دنیا کے لحاظ سے انسان کے مختلف درجات ہیں۔ کوئی چوکیدار ہے، تو کوئی کانسٹیبل، کوئی انسپکٹر ہے تو کوئی ایس پی، یہاں تک کہ کوئی وزیراعظم ہے تو کوئی صدرجمہوریہ اور بعض انتہائی ذلت و پستی میںہیں۔ جیسے کوڑھی وغیرہ کہ ان کے گھر والے بھی ان سے نفرت اور گھن کرتے ہیں۔
اسی طرح اسلامی اعتبار سے بھی انسان کی دو اقسام ہیں۔ ایک مسلم دوسرا کافر۔
کافروں میں بھی مختلف درجے ہیں۔ ان میں سب سے بدتر کافر مرتد ہے کہ اسے جینے کا بھی حق نہیں ہے۔ مسلمانوں میں سب سے اونچا مرتبہ سید المرسل جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ کا ہے پھر رسل عظام کا پھر دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کا پھر صدیقین، پھر شہدائ، پھر صالحین یعنی اولیائے کرام کا رضی اﷲ تعالیٰ عنہم پھر اولیائے کرام میں بھی غوث، قطب، ابدال، اوتار وغیرہ مختلف درجات ہیں۔
اور پھر علمائے اسلام میں بھی مختلف درجات والے ہوتے ہیں، پھر مومن، متقی، پھر فاسق اور مسلمانوں میں سب سے کم درجہ، گمراہ و بدمذہب کا ہے جس کی بدمذہبی حد کفر کو نہ پہنچی ہو۔ نبی اس محترم ہستی کو کہتے ہیں جس پر اﷲ تعالیٰ کی جانب سے وحی نازل کی گئی ہو۔ عبادت و ریاضت سے کوئی نبی نہیں بن سکتا بلکہ اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے جسے چاہتا ہے، نبوت سے سرفراز فرماتا ہے۔ مگر ہمارے نبی اکرم، نور مجسمﷺ کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں اور صدیق یا ولی بننا بھی بڑا مشکل کام ہے اور شہید بننا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ مشکل تو اس لحاظ سے ہے کہ انسان کو اپنی جان بہت زیادہ پیاری ہوتی ہے اور آسان اس اعتبار سے ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں درجہ شہادت حاصل ہوجاتا ہے یعنی شہید ایک ہی جست میں زمین کی پستی سے آسمان کی بلندی تک پہنچ جاتا ہے۔
اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے قرب کے جو مقامات عطاء کئے ہیں، ان مقامات میں سے ایک بہت بڑا مقام (مقام شہادت) ہے۔ اﷲ تعالیٰ وہ مقام اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
شہید کی تعریف
شہید اس مسلمان عاقل بالغ طاہر کو کہتے ہیں جو بطور ظلم آلہ جارح سے قتل کیا گیا اور نفس قتل سے مال واجب نہ ہو اور دنیا سے نفع نہ اٹھایا ہو (بہار شریعت، حصہ چہارم، ص 209)
لفظ شہید کی تشریح
شہید بروزن فھیل صفت مشبہ یا بمعنی مفعول ہے جیسے شہیر بمعنی مشہور یا بمعنی فاعل جیسے خریب بمعنی خارب اور یہ لفظ یا شہادت بمعنی گواہی سے بنا ہے یا شہود بمعنی حاضری سے (مراۃ المناجیح، ج 5، ص 474)
شہید کی اقسام
شہید کی دو قسمیں ہیں۔
1۔ شہید حقیقی: جس کو ظلماً قتل کیا گیا ہو
2۔ شہید حکمی: جو ظلماً قتل نہ کیا گیا ہو مگر قیامت کے دن شہیدوں کے حکم میں اٹھایا جائے گا۔
احادیث میں ان کے فضائل بکثرت وارد ہیں۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ اس کے سوا سات شہادتیں اور ہیں۔
1… جو طاعون میں مرا، وہ شہید ہے۔
2ْ… جو ڈوب کر مرا، وہ شہید ہے۔
3… جو پیٹ کی بیماری میں مرا، وہ وہ شہید ہے۔
4… ذات الجنب میں مرا، وہ شہید ہے۔
5… جو جل کر مرا، وہ شہید ہے۔
6… جس کے اوپر دیوار وغیرہ گر پڑے اور مرجائے، شہید ہے۔
7… عورت کے بچہ ہونے یا کنوارے پن میں مرجائے، شہید ہے۔
(موطا امام مالک، کتاب الجنائز، ج 1، ص 218، حدیث 563)
اس کے علاوہ بہت صورتیں ہیں جن میں شہادت کا ثواب ملتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی وغیرہ ائمہ نے ان کو ذکر کیا ہے۔ جس کو صدر شریعت، بدر طریقت، صاحب علم و حکمت مصنف بہار شریعت حصرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمتہ اﷲ الغنی نے بہار شریعت حصہ چہارم، ص 209-208 پر نقل فرمایا ہے۔
8… سل کی بیماری میں مرا۔
9… سواری سے گر کر یا مرگی سے مرا
10… بخار میں مرا
11… مال
12… جان
13… اہل با
14… کسی حق کے بچانے میں قتل کیا گیا
15… عشق میں مرا بشرطیکہ پاک دامن ہو اور چھپایا ہو
16… کسی درندہ نے پھاڑ کھایا
17… کسی بادشاہ نے ظلماً قید کیا یا
18… مارا اور مرگیا
19… کسی موذی جانور کے کاٹنے سے مرا
20… علم دین کی طلب میں مرا
21… موذن کہ طلب ثواب کے لئے اذان کہتا ہو
22… جو اپنے بال بچوں کے لئے سعی کرے۔ ان میں امر الٰہی قائم کرے اور انہیں حلال کھلائے
شہداء کو مردہ گمان بھی نہ کرو
ارشاد باری تعالیٰ:
’’وہ لوگ جن کو اﷲ کے راستے میں شہید کیا گیا، ان کو مردہ خیال بھی نہ کرو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں (پارہ 3، ال عمران، آیت 169)
اس آیت مبارکہ میں شہداء کی عظمت کو اجاگر (روشن) کیاگیا اور شہادت کے بعد ان کی زندگی کا تذکرہ کیا گیا۔ ایک انسان جس کے پاس جان کی دولت تھی، راہ حق میں دین کی سربلندی کے لئے اس نے وہ تحفہ رب کے دربار میں پیش کیا اور کوئی احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے۔
شہداء کے فضائل
سرکار مدینہﷺ شہدائے اسلام کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ شہید کے لئے اﷲ کے نزدیک 6 خوبیاں ہیں۔
1… خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے بخش دیا جاتا ہے۔
2… اسے جنت کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے
3… اسے عذاب قبر سے امان دی جاتی ہے اور بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔
4… اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہوگا۔
5… 72 بڑی آنکھوں والی حوروں سے اس کا نکاح کیا جائے گا
6… اس کے عزیزوں میں سے 70 افراد کے لئے اس کی شفاعت قبول کی جائے گی (ترمذی، ابن ماجہ مشکوٰۃ، ج 3، ص 387، حدیث 3832)
2… حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے راوی نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ مجھ پر تین شخص پیش کئے گئے جو جنت میں داخل ہوں گے۔
1… شہید
2… پاک دامن
3… غلام (جو اﷲ کی عبادت اچھی طرح کرے اور اپنے مولائوں کی خیر خواہی کرے (ترمذی، مشکوٰۃ، ج 3، ص 388، حدیث 3834)
3… حضرت فضالہ ابن عبید سے روایت ہے کہ رسول بے مثال بی بی آمنہ کے لال پیکر حسن و جمالﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ہر میت کا خاتمہ اپنے اعمال پر ہوجاتا ہے۔ سوا اس کے جو راہ خدا میں مرابط (دشمن کے مقابلے میں اپنے کو باندھے) ہوکر مرے کہ اس کے عمل قیامت تک اس کے لئے بڑھتے رہتے ہیںاور قبر کے فتنہ سے امن میں رہتا ہے (مشکوٰۃ ج 3، ترمذی ابو دائود، ص 386، حدیث 3823)
4… حضرت معاذ بن جبل سے روایت۔ انہوں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اﷲ کی راہ میں اونٹنی دونبے کے وقفہ کے برابر جہاد کرے تو یقینا اس کے لئے جنت واجب ہوگی اور جو اﷲ کی راہ میں معمولی زخمی کیا جائے یا معمولی تکلیف دیا جائے تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے چمکدار ہوگا جیسا کہ تھا۔ اس کا رنگ زعفرانی ہوگا۔ اس کی خوشبو مشک کی سی اور جسے اﷲ کی راہ میں پھنسی نکل آئے تو یقینا اس پر شہادت کی مہر ہوگی (ترمذی، ابو دائود، نسائی) (مشکوٰۃ ج 3، ص 386، حدیث 3825)
5… سرکار دوعالمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ لڑائی میں قتل کئے جاتے ہیں، ان کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ مومن جو اپنے جان اور اپنے مال سے اﷲ کی راہ میں لڑے اور دشمن سے خوب مقابلہ کرے، یہاں تک کہ قتل کردیا جائے۔ یہ وہ شہید ہے جو صبر اور مشقت کے امتحان میں کامیاب ہوا۔ یہ شہید خدائے تعالیٰ کے عرش کے نیچے خدا کے خیمہ میں ہوگا۔ انبیاء کرام اس سیصرف درجہ نبوت میں زیادہ ہوں گے یعنی مرتبہ نبوت اور اس سے جو کمالات متعلق ہیں، ان کے علاوہ ہر مرتبہ اور ہر کمال اس شہید کو حاصل ہوگا۔
دوسرا وہ مومن جس کے اعمال دونوں طرح کے ہوں، یعنی کچھ اچھے اور کچھ برے، وہ اپنی جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کرے، جس وقت دشمن سے سامنا ہوں، اس سے لڑے، یہاں تک کہ قتل کردیا جائے۔ یہ ایسی شہادت ہے جو گناہوں اور برائیوں کو مٹا دیتی ہے پھر فرمایا بے شک تلوار گناہوں کو بہت زیادہ مٹانے والی ہے اور شہید جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے گا۔
اور تیسرا وہ منافق ہے جس نے اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کیا اور جب دشمن سے مقابلہ ہوا تو خوب لڑا، یہاں تک کہ مارا گیا۔ یہ شخص دوزخ میں جائے گا۔
آقا علیہ السلام نے فرمایا۔ اس لئے کہ نفاق یعنی چھپے ہوئے کفر کو تلوار نہیں مٹاتی ہے (ترمذی) (مشکوٰۃ ج 3، ص 395، حدیث 3859)
اس حدیث مبارکہ سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اﷲ کی راہ میںشہید ہونے والا مرتبہ نبوت اور اس کے متعلقہ کمالات کے علاوہ سارے درجات سے سرفراز کیا جاتا ہے اور اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوا کہ اگر دل میں کفر چھپائے ہو اور صرف ظاہر میں مسلمان ہو تو چاہے زندگی بھر جہاد کرے، یہاں تک کہ اپنی عزیز ترین جان بھی قربان کردے مگر وہ جہنم میں جائے گا۔
اسی طرح وہ لوگ جو محبوب خداﷺ کے بغض و عداوت کا کفر اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں، اور ان کی عظمت کے دشمن ہیں۔ اگر وہ دن رات عبادت کریں اور زندگی بھر ساری دنیا میں اسلام کی نشرواشاعت کریں اور تبلیغ کرتے پھرے، یہاں تک کہ اس حال میں مرجائیں تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہوگا۔ اس طرح کہ کسی بھی نیکی سے کفر معاف نہیں ہوتا۔
شہادت کی نعمت
دنیا کی بے شمار نعمتوں سے انسان لطف و لذت حاصل کرتا ہے۔ کسی نعمت کو کھاتا ہے، کسی کو پیتا ہے، کسی کو سونگھتا ہے، کسی کو دیکھتا ہے، کسی کو سنتا ہے اور ان کے علاوہ مختلف طریقوں سے تمام نعمتوں کو حاصل کرتا ہے اور ان سے محظوظ ہوتا ہے لیکن مرد مومن کو شہادت کی جو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے سامنے دنیا کی ساری لذتیں بیکار ہیں۔ یہاں تک کہ شہید جنت کی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا اور ان سے لطف اندوز ہوگا۔ مگر جب اس کو اﷲ و رسولﷺ کی محبت میں سر کٹانے کا مزہ آجائے گا تو جنت کی بھی ساری نعمتوں کا مزہ بھول جائے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش! میں دنیا میں واپس کیا جائوں اور بار بارشہید کیا جائوں۔
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے راوی رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ ایسا کوئی نہیں جو جنت میں داخل کیا جائے اور پھر دنیا میں لوٹنا میںپسند کرے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز اسے ملے، سوائے شہید کے وہ آرزو کرتا ہے کہ دنیا میں لوٹایا جائے پھر قتل کیا جائے۔ اﷲ کی راہ میں 10 بار قتل کیا جائے کیونکہ وہ احترام کرتا ہے (مشکوٰۃ ج 3، ص 381، حدیث 3803)
شہید کہنے کی وجوہات
ویسے تو قرآن مجید میں (قتلوا) کے الفاظ ہیں کہ جن کو اﷲ کے راستے میں قتل کیا جائے مگر ہم کہتے ہیں جس کو شہید کیا جائے۔ اس واسطے کہ جس کو اﷲ کے راستے میں قتل کیا جاتا ہے، اسے گواہی کا منصب ملتا ہے، شہادت کہتے ہیں گواہی دینے کو۔ ایک ہے کہ ہم صبح و شام کہتے ہیں۔
اشہد ان لا الہ الا اﷲ واشہد ان محمد عبدہ و رسولہ
یہ ہماری گواہی ہے اور اس میں بڑا اجر و ثواب ہے
پہلی وجہ
پہلی وجہ یہ ہے کہ شہید کی گردن پر جب دشمن کا وار ہوتا ہے تو اس کی آنکھوں میں رب کا دیدار ہوتا ہے تو وہ رب کو دیکھ کر کہہ رہا ہوتا ہے وہ گواہ بن چکا ہے۔ اس کی اس گواہی کی وجہ سے پھر اس کو شہید کہا جاتا ہے کہ وہ گواہی دینے والا ہے۔
دوسری وجہ
دوسری وجہ یہ ہے کہ جب وہ شہید ہوتا ہے تو اسے اپنا ثواب نظر آرہا ہوتا ہے اور وہ اس کا بھی گواہ ہوتا ہے اس واسطے اس کو شہید کہا جاتا ہے
تیسری وجہ
تیسری وجہ یہ ہے کہ جب وہ شہید ہوتا ہے تو جو جنت میں اسے مقام ملنا ہوتا ہے وہ اس کو بھی دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس کا بھی گواہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کو شہید کہتے ہیں۔
چوتھی وجہ
چوتھی وجہ یہ ہے کہ شہید ہوتے وقت اس کے بدن پر جو خون ہوتا ہے وہ اس پر گواہ ہوتا ہے کہ رب ذوالجلال نے دربار میں قبول کرلیا گیا ہے اس وجہ سے اس کو شہید کہتے ہیں۔
ان وجوہات کی بناء پر اﷲ کے راستے میں قتل کئے جانے والے کوشہید کہا جاتا ہے کہ ان کو اﷲ تعالیٰ نے منصب شہادت عطا فرمایا ہے۔
شہداء زندہ ہیں چند حوالہ جات
حضرت امام مالک اپنی کتاب (موطا امام مالک) کے کتاب الجہاد میں ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن جموح اور حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما یہ دونوں انصاری صحابہ تھے۔ یہ دونوں ہی احد کے شہداء میں سے تھے۔ ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیاگیا جہاں ان کی قبر تھی وہاں سے سیلاب کا پانی گزرتا تھا یعنی بارشیں ہوتی تو وہ پانی کی گزرگاہ تھی۔ ان دونوں حضرات کی مشترکہ قبر کے پاس سے پانی گزرتا تھا تو سیلاب کی وجہ سے ان دونوں حضرات کی قبر خراب ہوگئی تو ان کی قبر کو کھودا گیا تاکہ ان کی جگہ تبدیل کی جائے۔
حضرت امام مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ قبر میں دفن ہوئے ان کو 46 سال گزر چکے تھے۔ یعنی 46 سال بعد ان کی قبر کو کھولا گیا تو اس وقت دونوں کے بدن سلامت تھے۔ ایسے لگا کہ یہ حضرات کل فوت ہوئے ہیں۔ ان میں ایک کو جنگ میں جو زخم لگے تھے تو انہوں نے اپنا ہاتھ زخم پر رکھا ہوا تھا اس طریقے سے ان کو دفن کردیا گیا تھا۔ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ جہاںان کا زخم تھا وہاں ان کا ہاتھ بھی رکھا ہوا تھا۔ پھر ان کے ہاتھ کو ان کے زخم سے ہٹایا گیا تو پھر جب چھوڑا گیا تو ہاتھ ان کے زخم پر لوٹ گیا جس طرح کہ پہلے تھا (موطا امام مالک، کتاب الجہاد، باب الدفن من قبر واحد من ضرورۃ)
2… بخاری و مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدسﷺ نے شہدائے اُحد پر 8 برس بعد نماز جنازہ پڑھی۔ حضرت ملا علی قاری رحمتہ اﷲ علیہ مرقاۃ میں تحریر میں فرماتے ہیں کہ یہ حضور اقدسﷺ یا شہدائے احد کی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ نے 8 برس کے بعد ان پر نماز جنازہ پڑھی گویا ایک زندہ اور مردوں کو رفعت فرمارہے ہیں۔ شہدائے احد کو اپنی زیارت سے مشرف کرنے کے بعد لوٹے تو منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا۔ میں تم سے پہلے جارہا ہوں۔ میںتم لوگوں کے دعوت اسلام قبول کرنے کے بعد اور اطاعت و فرمانبرداری کے بجا لانے پر گواہ ہوں اور تم سے ہماری ملاقات کا مقام حوض کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور فرمایا۔ بے شک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔
اس طرح کے واقعات سے احادیث مبارکہ مالا مال ہیں کہ شہید مرنے کے بعد زندہ ہوتے ہیں۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں شہداء کی زندگی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ شہدائے اسلام کے صدقہ ہمیں بھی ایسا جذبہ عطا فرمائیں کہ جب بھی اسلام کو ہماری جان یا مال کی ضرورت پڑے تو ہمیں جان و مال کی قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
٭٭٭