حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (گزشتہ سے پیوستہ)

in Tahaffuz, December 2014, شخصیات

صبح خادم کی آنکھ کھلی تو اس نے حکم شیخ پر عمل کرنے کا ارادہ کیا مگر کسی کام کی وجہ سے اپنے ارادے کو تکمیل تک نہ پہنچا سکا اور شام ہوتے ہوئے اس کے ذہن سے وہ خواب بھی محو ہوگیا۔ پھر جیسے ہی وہ دوسری رات سویا، اس نے وہی خواب دیکھا، اب کی بار حضرت شیخ نور الدین یارپراں علیہ الرحمہ کسی قدر ناراضی سے فرمارہے تھے۔
’’حکم کی تعمیل میں دیر کیوں ہوگئی؟ مجھے معلوم ہے کہ تیری غفلت کی وجہ سے شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو کس قدر تکلیف ہورہی ہے؟‘‘
خادم بے چین ہوکر اٹھا پھر جیسے ہی صبح ہوئی، اس نے نماز فجر ادا کی اور گھوڑی لے کر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے خادم سے اس کی آمد کا مقصد دریافت کیا۔ جواب میں خادم نے اپنا خواب سنا کر گھوڑی کو نذر کے طور پر پیش کرناچاہا۔
خادم کی وضاحت کے بعد حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’تم اپنے شیخ کے حکم سے یہ ہدیہ میرے پاس لائے ہو… مگر میں اسے اس وقت تک قبول نہیں کروں گا جب تک میرے شیخ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ مجھے حکم نہیں دیں گے‘‘
حضرت نور الدین ملک یار پراں علیہ الرحمہ کا خادم مایوس ہوکر چلا گیا۔پھر تیسری شب اس نے خواب میں اپنے شیخ کو دیکھا۔ حضرت نور الدین علیہ الرحمہ فرمارہے تھے۔
’’حضرت بابا فرید علیہ الرحمہ نے شیخ نظام الدین کو حکم دے دیا ہے۔ تو کسی پس و پیش کے بغیر نذر پیش کردے، وہ قبول کرلیں گے‘‘
پھر جب علی الصباح حضرت نور الدین ملک یارپراں علیہ الرحمہ کا خادم گھوڑی لے کر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس کی نذر قبول فرمالی۔ یہ کہہ کر حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ خاموش ہوگئے۔
سلطان علاء الدین خلجی ایک ذہین حکمران تھا۔ اس نے حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کی اس علامتی گفتگو کا مفہوم سمجھ لیا اور وہ اس راز تک پہنچ گیا کہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اس کی نذر قبول نہیں فرمائیں گے۔ والی ہندوستان نے حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کے اس اشارے کو اقتدار کو انا اور شاہانہ ضد کا مسئلہ نہیں بنایا اور کسی مناسب موقع کا انتظار کرنے لگا۔
پھر ایک دن سلطان علاء الدین خلجی نے حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ سے مشورہ کئے بغیر حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی خدمت میں ایک قیمتی نذر بھیجی۔
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے خلیفہ اکبر حضرت شیخ نصیر الدین چراغ دہلی علیہ الرحمہ کے ملفوظات خیرالمجالس میں ایک مقام پر تحریر ہے کہ سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے حاجب (دربان خاص) کے ذریعے حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو پچاس ہزار دینار بطور نذر بھیجے تھے مگر حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے دولت کے اس انبار کو قبول نہیں فرمایا تھا اور اس قدر عجیب انداز سے انکار کیا تھا مگر اہل مجلس حیرت زدہ رہ گئے تھے۔
حضرت نصیر الدین چراغ دہلی علیہ الرحمہ اس واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دن مولانا حسام الدین نصرت خانی علیہ الرحمہ اور مولانا شرف الدین کاشانی علیہ الرحمہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے تمام اہل مجلس کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:
’’اگر کوئی شخص دن کو روزہ رکھے اور رات کو عبادت کرے تو یہ کام بہت سہل ہے کہ یہ کام تو بیوہ عورتیں بھی کرسکتی ہیں… لیکن وہ شغل کچھ اور ہے کہ جس کے ذریعے مردان طلب گار، خداوند ذوالجلال کا قرب حاصل کرتے ہیں‘‘
حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا یہ ارشاد گرامی سن کر اہل مجلس بے قرار و مضطرب ہوگئے کہ کب آپ اس نکتے کی تشریح کریں اور کب اہل طلب کو قرار آئے۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے راہ سلوک کے مسافروں کی بے قراری کااندازہ کرلیا اور فرمایا کہ ان شاء اﷲ تعالیٰ کسی دوسرے وقت معرفت کے اس راز کو ظاہر کیا جائے گا۔
قافلہ روز و شب اپنی منزل کی جانب مقررہ رفتار سے آگے بڑھتا رہا پھر تقریبا چھ ماہ بعد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو اپنا عہد یاد آگیا۔ آپ اس نکتے کی وضاحت کرنے ہی والے تھے کہ محمد کاتب جو سلطان علاء الدین خلجی کا مقرب تھا، مجلس میں داخل ہوا دست بستہ بیٹھ گیا۔ محمد کاتب کی دنیوی عزت و وقار کے علاوہ یہ شرف بھی حاصل تھا کہ وہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے حلقہ ارادت میں شامل تھا۔ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا۔
’’محمد! تم کہاں تھے؟‘‘
علاء الدین خلجی کے مقرب نے اپنے پیرومرشد کے حضور رسم احترام ادا کی اور پھر سرعقیدت خم کرتے ہوئے عرض کرنے لگا ’’سیدی!میںوالیٔ ہندوستان کے دربار میں تھا، آج سلطان نے پچاس ہزار دینار آپ کی نذر کئے ہیں‘‘
اپنے مرید محمد کاتب کی بات سنتے ہی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے مولانا حسام الدین نصرت خانی علیہ الرحمہ مولانا شرف الدین کاشانی علیہ الرحمہ اور دیگر حاضرین مجلس کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا۔
’’بادشاہ کا انعام بہتر ہے یا اس وعدے کا وفا کرنا جو کچھ دن پہلے تم لوگوں سے کیا گیا تھا‘‘
تمام عقیدت مندوں اور خدمت گاروں کے سر جھک گئے اور سب نے بیک زبان عرض کیا۔ ’’ایفائے عہد زیادہ بہتر ہے‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے ارادت مندوں کا جواب سنا اور اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ایفائے عہد آٹھ بہشتوں سے بہتر ہے۔اس کے سامنے پچاس ہزار دینار کی حیثیت ہی کیا ہے؟‘‘
یہی وہ نکتہ تھا جس کی وضاحت حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے چھ ماہ ایسے موقع پر فرمائی جب سلطان علاء الدین خلجی آپ کے مبارک قدموں میں دولت کے انبار لگا دینا چاہتا تھا۔ دراصل ایفائے عہد ہی سب کچھ ہے… اور اپنے عہد کا پاس رکھنا مردان جانباز کا کام ہے… اور مردان جانباز ہی حق تعالیٰ کی بارگاہ جلال میں قربت حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی ایک بڑی کرامت ہے کہ آپ نے معرفت کے ایک اہم راز کو ظاہر کرنے کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کیا جب آپ ایک بڑی آزمائش سے گزرنے والے تھے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے کہ اﷲ کا محبوب بندہ وہ ہے جو گناہ پر قدرت رکھتا ہو مگر جب ایسا لمحہ آئے تووہ بے اختیار کہے کہ ’’میں اپنے اﷲ سے ڈرتا ہوں‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ بھی عطیۂ سلطانی قبول کرنے پر اختیار رکھتے تھے مگر آپ نے تائید غیبی کے سہارے انسانی نفس کی سب سے بڑی کمزوری پر قابو پایا اور اس شے کو ٹھکرا دیا جس کی طلب میں بے شمار لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ قرآن کریم میںایک اور مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ ’’مال و دولت اور اولاد انسان کے لئے سب سے بڑا فتنہ ہے‘‘ جو اس فتنے سے بچ کر سلامت روی کے ساتھ گزر گیا، اسی کو خداوند ذوالجلال کی قربت حاصل ہوتی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے اپنی ایک مجلس میں اسی طرف اشارہ فرمایا تھا۔
دوسرے دن محمد کاتب نے سلطان علاء الدین خلجی کو یہ واقعہ سنایا تو اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور وہ بہت دل شکستہ نظر آنے لگا۔ والئی ہندوستان کی مایوسی اور آزردگی دیکھ کر محمد کاتب نے کہا۔
’’سلطان ذی حشم!افسردہ خاطر نہ ہوں۔ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ ایک مرد آزاد ہیں۔ انہیں کسی عہدہ و منصب یا ذخیرہ سیم و زر اسے متاثر نہیں کیا جاسکتا، بس اپنے جذبۂ عقیدت کو زندہ رکھئے کہ شاید کسی روز سلام شوق قبول ہوجائے‘‘
حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کے اس طرز انکار سے ایک مطلق العنان شہنشاہ کے قصر پندار میں زلزلہ سا آگیا تھا مگر سلطان علاء الدین خلجی نے ایک مرد پاکباز کی طرف سے اپنے دل کو غبار آلود نہیں ہونے دیا۔ پھر وہ کسی دوسرے موقع کا انتظار کرنے لگا۔
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)