تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ہم نے اہل مکہ سے ہاتھی والوں کو روک کر تباہ و برباد کردیا تاکہ قریش اس امن والے شہر میں الفت اور یکجہتی سے زندگی گزاریں۔
مکہ مکرمہ ایسی خشک وادی ہے جہاں نہ زراعت ہے نہ باغات، اور سبزہ نہ ہونے کی بناء پر وہاں جانور بھی پالے نہیں جاسکتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کو اس مقام پر چھوڑتے وقت یہ دعا فرمائی تھی۔
ترجمہ ’’اے میرے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی، تیرے حرمت والے گھر کے پاس۔ اے میرے رب! اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے، اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے، شاید وہ احسان مانیں‘‘ (ابراہیم: ۳۷) (کنزالایمان)
اس دعا کے طفیل اﷲ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو امن کا گہوارا بنادیا اور وہاں رہنے والوں کو پھل بھی عطا فرمائے۔ پہلے ذکر ہوا کہ ابتدا میں قریش کی معیشت کا انحصار زائرین کعبہ کے نذرانوں پر ہوتا تھا۔ اس لئے بسا اوقات تنگدستی اور فاقوںتک نوبت جاپہنچی۔پھر ہاشم کی حکمت عملی کی وجہ سے قریش تجارت کی طرف مائل ہوئے۔
یہ سردیوں میں ملک یمن و حبشہ کی طرف تجارتی سفر کرتے اور وہاں سے ہندوستان اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی مصنوعات خرید کر مکہ آتے ۔ پھر گرمیوں میں رومی سلطنت کے ٹھنڈے علاقے شام میں جاکر وہ چیزیں فروخت کرتے اور وہاں سے مغربی ممالک کی مصنوعات خرید کر انہیں یمن میں فروخت کرتے، اور جو منافع ہوتا، اسے امیر و غریب سب برابرتقسیم کرلیتے۔
اس زمانہ میں تجارتی قافلوں کو لوٹ لینا معمول کی بات تھی۔ مگر خانہ کعبہ کی برکت سے عرب کے قبائل قریش کے تجارتی قافلوں سے محصول یا ٹیکس بھی وصول نہ کرتے اور ان کی حفاظت بھی کرتے۔ نیز یمن اور شام کے درمیان وسیع صحرا عبور کرنے کا حوصلہ رب تعالیٰ نے قریش ہی کو عطا کیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ مکہ عرب کا اہم تجارتی مرکز بن گیا اور قریش خوشحال ہوگئے۔
فلیعبدوا رب
غور طلب بات یہ ہے کہ عرب کے جنگجو اور اکھڑ قبائل نے ہاشم کی محفوظ تجارت کے متعلق تجویز کیوں قبول کی؟ گردونواح کی حکومتیں انہیں تجارتی مراعات دینے پر کیوں رضامند ہوئیں؟ ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ محض کعبتہ اﷲ کے طفیل قریش کو یہ تمام نعمتیں حاصل ہوئیں۔
اﷲ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں قریش کو یہی دعوت فکر دی ہے کہ تمہارے رب نے تمہارے دلوں کو تجارت کی طرف مائل کیا، میرے گھر سے نسبت اور تعلق کی وجہ سے عرب قبائل تمہارا احترام کرتے ہیں، اسی بناء پر دوسری حکومتوں نے تمہیں عزت کا مقام دیا ہے۔ اس گھر کی دربانی کے سبب تمہارے قافلوں پر کوئی بری نگاہ نہیں ڈالتا اور اس طق و دق صحرا میں دنیا بھر کی نعمتیں تمہیں میسر ہیں، تو جس گھر کے سبب تمہیں عزتیں و نعمتیں ملی ہیں، اس گھر کے مالک کی بندگی کرنے لگ جائو۔ ارشاد ہوا:
’’تو انہیں چاہئے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا‘‘
بندوں کو چاہئے کہ وہ ہر نعمت کے حصول پر نعمت دینے والے رب کریم کا شکر ضرور ادا کریں خصوصا دینی امور کے سبب عزت،شہرت، دولت یا کوئی اور نعمت ملے تو رب تعالیٰ کی بندگی کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ کیونکہ قرآنی تعلیم یہ ہے کہ شکر ادا کرنے پر رب تعالیٰ مزید عطا فرماتا ہے۔
قریش کا سردی و گرمی میں دور دراز کے تجارتی سفر کا خوگر ہونا اسلام کی ترقی کا سبب بنا۔ وہ اس طرح کہ وہ سفر کی صعوبت و مشقت جھیلنے کے عادی ہوچکے تھے۔ اس لئے جہاد اور ہجرت کے سفر ان کے لئے مشکل نہ ہوئے۔ انہوں نے ایک سمت مصر اور اندلس تک اور دوسری طرف ترکستان اور سندھ تک اسلام کا پرچم بلند کردیا۔
الذی اطعمہم
انسانی زندگی کے یہی دو مسائل اہم ترین بنیادی مسائل سمجھتے ہیں۔ غذا اور امن۔ جانور بھی اپنے غذا دینے والے کی اطاعت کرتے ہیں، تو مشرکین جانوروں سے بھی بدتر ہوئے کہ ان عظیم نعمتوں کے باوجود اﷲ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔
ترجمہ ’’کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے حرمت والی زمین، پناہ بنائی اور ان کے آس پاس کے لوگ اچک لئے جاتے ہیں۔ تو کیا باطل (یعنی بتوں) پر یقین لاتے ہیں اور اﷲ کی دی ہوئی نعمت (حضور پر ایمان لانے) سے ناشکری کرتے ہیں ۔ (العنکبوت: 67)
قرآن کریم کا پیغام یہی ہے کہ جو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، وہ اسے دنیا اور آخرت میں امن وامان عطا فرماتا ہے، اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے، وہ اس سے امان چھین لیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ: ’’اور اﷲ نے کہاوت بیان فرمائی۔ ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی، ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اﷲ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی، تو اﷲ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا، بدلہ ان کے کئے کا‘ (النحل: 112)
معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنا عذاب الٰہی کا سبب ہے۔ اس کے برعکس اﷲ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور گناہوں سے سچی توبہ رب تعالیٰ کی نعمتوں کے نزول کا ذریعہ ہوتی ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کا ارشاد ہے۔
ترجمہ: ’’اور اے میری قوم! اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع لائو ، وہ تم پر زور کا پانی (بارش) بھیجے گا اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے اور زیادہ دے گا، اور جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو‘‘
(ہود: 52، کنزالایمان)
ائمہ فرماتے ہیں، دشمن کا خوف ہو یا کوئی اور مصیبت، اس سورت کا پڑھنا حفاظت اور امان کا باعث ہے (حصن حصین، تفسیر مظہری)
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں