داعش رہنما ابوبکر بغدادی کون ہے؟

in Tahaffuz, December 2014, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

داعش ISIS جو دولت اسلامیہ کے نام سے معروف ہوچکی ہے، جسے مسلم دنیا کے تمام مسالک اور فرقوں کے جید علماء اور مفتیان کرام، خارجی، اسلام دشمن اور اسلام کے خلاف یہودیوں کا ہتھیار قرار دے چکے ہیں، داعش کی جڑیں اردن کے ابومعصب الرزقاوی کی تنظیم سے ملتی ہیں، جنہوں نے 2004ء میں التوحید والجہاد نامی تنظیم قائم کی تھی۔ عراق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے ایک سال بعد 2006ء میں الزرقاری نے القاعدہ کے اسامہ بن لادن کے ہاتھ میں ضم کرکے عراق میں القاعدہ کی تنظیم قائم کی۔ اسی سال 2006ء میں ابومصعب الزرقاوی امریکی فوج کے حملے میں ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد ابو حمزہ المہاجر تنظیم کا سربراہ مقرر ہوا اور ساتھ ہی ابوعمر البغدادی کی سربراہی میں دولۃ العراق الاسلامیہ کی تشکیل بھی عمل میں آگئی۔
19 اپریل 2010ء کو ابوعمر البغدادی اور ابو حمزہ المہاجر امریکی و اتحادی افواج کے ہاتھوں مارے گئے۔ 28 دن بعد 16 مئی کو تنظیم کی شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں ابوبکر البغدادی کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا۔ داعش کی تشکیل 2013ء میں ہوئی۔ 29 جون 2014ء کوداعش نے اپنا نام دولت اسلامیہ رکھ کر خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل 14 مئی 2014ء کو امریکی محکمہ خارجہ نے داعش کودولت اسلامیہ عراق و بلاد شام کے نام سے پکارنے کا فیصلہ کیا۔ ابوبکر البغدادی کو ابراہیم بن عواد کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ابوبکر البغدادی سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہ یہودی والدین کی اولاد ہے۔ مغربی دنیا کے مشہور جریدے (رسالہ) ویٹیرنس ٹوڈے کا سنسنی خیز انکشاف جیسے بعد ازاں دنیا بھر کے پرنٹ میڈیا نے نمایاں طور پر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا جس کے مطابق ابوبکر البغدادی امریکہ اور موساد (اسرائیل کی خفیہ تنظیم) کا ایجنٹ ہے اور وہ بنیادی طور پر یہودی ہے۔ اس کا اصل نام ایلیاٹ شمعون ہے۔ موساد نے اس کو ٹریننگ دی ہے اور داعش کے خلیفہ کے طور پر کام کرنے کے لئے بھاری رقم اسرائیل کی جانب سے دی جارہی ہے۔ اس سے قبل امریکی سی آئی اے کے سابق ایجنٹ ایڈورڈ اسٹوڈن نے بھی ایک انٹرویو میں البغدادی کو سی آئی اے اور موساد کا ایجنٹ قرار دیا تھا جیسے ہمارے قومی اخبارات نے بھی نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا تھا کہ داعش (دوست اسلامیہ) کا سربراہ ابوبکر البغدادی امریکہ اور اسرائیل کا ایجنٹ ہے اور اسے اسرائیل میںتربیت فراہم کی گئی۔ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے نزدیک صیہونی ریاست کی حفاظت کے لئے اس کی سرحد کے قریب ایک دہشت گرد تنظیم ضروری ہے۔ خبر رساںادارے کے مطابق ایڈورڈ اسٹوڈن کا کہنا تھا کہ سی آئی اے اور برطانیہ کے انٹیلی جنس ادارے نے بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ مل کر ایک دہشت گرد تنظیم بنائی جوکہ دنیا بھر کے شدت پسندوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے اور اس پالیسی کو ڈی ہارنیز نیٹ کا نام دیا گیا۔ اسٹوڈن کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کا مقصد تمام دنیا کے لئے بڑے خطرات کو ایک جگہ جمع کرنا ہے تاکہ انہیں ایک جگہ سے کنٹرول کیا جاسکے۔ عرب ممالک میں انتشار پھیلا جاسکے۔ سی آئی اے اہلکار نے کہا کہ ISIS سربراہ ابوبکر البغدادی کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ذریعے انتہائی سخت فوجی تربیت دلوائی گئی۔ فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ البغدادی کو بولنے میں مہارت کی بھی تربیت دی گئی تاکہ وہ دنیا بھر کے دہشت گردوں کو اپنے بیان سے متاثر کرسکے۔
ایک عرب کالم نگار نے اسٹوڈن کے دعوے کی براہ راست تصدیق ان الفاظ میں کی۔ ویسے ایڈورڈ اسٹوڈن کے دعویٰ کا پتہ نہیں لیکن یہ البغدادی غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر مکمل خاموش رہا اور مسلمان ممالک پر چڑھائی پر چڑھائی کیا جارہا ہے۔ یہ ایک عجیب سی صورتحال ہے۔ سوشل میڈیا پر ترکی سے خبر ہے کہ ترکی کی سرحد کے قریب کو بانی میں امریکی طیارے داعش کے ٹھکانوں پر نمائشی بھاری کررہے ہیں۔ غذا طبی آلات، ادویات، خیمے بلکہ پورے پورے اسپتالوں پر مشتمل ٹرکوں کے قافلے داعش کے زیر کنٹرول علاقوں میں پہنچائے جارہے ہیں۔ یہ سارے ٹرک یو ایس ایڈ کے زیر انتظام ہیں اور اس کے بارے میںتاثر دیا جاتا ہے کہ یہ شام کے مہاجرین کے لئے ہے۔ داعش کے تمام زخمیوں کو اسرائیل کی سرحد کے ساتھ واقع اسپتالوں میں طبی امداد دی جاتی ہے۔ یہ اسپتال اسرائیلی حکومت ہی چلاتی ہے۔ اس کا عملہ بھی اسرائیل ہے۔
سوشل میڈیا و پرنٹ میڈیا کے ذریعے داعش اور اس کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے مقصد اور کردار کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ عوام حقیقت جان سکے کہ سامراجی قوتیں اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کیسے حربے استعمال کرتے رہے اور سادہ لوح مسلمان کس طرح ان کی شاطرانہ جال میں پھنس جاتا ہے اور جہاد، خلافت اسلامیہ کے نام پر اسلام کا دشمن اور مسلمانوں کا ہی قاتل بن کر جہنمی ہوجاتا ہے۔ فی زمانہ حق و باطل میں امتیاز مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
٭٭٭