امیر طریقت، مخدوم اہلسنت شیخ فیض محمد چشتی علیہ الرحمہ قادری سیالوی بریلوی

in Tahaffuz, November 2014, شخصیات, محمود اختر قادری مکتبہ رضویہ کراچی

ولادت
امیر طریقت، مخدوم اہلسنت شیخ فیض محمد چشتی، قادری، سیالوی علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت ہندوستان کی ریاست مدھیا پردیش کے گائوں بینا میں 18 فروری 1945ء میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت
آپ کا تعلق ایک دیندار گھرانے سے تھا۔ والد محترم شیخ محمد شفیع ایک ولی کامل اور سچے عاشق رسول تھے۔ والدہ ماجدہ بھی بہت نیک خاتون تھیں۔ اﷲ کے ان نیک اور برگزیدہ بندوں کی تربیت نے آپ کی شخصیت کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
قیام پاکستان کے بعد آپ کا گھرانہ ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آیا۔ آپ نے ابتدائی اور فنی تعلیم سبی (بلوچستان) میںحاصل کی۔ آپ اپنے والد کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ اس لئے ان کی خصوصی محبت اور شفقت سے مستفید ہوتے رہے۔ آپ بچپن ہی سے ذکر و اذکار اور وظائف کی محفل میں والد صاحب کے ہمراہ شریک ہوتے رہے۔
تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپ نے ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور میں ملازمت اختیار کی۔ اسی دوران آپ دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے کئی علماء کرام سے دینی تعلیم حاصل کی۔ ان میں سب سے نمایاں حضرت شاہ ابوالبرکات رحمتہ اﷲ علیہ شامل ہیں۔ والد صاحب کی رہنمائی نے آپ کو بے پناہ علوم سے سرفراز فرمایا۔
1979ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے سعودی عرب جانے والے وفد کی نمائندگی کی۔ جس نے سعودی عرب میں ریل گاڑی کے پہلے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا اور 1986ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے جرمنی میں خصوصی تربیت حاصل کی اور وہاں نمایاں کامیابی حاصل کی۔
1992ء تک آپ ریلوے میں خدمات انجام دیتے رہے اس کے بعد ناگزیر وجوہات کی بناء پر ریٹائرمنٹ لی اور کراچی شہر کواپنی میزبانی کا شرف عطا کیا۔ یہ اہل کراچی کی خوش نصیبی تھی کہ آپ جیسی عظیم ہستی کی اس شہر میں آمد ہوئی۔
کردار و شخصیت
آپ ہر ایک سے محبت و شفقت سے پیش آتے اور ہر ایک کو یہ گمان ہوتا کہ حضرت اس سے سب سے زیادہ محبت فرماتے ہیں۔ کسی کا کوئی بھی روحانی، معاشرتی مسئلہ ہوتا حتی المقدور اسے حل کرنے کی کوشش کرتے۔ عاجزی و انکساری آپ کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ تواضع و خندہ پیشانی میںان کا کوئی جواب نہ تھا۔ ہر عمل ہر قول شریعت کے مطابق اور ہر ادا سنت نبویﷺ کی عکاس ہوتی تھی۔ حق بات کہنے اور لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
آپ نے کئی مرتبہ حج بیت اﷲ اور سرکارﷺ کے دربار کی حاضری کا شرف حاصل کیا۔ 2000ء میںسرکار غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ کے مزار پرانوار پر حاضری دی۔
اس کے علاوہ آپ نے افریقہ کے کئی ممالک کا سفر کیا جس میں زمبابوے، موریشس اور ملاوی شامل ہیں۔وہاں آپ نے تبلیغ دین اور اشاعت دین کا کام کیا۔ آپ جس مقام پر قیام کرتے، وہاں مسجد کی تعمیر کراتے ایک محتاط اندازے کے مطابق آپ نے گیارہ مسجدیں تعمیر کیں جس میں غوثیہ مسجد (لاہور)، لوکو ورکشاپ مسجد (لاہور)، جامع مسجد نور مصطفی (کراچی) شامل ہیں۔
مسجد الحرام (مکہ معظمہ) کی تعمیر نو میں اپنے دست مبارک سے حصہ لیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور سے کراچی آتے ہوئے اپنا ذاتی مکان فروخت کرکے کافی رقم مساجد کی تعمیر میں صرف کی۔ اس کے بعد جب بھی کسی مسجد کی تعمیر کے دوران مالی رکاوٹ آتی تو اسے اپنے پاس سے پورا کرتے۔ کسی بچی کی شادی کا مسئلہ ہوتا یا کوئی روزگار کے لئے پریشان ہوتا تو خاموشی سے مدد کردیتے۔ خاص طور پر بچیوں کی شادی کے موقع پر کنزالایمان کا اعلیٰ ایڈیشن اپنی طرف سے تحفہ میں پیش کرتے۔ جب لوگ آپ سے کہتے کہ کچھ نہ کچھ اپنے لئے رکھا کریںتو آپ فرماتے کہ دو روٹی تو کھانی ہے۔ وہ اﷲ تعالیٰ دے دیتا ہے۔ آپ ان گنت خوبیوں کے مالک تھے۔
بیعت و خلافت
آپ کے پیرومرشد خواجہ قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ ولد خواجہ شمس الدین سیالوی تھے۔ خواجہ شمس الدین سیالوی علیہ الرحمہ وہ عظیم ترین ہستی تھے جنہوں نے سیال شریف کو آباد کیا۔ حضرت فیض محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ کو قادریہ غوثیہ کی خلافت خواجہ عبدالمجید قادری خضری رحمتہ اﷲ علیہ دیول شریف نے عطا کی۔ اس سلسلے میں واقعہ یوں ہے کہ ایک دن آپ کے آستانے پر عام لوگوں کا داخلہ بند تھا اور آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ایک مہمان خاص آنے والا ہے جو سب سے پہلے آستانہ میں داخل ہوگا۔
جب حضرت فیض محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ وہاں پہنچے تو باہر لوگوںکا ہجوم تھا۔ آپ نے آستانے میں اپنی آمد کی اطلاع دی تو فورا آپ کو اندر بلایا گیا اور آپ کو سند خلافت دی۔ آپ نے عاجزی و انکساری سے منع کیا۔ آخر میں حضرت خواجہ عبدالمجید قادری رحمتہ اﷲ علیہ نے کہاکہ رات خواب میں حضور غوث الاعظم رضی اﷲ عنہ تشریف لائے تھے اور انہوں نے آپ کو خلافت دینے کا حکم دیا۔ یہ سن کر آپ (فیض محمد چشتی) راضی ہوگئے۔
آستانہ عالیہ قادریہ غوثیہ
سرجانی ٹائون سیکٹر 4-B نارتھ کراچی میں ’’نور مصطفی جامع مسجد‘‘ ادارہ آستانہ عالیہ قادریہ غوثیہ کے نام سے آستانہ قائم کیا۔ جہاں آپ فی سبیل اﷲ لوگوں کے روحانی مسائل حل فرماتے تھے۔ آپ یرقان، ہیپا ٹائٹس بی، سی، کینسر، جن و آسیب اور بندش کا روحانی علاج کرتے تھے۔ روزانہ صبح 9 بجے سے لوگوں کی خدمت میں مصروف رہے۔ آپ کے آستانہ سے بے شمار لوگ فیض یاب ہوچکے ہیں۔ ایسے بے شمار مریض جنہیں ڈاکٹر اور اسپتالوں سے جواب مل جاتا، وہ یہاں آکر صحت یاب ہوجاتے تھے۔
امیر وغریب کوئی بھی ہو، سب اپنی باری پر ہی علاج کراتے تھے۔
آپ کی تصانیف
آپ نے دینی موضوعات پر 22 کتب تصنیف کی جن میں بعض کتب منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ دن بھر لوگوں کی خدمت کرتے اور ساری رات تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے۔ آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں۔
1… جنت کی خریداری
2… نافع ارواح المسلمین معہ کتاب فاتحہ
3… کتاب نماز
4… کتاب طہارت
5… شجرہ شریف قادریہ غوثیہ
6… قربانی اور عقیقہ
7… ذخائر چشتیہ
8… حج اور عمرہ مع مقدس زیارات
9… رحمتہ للعالمین کی رحمت بھری دعائیں
10… ہر غم و پریشانی ختم
11… نور الشفاء
12… اسلام میں شوہر اور بیوی کے حقوق
13… جمعتہ المبارک کے فضائل
14… سات دنوں کے فضائل
15… القمر (اسلامی بارہ مہینوں کے فضائل)
16… فضائل رمضان المبارک
17… قیامت کی نشانیاں
18… مسجد کے احکامات اور فضائل
19… علم تصوف
20… اسلامی بارہ مہینے کی نفلی عبادات وریاضت
21… سحر و آسیب سے نجات
22… سرکارﷺ کی شان، بزبان قرآن
وصال
آپ کی ساری زندگی دین کی خدمت اور خدمت خلق میں گزری اور وصال کے وقت تک تصنیف و تالیف کے کام میں مصروف رہے۔ آپ کی آخری تصنیف ’’سرکارﷺ کی شان بزبان قرآن‘‘ تھی جو وصال سے چند گھنٹے قبل مکمل ہوئی اور وصال کے بعد شائع ہوئی ۔
5 محرم الحرام 1432ھ بمطابق 10 دسمبر 2010ء بروز ہفتہ رات تقریبا ساڑھے دس بجے آپ کا وصال ہوا۔
مزار مبارک
آپ کی تدفین محمد شاہ قبرستان نزد ڈسکو موڑ نارتھ کراچی میں ہوئی اور آپ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے۔ آپ کے مریدین، معتقدین وہاں حاضر ہوتے ہیں اور اپنی دلی مرادیں حاصل کرتے ہیں۔ بیمار، شفایاب ہوتے ہیں اور پریشانیاں دور ہوجاتی ہیں۔
ہر اتوار صبح 10:30 بجے آپ کے مزار پر خصوصی محفل منعقد ہوتی ہے اور ہر ماہ چاند کی 11 تاریخ کو بعد نماز ظہر گیارہویں شریف کی تقریب ہوتی ہے جس میں عقیدت مند، مریدین شرکت کرتے ہیں اور آپ کے فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
آپ کا سالانہ عرس ہر سال 5 محرم الحرام کو مزار شریف پر منعقد ہوتا ہے۔
خلافت نادرہ بسلسلہ عالیہ، قادریہ، غوثیہ
حضرت فیض محمد چشتی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی حیات ہی میں جناب الحاج مولانا حافظ و قاری محمد قاسم نوری صاحب خطیب جامع مسجد عمر سمن آباد کو خلافت نادرہ بسلسلہ قادریہ، غوثیہ عطا کی تھی اور انہیں بیعت کی اجازت بھی دی۔ ساتھ ہی دعا، دم کرنے اور وظائف کے علاوہ تعویذ لکھنے اور محافل طریقت جاری کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
٭٭٭