حدیث شریف= سرکار مدینہ منورہ،سردار مکہ مکرمہﷺ جب کسی کو عامل (زکوٰۃو عشر وصول کرنے والا ذمہ دار) بناکر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے۔ اگر اس کا نام آپﷺ کو پسند آتا تو خوش ہوتے اور اس کی خوشی آپﷺ کے چہرے پر دیکھی جاتی۔ اگر اس کا نام ناپسند ہوتا تو اس کی ناپسندیدگی آپﷺ کے چہرے پر دیکھی جاتی۔
(ابو دائود، کتاب الطب، باب فی الطہرۃ 25/40، حدیث 3920)
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:
اس لئے علماء فرماتے ہیں کہ اپنی اولاد کے نام اچھے رکھو۔ نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے۔ برے نام والوں کو لوگ اپنے پاس نہیں بیٹھنے دیتے۔ اچھے نام والے کے کام بھی ان شاء اﷲ اچھے ہوتے ہیں (مراۃ المناجیح 263/6)
نام بچے کے لئے پہلا تحفہ ہے
نام کسی بھی آدمی کی شخصیت کا اہم حصہ ہوتا ہے جس سے وہ پہچانا اور پکارا جاتا ہے۔ گھر، محلے،خاندان، اسکول، مدرسے، جامعہ، بازار اور دفتر میں نام ہی اس کی شناخت ہوتا ہے جس طرح کہ کتاب کا نام اس کی شناخت ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ نام گھریلو ماحول اور تہذیبی روایات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ نام اچھا ہو تو انسان کا ضمیر اسے کام بھی اچھا کرنے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کا نام رکھنے کے لئے غوروفکر شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے میں باپ کو چاہئے کہ اپنے بچے کا نام اچھا رکھے کہ یہ اس کی طرف سے اپنے بچے کے لئے پہلا اوربنیادی تحفہ ہے۔ جسے بچہ عمر بھر اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے۔
سرکار مدینہ سرور قلب و سینہﷺ نے فرمایا: آدمی سب سے پہلا تحفہ اپنے بچے کو نام کا دیتا ہے اس لئے چاہئے کہ اس کا نام اچھا رکھے (جمع الجوامع 285/3، حدیث 8875)
قیامت کے دن نام پکارا جائے گا
نام کا تعلق صرف دنیاوی زندگی تک نہیں بلکہ جب میدان حشر قائم ہوگا تو انسان کو اسی نام سے مالک کائنات عزوجل کے حضور بلایا جائے گا جس نام سے اسے دنیا میں پکارا جاتا تھا۔ جیسا کہ حضرت سیدنا ابو درداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک صاحب لولاکﷺ نے فرمایا۔ قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جائو گے لہذا اپنے اچھے نام رکھا کرو (ابو دائود، کتاب الادب، باب فی تغییر الاسماء 373/4، حدیث 3938)
اپنے کچے بچوں کا بھی نام رکھیں
بچوں کا نام رکھنا کتنا اہم ہے کہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں ضائع ہوجائیں ان کا بھی نام رکھنے کی تاکید کی گئی ہے چنانچہ مدینے کے تاجدار، دوعالم کے مالک و مختارﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اپنے کچے بچوں کا بھی نام رکھو کہ یہ کچے بچے تمہارے پیش رو (آگے آگے چلنے والے یا آگے گزرنے والے) ہیں۔ (کنزالعمال، کتاب النکاح، الباب السابع، الجزء 16، ص 175، حدیث 45206)
ایک حدیث پاک میں تو یہاں تک ارشاد ہوا کہ کچے بچے کا نام نہ رکھنے کی صورت میں بارگاہ الٰہی میں والدین کی شکایت کرے گا کہ انہوں نے میرا نام نہ رکھ کر مجھے ضائع کردیا۔
حضرت سیدنا انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار نامدارﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ کچے بچے کا بھی نام رکھو۔ ان کے سبب اﷲ عزوجل تمہارے میزان کے پلڑے کو بھاری کرے گا۔ بے شک کچا بچہ قیامت کے دن عرض کرے گا۔ اے میرے رب! انہوں نے میرا نام نہ رکھ کر مجھے ضائع کردیا (کنزالعمال، کتاب النکاح، الباب السابع، جزء 16، ص 175، حدیث 45207)
بچہ فوت ہوجائے تو؟
بہار شریعت جلد 1ص 841(مکتبۃ المدینہ) بچہ زندہ ہو یا مردہ، اس کی خلقت (یعنی پیدائش) تام (یعنی مکمل) ہو یا ناتمام (نا مکمل) بہرحال اس کا نام رکھا جائے اور قیامت کے دن اس کا حشر ہوگا (یعنی اٹھایا جائے گا) (در مختار 153, 154/3، بہار شریعت 841/1)
لڑکا ہو تو لڑکوں کا سا اور لڑکی ہو تو لڑکیوں کا سا نام رکھا جائے اور معلوم نہ ہوسکا کہ لڑکی ہے یا لڑکا تو ایسا نام رکھا جائے جو مرد و عورت دونوں کے لئے ہوسکتا ہو (مثلا راحت، نصرت، تسلیم، نسیم وغیرہ) (بہار شریعت 603/3)
نام کب رکھیں؟
افضل یہ ہے کہ ساتویں دن بچے کا عقیقہ کیا جائے اور نام رکھا جائے۔ عقیقہ کرنے سے پہلے بھی نام رکھانا جائز ہے (نزہۃ الفاری 430/5)
حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم، نور مجسمﷺ نے بچہ کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا نام رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (ترمذی کتاب الادب، باب ماجاء فی تعجیل اسم المولود 380/4 ، حدیث 2841)
نام کون رکھے گا؟
نام رکھنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر بچے کے والد کی بنتی ہے۔ سرکار مدینہﷺ نے فرمایا ۔ اولاد کا والد پر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے (شعب الایمان، باب فی حقوق الاولاد والاہلین 400/6، حدیث 8658 )
حضرت علامہ عبدالرئوف منادی علیہ رحمتہ الہادی اس حدیث کے تحت نقل کرتے ہیں۔ امت کو اچھا نام رکھنے کا حکم دینے میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ آدمی کے کام اس کے نام کے مطابق ہونے چاہئیں کیونکہ نام انسان کی شخصیت کے لئے جسم کی طرح ہوتا اور اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اﷲ کی حکمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ نام اور کام میں مناسبت اور تعلق ہو۔ نام کا اثر شخصیت پر اور شخصیت کا اثر نام پر ظاہر ہوتا ہے (فیض القدیر 822/3، تحت الحدیث 3845)
مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمتہ الحنان اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں۔ اچھے نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے۔ اچھا نام وہ ہے جو بے معنی نہ ہو۔ جیسے بدھو ، تلوا وغیرہ اور فخر و تکبر نہ پایا جائے۔ جیسے بادشاہ، شہنشاہ وغیرہ اور نہ برے معنی ہوں جیسے عاصی وغیرہ۔ بہتر یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام یا حضور کے صحابہ عظام، اہل بیت اطہار رضی اﷲ عنہم کے ناموں پر نام رکھے۔ جیسے ابراہیم، اسماعیل، عثمان، علی، حسن، حسین، وغیرہ۔ عورتوں کے نام آسیہ، فاطمہ، عائشہ، وغیرہ اور جو اپنے بیٹے کا نام محمد رکھے۔ ان شاء اﷲ بخشا جائے گا اور دنیا میں اس کی برکات دیکھے گا (مراۃ المناجیح 3018)
ہمارے معاشرے میں نام رکھنے کے مختلف انداز
بچے یا بچی (بالخصوص پہلی اولاد) کی پیدائش کے بعد عموما قریبی رشتہ داروں مثلا نانی، دادی، خالہ، پھوپھی، تایا ، چاچا وغیرہ کا اصرار ہوتا ہے کہ اس کا نام میں رکھوں گا اور ہر ایک اپنی پسند کا نام بھی چن کر لے آتا ہے۔ اگر والد، راضی ہو تو تو اس میں بھی حرج نہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ نام رکھنے والے بعض اوقات دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے بچوں کے ایسے نام بھی رکھ دیتے ہیں جو شرعا ناجائز ہوتے ہیں یا جن کے معانی اچھے نہیں ہوتے۔ ایسے نام رکھنے سے بہرحال بچا جائے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بیٹے یا بیٹی کا نام نہایت ہی خوبصورت ہو۔ مگر نام کے حتمی انتخاب کے وقت الفاظ کی ظاہری خوبصورتی کا خیال تو ہوتا ہے لیکن دیگر پہلوئوں پر توجہ نہیں ہوتی چنانچہ بعض اوقات لوگ اہل علم سے ایسے ایسے ناموں کے معافی پو چھتے ہیں جو عربی، اردو یا فارسی کسی لغت میں نہیں ملتے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے بے معنی نام رکھنا مناسب نہیں۔
نام کیسا ہونا چاہئے؟
اس حوالے سے مدنی پھول عطا کرتے ہوئے صدر الشریعۃ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ القوی بہار شریعت میں لکھتے ہیں:
ایسا نام رکھنا جس کا ذکر نہ قرآن میں ہو نہ حدیثوں میں ہو نہ مسلمانوں میں ایسا نام مستعمل ہو۔ اس میں علماء کااختلاف ہے بہتر یہ ہے کہ نہ رکھے (بہار شریعت 603/3)
اﷲ کے پسندیدہ نام
اگر کسی بچے کا نام عبد سے شروع کرنا ہو تو سب سے افضل نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں۔ تاجدار رسالت، شہنشاہ نبوتﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہارے ناموں میں سے اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں (مسلم، کتاب الادب، ص 1178، حدیث 2132)
صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ اﷲقوی لکھتے ہیں۔ ان دونوں میں زیادہ افضل عبداﷲ ہے کہ عبودیت یعنی بندہ ہونے کی اضافت (نسبت) اسم ذات (یعنی اﷲ) کی طرف ہے۔ انہیں (یعنی عبداﷲ اور عبدالرحمن) کے حکم میں وہ اسماء (یعنی نام) ہیں۔ جن میں عبودیت کی اضافت دیگر اسماء صفاتیہ کی طرف ہو۔ مثلا عبدالرحیم ، عبدالملک، عبدالخالق وغیرہا۔ حدیث میںجو ان دونوں ناموں کو تمام ناموں میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک پیارا فرمایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنا نام عبد کے ساتھ رکھنا چاہتا ہو تو سب سے بہتر عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں۔ وہ نام نہ رکھے جائیں جو جاہلیت میں رکھے جاتے تھے کہ کسی کا نام عبد شمس (سورج کا بندہ) اور کسی کا نام عبدالدار (گھر کا بندہ) ہوتا (بہار شریعت 601/3)
صدر الشریعۃ مزید لکھتے ہیں۔ عبداﷲ اور عبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں۔ مگر اس زمانہ میں اکثر دیکھا گیا ہے اور بجائے عبدالرحمن اس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق، عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں۔ اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے۔ یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہذا جہاں یہ گمان ہوکہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی۔ یہ نام نہ رکھے جائیں، دوسرے نام رکھے جائیں (بہار شریعت 356/3)
عبداﷲ نام رکھنا
سرکار دوعالم، نور مجسمﷺ نے 19 سے زائد خوش نصیب بچوں کا نام عبداﷲ رکھا۔ چنانچہ حضرت سیدنا عبداﷲ بن مطیع رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ان کے والد نے خواب میں دیکھاکہ انہیں کھجوروں کی تھیلی دی گئی۔ انہوں نے نبی کریمﷺ سے اپنا خواب بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا۔ تمہاری کوئی زوجہ امیہ سے ہے؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں! بنو لیث قبیلہ سے تعلق رکھنے والی زوجہ ۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا۔ عنقریب تمہارا اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ جب بچہ پیدا ہوا وہ اسے بارگاہ رسالتﷺ میں لائے۔ آپﷺ نے اسے کھجور کی گھٹی دی۔ اس کا نام عبداﷲ رکھا اور اس کے لئے برکت کی دعا فرمائی (الاصابۃ 21/5 ،6207)
عبدالرحمن نام رکھا
سرکاردوعالم، نور مجسمﷺ نے کئی صحابہ کرام علیہم الرضوان کا نام عبدالرحمن رکھا۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں میر انام عبدشمس تھا۔ دوعالم کے مالک و مختارﷺ نے میرا نام عبدالرحمن رکھا (اسد الغابہ 337/6، رقم 6319)
ضروری وضاحت
صدر الشریعۃ حضرت مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ القوی لکھتے ہیں۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ دونوں نام (یعنی عبداﷲ اور عبدالرحمن) محمد و احمد سے بھی افضل ہیںکیونکہ حضور پاکﷺ کے اسم پاک محمد و احمد ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں نام خود اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے لئے منتخب فرمائے۔ اگر یہ دونوں نام خدا عزوجل کے نزدیک بہت پیارے نہ ہوتے تو اپنے محبوب کے لئے پسند نہ فرمایا ہوتا۔ احادیث میں محمد نام رکھنے کے بہت فضائل مذکور ہیں (بہار شریعت، 601/3)
نام ’’محمد‘‘ کی برکتوں پر مشتمل فرامین مصطفیٰ
رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لالﷺ کے نام اقدس ’’محمد‘‘ پر نام رکھنابہت بڑی سعادت ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ لکھا جانے والا نام ’’محمد‘‘ ہے۔ نام محمد کی فضیلت خود ہمارے پیارے آقاﷺ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ
٭ جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور میری محبت اور حصول برکت کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا جنت میں جائیں گے (کنزالعمال، کتاب النکاح، الفصل الاول فی الاسمائ، 175/16، حدیث 45215)
٭ جس نے میرے نام سے برکت کی امید کرتے ہوئے میرے نام پر نام رکھا۔ قیامت تک صبح و شام اس پر برکت نازل ہوتی رہے گی۔ (کنزالعمال، کتاب النکاح، الفصل الاول فی الاسماء 175/6، حدیث 45213)
٭ اﷲ عزوجل نے فرمایا۔ مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم، جس کا نام تمہارے نام پر ہوگا اسے عذاب نہ دوں گا (کشف الخفائ، 345/1، حدیث 1234)
٭ جب کوئی قوم کسی مشورہ کے لئے جمع ہو اور ان میں کوئی شخص ’’محمد‘‘ نام کا ہو اور وہ اسے مشورہ میں شریک نہ کریں تو ان کے لئے مشاورت میں برکت نہ ہوگی (الکامل فی ضعفاء الرجال 275/10)
٭ دو شخص روز قیامت رب العزۃ کے حضور کھڑے کئے جائیں گے۔ حکم ہوگا، انہیں جنت میں لے جائو۔ عرض کریں گے۔ الٰہی ہم کس عمل پر جنت کے قابل ہوئے، ہم نے تو جنت کا کوئی کام نہیں کیا؟ فرمائے گا: جنت میں جائو۔ میں نے حلف کیا ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو، دوزخ میں نہ جائے گا (مسندالفردوس 503/20، حدیث 8515)
٭ جس کے تین بیٹے ہوں اور وہ ان میں سے کسی کا نام محمد نہ رکھے وہ ضرور جاہل ہے (معجم کبیر 59/11، حدیث 11077)
رزق میں برکت ہوجاتی
حضرت سیدنا امام مالک علیہ رحمتہ الخالق فرماتے ہیں۔ اہل مکہ آپس میں یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ جس گھر میں بھی محمد نام کا کوئی فرد ہوتا ہے تو اس گھر میں خریدوبرکت ہوتی ہے اور ان کے رزق میں برکت ہوتی ہے (المنتقی شرح موطا امام مالک 456/9)
’’محمد‘‘ نام رکھا
کئی صحابہ کرام علیہم الرضوان ایسے ہیں جن کا نام خود سرکار مدینہﷺ نے محمد رکھا۔ جیسا کہ حضرت سیدنا محمد بن طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما۔ ام المومنین حضرت سیدنا زینب بنت حبش رضیاﷲ عنہما کی بہن حضرت سیدتنا حمنہ رضی اﷲ عنہما کے صاحبزادے ہیں۔ جب آپ کی ولادت ہوئی آپ کے والد حضرت سیدنا طلحہ رضی اﷲ عنہ آپ کو سرکار ابد قرار، شافع روز شمارﷺکے پاس لے گئے تاکہ آپﷺ بچے کو گھٹی دیں اور اس کا نام رکھیں۔ پیارے آقاﷺنے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کا نام محمد رکھا اور اپنی کنیت ابوالقاسم عطا فرمائی۔
ان شاء اﷲ لڑکا پیدا ہوگا
حضرت سیدنا شعیب رحمتہ اﷲ علیہ، امام عطاء رحمتہ اﷲ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ جو یہ چاہے کہ اس کی عورت کے حمل میں لڑکا ہو تو اسے چاہئے کہ اپنا ہاتھ عورت کے پیٹ پر رکھ کر کہے۔ اگر یہ لڑکا ہوا تو میں نے اس کا نام محمد رکھوں گا۔ ان شاء اﷲ لڑکا ہوگا (فتاویٰ رضویہ، 690/24)
بے ادبی نہ ہونے پائے
صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی لکھتے ہیں۔ محمد بہت پیارا نام ہے۔ اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آتی ہے۔ اگر تصغیر (نام بگاڑنے) کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ عفیقہ کا نام یہ ہو اور پکارنے کے لئے کوئی دوسرا نام تجویز کیا جائے اور پاک و ہند میں ایسا بہت ہوتا ہے۔ ایک شخص کے کئی نام ہوتے ہیں۔ اس صورت میں نام کی برکت بھی ہوگی ار تصغیر سے بھی بچ جائیں گی (بہار شریعت 356/3)
٭٭٭

اعلیٰ حضرت کا طریقہ کار
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الحنان فرماتے ہیں فقیر (غفراﷲ تعالیٰ) نے اپنے سب بیٹوں، بھتیجوں کے عقیقے میں صرف محمد نام رکھا۔ پھر نام اقدس کے حفظ ادب اور باہم تمیز (یعنی پہچان کے لئے عرف جدا مقرر کئے) (فتاویٰ رضویہ 689/24)
بچے کانام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو
جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام محمدرکھے تو اسے چاہئے اس نام پاک کی نسبت کے سبب اس کے ساتھ حسن سلوک کرے اور اس کی عزت کرے۔ مولا مشکل کشا حضرت سیدنا علی الرتضیٰ کرم اﷲ تعالیٰ وجہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب تم بیٹے کا نام محمد رکھو تو اس کی عزت کرو اور مجلس میں اس کے لئے جگہ کشادہ کرو اور اس کینسبت بڑائی کی طرف نہ کرو (الجامع الصغیر، ص 39، حدیث 706)
ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب لڑکے کا نام محمدرکھو تو اسے نہ مارو اور نہ محروم کرو (مسند البزار 327/9، حدیث 3883)
میں بے وضو تھا
سلطان محمود غزنوی نے ایک بار ایاز کے بیٹے کوپکارا: اے ایاز کے بیٹے، استنجے کے لئے پانی لائو۔ ایاز نے تھوڑے دنوں بعد عرض کی کہ حضور! مجھ سے یا اس سے (یعنی میرے بیٹے سے) کیا قصور ہوا کہ آپ نے اس کا نام نہ لیا؟ فرمایا۔ تیرے بیٹے کا نام محمد ہے۔ میں اس دن بے وضو تھا میں نے کبھی بے وضو کے بغیر محمد نام کو اپنی زبان سے ادا نہ کیا (تفسیر نعیمی 221/4)
بلا ضرورت دو تین نام ملاکر نہ رکھیں
پاک و ہند کے بعض علاقوں میں والد کے نام کو بیٹے کے نام کا حصہ بنایا جاتا ہے جیسے محمد طاہر جنید، ایسے عرف پر عمل کرنے میں حرج نہیں۔ لیکن غیر ضروری طور پر دو یا تین ناموں پر مشتمل ایک نام نہ رکھا جائے۔ اعلیٰ حضت علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔ دو دو تین تین ناموں پر مشتمل بنام نہ رکھنا۔ جیسے محمد علی حسین، اس کا رواج سلف (یعنی بزرگوں میں رواج) کبھی نہ تھا۔ سارے ایک لفظ کے نام ہوتے تھے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ 629/24)
نام رکھنے میں مذکر ومونث کا بھی خیال رکھیں
بعض اوقات لڑکے کا نام لڑکیوں والا اور لڑکیوں کا نام لڑکوںوالا رکھ دیا جاتا ہے۔ نام ایسا ہو جسے سنتے ہی معلوم ہوجائے کہ یہ لڑکی کا نام ہے یا لڑکے کا مثلا لڑکی کے لئے خدیجہ اور لڑکے کے لئے قاسم نام رکھا جائے۔
غیر مسلموں کیلئے مخصوص نام نہ رکھئے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ممانعت ہے کہ کافروں کے نام رکھے۔ جیسا کہ یوحنا نام رکھنے کے متعلق بعض فقہاء نے تصریح فرمائی ہے (فتاویٰ رضویہ 260/23)
ایک اور جگہ نقل کرتے ہیں۔ ناموں کی ایک قسم کفار کے ساتھ مختص ہے۔ جیسے جرجس، پطرس اور یوحنا وغیرہ۔ لہذا اس نوع (یعنی قسم) کے نام مسلمانوں کے لئے رکھنے جائز نہیں۔ کیونکہ اس میں کفار سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ 663/24)
تاریخی نام رکھنا
کئی لوگ تاریخ کے حساب سے نام رکھنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ یعنی بچہ جس تاریخ و سن میں پیدا ہوا۔ اس کا حساب لگا کر نام رکھا جاتا ہے۔ اگرچہ علم الاعداد کے لحاظ سے نام رکھنا بزرگوں سے ثابت ہے لیکن بزرگان دین اپنا تاریخی نام اصل نام سے الگ رکھتے تھے۔ بہرحال اگر کوئی تاریخ کے حساب سے نام رکھنا چاہئے تاکہ سن ولادت بھی محفوظ ہوجائے تو رکھ سکتا ہے، لیکن اس میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ کسی نبی علیہ السلام، کسی صحابی یا کسی ولی کے بابرکت نام پرنام رکھیں۔ اعلیٰ حضرت سے کسی نے عرض کی۔ حضور میرا بھتیجا پیدا ہوا ہے۔ اس کاکوئی تاریخی نام تجویز فرمادیں۔ارشاد فرمایا: تاریخی نام سے کیا فائدہ؟ نام وہ ہوں جن کے احادیث میں فضائل آئے ہیں۔ میرے اور میرے بھائیوں کے جتنے لڑکے پیدا ہوئے۔ میں نے سب کا نام محمد رکھا۔ یہ اور بات ہے کہ یہی نام تاریخی بھی ہوجائے، حامد رضا خان کا نام محمد ہے اور ان کی ولادت 1292ھ میں ہوئی اور اس مبارک نام کے عدد بھی بانوے ہیں۔
ایک وقت (یعنی دشواری) تاریخی نام میں یہ ہے کہ اسماء حسنی سے ایک یا دو جن کے اعداد موافق عدد نام قاری (یعنی پڑھنے والے کے نام کے اعداد کے مطابق) ہوں۔ عدد نام دو چند (یعنی دوگنے کرکے پڑھے جاتے ہیں، وہ قاری کو اسم اعظم کافائدہ دیتے ہیں۔ تاریخی نام سے مقدار بہت زیادہ ہوجائے گی مثلا اگر کسی کی ولادت اس 1329ھ میں ہوئی تو اس کے مطابق عدد کے اسماء حسنی 2658 بار پڑھے جائیں گے اور محمد نام ہوتا تو 184 بار دونوں میں کس قدر فرق ہوا (ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص 83)
قرآن سے نام نکالنا
بعض لوگ قرآن شریف سے بچوں کا نام نکالتے ہیں۔ اگر وہ نام قرآن پاک میں کسی نبی یا نیک و صالح آدمی کا ہے تب تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ قرآن پاک سے وہ ایسا لفظ نام کے لئے منتخب کرلیتے ہیں جسے معنوی خرابی کی وجہ سے نام کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مثلا پاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت جو ذرا سی قرآن کریم پڑھنا جانتی تھی۔ اس کے یہاں یکے بعد دیگرے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس نے خود کو پڑھا لکھا سمجھتے ہوئے بچیوں کے نام تجویز کرنے کے لئے قرآن پاک سے سورۃ کوثر کاانتخاب کیا۔ چنانچہ بڑی بچی کانام کوثر، دوسری کا نام النحرتجویز کیا۔ تیسری کا نام ابتر مقرر کیا۔ کوثر کیمعنی تو بحیثیت نام کسی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن وانحر کا معنی ہے ’’اورتم قربانی کرو‘‘ جبکہ آخری لفظ ابتر کے معنی ہے ’’خیر سے محروم رہنے والا‘‘ جو کسی بھی طرح نام رکھنے کے لئے مناسب نہیں۔ مگر جہالت کا کیا علاج۔ اسی طرح ایک بچی کا نام مذبذبین۔ پوچھا گیا یہ کیا نام ہے؟ جواب ملا قرآن شریف میں ہے۔ حالانکہ مذبذبین کا لفظ ان لوگوں کے لئے استعمال ہوا جو کفر و ایمان کے بیچ میں ڈگمگا رہے ہیں نہ خالص مومن نہ کجھلے کافر (خزائن العرفان 192)
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ مجھے کسی نے فون پر بتایا کہ اس نے اپنی بیٹی کا نام قرآن سے نکال کر رکھا ہے۔ جب نام پوچھا تو بتایا ’’زانیہ‘‘ (نعوذ باﷲ من ذلک) اسی طرح ایک شخص نے اپنی بیٹی کا نام ’’خناس‘‘ رکھا (والعیاذ باﷲ)
بہرحال ایسے لوگوں کو بطور اصلاح کچھ کہا جائے تو سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم سے رکھے ہوئے ناموں پر اعتراض کیا جارہا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم سے نام تجویز کرنے کے بھی کچھ اصول ہیں۔ ورنہ تو قرآن پاک میں حمار (گدھا) کلب (کتا) خنزیر (سور) بقرۃ (گائے) فرعون (خدائیکا دعویٰ کرنے والا مشہور بادشاہ) ہامان (مشہور کافر) وغیرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں تو کیا ان کے معنی اور نسبت جاننے کے بعد بھی کوئی ان الفاظ کو اپنے بچے یا بچی کا نام رکھنے کے لئے استعمال کرنے پر تیار ہوگا؟ یقینا نہیں۔
نیک شخص کے نام پر نام رکھنے کی برکت
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جس قوم میں کوئی نیک شخص انتقال کرجائے۔ اس کے انتقال کے بعد اس قوم میں کوئی بچہ پیدا ہوا اور وہ اسی بزرگ شخصیت کے نام پر اس بچہ کانام رکھیں تو اﷲ اس اچھا نام رکھنے کے سبب ان لوگوں کے لئے اس اچھا نام رکھنے کے سبب ان لوگوں کے لئے اس بچہ میں بھی وہی نیک صفات پیدا فرمادے گا (ابن عساکر 44/43)
محبوبان خدا کے ناموں پر نام رکھنا مستحب ہے
فی زمانہ یہ رواج بھی زور پکڑ چکا ہے کہ اپنے بچوں کا نام رکھنے کے لئے ناولوں، ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے اداکاروں کے نام بھی چن لئے جاتے ہیں حالانکہ مستحب یہ ہے کہ اﷲ والوں کے نام پر نام رکھے جائے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔حدیث سے ثابت کہ محبوبان خدا انبیاء و اولیاء علیہم السلام کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کیمخصوصات سے نہ ہو (فتاویٰ رضویہ 685/24)
بہار شریعت میچں ہے۔ اسمائے طیبہ، انبیائے کرام اور صحابہ و تابعین و بزرگان دین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے۔ امید ہے کہ ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو (بہار شریعت 356/3 )
٭ بچہ کا نام اچھا رکھنا چاہئے
٭ میدان محشر میں دنیا میں رکھے گئینام سے پکارا جائے گا
٭ ساتویں دن نام رکھنا بہتر ہے۔ پہلے بھی رکھا جاسکتا ہے
٭ نام رکھنا والد کی ذمہ داری ہے۔
٭ بچے کا نام منتخب کرتے وقت شرعی احکام کو مدنظر رکھناچاہئے
٭کچھ نام ایسے ہیں جن کا رکھناافضل، کچھ کارکھناجائز، کچھ نام نامناسب اور کچھ ناجائز ہیں۔
٭اگر کسی بچے کا نام عبد سے شروع کرناہو تو سب سے افضل نام عبداﷲ اور عبدالرحمن ہیں
٭ محمد نام بڑا پیارا ہے یہ نام رکھنے کے بڑے فوائد و ثمرات ہیں
٭ ناموں کی ایک قسم کفار سے مختص ہے جیسے جرجس، پطرس، یوحناوغیرہ۔اس نوع کے نام مسلمانوں کے لئے رکھنا جائز نہیں
٭نیکوں کے نام پر نام رکھنا باعث برکت ہے
٭تاریخی نام رکھنا جائز مگر باعث فضیلت نہیں
صلی اﷲ علی النبی الامی و علیٰ الہ وصحبہ و سلم