ڈاکٹر شہزاد احمد کا تحقیقی مقالہ (برائے پی ایچ ڈی) جامعہ کراچی

in Tahaffuz, December 2014, ڈاکٹر شہزاد احمد کا تحقیقی مقالہ (برائے پی ایچ ڈی) جامعہ کراچی, متفرقا ت

کرچای کی شاہ فیصل کالونی کی تنگ و تاریک گلیوں کا ایک حجرہ چراغ چراہے روشن ہے۔ جہاں ایک طالب علم صدیوں کے محفوظ خزانے میں بکھرے اوراق سے روشن لمحے اور سنہری یادیں چننے میں مصروف ہے۔
رب کائنات کے محبوبﷺ کا یہ غلام ہر عہد میں اپنے آقا نبی کریمﷺ کی مدحت رقم اور چمن نعت کی آبیاری کرنے والے محترم نفوس کو قرطاس پر سمیٹنا چاہتا ہے۔ وہ روشن اور پاکیزہ لمحوں کی مہک اپنی بستی کے پھول مکینوں میں بانٹنا چاہتا ہے۔ اس کا عزم عشاق کے سوز میں آگاہی کے دیئے روشن کرنا ہے۔
روشن لمحے! قافلہ در قافلہ حجرے میں آرہے ہیں اور وہ انہیں سلیقے سے قرطاس پہ سجا رہا ہے۔ ان روشن لمحوں میں حضرت ابو طالب کے وہ روشن لفظ بھی ہیں جو آج بھی مشرکین پہ تازیانہ ہیں۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ اور مدینے کی بچیوں کے وہ گیت بھی جو صحرائے عرب سے خوشبو بکھیرتے ہوئے آج عجم میں بھی اسی شگفتگی سے مسکرا رہے ہیں۔
الشرق البدر علینا من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا مادعیٰ ﷲ داع
حجرے پر مکمل سکوت طاری ہے، حضرت امام بوصیری مدح سراہیں
مولای صل وسلم دائماً ابدا
علیٰ حبیبک خیرالخلق کلہم
(امام بوصیری علیہ الرحمہ) قصیدہ بردہ شریف
سبحان اﷲ، سبحان اﷲ کی صدائوں سے کائنات آج بھی گونجی رہی ہے۔
پرشکوہ فارس سے، فردوسی، سنائی، نظامی، رومی، سعدی، غرفی، فیضی، حافظ، جامی، قدسی، خسرو بھی اس کے مہمان ہیں۔ شیخ سعدی کا خط بہار میں رقم طغرہ حجرے میں جگمگا رہا ہے جس کے نیچے خسرو کا وجد دیدنی ہے۔
دا خود میر مجلس بود اندر لامکان خسرو
محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
خسرو علیہ الرحمہ
برصغیر میں اردو کے سید محمد حسینی، ملاوجہی، سچل سرمست، غالب، امیر مینائی، محسن، شبلی، حالت، حسرت، آسی، رضا بریلوی، اصغر، اقبال اور بیدم شاہ علیہم الرحمہ بھی اپنے روزنامچوں کے ساتھ حجرے میں مقیم ہیں۔
آج حجرے میں محفل میلاد سجی ہے۔ احمد رضا خان جھوم جھوم کر پڑھ رہے ہیں۔
واہ کیا جود و کرم ہے شہہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
لاہور کے علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ نے سر جھکا کر کہا:
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
یہ سن کر ایک احرام پوش بیدم شاہ نے مستی میں کہا:
عجب تماشا ہو میدان حشر میں بیدم
کہ سب ہوں پیش خدا اور میں روبرئے رسول
بیدم شاہ
پھول بستی کے مکین سیماب، اکبر وارثی، حفیظ جالندھری، ذہین شاہ تاجی، رفیق عزیزی، منور بدایونی، عبرت صدیقی، ضیاء القادری، حفیظ تائب، سراج الدین ظفر، بہزاد لکھنوی، عزیز جے پوری، نور احمد میرٹھی، عنبر شاہ وارثی، راجا رشید محمود، اعظم چشتی، اقبال صفی پوری، مسرور کیفی، ادیب رائے پوری، قم انجم، خالد محمود، مظفر وارثی، صبیح رحمانی، اعجاز رحمانی، منظر عارفی، یامین وارثی، اپنے اکابر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے چمن کی آبیاری میں مصروف عمل ہیں۔
خوش رہیں تیرے دیکھنے والے
ورنہ کس نے خدا کود یکھا ہے
(ذہین شاہ تاجی)
سبوئے جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح
کوئی شراب نہیں عشق مصطفے کی طرح
(سراج الدین ظفر)
آج طالب علم کی نظامت عروج پر تھی
میں ہوں بہزاد مست یاد محمد
مقدر نے بخشا یہ حال اﷲ اﷲ
(بہزاد لکھنوی)
طالب علم کا سفر ابھی جاری ہے۔ حجرہ خوشبودار اوراق سے بھرتا جارہا ہے اور سبز گنبد سے آنے والی بادصبا نے ان اوراق کی قبولیت کا مژدہ سنادیا ہے۔ اور یہ نوید بستی کے پھول مکینوں تک پہنچ گئی ہے۔ وہ جوق در جوق لبوں پہ درود سجائے، ہاتھوں میں گجرے تھامے دیوانہ وار حجرے میں آرہے ہیں۔ پھول مکینوں کے ترجمان طارق سلطان پوری نے حجرے پہ یہ کتبہ نصب کردیا ہے۔
اﷲ اﷲ نور افشاں پوری آب وتاب سے
آفتاب ذوق ادب نعمت پاکستان ہے
تہنیت شہزاد کو اس خوبی تحقیق پر
یہ کتاب ذوق ادب نعت پاکستان ہے
(طارق سلطان پوری)
طالب علم سر جھکائے، بغل میں اوراق دبائے نئے سفر کی تیاریاں میں مصروف ہے۔ اس کے دل کی دھڑکنوں کی صدا حجرے میں گونج رہی ہے۔
منزل کا ہے بھروسا اکبر بغل میں توشہ
کیا خوب لے چلا ہے صل علیٰ محمد
(اکبر وارثی)
مرحبا! صد مرحبا! اے طالب علم شہزاد احمد! مرحبا تجھے یہ توشہ مبارک ہو۔ مبارک ہو