حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ (گزشتہ سے پیوستہ)

in Tahaffuz, November 2014, شخصیات

’’میں نے سونے اور چاندی کے چند سکوں پر بڑا غرور کیا اور اﷲ کے درویش بندوں کو مفلس اور نادار سمجھا۔ شیخ! مجھے معاف فرمادیں‘‘ خلجی امیر کے لہجے سے انتہائی عاجزی جھلک رہی تھی۔
’’تیری نذر میں خلوص اور نیت کی صفائی شامل نہیں تھی‘‘ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے فرمایا۔ ’’تو درویشوں کی مفلسی کا تماشا دیکھنے آیا تھا مگر یاد رکھ کہ اﷲ اپنے سوختہ جانوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ بہرحال میں نے تجھے معاف کیا۔‘‘
پھر جب وہ خلجی امیر نقرئی سکوں کی تھیلی اٹھا کر انتہائی شکستگی کے عالم میں واپس جانے لگا تو حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ نے اسے مخاطب کرکے فرمایا۔ ’’تونے خانقاہ کے اندر جو کچھ دیکھا ہے، کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا‘‘
اس واقعہ کے بعد وہ امیر جب بھی سلطان علاء الدین خلجی کی خدمت میں حاضر ہوتا تو حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا ذکر ضرور کرتا‘‘ وہ بڑی شان والے ہیں۔ ان کی روحانی عظمتوں کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔
والی ہندوستان بڑے ذوق و شوق سے ایک درویش گوشہ نشیں کا ذکر سنتا اور پھر اس امیر سے پوچھتا ’’آخر تونے شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ میں ایسی کون سی بات دیکھی ہے جو تو ان کی مدح سرائی کرتے نہیں تھکتا‘‘
’’سلطان ذی وقار! میں کیا عرض کروں کہ میں نے شیخ کی ذات عالی صفات میں کیا کیا دیکھا ہے؟‘‘ خلجی امیرکی زبان لڑکھڑانے لگی‘‘ وہ سلطان علاء الدین سے کہنا چاہتا تھا کہ میں نے ایک درویش بے سرور ساماں کے قدموں میں دولت کا دریا بہتے دیکھا ہے… مگر جیسے ہی وہ اس راز کو فاش کرنے کی کوشش کرتا۔ اس پر نامعلوم سا خوف طاری ہوجاتا… اور پھر جب وہ اپنے ارادے سے باز رہتا تو اس کی حالت معمول پر آجاتی۔
سلطان علاء الدین خلجی نے اس امیر سے کئی بار پوچھا مگر وہ ہر مرتبہ بس اتنا ہی کہہ کر رہ گیا ’’شیخ میں اتنی خوبیاں ہیں کہ وہ الفاظ کے حصار میں نہیں آسکتیں‘‘
غائبانہ طور پر والی ہندوستان بھی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے حلقہ عقیدت کی طرف بڑھنے لگا۔
حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے انتہائی چہیتے اور محبوب مرید تھے۔ حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کو سلطان غیاث الدین بلبن کے آخری زمانے میں عروج حاصل ہوا۔ بلبن کا سب سے بڑا بیٹا شہزادہ خان شہید حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ خود حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ بھی شہزادہ خان شہید سے بہت زیادہ قربت رکھتے تھے، پھر جب شہزادہ سلطان محمد ملتان میں مغلوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا تو حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ گرفتار کرلئے گئے اور پھر آپ کو روسی ترکستان لے جایا گیا۔ کئی سال بعد قید سے رہا ہوئے اورشہزادہ خان شہید کا ایسا اثر انگیز مرثیہ لکھا جسے سن کر غیاث الدین بلبن زاروقطار روتا تھا۔ بلبن خاندان کی تباہی کے بعد سلطان جلال الدین خلجی کے عہد حکومت میں حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کو ’’امیر‘‘ کا منصب حاصل ہوا۔ آپ کو خلعت امارت سے نوازا گیا اور بارہ سو تنکہ سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔ جلال الدین کے قتل کے بعد سلطان علاء الدین خلجی نے بھی حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کا عہدہ و منصب بحال رکھا۔ پھر سلطان سے اس قدر قربت بڑھی کہ آپ ’’مصاحبین خاص‘‘ کے حلقے میں شامل ہوگئے۔
پھر جب بھی فرصت کے لمحات میسر آئے اور سلطان، حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کو خلوت میں طلب کرتا تو آپ علاء الدین خلجی کے سامنے اپنے پیرومرشد حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی روحانیت اور زہد وتقویٰ کا ذکر چھیڑ دیتے۔ خلجی امیر پہلے ہی حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی شان میں قصیدے پڑھ چکا تھا۔ جب خسرو علیہ الرحمہ بھی انتہائی والہانہ انداز میں حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کا ذکر کرتے تو سلطان علاء الدین خلجی جیسا خود پرست حکمران اس درویش کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتا جو غیاث پور کے ایک گوشے میں بیٹھ کرلوگوں کے دلوں پر حکومت کررہا تھا۔
’’خسرو! ایسا نظر آتا ہے کہ جیسے شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے ذکر کے علاوہ تمہیں دنیا میں کوئی اور کام ہی نہیں ہے‘‘
’’سلطان معظم! میرے شیخ ایسے ہی ہیں‘‘ حضرت محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کا نام لیتے ہی حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کے چہرہ مبارک پر عقیدت و محبت کا سمندر موجزن نظر آنے لگتا تھا۔
’’خسرو! تم اپنے پیرومرشد سے کتنی محبت کرتے ہو؟‘‘ ایک بار سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے درباری شاعر سے پوچھا۔
’’سلطان ذی حشم! غریب خسرو کے پاس اپنے شیخ کی محبت کو ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے‘‘ حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ نے نہایت عجز و انکسار کے ساتھ فرمایا۔
’’پھر بھی؟‘‘ علاء الدین خلجی حضرت امیر خسرو کی انتہائے عقیدت دیکھنا چاہتا تھا۔
’’سلطان ذی وقار‘‘ اس غلام کے پاس ایک جان بے قرار کے سوا کچھ نہیں‘‘
حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’اگر پیرومرشد حکم دیں تو نذرانہ جاں قدموں میں رکھ کرعرض کروں کہ سیدی یہ حقیر تحفہ آپ کے شایان شان نہیں‘‘
حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کا جوش عقیدت دیکھ کر سلطان علاء الدین خلجی حیران رہ گیا… اور پھر نادیدہ طور پروالی ہندوستان بھی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی ذات گرامی کا اسیر ہوتا چلا گیا۔
٭…٭…٭
ایک دن سلطان علاء الدین خلجی نے حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کو خلوت شاہی میں طلب کرتے ہوئے کہا ’’خسرو! میرادل چاہتا ہے کہ میں تمہارے شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے لئے گراں قدر تحائف بھیجوں۔ میرے چاروں طرف سیم وزر کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ اگر اس میں سے کچھ دولت کسی درویش کے کام نہیں آئی تو پھر وسائل کا یہ ذخیرہ بیکار ہے‘‘
اگرچہ علاء الدین خلجی نے یہ بات خلوص دل سے کہی تھی لیکن حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ خاموش رہے۔
’’خسرو! تم مجھے بتائو کہ میں تمہارے پیرومرشد کی خدمت میں کیا نذر بھیجوں؟‘‘
سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے درباری شاعر اور مصاحب خاص کو خاموش پاکر دوبارہ پوچھا۔
حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور بدستور خاموش رہے۔
سلطان علاء الدین خلجی حیرت زدہ ہوکر اپنے درباری شاعر کی طرف دیکھنے لگا ’’کیا کوئی خاص بات ہے جو تم مجھ سے چھپانا چاہتے ہو؟‘‘ سلطان نے حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کے سکوت کاسبب دریافت کرنا چاہتا۔
اس بار حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی اور آپ نے والی ہندوستان کو حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی علیہ الرحمہ کی زندگی کا ایک اہم واقعہ سناتے ہوئے فرمایا۔
’’میرے شیخ حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے غیاث پور سے کیلوکھڑی تشریف لے جاتے ہیں۔ شدید گرمی کے موسم میں یہ طویل فاصلہ انسانی جسم کو بہت گراں گزرتا ہے۔ ایک دن پیرومرشد کے دل میں خیال آیا کہ اگر میرے پاس کوئی گھوڑا ہوتا تو یہ ایک کوس سے زیادہ کا فاصلہ سواری پر طے کرلیتا اور گرم ہوائوں کے تکلیف دہ جھونکوںسے کسی حد تک محفوظ رہتا۔ حضرت شیخ نور الدین یارپراں علیہ الرحمہ جو ایک ممتاز صوفی ہیں، ان کے کسی خادم کے پاس ایک گھوڑی تھی۔ جس روز حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے دل میں یہ خیال آیا تھا، اسی روز حضرت شیخ نور الدین علیہ الرحمہ کے خادم نے خواب میں اپنے پیرومرشد کو دیکھا۔ شیخ نور الدین یارپراں علیہ الرحمہ اپنے خادم سے فرما رہے تھے۔
’’تیرے پاس جو گھوڑی ہے اسے شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی خدمت میں بلاتاخیر پیش کردے کہ وہ نماز جمعہ کے لئے پیدل چل کر سخت تکلیف اٹھاتے ہیں‘‘
(باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)