’’نکاح‘‘ اطاعت کی ایک قسم ہے لہذا بیوی خاوند کی مطیع ہے اور اس پر لازم ہے کہ خاوند اس سے جو کچھ طلب کرے، وہ اس کی اطاعت کرے بشرطیکہ وہ اسے اﷲ عزوجل کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ بیوی ہی خاوند کے حقوق کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں چنانچہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو، وہ جنت میں جائے گی۔
حضورﷺ کی خدمت میں عورتوں کا تذکرہ ہوا تو آپﷺ نے فرمایا۔ ’’حاملہ‘‘ بچے جننے والی اور دودھ پلانے والی اپنی اولادوں پر مہربانی کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہر کی نافرمانی نہ کریں تو ان میں جو نماز پڑھنے والی ہیں، وہ جنت میں داخل ہوں گی۔
رسول اکرمﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ می نے جہنم کو دیکھا اس میں رہنے والی اکثر عورتیں تھیں تو خواتین میں سے بعض نے عرض کی ۔یارسول اﷲﷺ کس وجہ سے؟ آپﷺ نے فرمایا۔ کثرت سے لعنت کرتی ہیں اور خاوند کی نافرمانی کرتی ہیں۔ یعنی جو انہیں زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے اس کے شکریئے کے بجائے کفران کرتی ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضورﷺ کی خدمت میں ایک جوان عورت نے آکر عرض کی۔ یارسول اﷲﷺ میں جوان ہوں مجھے نکاح کے پیغام آتے ہیں۔ میں شادی کو مکروہ سمجھتی ہوں۔ آپ مجھے بتائیں کہ بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے؟ آپﷺ نے فرمایا اگر تو خاوند کی چوٹی سے ایڑی تک پیپ ہو اور تو اس پیپ کو چاٹ لے، تب بھی خاوند کا حق ادا نہیں کرپائے گی۔ اس نے پوچھا تو میں شادی نہ کروں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم شادی کرو کیونکہ اس میں بھلائی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ بنو خثعمکی ایک عورت حضورﷺ کی خدمت میں آئی اور کہا میںغیر شادی شدہ ہوں اور شادی کرنا چاہتی ہوں۔ خاوند کے کیاحقوق ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا۔ بیوی پر خاوند کا یہ حق ہے کہ جب وہ اس کا ارادہ کرے اگرچہ عورت اس وقت اونٹ کی پیٹھ پر ہی کیوں نہ ہو۔ تب بھی اسے نہ روکے اور خاوند کا یہ بھی حق ہے کہ بیوی شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ دے اگر اس نے بلا اجازت دے دیا تو گنہ گار ہوگی اور خاوند کو ثواب ملے گا بیوی پر یہ بھی لازم ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بھوکی پیاسی رہی اور اس کا روزہ بھی قبول نہ ہوا اور اگر گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نکلی تو جب تک وہ واپس نہ آجائے یا توبہ نہ کرلے۔ فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ حضورﷺ خاوند کے حقوق کے متعلق فرماتے ہیں کہ اگر میں اﷲ کی ذات کے علاوہ کسی اور کو کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کے بیوی پر بہت حقوق ہیں۔ فرمان نبویﷺ ہے کہ عورت اس وقت رب تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوتی ہے جب وہ گھر کے اندر ہو اور عورت کا گھر کے صحن میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
یہ آپﷺ نے مزید پردہ نشینی کے لئے فرمایا۔ اسی لئے فرمان نبویﷺ ہے کہ عورت سراسر برہنگی ہے جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے نیز فرمایا کہ عورت کے لئے 10 برہنگیاں ہیں جب وہ شادی کرتی ہے تو خاوند اس کی ایک برہنگی ڈھانپ لیتا ہے اور جب وہ مرتی ہے تو قبر اس کی تمام عریاں چھپا لیتی ہے عورت پر خاوند کے حقوق تو بہت ہیں جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا لیکن یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں۔
1… نگہبانی اور پردہ ہے۔
2… حاجت کے علاوہ دیگر چیزوں کا مطالبہ نہ کرنا اور مرد کی حرام کی

کمائی سے حاصل کردہ رزق سے پرہیز، بیوی پر بھی یہ لازم ہے کہ جب خاوند اس کو گھر کے معاملات چلانے کے لئے پیسہ دے تو اس کو صرف ضرورت کی چیزوں پر ہی خرچ کرے۔ خوامخواہ اس کے پیسے کو ضائع نہ کرے۔ فضول خرچی سے مراد ایسی اشیاء خریدنا جو محض بے فائدہ ہوں جیسا کہ آج کل کی خواتین کی عادتیں ہیں کہ وہ بس خرچ کرنے میں لگی رہتی ہیں۔ بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی آمدنی کے حساب سے خرچ کرے تاکہ شوہر کی فی کس آمدنی کے اعتبار سے گھر بھی چلے اور اسراف بھی نہ ہو۔ میں یہاں اپنے موضوع کا اختتام اس بات پر کروں گا کہ والدین پر لازم ہے کہ وہ لڑکی کی بہترین تربیت کریں۔ اسے ایسی تعلیم دیں جس سے وہ عمدہ رہنا سہن اور خاوند سے بہتر برتائو کے آداب سیکھ جائے جیساکہ روایت میں آتا ہے کہ اسماء بنت خرجہ الفراری نے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت اسے کہا: اب تم اس نشیمن سے نکل رہی ہو جو تمہارا ملجا ٔو مأمن تھا۔ اب تم ایسے بستر پر جارہی ہو جس سے تم نے کبھی الفت نہیں کی تو اس کی زمین بن جا، وہ تیرا آسمان بن جائے گا تو اس کابچھونا بن جا، وہ تیری عمارت بن جائے گا تو اس کی باندی بن جا، وہ تیرا خادم ہوگا۔ اس سے کنارہ کش نہ رہناورنہ وہ تجھ سے دور ہوجائے گا۔ اس سے دور نہ ہونا ورنہ وہ تجھے بھول جائے گا۔ اگر وہ تیرا قرب چاہے تو اس کے قریب ہو۔ اگر وہ تجھ سے دور ہونا چاہے تو تو بھی دور ہوجا۔ اس کی ناک، کان اور آنکھ کی حفاظت کرنا تاکہ وہ تجھ سے عمدہ خوشبو کے علاوہ اور کچھ نہ سونگھے۔ عمدہ بات کے علاوہ اور کچھ نہ سنے اور وہ تجھے ہمیشہ خوبصورت ہی دیکھے۔