خارجی گروہ داعش کے پاکستان پر اثرات

in Tahaffuz, December 2014, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

خارجی گروہ داعش ISIS (دولت اسلامیہ) نے عراق و شام کے مقبوضہ علاقوں میں خود ساختہ خلافت کے اعلان کے بعد دیگر ممالک میں اپنی تنظیم قائم کرنے کے لئے رابطوں کا آغاز کردیا ہے۔ بالخصوص القاعدہ سے وابستہ افراد تیزی سے داعش میں شامل ہورہے ہیں، وہی کالعدم تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے داعش کی غیر مشروط حمایت کررہے ہیں۔
داعش ISIS کے رہنمائوں نے پاکستان میں قبائلی علاقوں میں موجود جنگجوئوں سے بھی رابطہ کرلیا ہے۔ قبائلی ذرائع کے مطابق ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے طالبان دربدر ہوچکے ہیں اور ان کا آپس میں بھی کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں۔ کالعدم طالبان کے باہمی اختلافات کے باعث داعش رہنمائوں نے ازخود ان سے رابطے کئے۔ کالعدم طالبان کے مفرور سربراہ فضل اﷲ نے داعش کی حمایت اور مدد کا باقاعدہ ازخود اعلان کیا ہے اور تمام طالبان سے کہا ہے کہ دنیا بھر میں داعش کی مدد کے لئے جمع ہوجائیں۔ داعش کو پاکستان میں موجود شدت پسندوں سے مثبت جواب ملا ہے۔ کالعدم و منتشر تنظیموں کی جانب سے ہی سہی لیکن ایک نیٹ ورک تو قائم ہوگیا۔ ملا فضل اﷲ نے داعش کی حمایت کے اعلان کے ساتھ ہی اپنے نام کے ساتھ پہلی مرتبہ خراسان کا لاحقہ لگا ڈالا۔ خراسانی لاحقے کا مقصد دنیا بھر میں لڑنے والے خراسانی جنگجوئوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ یہ لوگ خراسانی ہے۔ یاد رہے کہ بہت سے پاکستانی جنگجوئوں کے نام کے ساتھ خراسانی کا لاحقہ موجود ہے۔ ان جنگجوئوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خراسان میں خود مختار ریاست کے قیام کی جدوجہد کررہے ہیں۔ خراسان پاکستان و افغانستان کا درمیانی علاقہ ہے۔ داعش کی حمایت میں کالعدم طالبان کے بیان میں پاک افغان سرحد کی جغرافیائی پٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حیرت انگیز بات ملا فضل اﷲ کی جو بات تو اسلام کی کرتا ہے مگر پاک افغان جغرافیائی سرحد کو دونوں اطراف کے پختون کی تقسیم قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان سے علیحدہ ہوئے عمر خالد خراسانی نے بھی داعش کے لئے نیک جذبات کا اظہار کیا ہے تو وہی طالبان ترجمان شاہد اﷲ شاہد نے بھی علیحدہ سے داعش میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔ کالعدم خارجی گروہ طالبان کے مختلف دھڑوں کی جانب سے داعش کی حمایت اور خود ساختہ امیر المومنین کا دعویدار ابوبکر البغدادی کی بطور امیر المومنین قبول کرنے سے طالبان سپریم لیڈر ملا عمر کے لئے چیلنج ہے۔ ابوبکر البغدادی ایک سخت گیر سلفی وہابی ہے جبکہ پاکستان و افغان طالبان فقہ حنفی کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہے۔ حکمت یار کی حزب اسلامی افغانستان نے بھی داعش کی حمایت کے لئے مشاورت شروع کردی ہے۔ حزب اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ داعش ہمارے معیار پر پورا اترتی ہے تو داعش سے الحاق کا اعلان کردیں گے۔ بظاہر داعش کے طریقہ کار میں کوئی خرابی نہیں داعش کی جانب سے پشاور میں ایک کتابچہ شائع کرکے تقسیم کیا گیا۔ جس میں عام لوگوں سے خلافت اسلامیہ کی حمایت کی اپیل کی گئی ہے۔ فتح کے نام سے پشتو اور دری زبانوں میں بارہ صفحات کا کتابچہ بالخصوص مضافاتی علاقوں اور صحافیوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ اس کتابچے میں تحریر ہے کہ خلافت کو خراسان، یعنی پاکستان، افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے ممالک تک پھیلایا جائے گا۔ پاکستان اور افغانستان میں موجود شدت پسند ابوبکر البغدادی کی حمایت کررہے ہیں۔ افغانستان میں موجود سلفی وہابی طالبان نے سب سے پہلے ابوبکر البغدادی کی حمایت کی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ ضرب عضب کی وجہ سے طالبان گروپ منتشر ہیں اور خطے میں اسلام پسندوں کا بڑا حلقہ موجود ہے جوکہ شدت پسند تنظیموں کے لئے بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس لئے داعش کی حمایت مشکل نہیں۔ طالبان سے علیحدہ ہونے والے چھوٹے چھوٹے گروپ داعش میں شامل ہونے کو ترجیح دیںگے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک نے بلوچستان میں دہشت گردوں سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ داعش کی ذہنیت صوبے میں ہوسکتی ہے جبکہ اگست/ ستمبر کے تحفظ میں ہی داعش سامراجی قوتوں کی آلہ کار کے عنوان سے مضمون میں بتایا تھا کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے پیچھے داعش کے کردار کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ محرم الحرام سے متعلق امن وامان کے سلسلے میں سیکریٹری داخلہ سندھ کی زیر صدارت اجلاس میںسیکریٹری داخلہ ڈاکٹر نیاز عباسی نے شرکاء اجلاس کو بتایا کہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق داعش کے جنگجو کراچی میں سرگرم ہوچکے ہیں جبکہ 28 اکتوبر کی رات الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز میں بتایا کہ کراچی میں گلشن معمار، سہراب گوٹھ اور گرومند کے اطراف میں داعش کی حمایت میں چاکنگ کی گئی ہے۔ اس سے قبل 3اکتوبر کے اخبارات میں چار افراد کی تصاویر کے ساتھ خبر شائع ہوئی کہ داعش کو پاکستان میں متحرک کرنے کا ٹاسک چار غیر ملکی دہشت گردوں کو سونپ دیا گیا ہے جس میں فرانس کے عبدالودود، برطانیہ ابوعبداﷲ جرمنی کا ابو دائود و دیگرنام شامل ہیں۔ تحریک طالبان کہوٹہ کے امیر کو پاکستان میں داعش کا سربراہ اور ابوبکر البغدادی کا نمائندہ بنانے کی پیشکش کی گئی ہے۔ غیر ملکی دہشت گرد کمانڈروں نے پاکستان میں داعشی جنگجوئوں کی بھرتیاں تیز کرنے کے لئے کالعدم تحریک طالبان کے سابقہ ترجمان شاہد اﷲ شاہد کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے کارندوں سے رابطے تیز کردیئے ہیں۔ شاہد اﷲ شاہد کے علاوہ جن طالبان رہنمائوں نے داعش کی حمایت کی ہے۔ ان میں اورکزئی کے امیر سعد اﷲ خان مہمند ایجنسی کے امیر خالد خراسانی خیبر ایجنسی کے امیر گل زمان پشاور کے مفتی محسن اور ہنگو کے امیر خالد منصور شامل ہیں۔ کالعدم تنظیموں اور فرقہ پرست گروپوں کی داعش میں شمولیت پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان میں سرگرم شدت پسند و فرقہ پرست تنظیموں کو پروان چڑھایا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو داخلی و خارجی سطح پر سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پاک فوج کو سوات اور اب ضرب عضب آپریشن کرنا پڑتا تاکہ پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر محفوظ بنایا جاسکے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور افغانستان میں داعش کا باقاعدہ نیٹ ورک قائم نہیں ہوا مگر ہمدردیاں ضرور موجود ہے اور انتہا پسندوں کی توجہ حاصل کرناشروع کردی ہے۔ انگریزی اخبارات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں کی بعض مساجد میں ان کے لئے دعائیں کی جارہی ہیں۔ 2 نومبر کو قومی اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی کہ قومی سلامتی کے اداروں نے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اعلیٰ حکام کو پاکستان میں داعش کی نقل و حرکت پر بریفنگ دی کہ پاکستان میں داعش کے کارندوں کی تعداد 370 ہے جن میں کراچی 22 ہے۔ داعش کے پانچ اہم کمانڈر آسٹریلیا سے پاکستان پہنچ گئے۔ داعش کی فنڈنگ کے لئے سونے کی بڑی کھیپ سعودیہ سے پاکستان منتقل کی جاچکی ہے۔ سونے کی منتقلی حجاج کرام کے ذریعے کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ سینٹرل جیل حملے کے لئے فنڈنگ بھی داعش نے فراہم کی۔ حملے کے ذریعے قیدیوںکو چھڑانے کا مقصد داعش ISIS کو مضبوط بنانا ہے۔ داعش کا پاکستان پر اثرات کی ایک سرسری جائزہ رپورٹ ہمارے سامنے ہے۔ شدت پسند دہشت گرد تنظیموں پر پابندی مسائل کا حل نہیں، کالعدم تنظیمیں نام بدل کر اپنا نیٹ ورک چلا رہی ہیں۔ سپاہ صحابہ، اہلسنت والجماعت اور لشکر طیبہ، جماعۃ الدعوہ کے نام سے مصروف عمل ہیں۔ ہم کس طرح اپنے وطن و معاشرے کو محفوظ بناسکتے ہیں، پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ اپنی پاک فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کریں۔ وہی مہراب و منبر کے وارث اور علماء و مشائخ پوری دیانت داری کے ساتھ آواز حق بلند کریں اور عوام کو ان دہشت گرد عناصر سے باخبر رکھے۔
اے حضرات علماء و مشائخ و قائدین اہلسنت! یاد رکھو آج یہ پُررونق منبر، یہ سجے ہوئے اسٹیج، یہ شاندار محفلیں، یہ بڑے بڑے اجتماعات، یہ شادوآباد خانقاہیں ، یہ سب کی سب اس وقت تک ہیں جب تک ہم آزاد ہیں۔ اگر ہم اسی طرح ٹائم پاس کرتے رہے، اپنی روش نہ بدلی، اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھا اور ایک منظم قوت نہ بنائی تو یاد رکھنا ، یہ خوارج ، یہ وحشی درندے ہماری مساجد و خانقاہ، مزارات و محافلیں ویران کردیں گے۔ ہمیں چن چن کر مارا جائے گا۔ خدارا! اٹھو اب بھی وقت ہے کچھ کر گزرو، جذباتی تقریر نہیں۔ عملی میدان میں آئو۔ میرے امام کی طرح۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کررسم شبیری