اذان سے پہلے درود و سلام پڑھنا مستحب ہے اور پڑھنے والے کو اس کا ثواب بھی ملے گا۔ اگر کوئی اذان سے پہلے درود وسلام نہیں پڑھتا تو کوئی حرج نہیں۔ اس لئے کہ یہ فرض واجب نہیں  مستحب ہے لیکن جو خوش نصیب عاشقان رسولﷺ اذان سے پہلے یا بعد میں پڑھتے ہیں۔ ان کو بدعتی نہیں کہنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے۔

یاایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما
اے ایمان والو تم اپنے نبیﷺ پر خوب صلوٰۃ و سلام بھیجا کرو۔

اس آیت میں درود و سلام حکم علی الاطلاق وارد ہوا اور اسے مطلق حکم پر رکھنا چاہئے۔ ہمارے دور کے ایک دیوبندی عالم نے ہم سے مباحثہ کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ صلوٰۃ و سلام کو اذان سے پہلے مسلسل پڑھ کر مقید کرتے ہو حالانکہ مطلق پر جب عمل کرنا ممکن ہو تو اسے خبر واحد یا قیاس کے ذریعے بھی مقید نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نے کہا اگر ایک شخص ہر جمعہ کے روز تسلسل سے صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہے جیسا کہ حدیث مبارک میں ہے۔ حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا۔ تم جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کرو کیونکہ یہ ایسا مبارک دن ہے کہ فرشتے اس میں حاضر ہوتے ہیں اور جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ درود اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کی یارسول اﷲﷺ آپ کے وصال کے بعد بھی۔ فرمایا ہاں۔ بے شک اﷲ عزوجل نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو کھائے۔ جبکہ صاحبِ مشکوٰۃ کی روایت میں یہ بھی ہے۔ پس اﷲ کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے رزق دیا جاتا ہے ۔
(سنن ابن ماجہ جلد 1 صفحہ 76 قدیمی کتب خانہ کراچی)

اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں بہت سے اوقات مخصوصہ میں صلوٰۃ وسلام پڑھنے کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے حتی کہ شب و روز صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا ثبوت بھی موجود ہے اور امام سخاوی علیہ الرحمہ نے القول البدیع میں 75 مقامات شمار کئے ہیں جن میںصلوٰۃ و سلام پڑھنا چاہئے تو کیا امام سخاوی نے ایک مطلق حکم کو 75 قیود کے ساتھ مقید کردیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں اور نہ ہی احادیث میں مقید کیا ہے بلکہ یہاں پر خاص اوقات میں فضیلت کا بیان کیا گیا لہذا اوقات مخصوصہ میں صلوٰۃ و سلام کو پڑھنے کے احکام کو فضیلت کی طرف منسوب کریں گے نہ کہ مطلق پر مقید کا الزام لگائیں گے اور یاد رہے کہ کسی بھی مباح کام کے بار بار کرنے سے اس کے مقید ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا تو پھر اذان سے قبل صلوٰۃ و سلام پر مقید ہونے کا حکم لگانا بھی جائز ہے۔ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد نفلی نماز پڑھنا مباح ہے اگر کوئی شخص اس وقت میں ہمیشگی کے ساتھ نفل پڑھے تو کیا اس پر مقید کا الزام لگاتے ہوئے اسے نماز سے منع کرو گے۔ ماشاء اﷲ

 اذان سے قبل صلوٰۃ و سلام کا ثبوت

صلوٰۃ و سلام کا مطلب: یاد رہے یہاں پر ہم تفصیل میں جائے بغیر یہ بیان کررہے ہیں کہ یہ بات تمام فقہائے اسلام اور جمہور علمائے اسلام کے نزدیک متفق ہے کہ سید عالمﷺ کے لئے صلوٰۃ و سلام کا مطلب دعا ہے۔
ابن قیم لکھتے ہیں کہ جب ہم صلوٰۃ و سلام پڑھتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اﷲ عزوجل جانِ عالمﷺ پر نزول رحمت فرمائے (جلاء الافہام ص 87، دارالکتب العربی)
تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کیا سید عالمﷺ کے لئے دعا کرنا جائز ہے یا نہیں تو اس کا ثبوت ہم فراہم کررہے ہیں۔ کیونکہ قاعدہ کلیہ کے طور پر حکم نص سے ثابت ہے تاہم تسلی کے لئے ہم اس کا جزیہ بھی بیان ہیں۔
حضرت: حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ بنی نجار کی ایک عورت سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میرا گھر اونچے گھروں میں سے تھا اور مسجد کے گردونواح میں سے تھا۔ پس حضرت بلال رضی اﷲ عنہ فجر کی اذان کے لئے سحری کے وقت آتے اور میرے مکان پر بیٹھ جاتے اور فجر کا انتظار کرتے تھے اور جب وہ دیکھ لیتے تو یہ کہتے اے اﷲ عزوجل میں تیری حمد کرتا ہوں اور تجھ سے مدد مانگتا ہوں اس بات کی کہ قریش سرور دوعالمﷺ کے دین پر قائم رہیں۔ انہوں نے کہا پھر وہ اذان دیتے (بنی نجار کی اس عورت نے کہا) خدا کی قسم میں نہیں جانتی کہ کسی بھی رات میں آپ نے یہ کلمات پڑھنے ترک کئے ہوں (ہر رات اذان سے پہلے پڑھتے تھے)
(سنن ابو دائود، جلد 1، ص 77، مطبوعہ دارالحدیث، ملتان)
انتباہ اذان سے پہلے دعا بروایت ثابت ہے اور صلوٰۃ و سلام دعا ہے لہذا اذان سے پہلے صلوٰۃ و سلام ثابت ہوا کیونکہ وہ دعا ہے اور جمہور محدثین کے نزدیک روایت بالمعنی جائز ہے۔
نوٹ: جمہور علماء کے نزدیک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی نہ صرف قبول بلکہ قابل عمل ہوتی ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے جب اور عموم کی تصریح کے ساتھ ہو تو تمام از مسند تحت امر داخل ہوتے ہیں (فتاویٰ رضویہ جلد 9، ص 243، رضا فائونڈیشن)
اس قاعدے کے مطابق کہ جب امر کا صیغہ عموم کی تصریح کے ساتھ ہو اور یہاں صلوٰۃ و سلام میں جو امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ اس کا عموم کسی سے مخفی نہیں اور جب عموم ہے تو اس میں تمام اوقات داخل ہیں لہذا نماز واذان سے قبل و بعد کا وقت لامحالہ (ضروری طور پر) داخل حکم امر ہوگا یعنی جو شخص ان اوقات میں صلوٰۃ و سلام پڑھے گا تو یہ قرآن کے اس حکم پر عمل ہوگا۔ (قواعد فقیہ معہ فوائد رضویہ ص 298 تا 301، مطبوعہ شبیر برادرز)
یاایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما
اے ایمان والو تم بھی اس غیب بتانے والے نبیﷺ پر خوب درود و سلام بھیجو۔ مفتی احمد یار خان علیہ رحمتہ اﷲ الحنان جاء الحق میں ارقام کرتے ہیں۔
یہ آیت کریمہ مطلق وعام ہے۔ اس میں کسی قسم کی قید و تخصیص نہیں ہے یعنی یہ نہیں فرمایا گیا کہ بس فلاں وقت میں ہی پڑھا کرو یا فلاں وقت میں درود و سلام نہ پڑھا کرو بلکہ مطلق رکھا تاکہ تمام ممکن اوقات کو شامل رہے (جاء الحق: ص 781، مطبوعہ مکتبہ غوثیہ)
اسی لئے حضرت علامہ علی قاری علیہ رحمتہ اﷲ الباری فرماتے ہیں:
انہ تعالیٰ لم یوقت ذلک یشمل سائر الاوقات
ترجمہ: اﷲ تعالیٰ نے اس امر صلوٰۃ (درود و سلام کا حکم) کا وقت معین نہیں کیا تاکہ تمام اوقات شامل رہیں (شرح الشفاء للقاری، جلد 3، ص 447)
سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ہے۔ فی صلوتکم ومساجد کم و فی کل موطن
یعنی اپنی نمازوں اور مساجد اور ہر مقام میں نبی کریمﷺ پر درود شریف پڑھو (جلاء الافہام، ص 252)
زکریا کاندھلوی دیوبندی نے لکھا ہے جن اوقات میں بھی (درود شریف) پڑھ سکتا ہو، پڑھنا مستحب ہے (تبلیغی نصاب فضائل، درود شریف ص 67)
لہذا مطلقا ہر جگہ اور ہر وقت نبی کریمﷺ پر درود وسلام پڑھنا جس میں اذان کا مقام بھی داخل ہے کلام الٰہی عزوجل سے مامور و ثابت ہے۔ لہذا روز روشن کی طرح واضح ہوا کہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھنا جائز و مستحسن ہے۔
غیر مقلدوں کے امام ابن قیم لکھتے ہیں۔ المواطن السادس من مواطن الصلوٰۃ علی النبیﷺ بعد اجابتہ الموذن وعنہ الاقامۃ
ترجمہ: یعنی حضور سید عالمﷺ پر درود شریف بھیجنے کے مواقع میں چھٹا موقع ہے موذن کی اذان سننے کے بعد اور اقامت سے پہلے (جلاء الافہام، ص 308)
امام قاضی عیاض مالکی رحمتہ اﷲ علیہ رقم طراز ہیں۔ ومن مواطن الصلوٰۃ علیہ عند ذکر و سماع اسمہ و کتابہ او عند الاذان
ترجم: نبی کریمﷺ پر درود شریف بھیجنے کے مقامات میں سے یہ ہے کہ آپﷺ کے ذکر کے وقت آپﷺ کا نام مبارک سننے کے وقت یا آپﷺ کے نام مبارک لکھنے کے وقت یا اذان کے وقت۔ (شفاء شریف فصل فی المواطن الخ جلد 2، ص 43، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
علامہ علی قاری فرماتے ہیں:
عند الاذان ای الاعلام الشامل للاقامۃ
ترجمہ: اذان سے مراد اعلام ہے جو اذان شرعی و اقامت دونوں کو شامل ہے (شرح الشفائ، جلد 2، ص 114)
عبدالحئی لکھنوی لکھتے ہیں: یستفاد منہ بظاہرہ استحبابہ عند شروع الاقامۃ کما ہو معارف فی بعض البلاد
(الاسعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ باب الاذان ج 2، ص 41، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) امام سید ابی بکر المشہور باسید البکری رحمتہ اﷲ لکھتے ہیں:
ای الصلوٰۃ والسلام علی النبیﷺ قبل الاذان والاقامۃ
ترجمہ: اذان و اقامت سے پہلے رسول اﷲﷺ پر درود و سلام بھیجنا مسنون و مستحب ہے (امانۃ الطالبین علی فتح المعین جلد 1، ص 232، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی)
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی الفلاح میں علامہ شیخ احمد طحطاوی فرماتے ہیں: وفی الدرۃ المنیقۃ: اول من احدث اذان اثنین معابنو امیۃ واول لازیدت الصلوٰۃ علی النبی ﷺ بعد الاذان علی المنارۃ فی زمن حاجی بن الاشراف شعبان بن حسین بن محمد بن قلاون، باامر المستحب نجم الدین الطنبدی وذلک فی شعبان سنۃ احدی وتسعین وکذا فی الاوئل للسیوطی
(حاشیۃ الطحطاوی جلد 1، ص 271، مطبوعہ قاسم پبلی کیشنز کراچی)
مومن وہ ہے جو ان کی عزت پہ مرے دل سے
تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مرے دل سے
(حدائق بخشش)
اب ہم فتاویٰ امجدیہ سے چند اقتباسات نقل کرتے ہیں جس سے اظہر من الشمس وابین من الامس، روز روشن سے زیادہ ظاہر گزشتہ کل سے زیادہ واضح ہوجائے گا۔
اذان و اقامت سے پہلے اور بعد میں درود و دعا و سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے۔ صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ اﷲ القوی لکھتے ہیں: اذان کے بعد جو دعا احادیث میں وارد ہے۔ اس کا پڑھنا اتباع سنت و موجب برکات ہے۔ اس کے پڑھنے کے لئے احادیث میں شفاعت کا وعدہ فرمایا گیا۔ انبیاء علیہم السلام پر درود و سلام پڑھنا موجب ثواب و برکات اور درود کے ثواب جو احادیث میں وارد ہیں، اس کا مستحق ہے۔ احادیث میں درود پڑھنے کی فضیلت موجود ہے اور اذان کے بعد درود کی ممانعت نہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ اس کو (درود و سلام اذان و اقامت سے پہلے یا بعد میں پڑھنے کو) ناجائز و بدعت قبیحہ کہنے والے ایمان و انصاف سے بولیں کہ اذان کے بعد درود شریف پڑھنا کس حدیث میں منع کیا۔ کس صحابی نے منع کیا یا تابعین و تبع تابعین یا ائمہ مجتہدین میں سے کس نے ناجائز کہا۔ اگر ایسا نہیں اور یقینا ایسا نہیں تو یہ حکم احداث فی الدین و بدعت قبیحہ ہے یا نہیں ضرور ہے اور وہ تمام احادیث جو مجوزین کے حق میں ذکر کی گئیں۔ سب مانعین کے حق میں ہیں۔ بالجملہ صلوٰۃ وسلام (اذان واقامت سے پہلے ہو یا بعد میں) پڑھنا جائز ہے کسی دلیل شرعی سے اس کی ممانعت نہیں۔
اب نجدیوں نے موقوف کردیا ہے ورنہ صدیوں سے حرمین طیبین مکہ و مدینہ دیگر بلاد اسلامیہ میں رائج و معمول بنارہا اور علماء و مشائخ بنظر استحسان دیکھتے رہے اور عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ماراہ المسلمون حسنا فہو عنہ اﷲ حسن لہذا یہ جائز و مستحسن ہے۔
در مختار و ہدایہ، فتاویٰ قاضی خان، عالمگیری و غیرہ کتب فقہ میں اس کے جواز بلکہ استحسان کی تصریح ہے۔ التسلیم بعد الاذان حدث فی ربیع الاخر سنۃ سبع مانۃ واحدی وثمانین فی عشاء لیلۃ الاثنین ثم یوم الجمعۃ ثم بعد عشر سنین حدث فی الکل الا المغرب ثم فیہا مہ تین وہو بدعۃ حسنۃ
علماء جب اسے اس ہیئت خاصہ کے ساتھ بدعت حسنہ کہتے ہیں تو اسے بدعت سیئہ قرار دے کر منع کرنا سخت غلطی ہے۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، ص 67, 66, 65 مطبوعہ مکتبہ رضویہ)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اذان کے بعد یا اذان سے پہلے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجنا جائز و مستحب امر مستحسن ہے کما حردناہ فی اوائلہ
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا
تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث
تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود
(حدائق بخشش)
امام ابن حجر متوفی 974ھ اپنی مایہ ناز تصنیف الدر المنصور فی الصلوٰۃ والسلام علی صاحب المقام المحمود میں ارقام کرتے ہیں کہ نماز جمعہ اور نماز فجر و مغرب کے سوا باقی سب نمازوں سے پہلے اور اذان کے بعد مساجد کی میناروں پر رسول اﷲﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑھنے کی جو عادت اہل اسلام میں رائج ہے۔ ا سکو سلطان صلاح الدین بن ایوب رحمتہ اﷲ علیہ نے جاری کیا تھا۔ نماز جمعہ اور نماز فجر میں اذان سے پہلے پڑھا جاتا تھا اور نماز مغرب کا وقت تنگ ہونے کی وجہ سے اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام نہیں پڑھا جاتا تھا۔ بعض مورخین نے ذکر کیا ہے کہ اس عمل کی ابتداء مصر اور قاہرہ میں 791ھ سے ہوئی ہے کہ بعض معتقدین نے خواب میں اس کو دیکھا تھا۔ ان مورخین کا یہ بیان اس طریقہ کے اس سے قبل جاری ہونے کے مخالف نہیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ سلطان صلاح الدین بن ایوب کی وفات کے بعد مذکورہ تاریخ تک اس کو ترک کردیا گیا ہو اور اس تاریخ کے بعد دوبارہ اس پر عمل کیا گیا ہو یا سلطان صلاح الدین نے صرف جمعتہ المبارک کی رات اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہو اور مذکورہ تاریخ کے بعد باقی ایام میں بھی اس کو معمول بنادیا گیا ہو۔ مزید لکھتے ہیں کہ بعض متاخرین نے اس عمل کو درست قرار دیا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ بدعت حسنہ ہے۔ اس پر عمل کرنے والے کو حسن نیت کی وجہ سے اجر ملے گا۔ حضرت امام احمد بن محمد بن حجر رحمتہ اﷲ علیہ کے شیخ حضرت شیخ الاسلام ذکریا رحمتہ اﷲ علیہ کا قول اس کے قریب ہے۔ انہوں نے اپنے فتاویٰ میں فرمایا ہے کہ اس کی اصل مستحب ہے اور کیفیت بدعت (حسنہ) ہے (انظرنی الدر المنصور فی الصلوٰۃ والسلام علی صاحب المقام المحمود ص 325)
نیز اسی میں ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا جس نے مجھ پر درود پاک نہ پڑھا۔ اس کا کوئی دین نہیں۔
اس حدیث کو المروزی نے تخریج کیا۔ اس کی سند میں ایک راوی کا نام ذکر نہیں (الدر السمنن ص 308)
انداز لگایئے کہ درود پاک نہ پڑھنے والے پر اس وعید شدید ارشاد فرمائی گئی۔ ان بدبختوں کا انجام کیا ہوگا جو اپنے دقیانوسی خیالات فاسدہ جاہلانہ اعتراضات کے تیر برسا کر اذان سے پہلے اور بعد میں درود سلام پڑھنے کو منع کرتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ آخرت میں ان کا انجام کیا ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو سمجھنے اور حق توفیق عطا فرمائے۔
خدام الدین ستمبر 1963ء میں لکھا ہے کہ اس درود سے منع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ حاجی امداد اﷲ صاحب نے فرمایا ہے کہ اس کے جواز میں شک نہیں (مولانا محمد صدیق ملتانی) (تقاریری نکات ص 463 بتغیر مطبوعہ کرانوالہ بک شاپ لاہور)
حضرت علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم فرماتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ رحمت کونین نانائے حسنینﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں ایک طرف کو نکلا تو میں نے دیکھا کہ جو درخت اور پہاڑ سامنے آتا ہے۔ اس سے السلام علیک یارسول اﷲ کی آواز آتی ہے اور میں خود اس آواز کو اپنے کانوں سے سن رہا تھا (سنن الترمذی الحدیث 3464، ج 5ً ص 359)
اہلسنت کی پہچان سنیوں کے دلوں کی جان اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن اپنے نعتیہ کلام حدائق بخشش میں فرماتے ہیں۔
ذکر ان کا چھیڑیئے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجئے
مثل فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکر آیات ولادت کیجئے
غیظ میں جل جائیں، بے دینوں کے دل
یارسول اﷲ کی کثرت کیجئے
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
(باقی آئندہ)
٭٭٭

 کہنا اللہم لک حمد و بک امنت وعلیک توکلت و علیٰ رزقک افطرت یہ دونوں بدعت ہیں۔
اور خطبہ کی اذان داخل مسجد کہنا یہ بھی بدعت ہے۔ حدیث کی مشہور کتاب ابو دائود جلد اول ص 162 میں ہے عن السائب بن یزید قال کان یوذن بین یدی رسول اﷲﷺ اذا جلس علی الممبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر و عمر یعنی حضرت سائب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اﷲﷺ جمعہ کے روز منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضورﷺ کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کے زمانہ میں اذان و اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنے کی مخالفت کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ ان بدعتوں کی بھی مخالفت کریں مگر وہ لوگ ان بدعتوں کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ جس سے انبیاء کرام و بزرگان دین کی عظمت ظاہر ہو، صرف اسی کی مخالفت کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کیباتیں نہ سنیں کہ عظمت نبی کا دشمن ابلیس جنت سے نکال دیا گیا اور یہ لوگ عظمت نبی کی مخالفت کرکے جنگ میں جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔ (فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 ص 181 بتغیر مطبوعہ شبیر برادراز)
شامی مصری جلد اول ص 381 تا 382 میں ہے۔
قولہ (مستحبۃ فی کلاوقات الامکان) ای حیث لا مانع و نص العلماء علی استحبابہا فیمواضع یوم الجمعۃ ولیلتھا وعند الاقامۃ واول الدعا واوسطہ و آخرہ وعند ذکر
ان کا کہنا (درود مستحب ہے ہر غیر مکروہ وقت مین) یعنی جہاں کو شرع مانع نہ ہو۔ علماء نے فرمایا ہے کئی مواقع پر درود شریف مستحب ہے۔ خطبہ کے وقت جمعہ کے دن میں اور رات میں اقامت کے وقت۔ دعا کے شروع میں اس کے درمیان میں اور اس کے اخیر میں بھی نیز اﷲ کے ذکر کے وقت۔
در مختار مصری ص 228 میں ہے۔
ومستحبۃ فی کل اوقات الامکان
ہر جائز اوقات میں درود شریف مستحب ہے۔
حنفیہ کا اصول فتاویٰ میں لکھا ہے۔ علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حمکفی متوفی 1088ھ نے الدر المختار میں لکھا
الاصل فی الاشیاء الابحۃ یعنی چیزوں میں اصل اباحت جائز ہونا ہے (حاشیہ شامی جلد 1، ص 77، مکتبۃ رشیدیہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ درود شریف قبل اقامت پڑھنے میں حرج نہیں مگر اقامت سے قبل چاہئے یا درود شریف کی آواز آواز اقامت سے ایسی جدا ہوکر امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزء اقامت نہ معلوم ہو (فتاویٰ رضویہ جلد 5، ص 386، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
اسی فتاویٰ رضویہ میں الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول کے بارے میں دلائل ملاحطہ فرمائیں۔ امام اہلسنت فرماتے ہیں۔
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ کہنا باجماع مسلمین جائز و مستحب ہے جس کی ایک دلیل ظاہر و باہر الستحیان میں السلام علیک ایہا النبی و رحمتہ اﷲ وبرکاتہ ہے اور اس کی سوا صحاح کی حدیث میں یامحمد انی اتوجہ بک ابی ربی فی حاجتی ہذہ
(جامع ترمذی میں اسی طرح ہے) اے محمدﷺ میں اپنی اصل حاجت میں آپ کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور آپ کو وسیلہ بناتا ہوں۔ موجود جس میں بعد وفات اقدس حضور سید عالمﷺ کے حضور پکارنا اور حضور سے مدد لینا ثابت ہے (فتاویٰ رضویہ جلد 23، ص 680، مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
اس سے معلوم ہوا کہ اذان سے قبل یا بعد میں درود شریف بالخصوص الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ کہنا بھی جائز ہے۔
فتاویٰ فیض رسول میں ہے۔ اگر مخالفین اس لئے مخالفت کرتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کے زمانہ مبارکہ میں اور صحابہ کرام کے عہد میں اذان و اقامت سے پہلے درود شریف نہیں پڑھا جاتا تھا تو مخالفین سے کئے کہ مسلمان بچوں کو جو ایمان مجمل اور ایمان مفصل یاد کرایا جاتا ہے، ایمان کی یہ دو قسمیں ہیں اور ان کے یہ دونوں نام بدعت ہیں۔ کلموں کی تعداد ان کی ترتیب اور ان کے سب نام بدعت ہیں۔ قرآن شریف کا تیس 30 پارے بنانا، ان میں رکوع قائم کرنا اس پر اعراب زبر زیر وغیرہ لگانا اور آیتوں کا نمبر وغیرہ لگانا سب بدعت ہے۔ حدیث کو کتابی شکل میں جمع کرنا حدیث کی قسمیں بنانا پھر ان کے احکام مقرر کرنا سب بدعت ہیں۔ اصول حدیث، اول فقہ کے سارے قاعدے قانون سب بدعت ہیں۔ نماز کے لئے زبان سے نیت کرنا یہ بھی بدعت ہے، روزہ کی نیت اسی طرح زبان سے کہنا نویت ان اصوم غداۃً ﷲ تعالیٰ اور افطار کے وقت ان الفاظ کو زبان سے
جب اذان اتنا بابرکت کام ہے تو ہر بابرکت کام سے پہلے جس طرح بسم اﷲ شریف پڑھنی چاہئے (کل امر ذی بال لویبد بسم اﷲ فہو اقطع) اسی طرح ہربابرکت کام سے پہلے اپنے آقا و مولیٰﷺ پر درود و سلام پڑھنا چاہئے جن کے صدقے ہمیں یہ عظیم الشان نعمت ملی جیسا کہ جامع صغیر میں حدیث بھی ہے۔
القول البدیع فی الصلوٰۃعلی حبیب الشفیع میں علامہ سخاوی علیہ الرحمہ (جوکہ ابن کثیر کے وہ ابن قیم کے وہ ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں اور ابن تیمیہ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ ہیں مخالفین کے) فرماتے ہیں۔ اذان سے پہلے سلام پڑھنا جائز ہے۔ ویوم بحسن نیتہ حسن نیت پر ثواب بھی ملے گا۔ یہی درود و سلام جو اذان سے پہلے صدیوں سے پڑھا جارہا ہے اور ادفتحیہ میں حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلویرضی اﷲ عنہ نے اس کو چودہ سو اولیاء کا وظیفہء قرار دیا اور فرمایا جو اس کو پڑھے گا، چودہ سو اولیاء کا فیض پائے گا۔
شکر النعمہ میں سید السفہاء مولوی اشرفعلی تھانوی کا واقعہ ہے کہ کانپور میں وعظ کے دوران ایک شخص نے خواب میں حضورﷺ کی زیارت کی اور آپ نے فرمایا۔ اشرف علی کو میرا سلام دینا، اس شخص نے بیدار ہونے کے بعد مجلس وعظ میں ہی سلام عرض کیا تو تھانوی صاحب کہنے لگے۔ آج تو میرا دل چاہ رہا ہے کہ کثرت سے سلام عرض کرو۔ الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲﷺ۔
ضیاء القلوب میں ہے حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ نے حضورﷺ کی زیارت کے لئے یہی درودشریف بتایا ہے۔
الشہاب الثاقب میں حسین احمد مدنی (ٹانڈوی) نے لکھا ہے کہ ہمارے علماء تو کثرت سے یہ درود شریف (الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ) پڑھتے ہیںجبکہ وہابڑے (یعنی وہانی کا معنی ہے نمک حرام) منع کرتے ہیں۔ تبلیغی نصاب میں لکھا ہے کہ میرے نزیک دور ہو یا قریب یہی درود شریف پڑھنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں صلوٰۃ بھی ہے اور سلام بھی (اور اﷲ تعالیٰ نے صلوا علیہ وسلموا تسلیما)میں صلوٰۃ و سلام دونوں پڑھنے کا حکم دیا ہے)

 اذان کے بعد صلوٰۃ وسلام پڑھنے کے متعلق فقہاء احناف کی تصریحات

علامہ عمر بن ابراہیم ابن نجیم الحنفی المتوفی 1005ھ لکھتے ہیں۔ امام جلال الدین سیوطی شافعی متوفی 911 نے حسن الصحاضرہ میں لکھا ہے کہ ربیع الاخر 781ھ پیر کے دن عشاء کی اذان کے بعد سید عالمﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑھنا شروع ہوا پھر اس کے دس سال بعد مغرب کے سوا ہر اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام پڑھنا شروع ہوا۔ پھر میں نے علامہ عبدالرحمن سخاوی متوفی 906ھ کے القوال البدیع میں یہ پڑھا کہ شعبان 791ھ میں قاہرہ اور مصر کے موذنوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہر اذان سے فارغ ہونے کے بعد کئی مرتبہ یہ پڑھیں۔
الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اﷲ اور یہ معلوم ہے کہ صلوٰۃ و سلام پڑھنا قرب کا ذریعہ ہے اور بہت احادیث میں اس کی ترغیب دی گئی۔ خصوصا اذان کے بعد کی دعا سے پہلے (کما فی ضحیح مسلم) اور صحیح یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے (للستفصیل بدعۃ الحسنۃ انظر فی اشعۃ اللمعات ج 1ص 25، مطبوعہ کوئٹہ)
اور اس کے فاعل کو اس کی حسن نیت کی وجہ سے اجر دیا جائے گا (القول البدیع ص 280، ملخصاً مکتبہ الموید الطائف)
اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام پڑھنے میں کئی اقوال ہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے (الحنر الفائق ج 1، ص 172، قدیمی کتب خانہ کراچی)
علامہ شامی قدس سرہ السامی کی بھی یہی تحقیق ہے کہ اذان کے بعد سرکار مدینہﷺ پر صلوٰۃ و سلام پڑڑھنا بدعت حسنہ (اچھی بدعت ہے) (ردالمحتار جلد 2، ص 52، دارالحیاء التراث العربی بیروت 1419ھ)
ابریز میں ہے اذان کی فضیلت میں حدیث پاک میں آتا ہے کہ اذان کی آواز سن کر شیطان گوز مارتا ہوا چھتیس میل دور بھاگ جاتا ہے۔ اس کی وجہ علماء نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اذان ایک نور ہے اور نور میں ٹھنڈک ہے جبکہ شیطان نار سے ہے جس میں تپش ہے جوکہ ٹھنڈک سے ختم ہوجاتی ہے۔ اس لئے شیطان مقام اذان سے بھاگ جاتا ہے (الابریز شیخ عبدالعزیز دباغ)
نیز اذان کی یہ بھی فضیلت ہے کہ جہاں جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے قیامت کے دن ہر شے موذن کی ایمان کی گواہی دے گی اور موذن کی گردن قیامت کے دن سب سے بلند ہوگی یعنی اس کی شان و عظمت بہت اونچی ہوگی۔
کتاب کنزالعباد وصلوٰۃ نخشی و کتاب السعادۃ و جامع الرموز شرح مختصر وقایہ و رد المحتار علی الدر المختار و فتاویٰ صوفیہ میں تصریح ہے کہ جب موذن پہلی مرتبہ اشہد ان محمدً رسول اﷲ کہے تو سننے والے کو صلی اﷲ علیک یا رسول اﷲ کہنا مستحب ہے اور جب دوسری مرتبہ کہے تو قرۃ عینی بک یا رسول اﷲﷺ کہنا مستحب ہے۔ اس عبارت پر حضرت علامہ مولانا غلام دستگیر ہاشمی قصوری (متوفی 1315ھ) تبصرہ کرتے ہوئے ارقام کرتے ہیں۔
اب غٹور کرو کہ یہ حکم کتب معتبرہ فقہ درود کی ساتھ اور بغیر درود کے بھی اذان کے وقت یا رسول اﷲ کہنا مستحب (رسالہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ ص 27، مطبوعہ دارالاسلام لاہور)
شرح شفاء فی حقوق المصپطفی میںہے کہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہ کا پائوں سست اور بے حس ہوگیا تھا تو ان کو کسی نے کہا کہ محبوب (یعنی جس سی آپ کو سب سے زیادہ محبت ہو) کو یاد کر! تب آپ نے اونچی آواز سے پکارا۔ یا محمداہ
علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں گویا ابن عمنر رضی اﷲ عنہ نے فمن استعانت میں اپنی محبت کے اظہار کا قصد کیا۔ دیکھئے شرح الشفاء ملا علی قاری، اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جو اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃ و سلام پڑھنا بدعت کہتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ صحابہ کرام، تابعین تبع تابعین کے دور میں نہ تھا۔ ابھی بھی ایسے بہت سے امور پائے جاتے ہیں جو قرون ثلثہ میں نہ تھے تو ان کا کیا کیا جائے جیسے کسی صحابی کے دور میں موٹر سائیکل، کار، بس، جہازوغیرہ ہ تھے تو مخالفین کو چاہئے کہ ان چیزوں کو ترک کرے۔ اس لئے کہ یہ قرون ثلثہ میں نہ تھی اور گھوڑوں اونٹوں پر سفر کیا جائے۔ لائوڈ اسپیکر پر اذان و نماز پڑھنا پڑھانا کانفرنس وغیرہ کرنا یہ سب معاملات ترک کردیئے جائیں کہ قرون ثلثہ میں نہ تھے، بریانی قورمے، کولڈرنگ بوتلیں اور دیگر اشیاء بھی ترک کردی جائیں کہ قرون ثلثہ میں نہ تھی۔
اور قرون ثلثہ میں آپ جیسے ناواقف بھی نہ تھے تو آپ کا کیا کیا جائے اور قرون ثلثہ میں بجلی، گیس، موبائل، ٹیلی فون، بلند و بالا عمارتیں بھی نہ تھیں۔ان کو بھی ترک کردیا جائے اور اگر ان تمام تر اشیاء کا استعمال ترک نہیں کرسکتے تو پھر یہ پاگلوں جیسا اعتراض کیوں؟
قل ہاتو برہانکم ان کنتم صادقین
حرمت ثابت کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے جائز بتانے والے کو کسی دلیل کی حاجت نہیں۔ خود حدیث پاک میں ہیں۔ یہ اصول مقرر فرمایا
مشکوٰۃ شریف ص 367 میں ابن ماجہ و ترمذی سے نقل کیا۔
الحلال ماحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ و ما سکت عنہ فہو مما عفی عند
حلال وہ ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال بیان فرمایا اور حرام وہ ہے جس کو اﷲ تعالی ٰنے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جن کاموں سے سکوت فرمایا۔یہ ان کاموں سے ہیں جن پر موخذہ نہیں ہے یعنی مباح ہیں۔ لہذا جو لوگ صلوٰۃ و سلام کو ناجائز کہتے ہیں انہیں قرآن و حدیث اور فقہ سے دلیل لانا چاہئے۔ ہم سے دلیل مطالبہ غلط ہے۔
قل ہاتو برہانکم ان کنتم صادقین
در مختار میں موجود ہے۔ ویثوب بین الاذان والاقامۃ فی الکل
یعنی اذان و اقامت کے درمیان ہر نماز کے لئے تشویب ہے۔
(در مختار علی حاشیۃ الشامی جلد 1، ص 86، ومکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
بدرسیمائے عالم علامہ شہاب الدین احمد خفاجی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔
المنقول افہم کانو یقولون فی تحیۃ الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲﷺ
ترجمہ: منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نبی پاکﷺ سے ملاقات کے وقت الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اﷲ کے الفاظ سے سلام و تحیت پیش کرتے تھے (نسیم الریاض جلد 3، ص 454، دارالفکر بیروت)

 یارسول اﷲکہنے کے بارے میں

دلائل و براہین

سنیت کی جان سنیوں کی پہچان امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا فتاویٰ رضویہ جلد 30 ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں امام اہلسنت نے یارسول اﷲ پکارنے کو جائز و مستحن قرار دیا۔ موتو ابغیظکم
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول اﷲ کی کثرت کیجئے
(امام اہلسنت)
اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃ و سلام دعا (وہ دعا جو احادیث میں وارد ہوئیں) کے بیشمار فضائل و برکات ہیں۔ مخالفین یہ کہہ کر عوام اہلسنت پر افتراء باندھتے ہیں کہ تم اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃ و سلام پڑھنے ہو۔ کیا حضورعلیہ الصلوٰۃ و سلام کے دور میں کسی صحابی نے پڑھا (وغیرہ وغیرہ) ان تمام بے بنیاد سوالات کے جوابات ہم دے چکے ہیں۔ یاد رکھئے کسی معاملے میں عدم جواز کی دلیل نہ ہوناخود دلیل جواز ہے۔ یقینا ہر وہ نئی چیز جس کو شریعت مطہرہ نے منع نہیں کیا، وہ بدعت حشنہ اور مباح یعنی اچھی بدعت اور جائز ہے اور یہ امر مسلم ہے کہ اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے کو کسی بھی حدیث میں منع نہیں کیا گیا لہذا منع نہ ہونا خود بخود اجازت بن گیا۔ جیسا کہ اشباہ والنظائر میںمذکور ہے۔
الاصل فی الاشیاء الابحۃ
یعنی ہر چیز اصل میں مباح و جائز ہے۔ یہ اصل میں امام شفاعی اور احناف میں حصرت امام کرخی کے نزدیک ہے (الاشباہ والنظائر الغن الاول، القواعد الکلیہ النسوع الاول القاعدۃ الثالثہ ص 51,56، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1419ھ)
متاخرین احناف نے بھی اس کوتسلیم کیا ہے اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے بھی اس کو سند لائے ہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ اﷲ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے
ہوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا (البقرہ 29)
اﷲ ہی نے تمہارے لئے جو کچھ زمین میں ہے، پیدا فرمایا۔
لہذا ہر چیز مباح اور جائز ہے جب تک اس کے عدم جواز یا تحریم پر کوئی دوسرا حکم نہ ہو۔ صاحب ہدایہ کا بھی یہی مسلک ہے (الہدایہ کتاب الطلاق باب العدۃ، ج 1،ص 278، مطبوعہ دارالحیاء التراث العربی بیروت)
حدیث شریف میں ہے۔ الحلال مااحل اﷲ فی کتابہ والحرام ماحرم اﷲ فی کتابہ و ماسکت عنہ فہو مما عفا عنہ
حلال وہ ہے جو اﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال فرمادیا اور حرام وہ ہے جو اﷲ عزوجل نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جن چیزوں سے سکوت فرمایا وہ معاف ہیں اور مباح ۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باباکل المجین ولاحسن الحدیث 3367، ج 4، ص 56، مطبوعہ دارالعرفہ بیروت 1420ھ)
یہ امر بھی ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے کہ حضورﷺ کا قول و فعل اور صحابہ کرام کا قول و فعل توحجت شریعہ ہے مگر ان کا عدم قول اور عدم فعل عدم جواز کے لئے حجت شرعیہ نہیں وہ اسی قاعدہ کے مطابق جائز و مباح ہے کہ الاصل فی الاشیاء الاباحۃ بلکہامر مباح بہ نیت خیر باعث اجرو ثواب ہے اور مستحسن کہ الاعمال لابنیات حدیث صحیح ہے۔ بلکہ وہ تمام امور مباح جن سے دین کی ترقی یا تعلیمات اسلام کی اشاعت اورشریعت کا تحفظ ہوتا ہے، سب مستحسن ہیں۔
(بہار شریعت، جلد 3، ص 1071، قاعدہ نمبر 10، القواعد الفقیہ مکتبۃ العربیہ)
اصول الشاش میں یہ قاعدہ مذکور ہے کہ المطلق یجری علی اطلقہ یعنی مطلق اپنے مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتا ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھیں۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قرآن عظیم میں مومنوں کو اپنے حبیبﷺ پر درود سلام پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا اور اپنی رحمت واسع سے اس حکم کو مطلع رکھا یعنی اس زمان و مکانو صیغہ و ہیئت کی کوئیقید نہیں لگائی لہذا مومنین درود وسلام جب چاہیں، جس وقت چاہیں اور جس ہیئت و صیغہ کے ساتھ چاہیں پڑھ کرحکم خداوندی پر عمل کی سعادت پاسکتے ہیں (ہکذا فی الحسامی)
ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن
(المسندء الامام بن حنبل، مسند عبداﷲ بن مسعود، الحدیث 3600، جلد 2، ص 16، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414ھ)
یعنی وہ چیز جس کو مسلمان (اہل علم و اہل تقویٰ) اچھا سمجھیں وہ اﷲ کے نزدیک بھی اچھی ہے۔
یہ حدیث حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے جس کو حضرت امام احمد رحمتہ اﷲ نے اپنی مسند میں روایت کی ہے بعض محدثین اسے مرفوع کہتے ہیں اور بعض اس کو موقوف کہتے ہیں
(کشف الخفاء حرف الصحیح الحدیث 2212 ، جلد 2،ص 168، مطبوعہ دارلاکتب العلمیہ بیروت 1422ھ)
یہ حدیث اس قدر عمدہ اور جامع ہے کہ اس کے تحت وہ تمام امور آجاتے ہیں جنہیںمسلمان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور مبارک میں یا اس کے بعد اچھاسمجھ کر کرتے آئے ہیں جیسے اذان سے پہلے یا بعد میں صلوٰۃو سلام، میلاد و قیام، ایصال ثواب، اعراس بزرگان دین، وغیرہ کوان بدامور کو اہل ایمان فدایان خیرالانامﷺ اچھا سمجھ کر بجا لاتے اور ثواب پاتے ہیں (عامہ کتب اصول الفقہ) (تلخیص اصولی الثاثی ص 124، بتغیر مطبوعہ مکتبتہ المدینہ)
ان تمام تر اصول و قواعد سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ اذان سے قبل اور اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام جائز وامر مستحسن ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ عقل سلیم عطا فرمائے اور حق سمجھنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ طٰہٰ ویٰسین
اس سے وہ لوگ درس عبرت حاصل کریں جنہوں نے شرک و بدعت کو اپنا تکیہ کلام بنایا ہوا اور شرکو بدعت کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں حالانکہ ان بے وقوفوں،عقل کے اندھوں، دل کے گندھوں سر سے گنجوں کو صحیح طرح شرک و بدعت کی تعریف بھی معلوم نہیں ہوتی اور صحیح العقیدہ سنی اسلامی بھائیوں پر شرک و بدعت کے تیر برساتے ہیں اور اصول الاصول فخر الرسول بی بی آمنہ کے مہکتے پھولﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے یا رسول پکارنے کو شرک کہتے ہیں۔
سلطان العارفین قدوۃ السالکین سیدنا سلطان باہو رحمتہ اﷲ فرماتے ہیں جو شخص حیات النبیﷺ کو نہیں مانتا بلکہ موت جانتا ہے، اس کے منہ میں خاک اور وہ دونوں جہاں میں سیاہ رو (یعنی سیاہ چہرے والا) ہے اور ضرور بالضرور شفاعت مصطفیﷺ سے محروم رہے گا۔ (عقل بیدار ص 289، ملتقطا مطبع پروگریسو بکس لاہور)
تو زندہ ہے واﷲ تو زندہ ہے واﷲ
میرے چشم عالم سے چھپ جانے والے
(حدائق بخشش)
لہذا ہر وہ چیز جس سے اﷲ عزوجل نے سکوت فرمایا، وہ جائز و مباح ہے۔ اگر کوئی شخص اسے ناجائز یا حرام یا گناہ کہے اس پر لازم ہے کہ وہ دلیل شرعی لائے۔ کیونکہ سکوت عنہا (جس سے سکوت کیا گیا) کو مباح و جائز کہنے کے لئے یہ حدیث ہی کافی ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت اس مفہوم کو ثابت کرنے والی اوپر بیان ہوچکی ہے۔ دوسری آیت جس میں یہ مفہوم اور زیادہ وضاحت سے ثابت ہونا ہے یہ ہے۔
یاایھا الذین امنوا لاتسئلوا اعن اشیاء ان تبدلکم تسؤ کم(المائدہ 101)
اے ایمان والو تم ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا حکم نازل نہیں کیا گیا کہ اگر ان کا حکم ظاہر کردیا جائے تو تمہیں تکلیف پہنچے۔
اسی لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شرعی احکام میں کثرت سوال سے منع فرمایا کہ اس سے شریعت کے احکام کے سخت ہونے کا اندیشہ ہے۔اس آیت کا واضح مفہوم یہی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا وہ عفو میں داخل ہیں۔ اگر ان کی ممانعت یا فرضیت کا حکم نازل ہوگیا تو تمہیں تکلیف پہنچے گی۔ لہذا جن چیزوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ وہ آیت مذکورہ (ہوالذی خلق لکم مافی الارض جمیعا) کی رو سیجائز و مباح ہیں (تلک حدود اﷲ فلا تعتدوہا (البقرہ 29) اور یہ اﷲ عزوجل کی بیان کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو لہذا جو ان مسکوت عنہا کو ناجائز یا حرام یا بدعت سیئہ یا فرض یا واجب کہے وہ قرآن و حدیث یا قواعد فقیہ سے دلیل لائے ورنہ یہ اﷲ عزوجل کی بیان کردہ حدود سے آگے بڑھنا ہے اور اﷲ عزوجل اور رسول اﷲﷺ اور شریعت کاملہ پر افتراء ہوگا جس کی قرآن میں شدید مذمت آئی ہے اور سخت ممانعت و تہدید کی گئی ہے۔ لہذا میت کو ایصال ثواب کے لئے تعین وقت کے ساتھ قرآن خوانی یا سوا لاکھ بار کلمہ شریف پڑھنا یا پڑھوانا فاتحہ و درود انعقاد محافل میلاد شریف اور صلوٰۃ و سلام اور بیعت وارادت وغیرہا کے عدم جواز و بدعت کے قائلین کوقرآن یا احدیث یا اقوال صحابہ یا اقل درجہ میں قواعد فقیہہ سیان کے عدم جواز پر دلیل لانا چاہئے ۔ بلا دلیل شرعی ان کے عدم جواز کا قول اﷲ عزوجل اور رسول اﷲﷺ پر افتراء والعیاذ باﷲ وتعالیٰ
ان اﷲ وملائکۃ یصلون علی النبی یاایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلمہ تسلیما
صیغہ مضارع (یصلون کے راز)
حافظ سخاوی لکھتے ہیں کہ اس آیت میں صیغہ مضارع (یصلون) لایا گیا جو دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔
دیکھو القول البدیع
اس آیت بینہ میں درود و سلام کا مطلق حکم ہوا کسی وقت، کسی مقام کی کوئی قید نہیں۔
صلوا وسلموا … دو امر کے صیغے بیان فرمائے ہیں کہ جن میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے محبوبﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود وسلام بھیجنے کا حکم فرمایا کہ اے ایمان والو میرے نبی پر درود وسلام بھیجو اور خوب بھیجو لیکن اس آیت کریمہ میں اﷲ تعالیٰ نے کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی کوئی شرط و قید لگائی کہ صرف فلاں درود پڑھو اور فلاں درود نہ پڑھو اور فلاں وقت میں پڑھو، فلاںجگہ پڑھو اور فلاں جگہ نہ پڑھو۔ صبح پڑھو اور شام نہ پڑھو، فلاں دن پڑھو اور فلاں دن نہ پڑھو۔ اذان سے پہلے اور بعد میں نہ پڑ؎و، ایسا کسی آیت میں ارشاد نہیں فرمایا تو پھر اذان سے پہلے یا اذان کے بعد الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ پڑھنے والوں پر اعتراض کیسا؟
اب ہم الصلوٰۃ والسلام یارسول پڑھنے کے مطلق چند اقوال ذکر کریں گے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
مفسرقرآن حضرت اسماعیل حقی بروسی نے اپنی تفسیر روح البیان میں 40 صیغوں کے ساتھ یہ درود لکھا۔
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اﷲ
الصلوٰۃ والسلام علیک یاحبیب اﷲ
(تفسیر روح البیان، جلد7، ص 235)
نورالایضاح و مراتی الفلاح معہ طحطاوی
السلام علیک یاسیدی یا رسول اﷲ
السلام علیک یا نبی اﷲ
السلام علیک یا حبیب اﷲ
طحطاوی مع المراتی ص 430 جلد 2، مطبوعہ قاسم پبلی کیشنز
فتح القدیر میں ہے۔ السلام علیک یارسول اﷲ یاخیر خلق اﷲ فتح القدیر جلد 3 ص 95
امام اہلسنت قاطع نجدیت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا
سرسوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
دل تھا ساجد نجد یا پھر تجھ کو کیا
بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے
یارسول اﷲ کہا پھر تجھ کو کیا
یٰعبادی کہہ کے ہم کو شاہ نے
اپنا بندہ کرلیا پھر تجھ کو کیا
دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب
تو نہ ان کا ہے نہ تھا پھر تجھ کو کیا
نجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی
یہ ہمارا دین تھا پھر تجھ کو کیا
دیو تجھ سے خوش ہے پھر ہم کیا کریں
ہم سے راضی ہے خدا پھر تجھ کو کیا
دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض
ہم ہیں عبد مصطفی پھر تجھ کو کیا
(حدائق بخشش 312)
شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیب
اس برے مذہب پہ لعنت کیجئے
(حدائق بخشش 200)
میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد
میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام