جُدا ہو دین سے سائنس تو رہ جاتی ہے گمراہی

in Tahaffuz, November 2014, شازیہ بنت محمد یوسف, متفرقا ت

یہ بات روز اول کی طرح روشن اور عیاں ہے کہ:
’’دنیا میں انقلاب غور وفکر برپا کرنے کا سہرا دین اسلام کے سر ہے‘‘
اور مشاہدات زندگی کا نام سائنس ہے اور سب سے پہلے جواز سائنس کا نظریہ قرآن نے پیش کیا۔
اﷲ رب ذوالجلال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔
ترجمہ: ’’بے شک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کے بدل بدل کر جانے میں عمل والوں کے لئے نشانیاںہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہرحال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان و زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں‘‘
علوم سائنس کے پیشتر علوم قرآن سے پیداہوئے۔ اس کے علاوہ بے شمار علوم دین اسلام کے آنے سے وجود میں آئے۔ اس کا ثبوت قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت ہے جو یہ بتا رہی ہے کہ نظام فطرت میں غوروفکر کرنا اور جستجو حیات کرنا بھی عبادت ہے۔ نیز تخلیق انسانی کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرے اور بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان سائنس دانوں نے کائنات میں مشاہدات زندگی (علم سائنس) کو ضرورت انسانی نہیںبلکہ اسے مذہبی فریضہ سمجھ کر کیا ہے اور جو بات بھی کہی ہے، نہایت پائیدار اور مذہب کے حوالے سے ناقابل تردید و تنقید کی ہے۔
سائنس قرآن کے سامنے ایک نقطہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ اس لئے کہ سائنس انسان کے معمولات کا مجموعہ ہے اور قرآن کریم جو کلام الٰہی ہے، اﷲ تعالیٰ کے علوم کا مظہر ہے۔
تمام علوم و فنون قرآن پاک میں ہیں۔ ہر خشک و تر اور چھوٹی بڑی ہر شے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ تفسیر اتقان میں فرماتے ہیں:
قال اﷲ تعالیٰ مافرطنافی الکتاب المبین
یعنی ’’ہم نے کتاب میں کوئی کمی نہ فرمائی‘‘
وقال نزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شئی
’’اور نازل کی ہم نے آپ پر کتاب جو ہر شے کا بیان واضح ہے‘‘
قرآن ایک بحر بے کنار ہے۔ اس سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق فیض حاصل کرتا ہے اور قرآن کے مقابلے میں سائنس کا علم ناقص ہے، جبکہ قرآن کامل ہے تو ناقص کو کامل پر فوقیت کیسے اور کیوں کردی جاسکتی ہے۔
اسے ہماری بدقسمتی کہئے یا قیامت کے قریب ہونے کی نشانی کہ انگریزی اسکولوں اور کالجوں میں زندگی بسر کرنے والے جب نشہ اقتدار یا کسی دوسری بدمستی میں مست ہوتے ہیں تو یورپ کی مادی ترقیات سے مرعوب ہوکر آیات قرآنیہ کو سائنس کے مسائل اور جدید تحقیقات پر ڈھال دیا کرتے ہیں جن پر خود ماہرین سائنس کو پورا وثوق اور اطمینان ہے کہ شاید آئندہ چل کر ہماری یہ تحقیقات غلط ثابت ہوجائیں۔ عجب ماجرا ہے کہ استاد توشک اور تردّد میں ہے اور شاگرد یقین کی آخری منزل میں ہے۔
مقصد گویائی یہ ہے کہ آج ہماری نصابی کتب بھی انہی فرسودہ اور دقیانوسی خیالات سے پُر ہیں اور طلباء ایسی فضول باتیں پڑھ کر گمراہ اور دین سے دور ہورہے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ جہاں اور باتوں میں مشرق اور مغرب کا اختلاف ہے اور سب سے بڑا جھگڑا مذہب کا ہے تو یہ مسئلہ بھی خالص مذہبی نوعیت کا ہے اور ہمیں خالصتاً مشرقی مسلمان بن کر اپنی مذہبی کتاب کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ خلیجیں اس قدر وسیع ہوچکی ہیں کہ اب ان کو پاٹنا ناممکن ہوگیا ہے اور اس بات کو تو ایک مغربی مفکر نے بہت پہلے کہہ دیا تھا:
’’مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے اور یہ دونوں کبھی ایک نہیں ہوسکتے‘‘
اب ایک اور اہم مسئلہ
مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے ہاں علماء کرام کو سائنسی علوم کی ترویج و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ تو یہ الزام مذہبی علماء پر غلط اور بے بنیاد ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جہاں مذہب کے خلاف سائنس نے بات کی ہے تو مذہب کے پاسبانوں نے دین کی حفاظت کی ہے۔ مثلا حرکت زمین پرجب مذہب پر آنچ آئی تو علماء کرام نے ہی آواز اٹھائی۔
یعنی جب مذہب کو داغدار کرنے کی کوشش بلکہ مذموم سازش کی جاتی ہے تو علماء میدان میںآتے ہیں اور اصولاً بحیثیت مسلمان کے ہونا یہ چاہئے کہ سائنسی مسائل کا حل مذہب کے حوالے شے پیش کرنا چاہئے، بصورت دیگر گمراہی پھیلتی ہے۔
زمانہ قدیم کے حکماء اور علماء شروع سے متفقہ طور پر یہ مانتے آئے تھے کہ ہماری یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، بالکل ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ مگر جدید سائنس نے جہاں اور بہت سے قدیم نظریات کو باطل کردیا وہاں قوی اور جدید ترین آلات رصد کے ذریعے یہ بات بھی ثابت کردی کہ سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کا مسئلہ غلط تھا۔ اب معاملہ بالکل الٹ ہے یعنی اب علم الارض کے ماہر اور سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ زمین مع اپنے تمام متعلقات کے بڑی تیزی سے سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور سورج ساکن ہے۔
قرآن پاک کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سائنس اور علوم قدیم کی طرف کس قدر ترغیب دی ہے اور ان قوانین قدرت کو جو مظاہر فطرت ہیں، ان کی طرف کس قدر پرزور طریقے سے توجہ دلائی ہے۔ مسلمانوں نے بے شمار سائنس دان پیدا کئے ہیں جن کے علم کی روشنی سے یورپ بھی فیض یاب ہوا ہے۔
مذہبی سائنس کے حوالے سے ایک بات یہ بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مسلمان سائنس دان مذہبی علوم کے بھی ماہر ہوتے تھے اور بیک وقت کئی کئی علوم پر سند تعلیم کئے جاچکے تھے اور آج بھی اسلامی سائنس کی روایات برقرار ہے، جبکہ یونانی سائنس (مغربی سائنس)ے اپنا دم توڑ چکی ہے اور اپنی روایات سے بہت دور جاچکی ہے۔
سائنس مسلمانوں کا موروثی فن ہے اور ہم نہایت فخریہ طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاتح عالم ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے علم کی بھی بڑی خدمت کی۔ سائنسی اور تحقیقی کارناموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کائنات کے سربستہ راز آشکارا کئے۔ عناصر قدرت پر حکمرانی کی۔ جب خدائے واحد کے ساتھ ان کا تعلق قائم ہوا تو یہ عقیدہ واضح ہوا کہ الہیات، فلسفہ، تصوف اور نفسیات کے علاوہ تاریخ، جغرافیہ، طب، ہیئت اور ریاضی جیسے تمام سائنسی علوم حضورﷺ کے غلاموں کے قدموں میں ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کی غفلت سے اغیار نے ان میں ترقی کرلی اور ان علوم سے مسلمانوں کا قلع تعلق کرلیا۔
ذراغور تو کیجئے کہ کتنی عجیب بات ہے کہ جدید سائنس اپنا رشتہ یونانی دور سے ملاتی ہے اور درمیان سے مسلمانوں کا ایک ہزار سالہ دور روز روشن میں غائب کردیا جاتا ہے۔ اگر آپ ایجادات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ارشیدس کی چرخی 1260) قبل مسیح) کے فورا بعد ہی گٹن برگ کے چھاپہ خانہ 1450)ئ) کا ذکر آتا ہے۔ متعصب مغربی مورخین نے دانستہ طور پر اسلامی ترقی کے ڈیڑھ ہزار سال غائب کردیئے۔
اب ایسی صورت حال میں جہاں سائنس اسلام کے خلاف بات کررہی تھی، ایک عظیم اسلامی مفکر، عاشق رسولﷺ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے سائنس کا ابطال فرمایا اور آپ نے حرکت زمین کے رد میں ایک سو پانچ دلیلیں دیں۔ سائنس دانوں نے صرف اتنا ہی نہیں کہ زمین کو محور گردش ثابت کرنا چاہا ہے بلکہ انہوں نے تو صاف طور سے آسمان کے وجود کا بھی انکار کیا ہے۔
بظاہر اس سادہ بیان میںعوام کو تو کوئی خرابی نظر نہیں آئی ہوگی لیکن اگر ذرا سا غوروفکر کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ سائنس دانوں کا نظریہ مذہب اسلام کی بنیاد پر ایک کاری ضرب ہے۔
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اسلامی سائنس کے داعی تھے اور سائنسی نظریات کو مذہبی تناظر میں پرکھتے تھے۔ یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ’’سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو سائنس کے مطابق کرایا جائے یوں تو معاذ اﷲ اسلام نے سائنس قبول کی نہ کہ سائنس نے اسلام قبول کیا، وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اسے اختلاف ہے سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے، جابجا سائنس ہی کے اقوال سے مسئلہ اسلامی کا اثبات ہو، سائنس کا ابطال و اسکات ہو تو یوں سائنس قابو میں آئے گی۔
اصول سائنس تارعنکبوت ہیں۔ قرآن مجید اور اسلام کے اصول ربانی ہیں۔ اس لئے جو سائنسی مسئلہ قرآن و اسلام کے موافق ہوگا، وہ ہمارے لئے قابل عمل ہے جو اس کے خلاف ہوگا ہم اسے دیوار پر ماریں گے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ:
’’سائنس کو اصول اسلام کے تابع ہونا چاہئے نہ کہ غلط سائنس دانوں کے غلط اصولوں پر اسلام کو ڈھالا جائے‘‘
قرآن کریم نے فکر انسانی کو نہ صرف بدلہ بلکہ ان کے ذہنوں اور روحوں میں جو انقلاب پیدا کیا وہ آج تک زندہ تابندہ ہے اور ان شاء اﷲ تاحشر قائم و دائم رہے گا۔ قرآن کریم میں علوم کی ایک دنیا آباد ہے۔
جدید سائنس کی بنیادیں استوار کرنے والے مسلمان سائنس دانوں کی فہرست تو بہت طویل ہے تاہم مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں۔
جابر بن حیان،الکندی، الرازی، الفرغانی، ثابت بن قرہ، الفارابی، مسعودی، مالکرفی، البغدادی، ابن عیسٰی، الغزالی، ابن رشد، ابن الہیشم، بوعلی سینا، عمر خیام، خوارزمی، البیرونی۔
یہ ہمیشہ کا دستور ہے کہ زوال پذیر قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہیں اور پھر ان کے افراد کا عقیدہ بن جاتا ہے کہ وہ ان کے علم کو محفوظ کرلیں۔ اتنا ہی کافی ہے، ان سے آگے بڑھنا تو درکنار ان کی برابری بھی ناقابل تصور ہے۔ اس احساس کمتری کی نفسیات کے زیر اثر وہ اپنی تمام قوتیں صرف حفاظت میں صرف کرتی ہے۔
مگر امت مسلمہ کے اس زوال کے دور میں بھی رحمت ذوالجلال نے وقت کے ہر تھوڑے فاصلے پر کوئی نہ کوئی روشنی کا مینار نصب کئے رکھا اور یہ انہی مینارۂ نور کا طفیل ہے کہ امت مسلمہ ایک مرتبہ پھر زوال کے آخری کنارے کو عبور کرنے کے سرے پر ہے اور عروج کے میدان میں ان شاء اﷲ قدم رکھنا اب دور نہیں۔
وقت کی شاہراہ پر نصب روشنی کے ان میناروں میں سے ایک قریب ترین اور روشن مینارہ ’’احمد رضا خان‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ جس کی روشنی آج 70 سال کے فاصلے سے بھی ظلمتوں کا سینہ چیرتی ہوئی جویان حق کو عروج کی سرحدوں کی جانب رواں دواں رہنے میں معاون ہے۔
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے