آج ہمارا معاشرہ انتہائی بے چینی کا شکار ہے، ہر طرف افراتفری ہے۔ کوئی ملک، کوئی شہر، کوئی گائوں، کوئی قریہ، کوئی خاندان، کوئی گھر بلکہ کوئی فرد ایسا نہیں جو بے چینی کا شکار نہ ہو۔ آج ہم اس بے چینی کے خاتمے کے لئے گناہوں کی جانب رخ کرتے ہیں۔ نیز سکون کی تلاش میں گناہوںکا بازار گرم ہے۔ سکون کی تلاش میں کوئی شراب پیتا ہو، کوئی جوا کھیلتا ہے۔کوئی کیبل کے ذریعے مختلف گناہوں بھرے چینلز دیکھتا ہے۔ کوئی فلموں، ڈراموں میں سکون ڈھونڈتا ہے۔ کوئی ناچ رنگ، گانے بجانے کے ذریعے سکون ڈھونڈتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ ان کاموں میں سکون نہیں بلکہ مزید بربادی ہے۔

آیئے گانے باجے کے متعلق قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کیا ارشاد ہے۔ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلام میں ناچ گانے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ رقص اور گانا دونوں شیطانی کام ہیں جس سے شیطان، انسان کو راہ راست سے گمراہ کرتا ہے۔اس لئے اسلام میں ناچ اور گانا حرام ہے اور اسے بطور پیشہ اختیار کرنا بھی حرام ہے۔ ناچ اور گانا اور حیا سوز ایکٹنگ اور اس قسم کے دوسرے بے ہودہ کام صنفی جذبات کو ابھارتے ہیں اور طبیعت میں جنسی میلان ابھرتا ہے۔ اس لئے یہ تمام زنا کے راستے میں معاون حربے ہیں۔ ترقی پسند لوگوں نے اسے فن یعنی آرٹ کا نام دے کر معاشرے میں داخل کررکھا ہے۔ اس سے اسلامی معاشرے کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کے علاوہ جنسی جذبات کو تسکین دینے والے تمام ذرائع کو حرام قرار دیا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ: اور زنا کے قریب نہ جائو بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔ (سورۂ بنی اسرائیل، آیت 34، پارہ 15)
زنا فحاشی کی انتہا ہے۔ اس لئے اسے بالکل حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ تمام ذرائع جن سے زنا جنم لے سکتا ہے، وہ بھی حرام ہوگئے۔ ناچ گانے سے چونکہ برائی کو فروغ ملتا ہے اس لئے اس آیت کی رو سے اسلام میں وہ بھی حرام ہے۔ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ
ترجمہ کنز الایمان: اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اﷲ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔
(پارہ 21، سورہ لقمان، آیت6)
راہ ہدایت کو چھوڑ کر ناچ گانے اور کھیل تماشے کی طرف راغب ہونا نادانی اور دین سے دوری ہے۔ اسی طرح شیطان مختلف مشاغل اور تفریحات میں پھنسا کر اﷲ کے دین اور اس کی راہ سے بہکانا چاہتا ہے جو انسان کے لئے آخرت میں باعث عذاب ہوگا۔ آیت مبارکہ میں لہوالحدیث آیا ہے۔ اس کا مطلب ہر وہ چیز ہے جو اﷲ کی عبادت سے اور اس کی یاد سے غافل کردے۔ مثلا فضول قصہ گوئی، واہیات مشغلے اور گانے بجانے وغیرہ سب لہو الحدیث ہے۔
حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے اس لفظ کی تشریح پوچھی گئی تو آپ نے تین مرتبہ قسم کھا کر ارشاد فرمایا۔ خدا کی قسم! اس سے مراد گانا ہے اور راگ رنگ ہے۔
صدر شریعت بدر طریقت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ القوی اپنی کتاب بہار شریعت حصہ 16 ص 152 پر گانے باجے کی مذمت حدیث مبارک نقل فرماتے ہیں۔
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ گانے سے دل میں نفاق آتا ہے جس طرح پانی سے کھیتی اگتی ہے (شعب الایمان، جلد 4، ص 279، حدیث 5100)
حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالتﷺ نے گانے سے اور گانا سننے سے اور غیبت سے اور غیبت سننے سے اور چغلی کرنے اور چغلی سننے سے منع فرمایا (کنزالعمال، جلد 15، ص 95، حدیث 40655)
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں۔ نغمہ کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز (مجمع الزوائد، کتاب الجنائر، جلد 3، ص 100، حدیث 4017)
حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سنتا ہے۔ قیامت کے دن اﷲ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلے گا (کنزالعمال، جلد 15، ص 96، حدیث 40662)
مدینے کے تاجدارﷺ کا ارشاد ہے۔ آخر زمانہ میں میری امت کی ایک قوم کو مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی۔ یارسول اﷲﷺ خواہ وہ اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ آپﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ فرمایا۔ ہاں خواہ نمازیں پڑھتے ہوں اور روزے رکھتے ہیں۔ حج کرتے ہیں، عرض کی گئی۔ ان کا جرم کیا ہوگا۔ فرمایا وہ عورتوں کا گاناسنیں گے اور باجے بجائیںگے اور شراب پئیں گے۔ اسی لہو و لعب (یعنی کھیل کود) میں رات گزاریںگے اور صبح کو بندر اور خنزیر بنادیئے جائیں گے (عمدۃ القاری، جلد 14، ص 593)

موسیقی کی آواز سے بچنا واجب ہے

حضرت سیدنا علامہ شامی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں (لچکے توڑے کے ساتھ) ناچنا، مذاق اڑانا، تالی بجانا، ستار کے تار بجانا، بربط، سارنگی، بانسری، قانون، جھانجن، بگل بجانا مکروہ تحریمی (یعنی قریب بہ حرام) ہے کیونکہ یہ سب کفار کے شعار ہیں۔ نیز بانسری اور دیگر سازوں کا سننا بھی حرام ہے اگر اچانک سن لیا تو معذور ہے اور اس پر واجب ہے کہ نہ سننے کی کوشش کرے (ردالمحتار، جلد 9، ص 651)
اس سے معلوم ہوا کہ جوں ہی موسیقی کی آواز آئے تو ممکنہ صورت میں فورا کانوں میں انگلیاں ڈال کر وہاں سے ہٹ جانا چاہئے۔ اگر انگلیاں تو کانوں میں ڈال دیں، مگر وہیں کھڑے یا بیٹھے رہے، یا معمولی سا پرے ہٹ گئے تو موسیقی کی آواز سے بچ نہ سکیں گے۔ انگلیاں کانوں میں ڈال کر نہ سہی مگر کسی طرح بھی موسیقی کی آواز سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنا واجب ہے۔ اگر کوشش نہیں کریں گے تو ترک واجب کا گناہ ہوگا۔
مگر افسوس صد کروڑ افسوس! اب تو سیاروں، طیاروں، مکانوں، دکانوں، ہوٹلوں، چوراہوں اور گلیوں، بازاروں میں جس طرف بھی جایئے موسیقی کی دھنیں سنائی دیتی ہیں۔ گانے جاری ہونے کی صورت میں ہوٹل میں کھانے پینے کی ترکیب نہیں کرنی چاہئے۔

فون کی میوزیکل رِنگ ٹیونز

افسوس صد کروڑ افسوس! آج کل مذہبی نظر آنے والے افراد کے موبائل فون میں بھی معاذ اﷲ اکثر میوزیکل ٹیون ہوتی ہے اور یہ ناجائز ہے جس کے فون میں میوزیکل ٹون ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ ابھی اور اسی وقت توبہ بھی کرے اور ہاتھوں ہاتھ اپنی اس منحوس ٹیون کو ہمیشہ کے لئے ختم کردے ورنہ جب جب یہ میوزیکل ٹیون بجے گی، خود بھی سننے کی آفت میں پڑے گا اور دوسرا مسلمان بھی اگر سننے سے بچنے کی کوشش نہیں کرے گا تو پھنسے گا۔

کیا موسیقی روح کی غذا ہے؟

کیا واقعی موسیقی روح کی غذا ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لئے داتا صاحب کے فرمان کو پڑھیئے۔ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔اﷲ ودود عزوجل نے حضرت دائود علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس قدر نوازا تھا کہ آپ کے خوش الحانی کی باعث چلتا ہوا پانی ٹھہر جاتا، چرندے اور جانور آواز مبارکہ سن کر پناہ گاہوں سے باہر نکل آتے۔ اڑتے پرندے پڑے رہتے اور دانہ نہ چگتے، شیرخوار بچے نہ روتے، نہ دودھ طلب کرتے، کئی افراد فوت ہوجاتے۔ حتی کہ ایک بار آپ علیہ السلام کی پرسوز آواز کے سبب بہت سارے افراد دم توڑ گئے۔ شیطان یہ سب کچھ دیکھ کر جل بھن کر کباب ہوا جارہا تھا۔ بالاخر اس نے بانسری اور طنبورہ بنایا اور حضرت دائود علیہ السلام کے رحمتوں بھرے اجتماع کے مقابلے میں اپنا نحوستوں بھرا اجتماع یعنی محفل موسیقی کا سلسلہ شروع کیا۔ اب سامعین دائودی دو گروہوں میںمنقسم ہوگئے۔ سعادت مندحضرات حضرت سیدنا دائود علیہ السلام ہی کو سنتے جبکہ بدبخت افراد گانے باجوں اور راگ رنگ محفل میں شرکت کرکے اپنی آخرت خراب کرنے لگے (ماخوذ از کشف المحجوب، ص 457)
باقی صفحہ 14 پر ملاحظہ فرمائیں