اسلام دشمن خارجی گروہ ’’داعش‘‘

in Tahaffuz, November 2014, ا د ا ر یے, سید رفیق شاہ, متفرقا ت

حج کے موقع پر مسجد نمرہ میدان عرفات میں خطبہ حج دیتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز الشیخ نے کہا کہ معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانے والے خوارج ہیں جس کی حضور نبی کریمﷺ نے پیش گوئی کی تھی، خارجی بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں۔ کسی بے گناہ کی جان لینا ظلم عظیم ہے۔ جو کسی بے گناہ کو قتل کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ کسی ایک بے گناہ کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔ جنگ کے دوران جس نے کلمہ پڑھ لیا، اس کا خون بھی حرام ہوگیا۔ داعش خارجی اور انسانیت کے دشمن ہیں۔ اﷲ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ جنہوں نے لوگوں کی عزتیں لوٹیں، مال لوٹا اور ناحق قتل کیا، ان کا کوئی دین نہیں۔ مفتی اعظم سعودی عرب نے نام لے کرداعش اور اس طرح کی دیگر شدت پسند تنظیموں کوخارجی قرار دیا۔ دراصل یہ عناصر استعمار کے مہرے ہیں جن کو اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف سازش کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ سعودی مفتی اعظم نے اس سے قبل اپنے ایک فتوے میں القاعدہ اور داعش نامی تنظیموں کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدت پسندانہ افکار، خیالات اور دہشت گردی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اور اس کی حمایت کرنے والے بھی اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ دہشت گردی کا پہلا شکار مسلمان ہی بنتے ہیں جس کی مثالیں ان سے منسلک گروپوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے دیکھی جاسکتی ہیں۔یہ جنگجو اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ دہشت گرد اسلامی ممالک کو کمزور اور تقسیم کررہے ہیں۔ کفر کے بعد مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ داعش، القاعدہ اور دیگر خارجی گروہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ نبی کریمﷺ کے ارشادکا مفہوم ہے کہ آخری زمانے میں کچھ ایسے گروہ تسلسل کے ساتھ سامنے آئیں گے جو نیکی کی بات کریںگے۔ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔
اسی طرح عالم اسلام کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ ازہر مصر کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر احمد الطیب فرماتے ہیں۔ داعش دین اسلام کی مجرم اور صیہونیوں کا خدمت گزار گروپ ہے۔ داعش صیہونیوں کے ہاتھوں اسلام کے خلاف استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ اسلام کے دشمن اسلام ہی کا نام لے کر اسے پوری دنیا میں مذاق بنا رہے ہیں۔ یہ لوگ کھلے دہشت گرد ہیں، جنہیںصیہونی، استعماری قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے تیار کررکھا ہے۔اسلام دین رحمت ہے اور یہ لوگ اسلامی خلافت اور اسلامی ریاست کے نام پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اسلام کا ان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
داعش درحقیقت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پیداوار ہے۔ استعمار نے اپنے سیاسی اور توسیعی پسندانہ عزائم کے خاطر اس تنظیم کو پروان چڑھایا اور اس میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان فرقہ وارانہ فاصلے اور سرد جنگ اہم رول ہے۔ شام میں شیعہ حکومت کے خاتمے کے لئے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا داعش کی غیر مشروط امداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ داعش ISIS نے بڑی تیزی کے ساتھ کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہوئے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ معروف صحافی و تجزیہ نگار مسعود انور داعش کے بارے میں لکھتے ہیں۔
آخر یہ دولت اسلامیہ عراق و شام ہے کیا چیز اور اسے یہ کامیابی کیونکر حاصل ہوئی۔ دولت اسلامیہ عراق و شام جسے انگریزی میں Islamic State of Iraq and Syria یا ISIS کہا جاتا ہے کا ابتدائی نام Islamic State of Iraq and Levant یا ISIL رکھا گیا تھا، مگر بعد میں اس کا نام تبدیل کردیاگیا۔ نام کی تبدیلی کی کوئی وجوہات ہیں، سب سے پہلی بات تو یہ کہ لیوانت Levant کا لفظ بحیرہ روم کے مشرق علاقے میں موجود علاقے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ترکی کیساحل اناطولیہ سے لے کر قبرص کے جزائر اسرائیل، فلسطین، اردن، شام اور لبنان تک علاقے شامل ہیں چونکہ لیوانت Levant کا نام استعمال کرنے کے نتیجے میں اس منصوبے میں اسرائیل و ترکی کے علاقے بھی شامل ہورہے تھے جبکہ منصوبہ شام اور عراق کے چند علاقوں پر مشتمل ایک سنی (وہابی) ریاست کے قیام کا ہے۔ اس لئے اس تنظیم کا نام فوری طور پر تبدیل کردیا گیا۔ نام کی تبدیلی میں ایک بات اور نوٹ کرنے کی ہے۔ شام کے ملک کو انگریزی میں Syria لکھا اور پکارا جاتا ہے۔ جبکہ شام کا عربی میں نام الجمہوریہ العربیہ والسوریہ ہے تو پھر اس نئے نام میں سوریہ یا سوریا کی جگہ پرانا عربی لفظ شام کیوں استعمال کیا گیا، اس کی وجہ ہے کہ شام کے لفظ کے استعمال سے تنظیم کے نئے نام کا مخفف ISIS بنتا ہے جوکہ شیطان کے پیروکاروں کی سب سے بڑی دیوی کا انگریزی میں نام ہے۔ اس دیوی کے یونان، مصر اور دیگر ممالک میں اور بھی کئی نام ہیں مگر ISIS سب سے زیادہ عام ہے اور اس طرح داعش کی صورت میں علامتی طور پر شیطان کے پوجاریوں کی دیوی کا کام کررہی ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ داعش اس منصوبے کا بنیادی کردار ہوگی۔ داعش ISIS کو دولت اسلامیہ کے نام سے اس وقت پکارا جاتا ہے، اس میں لفظ اسلام کو ٹارگٹ کرنا مقصد ہے تاکہ اسلام بیزار قوتوں کو خوش اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہونے والوں کو ڈرایا جاسکے۔ ماضی کی طرف دیکھتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکی استعمار نے کمیونزم اور مارکس ازم کے خلاف ایک محاذ بنایا۔ ایک رسالہ جسے ان کائونٹر یا پیرس ریویو بھی کہا جاتا تھا، کمیونزم کے ترجمان کے طور پر جدید پرنٹنگ سسٹم کے تحت شائع کیا جاتا ہے اور پوری دنیا میں اسے پہنچانے کا خصوصی انتظام ہوتا اور اس کے پڑھنے والے اس کی آمد کے منتظر رہتے۔ ایک ایک جملے کو مقدس سمجھ کر پڑھا جاتا بلکہ عقیدے کی حد تک عمل پیرا ہوتے۔
اگر ہم مارکس ازم کے پیروکاروں کے متشدد نظریات کی تاریخ تلاش کریں تو اس کے پیچھے اسی رسالے ان کائونٹر کو پائیں گے جس کی تحریروں سے متاثر ہوکر لوگوں نے اپنے بال بڑھائے، غسل کی عادت ترک کردی، امیروں کو لوٹ لو اور سب سے بڑھ کر روٹی، بھوک کو مضبوط ترین فلسفہ اور ہتھیار بنادیا۔ اس رسالے کے پیچھے دنیا کے ذہن ترین ماہر صحافی اور نقاد و دانشور تھے۔ اس دور میں اس سے بڑھ کر معیاری اور جامع اور پر اثر رسالہ پوری دنیا میں نہیں تھا۔ ایک عرصے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ان کائونٹر رسالہ دنیائے کمیونزم کا ترجمان نہیں بلکہ یہ امریکی سی آئی اے کامنصوبہ تھا اور اس کے ذریعے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کے ایک کمرے میں چار پانچ افراد پر مشتمل ٹیم کئی سالوں تک کمیونزم اور مارکس ازم کے پیروکاروں کو بے وقوف اور ان کے نظریات و خیالات میں نفرت پیدا کرتے رہے کہ ایک وقت آیا کہ کمیونزم کے خلاف مزاحمت شروع ہوگئی۔ ایک عرصے کے بعد ان کائونٹر رسالے کامنصوبہ ساز سے پیرس میں ثقافتی یلغار کے ایک سیمینار میں پوچھنے والے نے پوچھا کہ آپ نے یہ سب کیسے کیا؟ منصوبہ ساز امریکی مسکرایا اور بولا،ویری سمپل، ہم نے کمیونزم کو اتنا سخت اور غیر لچکدار بنادیا کہ وہ لوگوں کے لئے قابل قبول نہ رہا۔
آج امریکی سامراج وہی شاطرانہ حربہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ جہاد اور خلافت اسلامیہ کے نام پر مسلم دنیا کو میدان جنگ میں بدل چکا ہے۔ عراق، شام، افغانستان، لیبیا، مصر، سوڈان، یمن، پاکستان دیگر ممالک میں اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔ مسلم مفکرین دیر آئے درست آئے اور ان نام نہاد جہادیوں داعش، القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی اور ان کی پروردہ سپاہ صحابہ، جماعۃ الدعوہ اور دیگر اسلام اور جہاد کے نام مسلمانوں کے احساسات اور جذبات سے کھیل کر اسلام کی اصل روح کو مسخ کررہے ہیں۔ انہیں خارجی اسلام دشمن اور صیہونیوں (یہودیوں) کا اسلام کے خلاف ہتھیار قرار دے چکے ہیں۔
مسلم نوجوان اپنی ذمہ داری اور بیداری کا ثبوت دے اور جنت کے آسان حصول اور شارٹ کٹ راستے کے چکر میں شیطانی جال میں کہیں پھنس نہ جائیں، ضرب عضب آپریشن کے بعد در بدر طالبان داعش ISIS میں اعلانیہ طور پر شامل ہوچکے ہیں۔ مسلمانان پاکستان مزید اذیتوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ پوری قوم غیر مشروط طور پر پاک فوج کی حمایت کریں، ساتھ ہی علماء و مشائخ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محراب و منبر سے حق گوئی کا فریضہ پوری دیانت داری سے ادا کرے تاکہ ہم بحیثیت مسلمان ایک مثالی مسلمان اور ایک خیر اُمّت بن سکیں۔