اسلامی ممالک میں ہر طرف پھیلی تباہی، روزانہ کی بنیاد پر کہیں خود کش حملے، کہیں کار بم دھماکے اور کہیں کریکر حملے ۔ جس کے نتیجے میں روزانہ سینکڑوں ہلاکتیں اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہونے والے مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ۔ افغانستان، پاکستان ، شام، فلسطین، مصر، سوڈان،یمن، ایران، عراق کہیں تو سکون ہو،کہیں تو خوشحالی ہو، ہر طرف پھیلی بے یقینی کس بات کی طرف اشارہ ہے؟
کیا امت مسلمہ عروج کی طرف گامزن ہے ؟ یا تاریخ کے بد ترین زوال کا شکار؟؟؟
انتہائی افسوس کے ساتھ ، جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں اسلام کے قلعہ پاکستان میں ایک خوفناک سانحہ جنم لے چکا، جی ہاں لاہورمیںواہگہ بارڈر پر خوفناک خودکش حملہ جس کے نتیجے میں 60کے قریب مسلمان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے، اس دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان اور جند اللہ نامی گروپس نے قبول کرلی ہے۔
اے خاصئہ خاصانِ رُسل وقتِ دعا ہے
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پر دیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
کیا یہ واقعہ پہلی مرتبہ ہوا؟ نہیں! یہ واقعہ اور اس جیسے سانحے اسلامی ممالک میں روزانہ ہوتے ہیں ۔ جی ہاں! خونِ ناحق مقدس سرزمین ِاسلام پر بہتا ہے۔ زندگی اور اس کے احیا ء کا حصول انتہائی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے اسلامی ممالک میںمسلمان کہیں لسانیت کے نام پر آپس میں دست و گریباں ہیں تو کہیں فرقہ واریت کے نام پر ایک دوسرے کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ تو کہیں اپنے مذموم نظریات امتِ مسلمہ پر نافذ کرنے کے لئے حصول ِحکومت کے لئے بزور طاقت مسلح گروہ اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے ۔ اور مسلح کارروائیاں کر کے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کو آگ و خون میں نہلا رہا ہے۔ کہیں قبائلی نظام کو اسلامی نظام سے ملا کر اسے بزور طاقت امت مسلمہ پر مسلط کرنے کی مسلح جدوجہدکو جائز گردانا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اہل کتاب مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور اللہ عزوجل کے عذاب کے مستحق ہوگئے بالکل اسی طرح آج امت مسلمہ گروہ بندیوں کا شکار ہے جسکی وجہ سے امت مسلمہ کو عروج کا حصول جُوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ولا تکونُوکالَّذِینَ تَفَرَّقُوا واختَلَفُوا مِن بعدِ ما جائَ ہُمُ البَیِّنٰتُ و اُولٰئِکَ لھم عذابٌعظیمٌ۔
{ترجمہ} اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جو متفرق ہوگئے اور انہوں نے واضح دلائل آنے کے با وجود اختلاف کیا اور وہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے۔ (سورئہ ال عمران آیت ۱۰۵)
جی ہاں! اللہ عزوجل اور اسکے حبیب ﷺ کی تعلیمات بالکل واضح اور روشن ہیں۔ اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں فرمایا:
واعْتَصِمُو بِحَبلِ اللّٰہِ جَمِیعًا وَّلَاتَفَرَّقُوا واذکُرُوا نِعْمَتَ اللّٰہِ علیکم اِذکُنتُم اَعدَائً فَاَلَّفَ بینَ قُلُوبکم فَاَصَبَحتُم بنعمَتِہ اِخوانًاوکنتم علی شفا حفرۃٍ من النَّارفَاَنْقَذَکُم منھا کذالک یُبَیِّنُ اللّٰہُ لکم اٰیٰتِہ لعلکم تھتدون۔ (سورئہ ال عمران ۱۰۳)
{ترجمہ}اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی رحمت کو یاد کرو ۔ جب تم آپس میں دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میںالفت ڈال دی تو تم اسکے کرم سے آپس میں بھائی بھائی ہو گئے ۔ اور تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر تھے توتم کو اس نے نجات دی، اللہ اسی طرح تمہارے لئے اپنی آیات کو بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پائو۔
اس آیت میں تفرقہ کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ عقائد میں ایک دوسرے کی مخالفت کر کے مختلف گروہ نہ بنائویا اس سے مراد یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ عداوت اور مخاصمت نہ رکھو اور دنیاوی امور اور اغراض باطلہ کی وجہ سے ایک دوسرے کی مخالفت نہ کرو۔
(تفسیر تبیان القرآن جلد دوم، صفحہ ۲۹۰)
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم تاریخ کے روشن ترین دور میں ہیں،لیکن ہم مسلمانوں کی سوچ ، خیالات و افکار اور کردار زمانہ جاہلیت کے ادوار سے بھی گئے گذرے ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ جب بھی مسلمان تفرقہ کا شکار ہوئے ، عنانِ حکومت ان کے ہاتھوں سے جاتی رہی اور یا تو وہ صفحہ ہستی سے مٹادئے گئے یا غیر قوموں کے محکوم و غلام بن گئے، اندلس میں مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی ، لیکن آپس کے تفرقہ کی وجہ سے عیسائیوںنے پورے اسپین پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کے لئے صرف تین راستے رکھے
۱) اندلس سے نکل جائو
۲)عیسائی بن جائو
۳)مرنے کے لئے تیار ہو جائو۔
حتی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ پورے اسپین میں ایک بھی مسلمان نہ رہا۔بغداد میں اسی تفرقہ بازی کی وجہ سے مسلمان کمزور ہوگئے اور ہلاکو خان کے ہاتھوں مسلمانوں کی ذلت کی ایک اور تاریخ لکھی گئی۔
اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں نے کئی صدیوں تک حکومت کی لیکن جب مسلمان طوائف الملوکی کا شکار ہوگئے اور شراب اور موسیقی میںڈوب گئے تو انگریزوں کی غلامی انکا مقدر بن گئی۔جب اسلام کے قلعے پاکستان میں اردو اور بنگلہ کا اختلاف زوروں پر ہوا تو مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔اور اب کراچی میں مہاجر اور غیر مہاجر کا اختلاف اپنے عروج پر ہے۔
جی ہاں! اختلاف، اختلاف اور صرف اختلاف۔۔!
کیا اختلاف ہی ہمارا مقدر بن چکا ہے ۔ کیا اسلام کی خالص تعلیمات میں کہیں محبت، رواداری، خلوص، ایثار، ہمدردی، درگذر، شفقت کا وجودنہیں ؟؟ کیا ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کے اسوئہ حسنہ کو رول ماڈل قرار نہیں دیا گیا؟تو پھر کیوں ہم مسلمانوں نے اپنے مرکز سے اپنے آپ کو دور کر لیاہے؟ قرآن پاک پکار پکار کر کہہ رہا ہے:
محمدٌ رسول اللّٰہ والذینَ معہ اَشِدّائُ علی الکفارِ رُحمائُ بینھم۔
{ترجمہ}محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں کفار پر بھاری ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ (سورئہ فتح پارہ ۲۶)
اپنی اپنی زبانوں اور اپنے اپنے فرقوں کے تسلط کے لئے ساری کی ساری سختی صرف اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ۔ یقینا ہمارا تفرقہ میںپڑجانا اور ایک دوسرے کی تکفیر کرنا، ایک دوسرے کے قتل کو جائز سمجھنایہود و نصارٰی اور ملت کفر کو کتنا خوش کرتا ہوگا اسکا اندازہ ہمیں نہیں۔
رب العالمین نے فرمایا:
اِن تمسَسکُم حسنۃٌ تَسُؤھم وان تصبکم سیّئۃٌ یفرحوبھا۔
(سورئہ ال عمران)
{ترجمہ}اگر تمہیں کوئی اچھائی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تم کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔
؎منفعت سب کی ہے ایک اللہ رسول قرآن بھی ایک
کیا عجب ہوتا جو ہوتے مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے تو کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
یقینا آج امت مسلمہ تنزلی کا شکار ہے اور اسکی سب سے بڑی وجہ تفرقہ میں مبتلا ہوکر صرف ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہونا ہے اور
باقی صفحہ 21 پر ملاحظہ فرمائیں