بسم اﷲ الرحمن الرحیم
’’اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ہے)‘‘
’’اس لئے کہ قریش کو میل دلایا (یعنی مائل کیا) ان کے جاڑے اور گرمی کے دنوں کے کوچ (سفر) میں میل دلایا تو انہیں چاہئے کہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا‘‘
(کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ)
لفظی ترجمہ
سورۃ الفیل میں بیان ہوا کہ اﷲ تعالیٰ نے قریش کے دشمن ہاتھی والوں کو ہلاک کردیا جو خانہ کعبہ کو گرانے آئے تھے۔ مزید یہ کہ ابرہہ کے زخمی سپاہی مکہ سے یمن تک راستے میں گر گر کر مرتے گئے، اس سے کعبہ کے بیت اﷲ ہونے پر عربوں کا ایمان اور مضبوط ہوگیا۔ اگرچہ پہلے بھی کعبہ کا متولی ہونے کی وجہ سے قریش کو نمایاں حیثیت حاصل تھی لیکن اس واقعہ کی وجہ سے عرب کے لوگوں میں قریش کی عزت و عظمت مزید بڑھ گئی۔
سورۃ القریش میں رب تعالیٰ نے قریش کو اپنی مزید دو اہم ترین نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ ایک یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں دوسرے شہروں کی طرف تجارت کے لئے سفر کرنے کی رغبت پیدا کی جس کی وجہ سے وہ خوش حال ہوگئے۔ بیت اﷲ کے خادم اور متولی ہونے کی برکت سے انہیں عرب میں خاص عزت اور سرداری بھی حاصل تھی اور اسی کے باعث انہیں ہمیشہ امن حاصل رہا۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ دونوں سورتیں مضمون کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ ربط و مناسبت رکھتی ہیں کیونکہ دونوں سورتوں میں رب تعالیٰ نے قریش پر خصوصی انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔
لایلٰف قریش
تاریخ اسلام میں قبیلہ قریش کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ حبیب کبریاﷺ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
’’بے شک اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی اولاد سے کنانہ کو چن لیا اور بنو کنانہ سے قریش کو چن لیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو چن لیا۔ اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا‘‘ (صحیح مسلم)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کنانہ کے بیٹے نضر کی اولاد کو قریش کہا جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ سے قریش کے مورث اعلیٰ تک تیرہ پشتیں ہیں۔
حضرت محمدﷺ، عبداﷲ، عبدالمطلب، ہاشم، عبد مناف، قصی، کلاب، مرہ، کعب، لوی، غالب، فہر، مالک، نضر۔ ان میں سے قصی بن کلاب نے قریش قبیلہ کے لوگوں کو جو پہلے پورے عرب میں منتشر تھے، مکہ مکرہ میں یکجا کرکے آباد کیا۔
قریش کا ایک اور اعزاز یہ ہے کہ وحی الٰہی کے اولین مخاطب قریش ہی کے لوگ تھے اور انہی لوگوں کو اس دعوت حق کو دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ نیز قریش کے لوگ کعبہ شریف کے متولی تھے اور ایام حج میں حاجیوں کی خدمت کرتے تھے، اس بناء پر پورے عرب میں ان کی عزت کی جاتی تھی۔
حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا۔ لوگ خیر اور شر میں قریش کے تابع ہیں (مسلم)
اس ارشاد میں قریش کی قائدانہ استعداد کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کفر میں بھی رہنما تھے اور اسلام میں بھی پیشوا بنے۔ قریش کے مومنوں کے لئے زیادہ اجر ہے کیونکہ ان کی تبلیغ و کوشش سے بعد والوں نے اسلام قبول کیا۔ اسی طرح ان کے کافر زیادہ عذاب میں ہوں گے کیونکہ وہ بعد والوں کے لئے کفر کا ذریعہ بنے۔
غیب بتانے والے آقا کریمﷺ کاارشاد ہے، جو کوئی قریش کو ذلیل کرنے کا ارادہ کرے گا، اﷲ تعالیٰ اس کو ذلیل کردے گا (ترمذی)
رسول معظمﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے: اﷲ تعالیٰ نے سات وجوہ سے قریش کو فضیلت دی ہے۔ میں قریش میں سے ہوں۔نبوت ان میں ہے۔ کعبہ کی دربانی انہیں کے لئے مخصوص ہے۔ حاجیوں کو زمزم پلانے کی خدمت ان کے ذمہ ہے۔ اصحاب فیل کے مقابل ان کی مدد کی گئی۔ نبوت کے ابتدائی دس سال قریش کے سوا کسی اور نے اﷲ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی۔ قریش کے متعلق ایک مستقل سورت نازل ہوئی یعنی سورۃ القریش‘‘ (مستدرک، طبرانی)
قریش پہلے افلاس اور معاشی تنگی میں رہے، یہاں تک کہ نبی کریمﷺ کے پردادا عمرو بن عبد مناف نے جو غرباء پروری کی وجہ سے ہاشم کے لقب سے مشہور تھے اور اس وقت قریش کے سردار تھے، اپنے قبیلے کے ہر خاندان کو تجارت کرنے کی ترغیب دی۔ اس زمانہ میں تجارت کی راہ میں بڑی رکاوٹ قتل و غارت اور لوٹ مار کا سلسلہ تھا جو عرب میں عام تھا۔ کوئی بھی مال تجارت لے کر ایک جگہ سے بحفاظت دوسری جگہ نہیں جاسکتا تھا۔
حضرت ہاشم کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کعبہ کے متولی ہونے کی بناء پر چونکہ انہیں خاص عزت حاصل ہے تو کیوں نہ عرب قبائل سے قریش کے تجارتی سفر کیلئے حفاظت و امن کا معاہدہ کیا جائے۔ جب آپ نے یہ تجویز پیش کی تو دیگر قبائل نے اسے بخوبی منظور کرلیا۔ یوں آپ کو عرب قبائل میںنمایاں مقام حاصل ہوگیا۔
اس کے بعد آپ نے قرب و جوار کی حکومتوں سے تجارتی مراعات حاصل کیں، جن میں شام، حبش، یمن، مصر، عراق، روم اور فارس کی حکومتیں شامل تھیں۔ اس طرح قریش کی تجارت تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی اور ہاشم اور ان کے بھائی تاجروں کی حیثیت سے مشہور ہوگئے۔ دیگر حکومتوں سے انہی روابط کی بناء پر انہیں ’’اصحاب الایلاف‘‘ کہا گیا جس کے معنی ’’الفت پیدا کرنے والوں‘‘کے ہیں۔
’’ایلاف‘‘کے معنی الفت، میل، شوق کے علاوہ معاہدہ اور ذمہ داری کے بھی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اﷲ فرماتے ہیں‘‘ علماء کہتے ہیں کہ ایلاف سے مراد معاہدہ و ذمہ ہے۔ یہ معاہدہ سب سے پہلے قریش کے لئے ہاشم بن عبد مناف نے حکمرانوں سے کیا‘‘ (مقدمہ فتح الباری)
غور کیا جائے تو معاہدہ بھی آپس میں الفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ایلاف کا مذکورہ مفہوم تفسیر البحر المحیط اور تفسیر روح المعانی میں بھی مذکور ہے۔
الٰفہم رحلۃ الشتاء
’’لایٰلف‘‘ کے لام کے متعلق مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ لام تعطیل کا ہے اور اس کا تعلق ’’فلیعبدوا‘‘ سے ہے۔
تو مفہوم یہ ہوگاکہ اگرچہ قریش پر رب تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں لیکن اگر کسی اور نعمت کی بناء پر نہیں، تو اسی ایک نعمت کی وجہ سے کہ میں اس کے فضل و کرم سے وہ تجارتی سفروں کی طرف مائل ہوئے، انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر کے رب کی بندگی کریں۔
امام ابن جریر رحمہ اﷲ فرماتے ہیں ’’صحیح بات یہ ہے کہ یہ لام تعجب کے معنی میں ہے‘‘ اب مفہوم یہ ہوگا کہ قریش کا رویہ بہت قابل تعجب ہے کہ رب کعبہ کے فضل وکرم سے وہ مکہ میں اکھٹے ہوئے، ان میں باہم الفت و یکجہتی پیدا ہوئی، انہیں خوشحالی اور امن ملا۔ ان کے دشمن ابرہہ کو تباہ کردیا گیا پھر بھی وہ رب کعبہ کی بندگی اور حبیب کبریاﷺ کی اطاعت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
باقی آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں