فرمان الٰہی ہے والذین ہم لفروجہم حفظون
(پ 18، المومنون 5)
وہ حرام اور بدکاریوں سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
ایک اور آیت میں ارشاد ربانی ہے۔
ولاتقربوا الفواحش ماظہر منہاومابطن
(پ 8الانعام 152)
یعنی چھوٹے بڑے ظاہر پوشیدہ کسی بھی گناہ کے قریب مت جائو۔
یہاں بڑے سے مراد زنا اورچھوٹے سے مراد بوسہ لینا، بری نظر سے دیکھنا اور چھونا ہے۔ چنانچہ حضورﷺ کا ارشاد مبارک ہے ہاتھ زنا کرتے ہیں، پیر زنا کرتے ہیں، اور آنکھیں زنا کرتی ہیں۔ فرمان الٰہی قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکیٰ لہم
(پ 18، النور 30)
مومنوں سے کہہ دیجئے اپنی نگاہیں کچھ نیچے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ حرام کی طرف نہ دیکھیں اوراپنی شرم گاہوں کو ارتکاب حرام سے محفوظ رکھیں۔ اﷲ تعالیٰ نے متعدد آیات میں زنا کی حرمت بیان فرمائی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ربانی ہے۔
ومن یفعل ذلک یلق اثام (پ 19 الفرقان 68)
جو شخص زنا کرتا ہے اسے آثام میں ڈالا جائے گا  اثام کیا ہے؟ اثام کے متعلق کہا گیا ہے کہ جہنم کی ایک وادی ہے بعض علماء نے کہا کہ وہ جہنم کا ایک غار ہے جب ان کا منہ کھولا جائے گا تو ان کی شدید بدبو سے جہنمی چیخ اٹھیں گے۔

’’زنا میں 6 مصیبتیں ہیں‘‘

بعض صحابہ کرام رضی اﷲعنہم سے مروی ہے۔ زنا سے بچو اس میں 6 مصیبتیں ہیں جن میں سے 3 کا تعلق دنیا سے ہے اور 3 کا آخرت سے ہے۔ دنیا میں رزق کم ہوجاتا ہے۔ زندگی مختصر ہوجاتی ہے اور چہرہ مسخ ہوجاتا ہے۔ نیکی کی توفیق سے محرومی ہوجاتی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت ہوجاتی ہے اور آخرت میں اﷲ کا غضب، عذاب کی سختی اور دوزخ میں داخلہ جسے اﷲ تعالیٰ نے النار الکبریٰ فرمایا ہے کہ وہ سب سے بڑی آگ ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ تمہاری یہ آگ دوزخ کی آگ کا 70 واں حصہ ہے۔ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زانی کی سزا کے بارے میں پوچھا تو رب تعالی ٰنے فرمایا۔ میں اسے آگ کی زرہ پہنائوں گا۔ وہ ایسی وزنی ہے کہ اگر بہت بڑے پہاڑ پر رکھ دی جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے، کہتے ہیں۔ ابلیس کو ہزار بدکار مردوں سے ایک بدکار عورت زیادہ پسند ہوتی ہے۔ مصابیح میں رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔ جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس کا ایمان نکل کر اس کے سر پر چھتری کی طرح معلق (لٹکا) رہتا ہے اور جب وہ گناہ سے فارغ ہوتا ہے تو اس کا ایمان پھر لوٹ آتا ہے۔ کتاب اقناع میں رسول اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک نطفہ کو حرام کاری میں صرف کرنے سے بڑا کوئی گناہ نہیں ہے اور لواطت زنا سے بھی بدتر ہے۔ جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ جنت کی خوشبو پانچ سو سال کے سفر کی دوری سے آئے گی۔ مگر لوطی اس سے محروم رہے گا۔

امرد ایک فتنہ ہے

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ گھر کے باہر بیٹھے تھے کہ ایک حسین لڑکا (امرد) آتا ہوا نظر آیا۔ آپ دوڑ کر گھر میں گھس گئے اور دروازہ بند کرلیا۔ کچھ دیر بعد پوچھا فتنہ چلا گیایا نہیں؟ لوگوں نے کہا چلا گیا۔ آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا فرمان نبویﷺ ہے ان کی طرف دیکھنا، گفتگو کرنا اور ان کے پاس بیٹھنا حرام ہے۔
جناب قاضی امام رحمتہ اﷲ علیہ کا قول ہے۔ میں نے بعض مشائخ سے سنا ہے کہ عورت کے ساتھ ایک شیطان اور حسین لڑکے کے ساتھ اٹھارہ شیطان ہوتے ہیں۔روایت ہے کہ جس نے شہوت کے ساتھ لڑکے کو بوسہ دیا، وہ پانچ سو سال جہنم میں جلے گا اور جس نے کسی عورت کا بوسہ لیا۔ اس نے گویا ستر ہزار شادی شدہ عورتوں سے زنا کیا۔ رونق التفاسیر میں کلبی رحمتہ اﷲ علیہ سے منقول ہے۔ سب سے پہلے لواطت ابلیس نے شروع کی۔ وہ لوط علیہ السلام کی قوم میں ایک حسین و جمیل لڑکے کی صورت میں آیا اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا یہاں تک کہ لواطت ان کی عادت بن گئی جو بھی مسافر آتا، وہ اس سے بدفعلی کرتے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اس فعل بدسے روکا۔ اﷲ کی طرف بلایا اور عذاب خداوندی سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے۔ اگر تم سچے ہو تو جائو عذاب لے آئو۔حضرت لوط علیہ السلام نے اﷲ رب العزت سے دعا مانگی۔ جس کے جواب میں ان پر پتھروں کی بارش ہوئی ہر پتھر پر ایک آدمی کا نام لکھا تھا اور وہ اسی آدمی کو آکر لگا۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ مسومۃ عند ربک (پ 12، ہود 83) جو نشان کئے ہوئے ہیں تیرے رب کے پاس ۔
فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت زید بن خالد رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی آنحضرتﷺ کی خدمت عالیہ میں اپناجھگڑا لے کر پیش ہوئے۔ ایک نے کہا یارسول اﷲﷺ ہمارا فیصلہ اﷲ کی کتاب کے مطابق فرمادیں اور دوسرا بولا جوپہلے سے کچھ سمجھدار تھا۔ جی ہاں یارسول اﷲ ہمارا فیصلہ اﷲ کی کتاب کے موافق فرمایئے اور مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت مرحمت فرمایئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہو۔ وہ کہنے لگا۔ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدوری کرتاتھا۔ اس نے اس شخص کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے کو رجم ہوگا میں نے 100 بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی پھر اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ تیرے بیٹے کو 100 کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی اور اس کی بیوی پر رجم ہوگا۔ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میںتمہارے درمیان اﷲ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروںگا، تیری بکریاں اور باندی تجھے ملے گی اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہوگی اور حصرت انیس اسلمی رضی اﷲ عنہ کو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی بیوی کے پاس جاکر دریافت کرو۔ اگر وہ اعتراف کرلے تو رجم کردو چنانچہ اس عورت نے اقبال جرم کرلیا اور وہ رجم کردی گئی۔

شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کیلئے زنا کی سزا 

حدیث شریف سے زنا کا حکم معلوم ہوگیا کہ زانی مرد یا عورت جب کہ شادی شدہ نہ ہوں تو اس پر 100کوڑے لازم ہوتے ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے کہ زانیہ عورت اور زانی مرد ان میں سے ہر ایک کوسو کوڑے لگائو۔
ولا تاخذکم بہمارا فۃ فی دین اﷲ
اور تم لوگوں کو ان پر اﷲ تعالیٰ کے معاملے میں ذرا رحم نہ آنا چاہئے یعنی اﷲ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں تم پر شفقت اور مہربانی کاغلبہ نہیں ہونا چاہئے کہ کہیں حدود اﷲ کو ہی ختم کردو حالانکہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں پر تم سے کہیں زیادہ مہربان ہے اور اس کے باوجود اس نے زانیوں کو حد لگانے کا حکم دیا جس پر دنیا میں حد قائم نہ ہوئی۔ قیامت کے دن سرعام اسے آگ کے کوڑے لگائے جائیں گے۔ پھر ارشاد مبارک ہے۔
ان کنتم تومنون باﷲ والیوم الاخر (النور 2)
یعنی اگرتم اﷲ کی توحید اور قیامت کے دن کا یقین رکھتے ہو تو حد کو معطل نہ کرو۔
ولیشہد عذابہما طائفۃ من المومنین (النور 2)
اور حد قائم کرتے وقت مومنوں کا ایک گروہ موجود ہونا چاہئے تاکہ سزا میں شدت پیدا ہو اور لوگوں کے سامنے خوب شرمندگی ہوگی اس طرح آئندہ کو باز رہیں گے اور جرم کا اعادہ نہ کریں گے۔ یہ غیر شادی شدہ کی حد کا بیان ہے اور اگر مرد شادی شدہ ہے کہ نکاح کے بعد دخول کرچکا ہے یا عورت ایسی ہے کہ اس کا خاوند اس کے ساتھ دخول کرچکا ہے، پھر وہ زنا کرلیں تو ان کی سزارجم ہے۔ حدیث میں ہے رسول اﷲﷺ نے حضرت ماغر بن مالک رضی اﷲ عنہ کو رجم کی سزا دی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک عورت خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر زنا کا اقرار کرتی ہے اور اسی گناہ سے اسے حمل بھی تھا۔ آپ نے بچہ پیدا ہونے تک اسے واپس فرمایا۔ ولادت سے فارغ ہوکر پھر وہ حاضر ہوئی تو اسے رجم کی سزا دے دی گئی۔ یہ دنیا کی سزا ہے، اگر دنیا میں مل گئی تو درست ہے ورنہ آخرت میں ملے گی اور آخرت کا عذاب بہت شدید اور دیرپا ہے۔ لہذا زنا سے بہت ہی بچنا چاہئے کہ یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشۃ (الاسراء 32)
اور زنا کے پاس بھی مت جائو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زنا نہ کرو اور اس سے بہت ہی بچو کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے یعنی اہل زنا کیلئے یہ بدترین راستہ ہے جو انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہے اور ایک جگہ ارشاد ہے۔
ولاتقربوا الفواحش ماظہرمنہا و مابطن (الانعام 151)
اور بے حیائی کے جتنے بھی طریقے ہیں، ان کے پاس بھی مت جائو، خواہ اعلانیہ ہوں، یا پوشیدہ ہوں۔ ظہر سے مراد بڑا گناہ یعنی زنا اور بطن سے مراد بوس و کنار وغیرہ مراد ہیں اور یہ بھی زنا میں داخل ہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ہاتھ زنا کرتے ہیں اورآنکھیں بھی زنا کرتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
قل للمومنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوافروجہم ذالک ازکیٰ لہم ان اﷲ خبیر بما یصنعون وقل للمومنٰت یضغضن من ابصارہن ویحفظن فروجہن (النور 30)
آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے، بے شک اﷲ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیاکرتے ہیں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔
اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں مردوں اور عورتوں کو نگاہیں پست رکھنے اور شرم گاہوں کو حرام سے محفوظ رکھنے کا حکم فرمادیا ہے اور زنا کو تورات اورانجیل، زبور اور فرقان کی بہت سی آیات میںحرام قرار دیا ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ بھلا کسی مومن کی عزت و آبرو لوٹنے سے بڑھ کر اور ان کے نسب کو خراب کرنے سے بڑا اور کیا گناہ ہوگا۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں بھی زنا نہیں کیا اور کہا کرتے تھے کہ جب مجھے یہ گوارا نہیں کہ کوئی شخص میری عزت کو پامال کرے تو میں کسی اور کی عزت کو کیسے پامال کرسکتا ہوں۔

پند ونصائح

یہ دیکھنا کہیں اپنی حیات اور صحت کے دھوکہ میں نہ رہنا کہ دنیا ڈھلتی چھائوں ہے اور عذاب بہت طویل ہے۔ زنا سے بچتے رہو کہ وہ غضب اور ناراضگی اور دردناک عذاب لاتا ہے اور انتہائی سنگین وہ زنا ہے جس میں کوئی شخص مسلسل لگا رہتا ہے۔ مثلا اپنی بیوی کو طلاق دے کر یونہی بطور حرام اپنے پاس ٹھہرائے رکھتا ہے۔ رسوائی کے ڈر سے لوگوں میں ظاہر نہیں کرتا ایسے شخص کو آخرت کی رسوائی کا کیوں خوف نہیں جس دن سب بھید الم نشرح ہوجائیں گے۔ سو ایسے دن کی رسوائی کے خوف کی وجہ سے زنا سے بہت ہی بچنا چاہئے اور اس پر ہرگز اصرار نہ کرے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے کی تاب کس کو ہے؟ اور خوب توبہ کرو کہ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ کوقبول فرماتا ہے اور توبہ وندامت کا وقت دنیاوی زندگی تک ہی ہے۔ مرنے کے بعد نہ توبہ کچھ فائدہ دے گی اور نہ ہی ندامت کام آئے گی۔
اﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان کی مدح سرائی فرمائی ہے جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
والذین ہم لفروجہم حافظون الاعلیٰ ازواجہم اوماملکت ایمانہم فانہم غیر ملومین فمن ابتغیٰ وراء ذلک مالئک ہم العادون (المعارج 29)
اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیویوں سے یا اپنی لونڈیوں سے تو ان پر کوئی الزام نہیں، ہاں جو اس کے علاوہ طلب گار ہو، ایسے لوگ حد سے نکلنے والے ہیں یعنی یہ لوگ نافرمان ہیں لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ خود بھی زنا سے توبہ کرے اورلوگوں کو بھی اس سے روکتا رہے کیونکہ جس خطے میں زنا عام ہوجاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ وہاں پر طاعون جیسی وبائی امراض عام فرمادیتا ہے۔ فقیہ رحمتہ اﷲ علیہ اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمتہ اﷲ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت کعب رحمتہ اﷲ علیہ کو حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب یہ حالات دیکھنے میں آئیں کہ تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور خون بہائے جارہے ہیں تو یقین کرلو کہ ان لوگوں نے اﷲ پاک کے حکم کوضائع کیا ہے جس کا انتقام ایک دوسرے کے ذریعہ لیا جارہا ہے اور جب دیکھو کہ بارش بند ہورہی ہے تو سمجھ لو کہ لوگوں نے زکوٰۃ بند کردی ہے۔ جس کی وجہ سے اﷲ پاک نے اپنی بارش روک لی ہے اور جب دیکھو کہ وباء پھیل رہی ہے یقین کرلو کہ زنا عام ہورہا ہے۔ اﷲ رب العزت ہمیں اس گھنائونے جرم سے کماحقہ بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
٭٭٭