ہمالیہ سائنس (امام احمد رضا علیہ الرحمہ)

in Tahaffuz, December 2014, شخصیات, متفرقا ت

نہ تخت و تاج میں نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے
جب بھی دین میں کوئی بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے بندۂ مومن کو بھیجتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کی مدد سے دین متین کا احیاء کرتا ہے۔ سرکار اعظمﷺ کی مردہ سنتوں کو زندہ کرتا ہے اور دین کی جو شکل مسخ کردی گئی ہو اس کو صحیح حالت میں لاکر حق اور باطل کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔
ایسے ہی خاصان خدا میں سے ایک ہستی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ صرف عالم، مفتی، حافظ، مفسر، محدث، فقیہ، نعت گو شاعر، مصنف اور محقق ہی نہیں تھے بلکہ دینی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم سائنس دان بھی تھے۔
مغربی تہذیب و تمدن کے سائے بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ہمارے اسلامی تہذیب و تمدن پر چھا رہے ہیں جس سے ہمارا نوجوان طبقہ بالخصوص متاثر ہورہا ہے۔ آج کا نوجوان اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو صرف ایک عالم کی حیثیت سے جانتا ہے اور ان کی سائنسی خدمات ریاضی دانی اور ان کے تحقیقی کارناموں سے بالکل ناواقف ہے۔
مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
اپنی خورشید پر پھیلا دیئے سائے ہم نے
عالم اسلام میں علوم و فنون کی ترقی کے دور میں حیرت انگیز استعداد رکھنے والے ہمارے اسلاف میں کتنے ہی روشن ستارے ایسے ہیں جو بیک وقت اتنے علوم کے ماہر تھے کہ ان کی نظیر نہیں ملتی مگر امام احمد رضا علیہ الرحمہ پچھلی کئی صدیوں میں وہ واحد نام جو بیک وقت نعت، تفسیر، حدیث، فقہ تصوف اور نعتیہ شاعری، علم کلام، منطق، فلسفہ، ہیئت، نجوم، توقیت، جفر، تکسیر، تقابل ادیان، جغرافیہ، سائنس، ریاضی، معاشیات، عمرانیات، لسانیات، الغرض الہیات، ارضیات، فلکیات، بحریات (ماہرین کے اندازے کے مطابق) کم و بیش 50 علوم کے نہ صرف ماہر تھے بلکہ استحضازکی کیفیت یہ تھی کہ فی البدیہہ حوالے بھی ان کی نوک زبان پر رہا کرتے تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے جو کچھ پایا قرآن کریم اور فضل الٰہی سے پایا۔ عشق رسولﷺ سے پایا، وہ سائنسی ظنیات پر قرآنی یقینیات اور فرقانی آیات کوترجیح دیتے تھے۔ کیونکہ ان کی نظر میں سائنسی نظریات ترقی پذیر اور جو ترقی پذیر ہوتا ہے، وہ مکمل نہیں ہوتا اور قرآنی آیات و نظریات مکمل و مفصل ہیں اور نامکمل کو تو مکمل کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے لیکن مکمل کو نامکمل کی روشنی میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ اپنے علوم کا ماخذ قرآن کریم کو قرار دیتے ہیں۔
محمد شاہد اسلم دیوبندی (ریسرچ اسکالر شعبہ عربی، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ) اپنے تحقیقی مقالہ ’’سائنس قرآن کے آئینے میں‘‘ لکھتے ہیں!
’’امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ برصغیر کے پہلے سائنس دان، دانشور اور عالم دین ہیں جنہوں نے سرسید احمد خان کے اس طرز عمل کے خلاف کہ ’’سائنس کی روشنی میں قرآن کو پرکھا جائے‘‘ یہ نظریہ پیش کیا کہ ’’سائنس کو قرآنی کی روشنی میں پرکھا جائے‘‘ کیونکہ یہ ایک ازلی اور ابدلی حقیقت ہے‘‘
امام احمد رضا علیہ الرحمہ اسلامی سائنس کے داعی تھے اور سائنسی نظریات کو مذہبی تناظر میں پرکھتے تھے۔ یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ نظریات سرسید کا رد آپ نے انہی بنیادوں پر کیا۔ آپ فرماتے ہیں ’’سائنس کو مسلمان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمام سائنسی مسائل جنہیں اسلامی مسائل سے اختلاف ہے۔ سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے، دلائل سائنس کو مردود و پامال کردیا جائے، جابجا سائنس ہی کے اقوال سے مسئلہ اسلامی کا اثبات ہو اور سائنس کا ابطال و اسکات ہو تو یوں قابو میں آئے گی۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے مستند و معتبر، موثق و موقر سائنسدان ہونے کا بین ثبوت یہ ہے کہ آپ نے ہر فن پر کوئی نہ کوئی کتاب یادگار چھوڑی ہے۔ آپ کی تحریرات لازوال اور ناقابل یقین چیلنج ہیں۔ آپ کی خاصیت تحریر میں یہ بات ہے کہ آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا، اسے اس کی انتہا تک پہنچا دیا۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے علوم سائنس پر ایک سو سے زائد کتب (رسائل و حواشی و مقالات) تصنیف و تالیف فرمائیں جبکہ آپ کی تحریر کردہ مختلف موضوعات پر تصانیف کی تعداد (مع فقہ و حدیث و ترجمہ قرآن مجید) ایک ہزار سے زائد ہے جو کم و بیش ستر علوم پر لکھی گئی ہیں جس میں 34 کے قریب علوم ایسے ہیں جو آپ نے اپنے ذاتی مطالعے اور اپنی ذہنی استعداد اورقابلیت اور اپنی خداداد صلاحیت سے حاصل کئے ہیں۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تحقیقات میں سے چند گوہر نایاب آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں۔
جب اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں دریافت کیا گیا کہ دائرہ دنیا کہاں تک ہے؟ تو آپ نے وہ جواب عنایت فرمایا کہ حضور اکرمﷺ کے لئے عطائی علم غیب نہ ماننے والوں کی عقلیں بھی حیران ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’ساتوں آسمان، ساتوں زمین دنیا ہے اور ان سے دار سدرۃ المنتہیٰ، عرش و کرسی، دارالمنتہیٰ، عرش و کرسی دار آخرت ہے‘‘ اس ضمن میں آپ نے فرمایا کہ دار دنیا دار شہادت (ظاہر) ہے اور دار آخرت غیب (پوشیدہ) غیب کی کنجیوں کو مفاتیح اور شہادت کی کنجیوں کو مقالید کہتے ہیں۔
قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے۔ وعندہ مفاتیح الغیب لایعلمہا الا ہو: اﷲ ہی کے پاس ہیں غیب کی مفاتیح (کنجیاں) ان کو خدا کے سوا کوئی (بذات خود) نہیں جانتا۔
اور دوسری جگہ فرمایا:
لہ مقالید السموات والارض
خدا ہی کے لئے ہیں مقالید (کنجیاں) آسمان و زمین کی
اور مفاتیح کا اول حرف میم (م) اور صرف آخر (ح)
اور مقالید کا اول حرف میم (م) اور حرف آخر (د) دال،
انہیں مرکبّ کرنے سے نام اقدس ظاہر ہوتا ہے (م+ح+م+د) = محمد… اس سے یا تو اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ غیب و شہادت کی کنجیاں سب دے دی گئی ہیں۔ محمد رسولﷺ کو۔ کوئی شے ان کے حکم سے باہر نہیں۔
دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانئی دل و جاں نہیں
کہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک نہیں کہ وہ ہاں نہیں
اور یا اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔ مفاتیح و مقالید غیب و شہادت سب حجرہ خفا یا عدم میں مقفل تھیں۔ وہ مفتاح یا مقلاد جس سے ان کا قفل کھولا گیا اور میدان ظہور میں لایا گیا۔ وہ ذات اقدس ہے محمد رسول اﷲﷺ کہ اگر یہ تشریف نہ لاتے تو سب اسی طرح مقفل حجرہ خفا میں رہتے۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ ایک منفرد سائنس دان ہیں۔ وہ جب بھی کسی دنیاوی، سائنسی علوم پر بحث کرتے ہیں تو اس بحث کے شروع یا آخر میں یا جہاں مناسب سمجھتے ہیں، وہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان اور یقین کا اظہار بھی ضرور کرتے ہیں اور وہ قاری کو اس بات کی طرف ضرور توجہ دلاتے ہیں کہ نظام فطرت (سائنسی قانون) ایک طرف اور اﷲ کی قدرت ایک طرف اور وہی مقدم کہ خالق کل اور مالک حقیقی ہے۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ فتاویٰ رضویہ جلد اول میں ایک مقام پر پانی کی رنگت پر بحث کرتے ہوئے آبی بخارات (Water Vapour) کے اجزاء کے متعلق بتاتے ہیں کہ یہ اجزاء کیونکر بادلوں (Clouds) کی صورت میں نظر آتے ہیں اور برف کے اجزائ، اگرچہ پانی کے اجزاء سے باریک ہیں مگر کیونکر برف اوپر سے نیچے گرتی ہے؟
بحث ملاحظہ کیجئے:
شرح موافق میں علوم بالحس کی بحث میں موجود ہے کہ برف شفاف اجزاء (Transparent Particles) کا مرتکب ہے۔ اس کا کوئی رنگ نہیں بلکہ وہ پانی کے باریک اجزاء کے (Fine Particles) ہیں۔ پانی کے رنگ کی نفی میں یہ عبارت ظاہر ہے۔ اگر تو کہے تو ہوسکتا ہے کہ اجزاء کے باریک ہونے کی وجہ سے رنگ ظاہر نہ ہوتا ہو (اقول) میں کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ آپ دیکھتے ہیں کہ بادل کے بخارات میں رنگ
باقی صفحہ 39 پر ملاحظہ فرمائیں