کیا دنیا کا کوئی انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ ریاست و امارت میں آنکھیں کھولنے والا شخص عسرت و غربت کی زندگی گزارے گا، یہ عسرت و غربت عرفی نہیں جو دست سوال دراز کرنے پر آمادہ کرے، بھیک مانگنے پر اکسائے، بلکہ جو زہد و قناعت کی علم بردار ہو، صبر و شکیب کی آئینہ دار ہو۔ کیا کوئی ایسا مرد ودرویش نظر آیا، جس کی چوکھٹ پر شاہان زمانہ جبیں سائی کو ترس رہے ہوں؟ وہ انداز فقیرانہ کیسا ہوگا؟ جسے دیکھ کر امیروں کے منہ میں پانی آجاتا ہو، وہ کیسا قلندر ہوگا جو دنیا کو پیروں کی ٹھوکر پر رکھتا ہو، جس کی شان استغنا دلوں کو موہ لیتی ہو، جس کی بارگاہ میں امارت و سیاست دریوزہ گری کرتی نظر آئے، یہ دنیا ایسی شے ہے، جسے دیکھ کر اچھے اچھوں کی نیت بدل جاتی ہے، جس کے تذکرے ہی سے قلب میں احساس طلب موجیں مارنے لگتا ہے۔
یہ بات سب کو تسلیم ہے کہ بڑے سے بڑا سرمایہ دار جب دیوالیہ پن کا شکار ہوجاتاہے تو اس کی زندگی عسرت میں گزرتی ہے، غربت میں بسر اوقات کرتا ہے، قناعت کی روٹیاں کھانے لگتا ہے، اس کا صبر جبری ہوتا ہے، لیکن یہ زندگی واقعی حیرت انگیز اور فکر آمیز ہے کہ راحت و آسائش، مال وثروت کی کثرت کے باوجود فقیروں، غریبوں جیسی زندگی گزار رہا ہے۔
مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا، مطلع اب بھی صاف نہیں ہوا، درویشوں کی سی زندگی کیوں ہے؟ غریبوں جیسا انداز کیوں ہے؟ کیا اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی نہیں؟ سازوسامان نہیں؟ ٹھاٹ باٹ کا انتظام نہیں؟ ہے، ضرور ہے، مگر وہ غریبوں کو کھلانے کا سبق ازبر کئے ہوئے ہے۔ فقیروں کی دل جوئی اس کا مشغلہ محبوب ہے، درویشوں کا انداز اختیار کرنا اسے بھاگا ہے، اسے کسی دنیادار کی دل جوئی مقصود نہیں، وہ تو خالق کائنات کی خوشنودی کا طلب گار ہے، رحمت الٰہی کا متمنی ہے، رضائے رسولﷺ برحق کا دلدادہ ہے، دراصل جو زندگی کی معراج ہے، سب سے عظیم سرمایہ ہے، بیش قیمت دولت ہے۔
اس نے یہ ڈھنگ، یہ طریقہ، یہ انداز اپنے آقا رسول اعظمﷺ سے سیکھا۔ ان کے اصحاب کی زندگی سے لیا، اولیائے امت کی سیرت سے پہچانا، صوفیائے ملت کے حالات سے اخذ کیا، مقربان بارگاہ باری سے حاصل کیا، جبھی تو اس کی زندگی میں اسوۂ رسولﷺ کی تابندگی ملتی ہے، صحابہ کرام کے طریقہ ہائے حیات کے جمالیات نظر آتے ہیں، اولیاء و صوفیا کے انداز درویشی کا رنگ وآہنگ دکھائی دیتا ہے، جنہوں نے مال و ثروت ہوتے ہوئے قناعت بھری زندگی گزاری، مال و دولت کو راہ خدا میں لٹادیا، انسانوں کو کھلا دیا، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کردی، سیرت رسولﷺ و تاریخ صحابہ رضی اﷲ عنہم اور احوال صوفیا و اولیاء پڑھنے والے ان حقائق کی توثیق کریں گے۔ انہوں نے دنیا کو کس نگاہ سے دیکھا، مال و دولت کے لئے کیا کیا نظریہ قائم کیا، امارت کو کیوں ٹھکرادیا؟ کیوں کہ وہ خدا کی یاد سے غافل کردینے والے سامان تھے، عبادت الٰہی میں رخنہ ڈالنے والے اسباب تھے۔
زندگی بلاشبہ عطائے ربانی ہے، نعمت الٰہیہ ہے۔ لیکن جب دنیا کی محبت میں اس پر مردنی چھا جائے تو اس کا وقار گھٹ کر رہ جاتا ہے۔ اس کی شان کم ہوجاتی ہے، لیکن جو زندگی وقف بندگی ہوجائے، وہ معراج کمال کو پہنچ جاتی ہے، زندہ دلی تو اسے ہی کہیں گے، جب زندگی وقف بندگی ہوجائے۔ بہ قول شاعر:
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
موضوع سخن کس کی زندگی ہے، کس کی حیات مبارکہ کے شب و روز ہیں؟ ذرا ان کی تعلیمات کو تو دیکھیں کہ وہ کس بات کا اشاریہ ہیں۔ ذرا ان کی عملی زندگی پر بھی نگاہ ڈالیں وہ کیا ثبوت فراہم کرتی ہے؟
بات ہے محقق اسلام، مجدد اعظم، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ کی، یہ نام بڑا پیارا ہے، بڑا معروف و مقبول ہے، ان کی حیات کے ایام کھلی کتاب ہیں۔ آج ہم کتاب کے ایک اہم باب کو پڑھنے کی کوشش کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے کہ دنیا کو انہوں نے کس نگاہ سے دیکھا؟ دنیا کی رعنائیاں ان کی نظر میں کیا حیثیت رکھتی ہیں؟ سب سے پہلے ان کی تعلیمات پر اچٹتی نگاہ ڈالتے ہیں۔
انسان دنیا میں کمانے آیا ہے، کھانے نہیں، بونے آیا ہے، کاٹنے نہیں، پودا لگانے آیا ہے، پھل کھانے نہیں، کام کرنے آیا ہے، آرام کرنے نہیں، امام احمد رضا قدس سرہ کے ایک خط کا یہ جملہ پڑھیں۔
’’اہل اسلام پر روشن ہے کہ انسان دنیا میں دنیا کمانے کے لئے نہیں بھیجا گیا، دنیا مزرع ہے اور آج کابویا کل ملتا ہے، مبارک وہ دل کہ طلب دنیا میں دین و عقبیٰ سے غافل نہ ہو‘‘ (کلیات مکاتیب رضا 2/206)
حدیث مبارک میں ارشاد رسالت مآبﷺ ہے۔
الدنیا مزرعۃ الاخرہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔
یہاں اس کھیتی میں فصل لگانا ہماری ذمہ داری ہے۔ آخرت میں ان شاء اﷲ عزوجل ضرور ہمیں ہی کاٹنا ہے، اس کا صلہ ملے گا، امام احمد رضا نے اسی حدیث کی ترجمانی کی ہے، بتایا ہے، دنیا کھیتی ہے، مزرع ہے، آج کا بویا کل ملے گا، ضرور ملے گا۔
مال اور اولادفتنہ ہیں، آزمائش ہیں، ابتلا کے سازوسامان ہیں، امتحان کے پرچے ہیں، انہیں حل کرنا ہے، ان سے گزر کر کامیابی لینی ہے، ان مشکلات سے گزرنا ہے، ان فتنوں کا سدباب کرنا ہے، ان کا صحیح ٹھکانا متعین کرنا ہے، ان کا موزوں مصرف ڈھونڈنا ہے، یہی زندگی کا مقصد ہے، عبادت کاحصول ہے، کامیابی کی ضمانت ہے۔
ایک بار امام احمد رضا قدس سرہ سے عرض کیا گیا: بچہ سے محبت تو اپنا بچہ ہونے کی بناء پر ہوتی ہے۔ اﷲ کے واسطے کون کرتا ہے؟ ارشاد فرمایا:
’’الحمدﷲ! میں نے مال ’’من حیث ہو مال‘‘ سے کبھی محبت نہ رکھی ، صرف انفاق فی سبیل اﷲ کے لئے اس سے محبت ہے، اسی طرح اولاد ’’من حیث ہواولاد‘‘ سے بھی محبت نہیں، صرف اسی سبب سے کہ صلہ رحم عمل نیک ہے، اس کا سبب اولاد ہے اور یہ میری اختیاری بات نہیں، میری طبیعت کا تقاضا ہے۔ (الملفوظ 4/50)
یہ اﷲ والوں ہی کی شان ہے کہ مال و اولاد سے ان کی محبت مال و اولاد ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ وہ نیک کاموں کا حصہ بنتے ہیں، وسیلہ بنتے ہیں۔
جو اﷲ کے برگزیدہ ہوتے ہیں، وہ دنیا کو قیدخانہ سمجھتے ہیں، اپنے آپ کو قیدی جانتے ہیں آزاد نہیں، بندہ عبادت و ریاضت کے حصار میں مقید رہتا ہے، کیا دنیا اسے سکون دے سکتی ہے، قرار مل سکتا ہے صاف و شفاف دل والا، اجلے کپڑوں والا دنیا کو پکڑتا ہے، اس کے قریب ہوتاہے، گلے لگاتا ہے، دنیا بڑی فاحشہ ہے، غلیظ ہے، اس کا دل داغ دار کردیتی ہے، اس کے کپڑے بد رنگ کردیتی ہے، وہ یہ کام کرکے بھاگتی ہے اور دنیا کا طلب گار اسے دوڑاتا ہے، نہ عزت کا خیال، نہ وقار کی فکر، نہ ناموس کا دھیان، فاحشہ کا یہی کام ہے غلاظت اسی کو کہتے ہیں۔امام احمد رضاقدس سرہ ان حقائق کو اس طرح کھلوتے ہیں، آگاہ کرتے ہیں۔ تنبیہ فرماتے ہیں:
’’دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے، قید خانے میں آرام مل رہا ہے؟ محض فضل نہیں؟ دنیا فاحشہ ہے اپنے طالب سے بھاگتی ہے اور ہارب کے پیچھے دوڑتی ہے، دنیا میں مومن کا قوت کفاف بس ہے‘‘ (کلیات مکاتیب رضا 1-396)
الملفوظ شریف میں امام احمد رضا ایک حکایت فرماتے ہیں:
’’امام دائود طائی امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے شاگردوں میں سے ایک تھے۔ امام نے جب دیکھا کہ ان کی دنیاکی طرف توجہ نہیں، ان کو سب سے الگ کرکے پڑھاناشروع کیا ایک دن تنہائی میں فرمایا: ’’اے دائود! آلہ تیار کرلیا، مقصود کس دن حاصل کروگے‘‘ ایک سال درس میں حاضر رہے۔ یہ ریاضت کی کہ طلبا آپس میں مذاکرہ کرتے، ان کو آفتاب سے زیدہ وجہیں روشن معلوم ہوتیں، نفس بولنا چاہتا مگر یہ چپ رہتے، غرض ایک سال کامل سکوت فرمایا، جب ان کے والد ماجدہ کا انتقال ہوا۔ 80 درہم اور ایک مکان ورثہ میں ملا۔ وہ درہم عمر بھر کے لئے کافی ہوئے اور مکان کے ایک درجہ میں بیٹھا کرتے، جب وہ گر گیا، دوسرے میںبیٹھنا شروع کیا، جب وہ اس قابل نہ رہا تو اور درجہ میں۔ ادھر ان کی روح نے پرواز کیا، ادھر بعض صالحین نے خواب میں دیکھا کہ دائود طائی نہایت خوشی کے ساتھ ہشاش بشاش دوڑے ہوئے چلے جارہے ہیں، انہوں نے کبھی آپ کو اس حالت میں نہ دیکھا تھا؟ پوچھا کیا ہے؟ کیوں دوڑے جاتے ہو؟ فرمایا: ابھی جیل خانے سے چھوٹا ہوں، خبر پائی کہ وہی وقت انتقال کا تھا:
الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر
یہ حکایت بیان کرنے کے بعد آگے مزید فرمایا:
’’مسلمان عمر بھر کتنی ہی تنگی و مصائب میں رہے، ایک ہوا جنت کی دیں گے اور پوچھیں گے تم نے دنیا میں کیا تکلیف اٹھائی؟ کہے گا: واﷲ کوئی تکلیف نہ اٹھائی، اور کافر کو ہزار برس تک نازونعم میں رکھا جائے، کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی جائے، گرم ہوا بھی نہ لگنے پائے، قبر میں ایک جھونکا اسے جہنم کا دیں گے، کہے گا: واﷲ مجھے دنیا میں کوئی آرام نہ ملا‘‘ (الملفوظ 4/27)
دنیا میںمشکلات برداشت کرنے والوں کے لئے آخرت میں راحت و آرام کا مژدہ جان فزا ہے اور آرام طلبوں کے لئے مصائب و آلام ضیافت کے بہ طور پیش ہوں گے، کافر دنیا کو جنت تصور کرتا ہے، اس کی آسائش کو جنت کے سامان جانتا ہے۔ امام احمد رضا قدس سرہ بیان فرماتے ہیں:
حدیث میں ہے: اگر دنیا کی قدر اﷲ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر ہوتی، تو ایک گھونٹ اس میں کافر کو نہ دیتا، ذلیل ہے، ذلیلوں کو دی گئی، جب سے اسے بنایا ہے، کبھی اس کی طرف نظر نہ فرمائی، دنیا کی روحانیت آسمان و زمین کے درمیان جو (فضا) میںمعلق ہے، فریاد و زاری کرتی ہے اور کہتی ہے، اے میرے رب! تو مجھ سے کیوںناراض ہے، مدتوں کے بعد ارشاد ہوتا ہے، چپ خبیثہ‘‘
اور آگے فرمایا:
’’سونا چاندی خدا کے دشمن ہیں۔ وہ لوگ جو دنیا میں سونے چاندی سے محبت رکھتے ہیں، قیامت کے دن پکارے جائیں گے، کہاں ہیں وہ لوگ جو خدا کے دشمن سے محبت رکھتے تھے، اﷲ تعالیٰ دنیا کو اپنے محبوب سے ایسا دور فرماتا ہے جیسے بلاتشبیہ بچے کو اس کی مضر چیزوں سے ماں دور رکھتی ہے‘‘ (الملفوظ 4/25)
یہ تو اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے پیغامات ہیں۔تعلیمات ہیں۔ ان کے فرامین ہیں۔ ذرا آگے بڑھ کر دیکھیں۔ کیا ان کی عملی زندگی میں اس تعلیم کے اثرات ملتے ہیں۔ اس پیغام کے مظاہر نظر آتے ہیں۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی زندگی میں بندگی کے سوا کچھ نہ تھا، بندگی ہی بندگی تھی، عبادت ہی عبادت تھی، اطاعت ہی اطاعت تھی، ان کی زندگی نے زندگی کے لئے کچھ سوچا نہیں۔دنیا کے لئے کچھ کیا نہیں، نہ آرام کے لئے، نہ نام کے لئے، جو کچھ کیا، دین کے لئے، برکت کے لئے رضائے رب کے لئے، خوش نودیٔ حبیب رب کے لئے، جبھی تو عزت بھی ہے، وقار بھی ہے اور رضوان کی خوش خبری بھی۔ آیئے آگے بڑھ کر ملاحظہ کرلیں:
امام احمد رضا اپنی دینی خدمات کے لئے کبھی اجرت دنیا کے طالب نہ ہوئے، بعض حضرات نے ناواقفی میں استفتاء کے ساتھ یہ بھی پوچھ لیا کہ فتوے کی فیس کیا ہوگی؟ جواباً تحریر فرمایا:
’’یہاں بحمداﷲ فتویٰ پر کوئی فیس نہیں لی جاتی، کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا اور نہ لیا جائے گا بعونہ تعالیٰ ولہ الحمد، معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست ہمت ہیں جنہوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کررکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی۔ بھائیو!
مااسئلکم علیہ من اجر ان اجری الاعلیٰ رب العالمین
میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو سارے جہان کے پروردگار پر ہے اگر وہ چاہے‘‘ (فتاویٰ رضویہ 3/230، مبارک پور)
آپ نے علمائے شریعت اور برادران طریقت کو ہدایت بھی دی کہ خدمت دین کو کسب معیشت کا ذریعہ نہ بنائیں، اس کا ثبوت و ہدایت نامہ ہے جو ماہنامہ الرضا بریلی بابت ماہ ربیع الاول و جمادی الاولیٰ 1338ھ میں ملتا ہے جس کا متن یہ ہے:
’’احباب علمائے شریعت اور برادران طریقت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ خدمت دینی کو کسب معیشت کا ذریعہ نہ بنائیں اورسخت تاکید ہے کہ دست سوال دراز کرنا تو درکنار، اشاعت دین و حمایت سنت میں طلب منفعت مالی کا خیال دل میں نہ لائیں، بلکہ ان کی خدمت خالصتاً لوجہ اﷲ ہو، ہاں اگر بلاطلب اہل محبت سے کچھ نذر کریں، رد نہ فرمائیں کہ اس کاقبول کرنا سنت ہے‘‘ (امام احمد رضا اورتصوف 81-80)
یہاں ان کے مکتوبات کے بھی دو تراشے ذہن نشین کرلیں۔ مولاناشاہ سید حمید الرحمن رضوی نواکھالی، بنگلہ دیش کے مشہور عالم دین سے اور امام احمد رضا کے تلمیذ، انہوں نے 1339ھ میں جواب مسائل کے لئے ایک مکتوب روانہ کیا، اس میں یہ بھی لکھا: ایک روپیہ بہ طور استاذی خدمت کے روانہ کیا جاتا ہے۔ امام احمد رضا جواب میںلکھتے ہیں:
’’جواب مسئلہ حاضر ہے، الحمدﷲ کہ آپ کاروپیہ نہ آیا اور آتا اگر لاکھ روپے ہوتے تو بعونہ تعالیٰ واپس کئے جاتے، یہاں بحمدہ تعالیٰ نہ رشوت لی جاتی ہے، نہ فتویٰ پر اجرت‘‘ (فتاویٰ رضویہ 9/77، کلیات 1/220)
راولپنڈی سے ایک سائل نے کئی بار خطوط لکھ کر جواب مسائل حاصل کئے۔ ہر بار انہوں نے اجرت و قیمت کی بات کی ہے، قلم کا تیور دیکھئے، لکھتے ہیں:
’’قیمت کاغذ کی نسبت پہلے آپ کو لکھ دیا گیا کہ یہاں فتویٰ اﷲ کے لئے دیا جاتا ہے، بے جا نہیں لیا جاتا، آئندہ کبھی یہ لفظ نہ لکھئے‘‘ (فتاویٰ رضویہ، مترجم، لاہور 11/254)
حوالوں کی اس کہکشاں میں امام احمد رضا قدس سرہ کی ذات نیرتاباں بن کر نمودار ہوتی ہے اور ان جزئیات سے امام احمد رضاکا جو چہرہ سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ امام احمد رضا نے جو کچھ کیا دین کے لئے، آخرت کے لئے، اﷲ عزوجل و رسولﷺ کے لئے، پوری زندگی مال و دولت اور دنیاوی جاء و اقتدار سے کوسوں دور رہے اور اپنے فرزندان و احباب کو بھی اس سے دور رکھا، دنیا سے بھاگتے رہے، دنیا کوقید خانہ جانا، ان کی نگاہ میں دنیا ہر وقت بے حیثیت رہی، بے وقعت رہی، اس لئے ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اﷲ عزوجل کی رضا حاصل رہی اور روز قیامت انہیں اس کا بہترین اجر وثواب ملے گا۔