نسل نو پر غیر صالح نظریاتی حملے اکیسویں صدی کے حوالے سے

in غلام غوث قادری مصباحی (انڈیا), متفرقا ت

آج جب بچہ آنکھ کھولتا ہے تو شعور و آگہی کے دروازے پرقدم رکھنے سے پہلے ہی وہ غیر صالح نظریاتی حملے کا شکار ہوجاتا ہے۔ گھر، محلہ،قصبہ اور اس کے گردوپیش کے ماحول میں سے کوئی بھی اسے ان حملوں کا شکار ہونے سے نہیں بچا پاتا، بلکہ سب اس حملے میں شدت پیدا کرتے ہیں۔ انہیں شدید حملوں میں گھر کر وہ فطری تقاضوں اور صالح نظریات سے دور اور نئے نظریات کا دلدادہ ہوجاتا ہے۔ ذیل میں ہم انہیں نظریاتی حملوں کے بارے میں گفتگو کریں گے۔
والدہ کے اخلاق کااثر
جدید علمائے طب کا کہنا ہے کہ آخری 3/4 ہفتوں میں جنین (ماں کے پیٹ میںموجود بچہ) کے کانوں میں اس کی ماں اوراردگرد کے لوگوں کی آوازیں پہنچنے لگتی ہیں، جنین سب سے زیادہ اپنی ماں کی آواز کو سننا پسند کرتا ہے۔ آج کی مائیں جب حاملہ ہوتی ہیں تو ان ایام میں تکلیف کا عذر پیش کرکے تلاوت کلام اﷲ، فرائض نماز، روزے، اورادوظائف چھوڑ دیتی ہیں اور فلمیں، ڈرامے دیکھنے، ادھرادھر کی لایعنی باتیں کرنے میں وقت گزار دیتی ہیں۔ وہ اس پر توجہ ہی نہیں دیتیں کہ فحش گوئی، کذب اور لایعنی باتوں کا اثر نہ یہ کہ صرف ان پر پڑتا ہے بلکہ ان کے رحم میں پلنے والے معصوم بچے بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ پاتے ہیں۔ ٹی وی وغیرہ دیکھنے سے برقی لہریں ان بچوں کے اذہان پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو ہر طرف سے اس پر پیار و محبت کی بارشیں ہونے لگتی ہیں۔ وہ اپنے گھر والوں کے ایک ایک عمل کو دیکھتا ہے اور عملی جامہ پہنانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ابھی شعور و آگہی نے اس کے دماغ کو دستک بھی نہیں دی ہے اور اس کی ماں اسے اپنی گود میں لے کر ٹی وی پر فلمیں دیکھتی ہے۔ جب بچہ روتا ہے تو اچھی باتیں اور میٹھی چیزیں دے کر چپ کرانے کے بجائے ٹی وی پر کارٹون وغیرہ لگادیتی ہے تاکہ بچہ اسے دیکھنے میںمگن ہوجائے اور اسے تنگ نہ کرے۔حالانکہ اس وقت کی ذرا سی بے توجہی اس کے مستقبل کو تاریک کوٹھری میںدھکیل سکتی ہے۔
حضور غوث اعظم رضی اﷲ عنہ (470ھ / 1077ء ۔561ھ / 1166ئ) جب شکم مادر میں تھے تو آپ کی والدہ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔ تقریبا 17/15 پارہ تک پہنچی تھیں کہ حضور غوث پاک سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اﷲ عنہ 470)ھ / 1077ئ) میں ولادت باسعادت ہوئی۔ آپ کے بارے میںمشہور ہے کہ آپ اتنے پارہ کے پیدائشی حافظ تھے۔ میںیہ دعویٰ تو نہیں کرتا ہوں کہ مائیں اگر تلاوت کلام اﷲ کریںگی تو بچے حافظ قرآن پیدا ہوں گے، مگر اتنا ضرور ہے کہ صالح اثرات بچوں کے ذہنوں پر ضرور مرتب ہوں گے۔ اس لئے مائیں دوران حمل جس طرح بھاری بھرکم کام کرنے سے گریز کرتی ہیں، اسی طرح برے اعمال اوربدگوئی سے بھی پرہیز کریں اور نیک کام، اچھی باتیں کریں تاکہ سعادت مند اور صالح اولاد جنم لے۔
گھر کاماحول
بچہ سب سے پہلے اپنے والدین کے عمل کا بغور جائزہ لیتا ہے اور اس کا پریکٹیکل بھی کرتا ہے۔ جب والدہ نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتی ہے تو بچہ اس کے بغل میںبیٹھ کر دونوں ہاتھوں کودعا کے لئے بلند کرتا ہے۔ اپنی والدہ کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے، اس کے ہونٹ ہلتے ہیں تو وہ بھی اپنا ہونٹ ہلاتا ہے۔ والدہ جب دعا کے بعد ہاتھوں کوچہرے پر پھیرتی ہے تو بچہ بھی اپنے ہاتھوں کو چہرے پر پھیرتا ہے، کبھی والدہ کے ساتھ رکوع و سجودکرتا نظر آتا ہے۔ اس کے بعد گھر کے دیگر افراد کے برتائو، ان کے خیالات، رہن سہن، اتار چڑھائو، آزاد خیالی، دینی بندھن اور دیگر عمل سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کی تقلید کرتا ہے۔ گھر کا ماحول اگر آزاد ہو تو اس کا بھی ذہن دینی بندھنوں سے ایک گونہ آزاد رہنے لگتا ہے۔ کسی کے گھر میں اگر اکثر جھگڑا ہو تو اس ماحول کا اثر اس بچے کے ذہن پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ وہ بھی بات بات پر دوسرے سے جھگڑنے لگتا ہے۔ اسی طرح اگر گھر والے قید میں رکھیں تو وہ اس قید کا منفی اثر لیتا ہے۔اپنے خیر خواہ کو اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے، وہ الٹی سوچ سوچتا ہے،گھر والوں سے دوری اختیار کرنے لگتا ہے، اور یہ کوشش کرتا ہے کہ زیادہ تر وہ گھر سے باہر رہے۔
اگر گھر کا ماحول بالکل آزاد نہ ہو تو بچہ آزادی کی رو میں بہہ کر دینی حدود کو بھی پار کر جاتا ہے اور قیدوبند کے ماحول میں وہ اپنی خفیہ صلاحیتوں کو ابھارنے کے بجائے اسے بھلا دیتا ہے۔ اس لئے گھر کا ماحول میانہ روی کا ہوتا کہ آزادی کی رو سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ خفیہ صلاحیتوں کو نکھارا جاسکے۔
ساتھیوں کی صحبت
بچہ جب چار پانچ سال کا ہوتا ہے تو وہ زیادہ اوقات کھیلنے میں گزارتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے میں اسے زیادہ لطف محسوس ہوتا ہے۔ کچھ ساتھی تو اسی کی عمر کے ہوتے ہیں اور کچھ بڑے اورچھوٹے بھی۔ جو ساتھی اس سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس کی عادتیں اس بچہ میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر ساتھی صالح کردار کا حامل اور اچھی سوچ کا مالک ہو تو وہ بچہ بھی ایسے کھیل کھیلتا ہے، جو اس کی کردار سازی کریں۔ (Mind Games) کھیل کر وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔ یہی کھیل اور صلاحیتوں کو ابھارنے کے یہی مواقع ان کے تابناک مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ خدانخواستہ اگر اس کا ساتھی ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو یا اس کی عادت بری ہو یا وہ منفی سوچ کا حامل ہو تو اس پر بھی اس کے اثرات اپنا رنگ دکھائیں گے۔ وہ بھی منفی سوچ کا عادی، ذہنی ڈپریشن کاشکار اور بری عادت والا ہوگا۔
اس لئے اس عمر میں بھی والدین کو چاہئے کہ بچے کو بالکل پابند نہ بنادیں کہ وہ دوسرے بچوں کے ساتھ نہ کھیلے اور نہ ہی بالکل آزاد چھوڑ دیں کہ وہ برے ساتھیوں کی بری صحبت اختیار کرلے۔
اسکولی تقریبات
جب بچے کی عمر اسکول جانے کی ہوتی ہے تو والدین اسکول میں اس کا نام لکھا دیتے ہیں۔ وہ اسکول آنے جانے لگتا ہے۔ پہلے تو صرف گھر اور محلے کے ماحول میں اس کی زندگی گزرتی تھی اور اب ایک نئے ماحول سے بھی متعارف ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی زندگی مختلف ماحول کے درمیان گزرتی ہے، ہر ماحول اپنا اثر ڈالتا ہے۔
اسکول میں مختلف طرح کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ ان تقریبات میں بچے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اچھی کارکردگی کے باعث انعام سے بھی نوازے جاتے ہیں، جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ وہ اس سے زیادہ بہتر رول ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی پڑھائی میں اچھے نمبر لانے کی وجہ سے اور کبھی اچھا گانا گانے اور ایکٹروں کی اچھی نقل کرنے کی وجہ سے۔
ان تقریبات کا انعقاد یقینا مفید ہے، لیکن کچھ محفلوں میں انہیں گانا اور ڈانس کرنا پڑتا ہے۔ اداکاروں کی نقل کرنی ہوتی ہے۔ ننھی بچیاں نیم عریاں لباس پہن کربچوں کے ساتھ ڈانس کرتی ہیں اور بچے ہیرو کی نقل کرتے ہیں۔ وہ باتیں کہہ ڈالتے ہیں جنہیں وہ خود نہیں سمجھتے۔ چونکہ ان کا ذہن بالکل صاف ہوتا ہے، ان ذہنوں میںجو بات بھی ڈالی جائے گی، وہ انمٹ نقوش کی طرح ثبت ہوجائے گی۔ اسکول کی انہیں تقریبات میں شرکت سے بچے گانے کے دلدادہ اور ڈانس کے شوقین ہوجاتے ہیں۔ْ
اکیسویں صدی میں ایسی محفلوں کا انعقاد بکثرت ہورہا ہے۔ اسی طرح تعلیم کے دوران بھی بچے نظریاتی حملوں سے محفوظ نہیںرہ پاتے ہیں۔ بلکہ ان نظریاتی حملوں میں ایسی جاذبیت ہوتی ہے کہ انسان اس کا شکار ہوکر بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔
میگزین اور اخبار کا اثر
اخبار اور میگزین ایسی چیزیں ہیں جن سے قوم میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قوم میں شجر طیبہ کی آبیاری بھی کی جاسکتی ہے اور باد سموم کی مکدر فضا بھی قائم کی جاسکتی ہے۔ سب کچھ اس کے اس استعمال پر منحصر ہے۔
پہلے جن رسالوں میں عریاں و نیم عریاں تصاویر پر ہوا کرتی تھیں، ان کے فرنٹ پیج پر ایسی تصاویر سے خالی ہوا کرتے تھے۔ ان کی خریدوفروخت خفیہ ہوا کرتی تھی۔ کسی موٹی کتاب کے درمیان رکھ کر بیچتے تھے تاکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ دکاندار کالا دھندہ کرتا ہے۔
اکیسویں صدی کے آنے سے جہاں بہت ساری تبدیلیاں ہوئی ہیں، وہیں اخبار و رسائل میں تبدیلیاں آئی ہیں اور جو رسالے کبھی سیاست و صحافت کے نام سے مشہور تھے، اب وہ بھی نیم عریاں تصویروں سے خالی نہیں ہوتے ہیں۔
اخبار نویسوں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ جہاں عورتیں گپ شپ لگاتی ہوں، ان تصویروں کو خاص ڈیزائن کے ساتھ شائع کرتے ہیں، ریپ وغیرہ کے معاملہ میں اگر انہیں تصویریں مل گئیں تو صرف خبر چھاپنے پر صبر نہیں ہوتا، بلکہ ان تصویروں کو بھی چھاپ دیتے ہیں، البتہ اپنی بلند اخلاقی کا مظاہرہ اس طرح کرتے ہیں کہ مخصوص مقامات پر بلیک لکیر کھینچ دیتے ہیں۔
اس سے بھی بچوں کے ذہنوں پر منفی اثر پڑتا ہے اور دھیرے دھیرے وہ ایسی تصاویر دیکھنے کے رسیا ہوجاتے ہیں۔
دکانوں کا حال
دکاندار اپنی دکان چمکانے اور اپنا بزنس بڑھانے کے لئے فلمی اداکاروں کے دو انچ میں ملبوس تصاویر اپنی دکانوں کے بورڈ پر لگائے رہتے ہیں۔
بچپن میں جب ہم مارکیٹ جاتے تھے تو اکثر بورڈ پر لکھی ہوئی تحریر پڑھا کرتے تھے۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ پڑھنے میں تیزی آئے اور انجان جگہ جائیں تو بورڈ پڑھ کر سمت اور جگہ کا اندازہ ہوسکے۔ تقریبا یہ حال اکثر بچوں کا ہوتا ہے۔ جب وہ مارکیٹ جاتے ہیں تو بورڈ پر نظر کرتے ہوئے چلتے ہیں۔ آج جب ان کی نظر بورڈ کی نیم عریاں تصویروں پر پڑتی ہے تو تحریر سے زیادہ وہ تصویریں بچوں کواپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ تصویریں بچوں کے صاف ذہنوں میں نقش ہوجاتی ہیں، پھر ٹی وی تو انہیں قبل بلوغ ہی بالغ بنادیتی ہے۔
موبائل کے منفی اثرات
آج موبائل کا شمار ضروریات زندگی میں ہوتا ہے۔ اس کا استعمال اس قدر عام ہوگیا ہے کہ جنہیں اس کے استعمال کی بالکل ضرورت نہیں وہ بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ اپنے بچے کو خود موبائل دیتے ہیں۔ جبکہ ایک دوسرے کے پاس موبائل دیکھ کر کچھ بچے والدین سے ضد کرتے ہیں کہ اگر انہیں ملٹی میڈیا موبائل نہیں ملاتو وہ اسکول نہیں جائیں گے۔ موبائل دن بدن سستا ہوتا جارہا ہے۔ اس سے والدین سستا ملٹی میڈیا موبائل خرید کر دے دیتے ہیں۔ بچہ بھی موبائل پاکر خوشی خوشی اسکول جانے لگتا ہے۔ بلکہ کچھ دنوں بعد وقت سے پہلے ہی کتابوں کا بستہ لے کر اسکول کی جانب روانہ ہوجاتا ہے۔ والدین خوش ہوتے ہیں، اب اس کادل پڑھنے میں لگ رہا ہے۔ وہ اس پر قطعی توجہ نہیں دیتے کہ بچہ اس کا استعمال کس کام میں کررہا ہے۔ پہلے تو وہ گیم کھیلتا ہے، پھر ساتھیوں کو دیکھ کر گانا ڈائون لوڈ کروا سنتا ہے، پھر مووی دیکھنے کا زمانہ بھی آجاتا ہے۔ اس کے بعد تو تمام حدود کو پار کرکے گندی فلم بھی دیکھنے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اجنبی مردوزن کا ایک دوسرے سے موبائل پر باتیں کرنا، میسج بھیجنا، پھر مہینوں اور سالوں بعد شادی کرنے کا واقعہ بھی ملتا ہے، لیکن پھر بعد میں نااتفاقی کی وجہ سے گھر کا یہ سکون اور پرامن ماحول کو انتشار اور لڑائی کی آگ غارت کردیتی ہے جس سے دونوں کی زندگی برباد ہوکر رہ جاتی ہے۔
والدین نے موبائل اس لئے دیا تھا کہ پڑھائی میں اس کی طبیعت لگے، مگر یہی اس کی بربادی کا ذریعہ بن گیا… ہائے افسوس!
مخلوط تعلیم کی اثر اندازی
یوں تو مغرب میں مخلوط تعلیم کا رواج 19 ویں صدی کے اوائل ہی میں رواج پاچکا تھا۔ اس وقت مشرق اس بلا سے محفوظ تھا۔ لیکن جوں جوں اہل مغرب بساط عالم پر چھاتے گئے، انہوں نے ہر طرح سے پوری دنیا کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج باستثنا بعض اکثر کالجوں اور یونیورسٹیز میں مخلوط تعلیم کو ترجیح دی جارہی ہے۔
مخلوط تعلیم کی وجہ سے طلبہ اپنے زمانہ تعلیم ہی میں رومانس پل کی تلاش میںلگ جاتے ہیں (یہاں بھی بعض مستثنیٰ ہیں) بعض تو کھلم کھلا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اور بعض اپنے دلی جذبات کو جامہ الفاظ پہنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ لیکن اس کے اثر سے بہت کم ہی طلبہ محفوظ رہ پاتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب پیاسے کو کنویں کے پاس لایا جائے گاتو وہ پانی ضرور پئے گا۔ آگ کو ڈیزل سے جتنا ہی قریب کیا جائے، اتنی ہی وہ بھڑکے گی۔
استاد و شاگرد کے درمیان والد اور اولاد کا رشتہ ہوتا ہے ہے۔ لیکن مخلوط تعلیم کے حسین روپ میںاہل مغرب کے مفسد نظریات کی وجہ سے یہ رشتہ تیزی سے ختم ہوتا جارہا ہے۔
درازی عمر کے سبب یونیورسٹی کے بعض طلبہ سے جب شادی کے لئے کہا گیا تو انہوں نے ایسا جواب دیا جو تعلیم یافتہ کے چہرے پر جوتا مارنے سے کم نہیں۔ ان کا جواب تھا۔ جب ضرورت سائڈ سے پوری ہو ہی جاتی ہے تو شادی کے بندھن میں ابھی سے کیوں قید ہوجائیں۔
یہ ہے مخلوط تعلیم کا نتیجہ! تعلیم کے اس شجر نے ایلوا پھل (ایک کڑوا پھل جو بہت مشہور ہے) اگایا، جس کو زندگی کا طالب انسان کبھی نہیں کھا سکتا۔
مخلوط تعلیم کی وجہ سے نئی نسل اس نظریے کی عادی ہوتی جارہی ہے کہ غیر محرم کے ساتھ گپ شپ لگانا اور حد سے زیادہ بے تکلفی کچھ گناہ ہی نہیں ہے۔
ڈانس کلب کا پرفریب جال
اکیسویں صدی کی آمد کے ساتھ ڈانس کلب کا سیلاب نئی نسل کو اپنے اندر ڈبوتا جارہا ہے۔
باپ کے سامنے بیٹی اور بھائی کے سامنے بہن پر اگر کوئی بری نظر ڈالے یا چھیڑ خانی کرے تو کوئی باپ اور بھائی اسے قطعا برداشت نہیں کرسکتا۔
لیکن اکیسویں صدی کا یہ سیلاب تمام اخلاقی فصیلوں کو ڈھاتا جارہا ہے۔ اس صدی کا معیار تہذیب یہ ہوگیا ہے کہ بیٹی اور بہن پر غیر مرد صرف بری نظر ہی نہیں ڈالتے بلکہ خود وہ دوسروں کے ساتھ ڈانس کرتی ہیں اور اس میں وہ حرکتیں بھی کرتی ہیں کہ ایک مہذب انسان لوگوں کے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ بھی ویسی حرکتیں نہیں کرتا۔ پھر باپ اور بھائی ان مناظرہ کو بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ صرف دیکھتے ہی نہیں بلکہ بڑے فخر سے میڈیا والوں کو انٹرویو بھی لینے دیتے ہیں۔
ان ڈانس کلبوں میں صرف عمر دراز ہی نہیں جاتے بلکہ اپنے چھوٹے بچے کو بھی لے جاتے ہیں۔ ان کا ذہن ان باتوں کے سوچنے کا متحمل نہیں ہوتا ہے۔ پھر بھی انہیں سوچنا پڑتا ہے۔سارے مناظر ان کے ذہن میں سفید کاغذ پرسیاہ روشنائی کی مانند نقوش ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ بچے اسی وجہ سے شعور کا دامن تھامنے سے پہلے ہی چھوٹی بچیوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔
ان کے علاوہ پوسٹر، بیئربار، ریسٹورنٹ اور ایڈورٹائز کے لئے لڑکوں کے جنسی ہیجان برپا کرنے والی عورتوں کی عریاں و نیم عریاں تصاویر پر نسل نو کے دل و دماغ اور سوچ وفکر میں بڑی تیزی سے اثر انداز ہوتی جارہی ہیں۔ ان کے نظریے بدلتے جارہے ہیں۔ ترقی اور کامیابی کا معیار مغربی طرز زندگی ہوتا جارہا ہے۔
اس طرح اکیسویں صدی میں گھر سے لے کر باہر تک اور بچپن سے لے کر بڑھاپے تک انسان نظریاتی حملوں میں گھرا رہتا ہے اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ ان حملوں کا شکار ہوکر بھی وہ خوش نظر آتا ہے، لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ ان حملوں نے اسے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔
آج اس ماحول سے کیسے نکلا جاسکتا ہے؟ ان حملوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟ اپنی آنے والی نسلوں کو کیسے پاکیزہ ماحول میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ عصر حاضر کا بڑا چیلنج ہے۔ اس کا علاج صرف اور صرف اسلام ہے۔ جس خدا نے سنسار بنایا، انسانوں کو پیدا کیا، اس کے نظام قدرت میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں کرسکا۔ تو کیا اس کے نظام ہی میں انسانی بھلائی کا راز مضمر نہ ہوگا؟ ضرور ہوگا! لیکن عقل بینا کی ضرورت ہے۔ دل درد مند کی ضرورت ہے۔ مالک و مولا کی شکر گزاری پر یقین رکھنے والے ضمیر کی ضرورت ہے۔ محسن کی ناحق شناسی کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے، چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ انسان جو اشرف المخلوقات کا درجہ رکھتا ہے، اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اپنے انجام سے بے خبر ہوکر زندگی گزار رہا ہے۔ وقت ہے کہ اب بھی اگر کوئی سنبھلنا چاہے تو سنبھل سکتا ہے ورنہ تباہی و بربادی تو اپنا منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ اور ہم اس کا لقمہ بننے کے لئے تیار ہیں؟
٭٭٭