو آپ کے پیرومرشد نے جہاں سلسلہ عالیہ قادریہ کے علاوہ ایک درجن سے زائد سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی، وہیں سلسلہ چشتیہ جدیدہ و قدیمہ کی بھی اجازت و خلافت سے نوازا تھا۔
اب آپ ذرا غور کریں، اگر اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دل میں خواجہ غریب نواز کی محبت نہ ہوتی یا کسی طرح کی نفرت کا جذبہ ہوتا یا بغض کا شکار ہوتے تو فورا عرض کرتے، حضور! ہمارے لئے صرف سلسلہ قادریہ ہی کافی ہے دیگر سلاسل کی ضرورت نہیں۔ مگر ایسا کچھ نہیں کہا اور اگر ازراہ ادب آپ نے عرض نہیں کیا تو کم از کم یہ کرسکتے تھے کہ کسی کو سلسلہ چشتیہ میں بیعت نہ کرتے، سب کو سلسلہ قادریہ ہی طرف راغب کرتے مگر تاریخ شہادت دیتی ہے کہ اعلیٰ حضرت نے سلسلہ چشتیہ میں بھی لوگوں کو داخل فرمایا اور بعض سلسلہ چشتیہ کی سند و خلافت اور اجازت بھی عطا فرمائی۔
ایک بات اور ذہن نشین رہنی چاہئے کہ آدمی کو جس سلسلے کی اجازت و خلافت ملتی ہے، ہر اس سلسلے کے مشائخ سے محبت و عقیدت لازم و ضروری ہے۔ اگر ذرہ برابر بھی کسی شیخ سے نفرت ہوئی تو اس سلسلے کے فیوض و برکات سے محروم ہوجائیگا۔ وہ کون حرماں نصیب ہوگا کہ رحمت و انوار کے بہتے ہوئے دھارے کو اپنی سمت آنے سے روک دے؟

اجمیر شریف میں اعلیٰ حضرت

اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مقدس سینہ فیضان اولیاء کا دریا تھا۔ تمام سلاسل کے فیوض و برکات کی نہریں آپ کے سینے میں آکر گرتی تھیں، آپ کے پیرومرشد سرکار آل رسول احمد مارہروی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ نے جتنے سلاسل کی اجازت و خلافت عطا فرمائی تھی، ہر سلسلے میں آپ مرید فرماتے اور حسب ضرورت خلافت و اجازت عطا فرماتے۔
سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ1919ء میں آپ بغرض شرکت عرس اجمیر القدس تشریف لے گئے تو حضرت علامہ غلام علی محدث اجمیری آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور آپ نے انہیں سلسلہ چشتیہ میں داخل فرمایا اور سلسلہ چشتیہ ہی کی اجازت و خلافت کی سند سے نوازا۔

شیطانی وسوسہ

اخیر بات یہ کہ یہاں اس بات کا اعتراف تقریبا سب کو ہے کہ اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تمام بزرگوں سے محبت کرتے تھے۔ ان کی عظمت شان، رفعت مقام کے معترف تھے لیکن سرکار غوث اعظم سے جو عشق تھا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ غوث اعظم کو تمام اولیاء کا سردار مانتے اور ہرسلسلے میں آپ کے فیوض و برکات کو جاری و ساری تسلیم کرتے اور یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف ہر سلسلہ کے بزرگان سلف و خلف کو ہے۔ کیا دنیائے ولایت میں کوئی ایک بھی بزرگ و ولی ملے گا جو غوث اعظم سے محبت نہ کرتا ہو؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان سے عشق نہ کیا جائے۔ انکی محبت کا دم نہ بھرا جائے۔ انکی شان میں منقبت کے اشعار نہ لکھے جائیں۔ اسکے باوجود اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے موقع بموقع دیگر بزرگان دین کے ذکر جمیل سے بھی اپنے قرطاس و قلم کو مشرف کیا ہے۔ ذیل میں اعلیٰ حضرت کے وہ اشعار پیش کئے جارہے ہیں جن میں بصراحت غریب نواز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا زکر حسنہ موجود ہے

بہرپایت خواجہ نہداں شہہ کیواں جناب
بل علی عینی ورأسی گوید آں خاقاں توئی

کیا اس شعر میں غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ذکر کے ساتھ سرکار غریب نواز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کاتذکرہ حسنہ نہیںہے؟

عراق و اجمیر

سرکار غوث اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا فیض ہر سلسلہ میں آیا اور ہر شیخ آپ کی برکات سے مستفیض ہوا اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ سلسلہ عالیہ چشتیہ میںبھی سرکار غوث اعظم کا فیض جاری و ساری ہے۔ مولانا جمال الدین سہروردی سیر العارفین میں فرماتے ہیں:
’’حضرت خواجہ معین الدین چشتی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضور پرنور سیدنا غوث الاعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ملاقات ہوئی تو حضرت خواجہ معین الدین چشتی حضرت کی خدمت اقدس میں ستاون یوم رہے اور آپ کے فیوضات اور تصفیہ باطن و کمال سے مستفیض ہوئے (تفریح الخاطر ص 20)
اعلیٰ حضرت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے۔

مزرع چشت بخارا و عراق و اجمیر
کون سی کشت پہ برسا نہیں جھالا تیرا
ایک جگہ یوں گویا ہیں۔
یہ چشتی، سہروردی، نقشبندی
ہر اک تری طرف مائل ہے یا غوث

کیا اس شعر میں چشتی سے مراد سرکار غریب نواز کی ارفع و اعلیٰ ذات نہیں ہے۔